رینجرز اور پولیس آپریشن کے دوران بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور نکلنے میں کامیاب ہو گئے: رانا ثنا اللہ
وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں رینجرز اور پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
خلاصہ
تحریک انصاف کے کارکنان تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ گئے ہیں اور پی ٹی آئی نے مطالبات کی منظوری تک یہاں دھرنے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی اصل قیادت حکومت سے بات کرنا چاہتی ہے مگر ’خفیہ قیادت‘ ایسا نہیں چاہتی۔
وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں فوج تعینات کر رکھی ہے۔
اسلام آباد میں فوج طلب کیے جانے سے کچھ دیر قبل ہی پیر کو رات گئے سرینگر ہائی وے پر سکیورٹی پر تعینات چار رینجرز اہلکاروں کو ایک تیز رفتار گاڑی نے کچل دیا۔
اسلام آباد کے باسیوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس تک رسائی اور واٹس ایپ سے ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ ہے۔
لائیو کوریج
پیشکش: منزہ انوار
پاکستانی سیاستدانوں کا پیچھا کرنے والے پی ٹی آئی سپورٹرز کی کہانی
،ویڈیو کیپشنپاکستانی سیاستدانوں اور آفیشلز کو پی ٹی آئی کے سپورٹرز کے مظاہروں کا سامنا رہا ہے۔
پچھلے کچھ عرصے سے لندن آنے والے پاکستانی سیاستدانوں اور آفیشلز کو پی ٹی آئی کے سپورٹرز کے مظاہروں کا سامنا رہا ہے۔
یہ سپورٹرز کون ہیں اور انھیں لندن میں رہتے ہوئے پاکستانی سیاسیت میں کیا دلچسپی ہے؟
ویڈیو: خالد کرامت
پی ٹی آئی کا احتجاج: راستوں کی بندش کی وجہ سے شہری پریشان
،ویڈیو کیپشناسلام آباد میں آیے روز ہونے والے احتجاج یہاں کے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہیں
پھر وہی سڑکوں کی بندش، جگہ جگہ کنٹینرز کا راج اور روزمرہ معاملاتِ زندگی ناقابلِ بیان مُشکلات کا شکار۔۔۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے ایک مرتبہ پھر سے وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت اور احتجاج کرنے والی پارٹی تو ایک جانب مگر اس شہر کے رہنے والے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
بی بی سی کی نازش فیض نے چند ایسے افراد سے بات کی ہے جن کو رستے بند ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
فلمنگ اور ایڈیٹنگ: نیر عباس
’تکالیف پر حکومت کی طرف سے عوام سے معذرت کرتا ہوں‘: وفاقی وزیر احسن اقبال
،تصویر کا ذریعہscreenshot
وفاقی وزیر احسن اقبال نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت رستے بند ہونے کی وجہ سے جو تکالیف عوام کو پہنچ رہی ہیں اس پر ’حکومت کی طرف سے عوام سے معذرت کرتا ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ اقدامات عوام اور ملک کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہو گئے تھے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ ان کا یہ ناٹک (احتجاج) آج ناکام ہو جائے گا اور پھر صورتحال معمول پر آ جائے گی۔‘
خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے قافلے اسلام آباد کے لیے روانہ
خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے قافلوں کی اسلام آباد کے لیے روانگی شروع ہو گئی ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعدد علاقوں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی ہیں جہاں مقامی رہنماؤں کی قیادت میں یہ قافلے اسلام آباد کی طرف احتجاج کے لیے اپنا سفر طے کر رہے ہیں۔
جی ٹی روڈ سے اٹک کے مقام پر کنٹینرز رکھ کر رستہ بند کیا گیا ہے جبکہ اٹک کے مقام پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔
پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق یہ تمام قافلے پہلے صوابی انٹرچینج پر جمع ہوں گے اور پھر یہاں سے اسلام آباد کی طرف ایک بڑی ریلی کی صورت میں نکلیں گے۔ ریلی کے ہمراہ دو بڑے بڑے پنکھے بھی ہوں گے جو پولیس کی شیلنگ کی صورت میں ہوا کا رخ پولیس کی جانب ہیں موڑ دیں گے۔
میانوالی سے قافلے کچے رستوں سے ہوتے ہوئے تلہ گنگ تک پہنچے چکے ہیں۔
