آزادی مارچ پر مامور پولیس اہلکار

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔








اتوار کو جمعیت علمائے اسلام کےآزادی مارچ میں طرح طرح کے پکوانوں کے سٹال کا خصوصی اہتمام بھی کیا گیا۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے آزادی مارچ میں کئی جگہوں پر اشیائے ضرورت کے سٹالز بھی لگائے گئے ہیں۔


،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سنیچر کی شب آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں آ کر اپنے کام سے کام رکھے تو کوئی جھگڑا نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ انگوٹھا چھاپ اسمبلیاں وجود میں لا کر سمجھتے ہیں کہ اب ہر فیصلہ ہم خود کریں گے۔ ’ہم انگوٹھا چھاپ اور ربڑ سیمپ اسمبلیاں منظور نہیں کریں گے، ہم ایسی حکومتوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ہم ملک میں باوقار، جائز، جمہوری اور آئینی حکومت برپا کرنا چاہتے ہیں تاکہ قوم عزت اور آزادی کی زندگی بسر کر سکے۔‘
فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس خطے اور دنیا میں اپنے دوست بڑھانا چاہتے ہیں، یہ ملک ہمارا ہے کسی کی جاگیر نہیں، ہم اس ملک میں غلاموں والی زندگی نہیں گزار سکتے۔ ’خدا کے لیے ہمیں قانون اور آئین کے دائرے میں رہنے دو، جہاں آئین سبوتاژ ہوتا ہے وہ ملک قائم نہیں رہتے۔‘
انھوں نے کہا کہ آج کرتارپور کا افتتاح ہوا جبکہ انڈیا میں آج ہی بابری مسجد کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف آیا ہے۔ ’یہ ہیں ہمارے عقل مند اور سوچ والے لوگ، جن کی نظریں ناک سے آگے نہیں جا رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر ہم محسوس کریں کہ پاکستان میں ختمِ نبوت محفوظ نہیں ہے تو پھر ہم آپ کو میدان میں ملیں گے، پھر گلہ مت کرنا کہ 'یہ تو مذہبی کارڈ استعمال ہو رہا ہے۔'
جے یو آئی کے آزادی مارچ میں سیرت النبی کانفرنس جاری ہے۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سٹیج پر موجود ہیں۔
جے یو آئی کے آزادی مارچ میں 12 ربیع الاول سے متعلق تقریب کا انعقاد کیا جار ہا ہے۔ اس وقت جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان دیگر رہنماؤں کے ساتھ سٹیج پر موجود ہیں۔

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آزادی مارچ سے جمعے کی شام خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انھوں نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بتایا ہے کہ ’ہمارے پاس خالی ہاتھ نہ آئیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس حکومت کی مذاکراتی کمیٹی آتی جاتی رہتی ہے۔‘
انھوں نے آزادی مارچ کے شرکا کو بتایا کہ ’مذاکراتی کمیٹی سے کہا ہے جب بھی آؤ استعفیٰ لے کر آنا۔‘
مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی طرف سے منظور شدہ آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’موجودہ حکومت نے پارلیمان کو متنازع بنا دیا ہے۔‘
انھوں نے اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو ملک پر قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں ایک ساتھ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اسلام آباد کے ایچ نائن گراؤنڈ میں آزادی مارچ کے شرکا کے لیے بڑی سکرینوں کا انتظام بھی کیا گیا ہے تاکہ سٹیج سے دور شرکا اپنے قائدین کو با آسانی دیکھ سکیں۔
اسلام آباد کے ایچ نائن گراؤنڈ میں چھوٹے چھوٹے سٹالز لگائے گئے ہیں جن پر آزادی مارچ کے شرکا کے لیے کھانے پینے کا سامان باآسانی دستیاب ہے۔


اپوزیشن سے آزادی مارچ کے حوالے سے بات چیت کرنے کے لیے قائم کردہ حکومتی مذاکراتی ٹیم وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئی ہے جہاں وہ وزیراعظم کو تازہ ترین پیشرفت سے آگاہ کرے گی۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم وزیراعظم کو حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی کے مطالبات اور خدشات کے بارے میں بھی آگاہ کرے گی۔