آزادی مارچ میں نماز کا وقفہ
جے یو آئی کے رہنماؤں کی جانب سے خطابات جاری ہیں اس دوران کچھ دیر کے لیے نماز کا وقفہ لیا گیا ہے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 12 روزہ آزادی مارچ کے خاتمے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے پلان بی کے تحت چاروں صوبوں میں اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا عمل جاری ہے۔
جے یو آئی کے رہنماؤں کی جانب سے خطابات جاری ہیں اس دوران کچھ دیر کے لیے نماز کا وقفہ لیا گیا ہے۔
مولانا عطا الرحمان نے کہا ہے کہ سندھ میں پانچ مقامات پر دھرنے ہوں گے۔ ان کے مطابق جمعرات کی دوپہر میں کندھ کوٹ سے پنجاب اور سندھ کا بارڈر بند کر دیا جائے اور روہڑی، سکھر موٹروے بھی بند کر دی جائے گی۔
اسلام آباد میں جے یو آئی کے رہنما اس وقت کارکنان سے خطاب کر رہے ہیں۔ مولانا عطا الرحمن نے سندھ اوربلوچستان میں موجود پارٹی کارکنان سے کہا ہے کہ وہ کل دوپہر دو بجے سے مختلف شاہراؤں پر اکٹھے ہوں۔
مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے حوالے سے مقامی ذرائع ابلاغ میں خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہ کوئی اہم اعلان کرنے والے ہیں۔
اس وقت مولانا اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 میں موجود اپنے کنٹینر پر پہنچ چکے ہیں اور کچھ ہی دیر میں ان کا خطاب متوقع ہے۔
قلعہ عبد اللہ کے علاقے میں سید حمید کراس کے مقام پر جمیعت علمائے اسلام (ف) کے کارکنان نے مرکزی شاہراہ بلاک کر دی ہے۔
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے جنرل سیکرٹیری ملک سکندر نے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے پلان بی پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے اور اسی کے تحت ان کی پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنان نے کوئٹہ سے کراچی جانے والی شاہراہ کو سید حمید کراس کے مقام پر بلاک کر دیا ہے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل کراچی پولیس شرجیل کھرل کی جانب سے جاری ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے پلان ’بی‘ کے تحت کراچی شہر کے مختلف مقامات پر دھرنا دیا جائے گا۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق دھرنے میں بیٹھنے کے لیے مختلف مدرسوں کے طلبا کو استعمال کیا جائے گا جو کہ طویل عرصہ تک قیام کریں گے۔
نوٹیفیکیشن میں ان مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کہتے تھے نواز شریف اور آصف زرداری تلاشی دیں۔ جب عمران خان کی پوری پارٹی کی الیکشن کمیشن نے تلاشی شروع کی تو پھر وہ عدالت میں چھپنا شروع کردیا۔
مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب میں کہا کہ آزادی کے حصول اور ناجائز حکمرانوں سے نجات تک جنگ جاری رہے گی۔ اس ملک میں آئین اور معیشت کی جنگ ہم نے لڑنی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس وقت ہم تمام پارٹیوں سے رابطے میں ہیں۔ ادھر سے اٹھ کر گھروں کو نہیں جائیں گے۔ میدان میں رہیں گے۔
پیر کی رات جمعیت علمائے اسلام ف کے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا ناجائز حکومت کے خاتمے تک استقامت سے جدوجہد جاری رہے گی۔ کسی کا باپ بھی اس حکومت کو جائن نہیں کہلوا سکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’اس حکومت سے جنگ جاری رہے گی۔ اس میں پسپائی نہیں ہوسکتی۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں رابطے میں ہیں۔ جو حکمت عملی ہو گی اسی سمت میں آگے بڑھیں گے۔‘
مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ سول ایڈ سے متعلق قانون پورے صوبے پر لاگو کردیا ہے تو کیا یہ فاٹا کا صوبے میں انضمام ہوا ہے یا پھر پورے صوبے کا انضمام فاٹا میں ہوا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے سوال کیا کہ تین صوبوں کی حکومتیں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دینے کو تیار کیوں نہیں ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب قوم کے مطالبے کو تسلیم کرنا ہوگا۔
جمیت علمائے اسلام فضل الرحمان نے اتوار کی رات آزادی مارچ کے شرکا سے خطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس طرح نہیں چلا کرتا۔ پاکستان کی شناخت اس کا اسلام ہے۔ پاکستان کی شناخت اس کی جمہوریت ہے۔ ہم نے پاکستان کی اسلامی، جمہوری اور آئینی شناحت کو برقرار رکھنا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی شناخت اس کا نظریہ، آئین، اسلام اور جمہوریت ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب کا آغاز وزیر اعظم عمران خان پر تنقید سے شروع کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلی مرتبہ یوم اقبال محسوس ہی نہیں ہونے دیا۔