’شیلنگ ہوئی تو اپنے بچے کو لے کر بھاگ جاؤں گی‘، پی ٹی آئی احتجاج اور خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی, فرحت جاوید، بی بی سی اردو
اسلام آباد آج ایک قلعے کی مانند محسوس ہو رہا ہے جو ہر طرف سے بند ہے۔ جہاں سڑکیں اور گلیاں کنٹینرز لگا کر بلاک کی جا رہی ہیں، وہیں سیکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد یہاں موجود ہے۔ انہی میں خواتین اہلکار بھی شامل ہیں۔
ان میں سے بہت سی خواتین سادہ کپڑوں میں بھی تعینات کی گئی ہیں۔
ہماری ٹیم آج صبح جب شہر کا جائزہ لینے مختلف راستوں سے گزر رہی تھی تو مختلف مقامات پر خواتین پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد نظر آئی۔ انہی میں ایک خاتون اہلکار اپنے دو سال بچے کو ایک کندھے سے اور اس کے کپڑوں اور فیڈر کے بیگ کو دوسرے کندھے سے لگائے کھڑی تھیں۔
اس سوال پر کہ وہ اپنے بچے کو ساتھ کیوں لائی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس اس بچے کی دیکھ بھال کے لیے کوئی نہیں تھا اور انھیں کہا گیا ہے کہ وہ چار دن یہیں ڈیوٹی دیں گی، اس لیے وہ بچہ ساتھ لے آئی ہیں۔ اس وقت بچے کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ان کی والدہ نے بتایا کہ وہ بچہ اپنے پاس رکھنے پر مجبور ہیں۔
اس سوال پر کہ حالات خراب ہوئے یا شیلنگ ہوئی تو ایسی خطرناک صورتحال میں بچے کی کیسے حفاظت کریں گی؟ پولیس اہلکار نے واپس پلٹتے ہوئے کہا کہ ’شیلنگ ہو گئی تو میں اپنے بچے کو لے کر بھاگ جاؤں گی۔‘
دیگر خواتین نے بتایا کہ انھیں کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ چار روز تک انہی مقامات پر ڈیوٹی دیں گی۔ ’ہماری ڈیوٹی صرف آج نہیں، اب تو پورا سال ہی اتنی ہی سخت ہوتی ہے‘۔ یہ الفاظ ایک اور خاتون اہلکار کے تھے جن کے شوہر بھی اسلام آباد پولیس میں ہیں۔ ایک اور مقام پر ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار نے بتایا کہ انھوں نے خاص طور پر شیلنگ سے بچنے کا انتظام کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے اپنے پاس نمک رکھا ہے کہ اگر گلے میں شیلنگ کا دھواں چلا گیا تو نمک سے مدد ملے گی۔ میں نے اپنے پاس آنکھوں کے لیے سپرے رکھا ہے اور عرق گلاب کی بوتل بھی ہے۔ میرے پاس یہ تولیے اور رومال ہیں اور پانی کی بڑی بوتل ہے۔ اگر شیلنگ ہوئی تو بس یہی کروں گی۔ اب تو ویسے بھی عادت ہو گئی ہے۔‘
اس وقت اسلام آباد میں پنجاب پولیس کے دستے بھی تعینات ہیں، جبکہ ایف سی اور سندھ پولیس کے اہلکار بھی نظر آئے۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کے علاوہ مختلف سیکٹرز میں کئی مقامات پر سڑکیں بلاک کر دی گئی ہیں اور اس بار جو غیریقینی یہاں نظر آ رہی ہے، وہ اس سے پہلے نظر نہیں آتی تھی۔
بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز کو آج دیگر صوبوں کے لیے گاڑیاں نہ چلانے کی ہدایت, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو ملانے والی اہم شاہراہ کو ضلع شیرانی میں دانہ سر کے مقام پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ ضلع شیرانی میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دانہ سر سے شاہراہ کو مرمت کی غرض سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے۔ بلوچستان سے یہ واحد شاہراہ ہے جہاں سے تحریک انصاف کے کارکن آسانی کے ساتھ اسلام آباد پہچ سکتے ہیں۔
دوسری جانب ٹرانسپورٹ اتھارٹی بلوچستان نے ٹرانسپورٹرز سے کہا ہے کہ وہ کوئٹہ سے بین الصوبائی شاہراہوں پر چلنے والی مسافر کوچز اور منی بسوں کو آج بھی چلانے سے گریز کریں۔
شاہراہ کی بندش کے علاوہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے ایک اعلامیہ میں ٹرانسپورٹرز سے کہا گیا ہے کہ وہ 24 نومبر تک کوئٹہ سے بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی مسافر کوچز اور منی بسوں کو ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر نکالنے سے گریز کریں۔
