پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی
آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے نجی ٹیلیویژن چینل ’ہم‘ سے گفتگو کرتے
ہوئے کہا ہے کہ دھرنا یا مارچ سیاسی سرگرمی ہے جس سے فوج کا بحیثیت ادارہ کوئی
تعلق نہیں ہے۔
’ہم (فوج) ملکی دفاع میں مصروف ہیں، اتنی فرصت
نہیں کہ ہم اس قسم کی چیزوں میں اپنے آپ کو ملوث کریں اور ایسی الزام تراشیوں کا
جواب دیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج ایک جمہوری عمل ہے
جسے حکومت اور اپوزیشن کیسے آگے لے کر چلتی ہیں یہ ان کے کرنے کے کام ہیں۔
’فوج بحیثیت ادارہ کسی بھی طرح اس پورے عمل میں
ملوث نہیں ہے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ آزادی مارچ میں کالعدم
جماعتوں کے جھنڈے دکھائی دیے ہیں آصف غفور کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان بہت منجھے
ہوئے سیاستدان ہیں اور ان کو بھی پاکستان اتنا ہی عزیز ہے جتنا ہم سب کو ہے، اس کے
بین الاقوامی سطح پر کیا مضمرات ہوں گے اس
کا اندازہ فضل الرحمان صاحب کو بھی ہے۔
سنہ 2014 میں ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے
کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کافی عرصے سے ہو رہے ہیں۔ ’سنہ
2014 کے دھرنے میں بھی فوج نے حکومت وقت کا ساتھ دیا تھا اور بحیثیت سکیورٹی کے
ادارے کے حکومت نے جو بھی ٹاسک دیا تھا وہ فوج نے پورا کیا تھا۔ فوج حکومت کے
احکامات پر عمل کرتی ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور کا کہنا
تھا کہ الیکشن میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔
’اِن ایڈ اف سول پاور فوج کسی بھی کام میں اس وقت
آتی ہے جب حکومت وقت اسے آئین کے تحت طلب کرتی ہے۔ یہ نہیں ہے کہ آئین میں ہمیں
کوئی اتھارٹی دی گئی ہے یا ہماری خواہش ہے کہ ہم الیکشن کے عمل میں کسی بھی طرح سے
شامل ہوں۔ یہ حکومت وقت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اور صرف حکومت وقت نہیں بلکہ دیگر سیاسی
جماعتوں کی مشاورت بھی حکومتی فیصلے میں شامل ہوتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن سب سیاسی جماعتیں
مل کر بناتی ہیں، الیکشن کمیشن کا سربراہ سب مل کر لگاتے ہیں، عبوری حکومت سب مل
کر بناتے ہیں اور فوج کا ان تمام معاملات میں کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔
اانھوں نے کہا کہ انتخابات میں فوج کیسے تعینات ہو
گی، کہاں کہاں تعینات ہو گی، طریقہ کار کیا ہو گا، یہ سب قانون اور آئین کے تحت طے
ہوتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ماضی قریب میں دو مرتبہ آرمی
چیف کا آمنا سامنا سیاستدانوں سے ہوا، ایک دفعہ وہ سینیٹ گئے اور دوسری مرتبہ
پارلیمانی رہنماؤں کی میٹنگ میں جہاں آرمی چیف نے تجویز پیش کی تھی کہ آپ سب مل کر
کوئی ایسی کمیٹی بنا لیں جو کی قومی معاملات پر ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دے جو
ملک کے لیے بہتر ہو۔ ’آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ کوئی ایسا لائحہ عمل ترتیب دے لیں
جس کے تحت فوج کی انتخابات میں شمولیت بالکل ختم ہو جائے۔ جب بھی کوئی حکومت فوج
کو انتخابات کے انعقاد کے لیے نہیں بلائے گی فوج نہیں جائے گی۔ اس کا دارومدار
حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں پر ہوتا ہے۔‘