آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

مولانا فضل الرحمان کے پلان بی کے تحت دھرنے جاری

اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔

لائیو کوریج

  1. وزیر اعظم کی ہدایت پر جلسہ گاہ میں کیے گئے انتظامات

    وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے بعد وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے آزادی مارچ کے شرکا کے لیے میڈیکل کیمپ کا انعقاد کر دیا ہے۔

    چیئرمین سی ڈی اے عامر علی احمد کے مطابق کیمپ کے انعقاد کے بعد مارچ کے شرکا کی اچھی خاصی تعداد نے ڈاکٹرز سے رجوع کیا اور اس موقع پر انھیں مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں۔

    چیئرمین کے مطابق شرکا کی جانب سے جلسہ گاہ کے اندر اور اطراف واقع نکاسی آب کے نالوں میں گند پھینکا گیا تھا اور گذشتہ رات ہوئی بارش کے بعد جلسہ گاہ میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہو گیا تھا، تاہم مشینری کی مدد سے کچرا نکال کر نکاسی آب کا بندوبست کیا گیا ہے، جبکہ سی ڈی اے کے سینیٹری سٹاف نے جلسہ گاہ کی صفائی بھی کی ہے۔

  2. بارش میں آزادی مارچ کے شرکا کرکٹ کھیل کر لطف اندوز ہوتے رہے

    بدھ کی صبح سرد اور تیز ہواؤں اور بارش نے جہاں اسلام آباد کے ایچ ایٹ کے پنڈال میں کھلے آسمان تلے موجود آزادی مارچ کے شرکا کے لیے چند مشکلات پیدا کیں، وہی ان میں سے چند شرکا نے سردی میں کرکٹ کھیل کر خون گرم رکھنے کا ایک بہانہ ڈھونڈ لیا۔

    آزادی مارچ میں شریک چند افراد نے کرکٹ کھیل پر بارش اور سرد موسم کا لطف اٹھایا۔

  3. ایوان بالا کا اجلاس جمعہ تک ملتوی

    اسلام آباد میں جاری جمعیت علمائے اسلام ف کے آزادی مارچ پر گرما گرم بحث کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سینیٹ کا اجلاس جمعے کے روز تک ملتوی کر دیا ہے۔

  4. مولا بخش چانڈیو: اداروں کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کا احترام بھی کریں

    سابق صدر آصف علی زرداری کو جیل میں بنیادی سہولیات میسر نہیں، ان کی بیٹیوں کو اپنے والد سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ کیا یہ احتساب ہے کہ انتقام؟ فریال تالپور کو آدھی رات کو ہسپتال سے گرفتار کیا گیا۔ موجودہ حکومت کا مقصد افراتفری کروانا ہے۔ ملک میں اداروں کا احترام کے ساتھ ساتھ قومی قدروں اور سیاستدانوں کا احترام بھی کیا جائے۔

  5. حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس سپیکر ہاؤس میں جاری

    سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کی جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس سپیکر ہاؤس اسلام آباد میں جاری ہے۔

    اجلاس میں چوہدری پرویز الہی حکومتی کمیٹی کو مولانا فضل الرحمن سے ملاقات اور ان کے مطالبات کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔

    حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا وزیر اعظم سے بھی ملاقات کا امکان ہے جبکہ حزب مخالف کی رہبر کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو متوقع ہے۔

  6. مولا بخش چانڈیو: اس حکومت کو گھر جانے کی جلدی ہے

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آخر پاکستان کی سیاسی پارٹیوں نے کیا گناہ کیا ہے۔ آج جو لوگ اسلام آباد میں جمع ہیں اس کی وجہ موجودہ حکومت اور اس کے وزرا ہیں۔ خدارا پاکستان پر رحم فرمائیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم انڈین وزیر اعظم سے ملنے کے لیے بےتاب تھے مگر اپنے ہی ملک کے اپوزیشن رہنماؤں پر جبر کر رہے ہیں۔ ان کے وزار بڑھکیں مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اپوزیشن کے لیے زمین تنگ کر دیں گے۔

    اس حکومت نے مسائل کا ایک ہی حل ڈھونڈا ہے کہ مزید مسائل پیدا کرو تاکہ لوگوں کی توجہ بٹتی رہے۔ اس حکومت کو بذات خود گھر جانے کی جلدی ہے۔

  7. مراد سعید: یہ ملک میں مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہیں

    مراد سعید کا کہنا تھا کہ وکی لیکس میں مولانا فضل الرحمان کے بارے میں آیا کہ انھوں نے امریکہ کو کہا کہ مجھے خدمت کا موقع دو، دوسری جانب یہ ملک میں مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہیں اور دین سے کھلواڑ کرتے ہیں جو مسلمانوں کے لیے بدنامی کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے کبھی سیاست کے لیے مذہب کا استعمال نہیں کیا۔

  8. مراد سعید: یہ احتساب ہے انتقام نہیں اور یہ جاری رہے گا

    وزیر مواصلات مراد سعید کا مزید کہنا تھا کہ آج جو لوگ جیلوں میں موجود ہیں انھوں نے کرپشن کی اور اسی پاداش میں وہ آج جیل میں ہیں، یہ احتساب ہے انتقام نہیں اور یہ جاری رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ اپنی کرپشن بچانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کارڈ کھیلتی ہے۔

  9. مراد سعید: شرکا کو قیادت بارش میں چھوڑ کر چلی گئی

    وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل دھرنے کے شرکا بارش میں پڑے تھے مگر ان کی قیادت ان کو اکیلا چھوڑ کر چلی گئی مگر وزیر اعظم نے ان کا خیال رکھا اور ان کو سہولیات فراہم کرنے کا آرڈر دیا۔

    مولانا فضل الرحمان کے پاس 15 سال تک کشمیر کمیٹی کی صدارت رہی مگر انھوں نے اس دوران سرکاری مراعات لینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا، تاہم عمران خان نے گذشتہ ایک برس میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔

  10. مولانا فضل الرحمان کی سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی سے ملاقات, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اہم رکن اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہی نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔

    گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران دونوں رہنماوں کے درمیان یہ تیسری ملاقات ہے۔ ملاقات کے بعد چوہدری پرویز الہی میڈیا کے نمائندوں سے بات کیے بغیر ہی روانہ ہوگئے ہیں۔

    تاہم جاتے جاتے ان کا کہنا تھا کہ بہت سی چیزیں ایک ساتھ چل رہی ہیں اور کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے کچھ وقت درکار ہو گا۔

    جمیعت علمائے اسلام کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے چوہدری پرویز الہی کو رہبر کمیٹی کے موقف میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہ ہونے کے بارے میں بتایا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے مستعفی ہوئے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

    چوہدری پرویز الہی جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ سے ملاقات کے بارے میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے علاوہ وزیر اعظم کو بھی اس ضمن میں آگاہ کریں گے۔

  11. عبدالغفور حیدری: قبل از وقت انتخابات کوئی اچنبھے کی بات نہیں

    عبدالغفور حیدری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ صرف جمعیت کا نہیں بلکہ اس میں نو جماعتیں شامل ہیں اور یہ پورے ملک کا نمائندہ اجتماع ہے جو استعفی طلب کر رہا ہے۔ ملک میں پہلے بھی قبل از وقت انتخابات ہوتے رہے ہیں یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ بھٹو صاحب نے الیکشن کروایا، قومی اتحاد نے دھاندلی کا الزام لگایا اور بھٹو صاحب نے تین ماہ کے اندر اندر نیا الیکشن کروانے کا اعلان کیا۔ حکومت کو کب تک ادارے چلاتے رہیں گے۔ جب آپ چین، سعودیہ، امریکہ جاتے ہیں تو آرمی چیف آپ کی انگلی پکڑ کر لے کر جاتے ہیں، آپ (وزیر اعظم) میں کیا صلاحیت ہے؟ حکومت کب تک غلط بیانی سے کام لے گی، معیشت ڈوب چکی ہے اور ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔

  12. عبدالغفور حیدری: حکومت میں صلاحیت نہیں اسی لیے تاجروں نے آرمی چیف کی بات چیت کی

    عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ آج تاجر، طالبعلم، ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں اور اس حکومت میں معاملات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں۔ ’حکومت میں صلاحیت نہیں اسی لیے تاجروں نے آرمی چیف کی بات چیت کی۔‘

    ہم نے ہمیشہ کہا کہ احتساب ہونا چاہیے مگر جو اب ہو رہا ہے وہ احتساب نہیں بلکہ انتقام ہے۔ انتقام کو احتساب کا نام دیا گیا ہے۔ دو، چار خاندانوں کو نشانہ بنایا ہوا ہے اور ان کے لوگوں کے خلاف احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔

  13. عبدالغفور حیدری: مارچ کے شرکا کو رعایت نہیں استعفی چاہیے

    جمعیت علمائے اسلام ف کے سیکرٹری جنرل عبدالغفور حیدری نے سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری جماعت کا اسلام آباد میں جاری احتجاج آج ساتویں روز میں داخل ہو گیا ہے مگر ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا، اسلام آباد میں بازار، دکانیں کھلی ہیں۔ جب کہ پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران عمران خان نے سول نافرمانی کی کال دی، پی ٹی آئی نے پارلیمان پر حملہ کیا، پارلیمان پر لعنت بھیجی، بل پھاڑے اور عوام کو کہا کہ بل نہ دیں۔ شیخ رشید نے اسی کنٹینر پر کھڑے ہو کر کہا کہ جلاؤ، گھیراؤ کرو۔

    انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے وفاقی ترقیاتی ادارے کے چیئرمین کو کہا ہے کہ آزادی مارچ جائیں اور دیکھیں شرکا کو کیا رعایت دی جا سکتی ہے۔ ’میں اس طرح کی رعایت کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں، ہمیں رعایت نہیں استعفی چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ جمعیت کا دھرنا نہیں مارچ ہے جس دن دھرنے کا فیصلہ کیا تو حکومت دیکھے گی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے نام پر لوگوں کی زندگی مشکل نہ کریں اور کنٹینر ہٹائیں۔

  14. نور الحق قادری:’پی ٹی آئی دین دشمن، دین بیزار جماعت نہیں‘

    وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے لوگوں کو اسلام آباد لانے کے لیے مذہبی نعرے لگائے گئے اور کہا گیا کہ اسلام آباد آؤ پاکستان کو اسرائیل سے بچانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف روایتی دینی جماعت نہیں ہے جو دین کے نام پر لوگوں سے ووٹ لے تاہم ہم دین دشمن اور دین بیزار بھی نہیں ہیں۔

  15. سینیٹر فیصل جاوید: ’کسی کو قومی اداروں پر تنقید کی اجازت نہیں دیں گے‘

    پاکستان تحریک انضاف کے سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ کسی کو ملکی اداروں پر تنقید کی اجازت نہیں دے سکتے۔

    ایوان بالا کے جاری اجلاس کے دوران فیصل جاوید نے اسلام آباد میں جاری آزادی مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنی تقاریر میں ملک کے اہم اداروں کو موضوع بنایا جو قابل قبول نہیں ہے۔

  16. بارش سے بچنے کے لیے پلاسٹک شیٹس کا استعمال

    آزادی مارچ کے شرکا نے بارش سے بچنے کے لیے پلاسٹک شیٹ کو اپنی ڈھال بنا رکھا ہے۔

    بارش کے باعث آزادی مارچ کے پنڈال میں کیچڑ ہو گئی ہے جس کے باعث شرکا پریشان ہیں۔

  17. شرکا کی مرکزی سٹیج کے نیچے بارش سے بچنے کی کوشش

    اسلام آباد میں جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کے شرکا بدھ کے روز جاری تیز بارش سے بچنے کے لیے کنٹینرز سے تیارکردہ مرکزی سٹیج کی اوٹ لیے کھڑے ہیں۔

    تیز بارش اور سرد موسم نے پنڈال میں موجود شرکا کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔

  18. اسلام آباد کا سرد موسم، شرکا کی گرم کپڑوں کی خریداری

    اسلام آباد میں جاری بارش اور تیز ہواؤں نے آزادی مارچ کے شرکا کو گرم کپڑے خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔آزادی مارچ میں شریک چند افراد کشمیر ہائی وے سے ملحقہ بازار میں گرم کپڑوں کے ٹھیلے سے خریداری کرتے دکھائی دیئے۔

  19. سرد موسم میں کنٹینر کے اندر دھرنا

    جے یو آئی کا آزادی مارچ تو ایچ نائن کے پنڈال میں جاری ہے لیکن اسلام آباد میں ہونے والی بارش سے بچنے کے لیے کئی افراد نے کنٹینر کے اندر بھی دھرنا دے رکھا ہے۔

    تیز بارش اور سرد ہواؤں سے محفوظ رہنے کے لیے متعدد شرکا نے وفاقی انتظامیہ کی جانب سے رکھے گئے کنٹینرز کو بارش میں اپنی چھت بنا رکھا ہے۔

  20. ’شہری دھرنے کے شرکا کے لیے پلاسٹک شیٹ، چھتریاں اور ٹینٹ پہنچائیں‘

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما زاہد خان نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ آزادی مارچ کے شرکا اسلام آباد میں بارش کے باعث بھیگ رہے ہیں ان کی مدد کی جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب انسانی ہمدردی کے ناطے کیا جائے، جو افراد اس دھرنے میں موجود ہیں وہ عوام کے لیے نکلے ہیں ان کی مدد کریں۔‘