اعلامیہ کے مطابق کسی پریشانی سے بچنے کے لیے اطلاعی نوٹس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اس سے قبل محکمہ داخلہ کی جانب سے 15روز کے لیے بلوچستان بھر میں دفعہ 144کے تحت ہر قسم کی اجتماعات اور ریلیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ تحریک انصاف بلوچستان کے رہنما عالم خان کاکڑ نے بتایا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد ملک کے دیگر حصوں کی طرح بلوچستان سے لوگوں کو اسلام آباد میں پارٹی کے ہونے والے احتجاج میں شرکت سے روکنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے رہنمائوں کو یہ معلوم تھا کہ حکومت کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کردی جائیں گی اس لیے پارٹی نے بلوچستان سے پہلے ہی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خیبر پختونخوا پہنچانے کی حکمت عملی اپنائی۔
انھوں نے بتایا کہ اس حکمت عملی کے تحت بلوچستان سے تین بڑے قافلے خیبر پختونخوا پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ تحریک انصاف بلوچستان کے ترجمان آصف ترین نے بتایا کہ بلوچستان سے پہنچنے والے قافلے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں خیبرپختونخوا سے اسلام آباد پہنچیں گے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد کے مقام پر پی ٹی آئی کے مزید کارکنان گرفتار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
اسلام آباد پولیس نے فیض آباد کے مقام پر تحریک انصاف کے 13 کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں پی ٹی آئی کارکنان کے علاوہ عام راہگیر بھی شامل ہیں۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصررضوی نے اڈی چوک کادورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں بھرپورسکیورٹی کاپلان تشکیل دیاگیا ہے۔ سکیورٹی پلان کا مقصد ’شرانگیزی‘ کو روکنا ہے۔
آئی جی اسلام آباد نے دعویٰ کیا کہ اگر ’کوئی روڈبند ہے تو اس کے ساتھ ایک لین کوکھلا رکھا گیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اسلام آبادائیرپورٹ آنے جانے والے راستے کھلے ہیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی پلان کامقصدعوام کے جان ومال کی حفاظت ہے۔
خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کارکنان کی اسلام آباد روانگی کے لیے تیاری, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو پشاور
پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے اسلام آباد کی طرف روانگی کی تیاری کر رہے ہیں۔
پشاور رنگ روڈ پر کارکنان جمع ہیں جہاں سے یہ سب گاڑیوں میں ایک قافلے کی صورت میں موٹروے سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے۔ ان کارکنان میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔
تحریک انصاف کے کارکنان اپنے ساتھ دوائیاں، کمبل اور کھانے کی چیزیں بھی لا رہے ہیں۔ یہاں جمع ہو کر یہ کارکنان اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے۔
لاہور کے بھی متعدد رستے ٹریفک کے لیے بند، پنجاب سے پی ٹی آئی کارکنان اسلام آباد کے لیے روانہ
،تصویر کا ذریعہ@PTIofficial
لاہور کی ٹریفک پولیس کے ترجمان نے پنجاب کے دارالحکومت کے داخلی و خارجی راستوں کی تفصیلات بتائی ہیں۔ ترجمان کے مطابق راوی پل، پرانا راوی پل، سگیاں راوی پل، ایسٹرن بائی پاس، بابوصابو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہیں۔
ترجمان کے مطابق ٹھوکر نیاز بیگ سے ملتان روڈ ٹریفک آ، جا سکتی ہے جبکہ رائے ونڈ روڈ، فیروز پور روز، گجومتہ ٹریفک کے لیے کھلے ہیں۔ حسین چوک سے جانب لبرٹی کینٹینر لگا کے بند کر دیا گیا ہے۔
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق ’رنگ روڈ تمام انٹرجینجز سے ٹریفک کے لیے مکمل بند یے۔ پولیس کے ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ شہر کے اندر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ شہری سفر کرنے سے پہلے پیلپ لائن 15 سے راہنمائی لیں۔
دوسری طرف پنجاب کے مختلف علاقوں سے پی ٹی آئی کے کارکنان احتجاج میں شریک ہونے کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا رخ کر ہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ کارکنان اپنی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کر رہے ہیں۔ ملتان سے عامر ڈوگر نے ایکس پر اپنی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ گاڑی میں بیٹھے ہیں اور ان کی گاڑی کے پیچھے بھی گاڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ اس ویڈیو پر انھوں نے یہ کیپشن دیا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں۔ صوبے کے دیگر حصوں سے بھی اسلام آباد کا رخ کرنے والوں کی ویڈیوز تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شیئر کی گئی ہیں۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے احتجاج پر سوالات اٹھائے ہیں اور اس کی مکمل ناکام ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پنجاب میں پی ٹی آئی کے 104 ایم پی ایز کہاں ہیں سارے سو رہے ہیں کہیں کوئی تیاری نظر آ رہی ہے۔‘
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے لوگوں کی کوئی سرگرمی نہیں ہے، لوگ ناشتہ کر رہے ہیں اور چھٹی منا رہے ہیں۔‘ ان کے مطابق ’کوئی بھی شہری فتنہ فساد کی سیاست میں حصہ لینا نہیں چاہتے کیونکہ مریم نواز عوام کےلیے انقلابی اقدامات کررہی ہیں۔‘
عمران خان کی احتجاج کی کال، پشاور سے اسلام آباد کے لیے پی ٹی آئی کارکنان دن 11 بجے روانہ ہوں گے, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو پشاور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے آج تحریک انصاف ملک بھر میں احتجاج کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا پشاور سے اسلام آباد کے لیے آج دن 11 بجے قافلہ موٹروے سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گا۔
مردان، سوات، چارسدہ اور ملحقہ علاقے سے تعلق رکھنے والے کارکنان صوابی انٹرچینج پر جمع ہوں گے جبکہ ایبٹ آباد اور ہزارہ سے آنے والے کارکن موٹروے پر ہزارہ انٹرچینج پر ریلی میں شامل ہو جائیں گے۔
جنوبی اضلاع والے کچھ کارکنان پشاور پہنچے ہیں جبکہ کچھ موٹروے پر ہکلہ انٹرچینج میں پی ٹی آئی کی اس ریلی کا حصہ بنیں گے۔ تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار نے بی بی سی کو بتایا کہ کارکنان کی بڑی تعداد میں صوابی میں ریلی میں شامل ہو گی۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنماوں نے کارکنان سے پہلے یہ کہا تھا کہ جو کارکن پہلے اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں وہ پہنچ جائیں۔ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے مطابق وہ کارکنان مکمل تیاری کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کر رہے ہیں اور جہاں تک ہو سکے گا وہ پیش قدمی جاری رکھیں گے۔ پی ٹی آئی کے مطابق موسم کی مناسبت سے کارکنان نے کپڑوں اور دیگر اشیا کا انتظامات کر رکھا ہے۔
تحریک انصاف کے مطابق صوبہ بلوچستان سے ایک بڑا قافلہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا ہے جو موٹر وے پر تحریک انصاف کی ریلی کا حصہ بن جائے گا۔
تحریک انصاف کے 350 سے زائد کارکنان گرفتار، اسلام آباد داخل ہونے والے رستے بھی بند, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولیس نے آج تحریک انصاف کے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے 350 سے زائد تحریک انصاف کے کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گذشتہ رات پولیس نے متعدد کارکنان کے گھروں پر بھی چھاپے مارے اور وہاں سے انھیں گرفتار کر کے مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا۔
دوسری طرف انتظامیہ نے جہاں پی ڈبلیو ڈی سے زیرو پوائنٹ تک ایکپریس ہائی وے کو بند کر رکھا ہے وہیں اسلام آباد داخل ہونے والے رستوں پر بھی بھاری کنٹینرز لگا کر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس بار کنٹینرز کے علاوہ انتظامیہ نے بجری سے بھرے کنٹینر بھی رستوں میں لگا رکھے ہیں۔
حالات پر قابو پانے کے لیے اٹک اور راولپنڈی میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات کر دی گئی ہے۔ اس احتجاج کے پیش نظر موبائل سروسز بھی معطل کی گئی ہیں۔
پاکستان میں پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل واٹس ایپ پر قدغن لگائی گئی ہے: نیٹ بلاکس
انٹرنیٹ پر نظر رکھنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق پاکستان میں واٹس ایپ پر قدغن لگائی گئی ہے۔ اس ادارے نے میڈیا رپورٹس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکام نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر یہ اقدام اٹھایا ہے۔
پی ٹی آئی آج یہ احتجاج عمران خان کی رہائی کے لیے کر رہی ہے۔
عمران خان کی احتجاج کی کال اور حکومتی اقدامات: اب تک ہم اس بارے میں کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر یعنی آج ملک بھر میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ یہ کال اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان نے دی ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی نے اس احتجاج سے متعلق ایک دوسرے سے ہونے والے رابطوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج سے قبل اسلام آباد کی پولیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے اور ’قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘
سنیچر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر شہر میں امن عامہ کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی غیرقانونی عمل کا حصہ نہ بنیں۔‘
اپنی پوسٹ میں پولیس نے شہریوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ان کی جان و مال اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔
حکومت کا ’سکیورٹی خدشات والے علاقوں‘ میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس بند کرنے کا عندیہ
پاکستانی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے موقع پر ’سکیورٹی کے خدشات والے علاقوں‘ میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروسز بند کی جا سکتی ہیں۔
سنیچر کو وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ صرف سیکورٹی کے خدشات والے علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروس کو بند کرنے یا نہ کرنے کا تعین کیا جائے گا۔
وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے باقی حصوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس معمول کے مطابق چلتی رہے گی۔
تاہم ترجمان کی جانب سے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ’سکیورٹی کے خدشات‘ والے علاقے کون سے ہیں اور وہاں موبائل انٹرنیٹ یا وائی فائی سروس کتنے دورانیے کے لیے بند کی جائے گی۔
مطالبات پورے ہونے تک ڈی چوک سے نہیں ہلیں گے: وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کا کہنا ہے عمران خان کے حکم کے مطابق مطالبات پورے ہونے تک ڈی چوک سے نہیں ہلیں گے۔
24 نومبر کے حوالے سے پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے شئیر کی گئی ایک ویڈیو میں ان کا کہنا ہے کہ ہم سب نے 24 نومبر کو ڈی چوک پر پہنچنا ہے اور اس وقت تک وہاں سے نہیں ہلنا جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے۔
گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ہمارے مطالبات میں عمران خان، لیڈرشپ اور کارکنان کی رہائی شامل ہے ’اس کے علاوہ ہمارے مطالبات میں ہمارے مینڈیٹ کی واپسی اور آئین کا تحفظ شامل ہے۔‘
انھوں نے کارکنان سے کہا ہے کہ ’جتنی بھی رکاوٹیں ہوں، آپ نے ہر صورت ڈی چوک پہنچنا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ہم سب پر فرض ہے کہ عمران خان کو جو بے گناہ قید کیا گیا ہے اور ہماری پارٹی کے خلاف جو ظلم و فسطائیت جاری ہے، اس سب کے خلاف ہم سب نے نکلنا ہے۔‘
انھوں نے حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ ہم پر شیلنگ کرتے ہیں، ربڑ کی گولیاں چلاتے ہیں، تشدد کرتے ہیں، ہمارے راستوں میں کنٹینر کھڑے کرتے ہیں، خندقیں کھودتے ہیں، ہمارے اوپر فائرنگ کرتے ہیں اور اگر کوئی بھی نقصان ہو گا تو اس کی ذمہ دار یہ حکومت ہو گی۔‘
بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر خوش آمدید
بی بی سی اردو کی لائیو نشریات جاری ہیں۔ گذشتہ روز کی خبروں کا احوال جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