رینجرز اور پولیس آپریشن کے دوران بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور نکلنے میں کامیاب ہو گئے: رانا ثنا اللہ
وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں رینجرز اور پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
خلاصہ
تحریک انصاف کے کارکنان تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ گئے ہیں اور پی ٹی آئی نے مطالبات کی منظوری تک یہاں دھرنے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی اصل قیادت حکومت سے بات کرنا چاہتی ہے مگر ’خفیہ قیادت‘ ایسا نہیں چاہتی۔
وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں فوج تعینات کر رکھی ہے۔
اسلام آباد میں فوج طلب کیے جانے سے کچھ دیر قبل ہی پیر کو رات گئے سرینگر ہائی وے پر سکیورٹی پر تعینات چار رینجرز اہلکاروں کو ایک تیز رفتار گاڑی نے کچل دیا۔
اسلام آباد کے باسیوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس تک رسائی اور واٹس ایپ سے ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ ہے۔
لائیو کوریج
پیشکش: منزہ انوار
بریکنگ, پی ٹی آئی کا قافلہ بلیو ایئریا پہنچ گیا, ثنا آصف ڈار، بی بی سی اردو، اسلام آباد
پی ٹی آئی کا اتوار کے روز پشاور سے روانہ ہونے والا قافلہ اسلام آباد کے علاقے بلیو ایریا پہنچ گیا ہے۔
اس قافلے کے ساتھ موجود پی ٹی آئی رہنما ارباب نسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس وقت ہم بلیو ایریا میں یوفون ٹاور کے پاس سے گزر رہے ہیں۔‘
آنسو گیس ابھی بھی یہاں کی فضا میں موجود ہے، جس سے آنکھوں میں چبھن اور گلے میں خراش محسوس ہوتی ہے۔
ابھی بھی سڑک پر جگہ جگہ پتھر ہیں، یہاں رکاوٹوں کو توڑا گیا جبکہ آنسو گیس کے خالی شیل بھی یہاں بکھرے ہوئے ہیں۔
انتظامیہ نے مظاہرین کی پیش قدمی روکنے کے لیے جو کنٹینرز لگائے تھے، پی ٹی آئی کارکنان انھیں کسی حد تک ہٹانے میں کامیاب رہے ہیں۔
میں نے کچھ مقامی افراد سے بات کی جن کی زندگی اس ساری صورتحال سے شدید متاثر ہوئی۔
ایک شخص نے بتایا کہ گذشتہ رات ہونے والے ہنگامے کی وجہ سے انھیں اپنے بچوں کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا۔
ایک اور شخص نے بتایا کہ شیلنگ اور دھوئیں کی وجہ سے کیسے ان کی بیٹی کو رات بھر سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ جھڑپیں میرے گھر کے اتنے نزدیک ہوں گی۔‘
بی بی سی نے مظاہرین سے بھی بات کی ہے۔ خیبرپختونخوا سے آنے والے ایک شخص نے بتایا کہ ’میں رات کو فٹ پاتھ پر سویا۔‘
انھوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’جہاں تک پولیس کی بات ہے تو اب مجھے آنسو گیس کی عادت ہو گئی ہے تو میں پریشان نہیں۔‘
پی ٹی آئی قیادت بات کرنا چاہتی تھی مگر خفیہ لیڈر شپ ایسا نہیں چاہتی: محسن نقوی
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی کی خفیہ لیڈرشپ کے پاس جماعت کا کنٹرول ہے۔
ڈی چوک پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خفیہ قیادت کے آگے باقی قیادت کچھ نہیں کر سکتی۔
’پی ٹی آئی کی قیادت بھی خون خرابہ نہیں چاہتی لیکن خفیہ قیادت کا ایجنڈا پاکستان نہیں۔‘
محسن نقوی نے بار بار ’خفیہ قیادت‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’فساد کی جڑ صرف ایک خفیہ ہاتھ ہے، پی ٹی آئی قیادت بات کرنا چاہتی تھی مگر خفیہ لیڈر شپ ایسا نہیں چاہتی۔ پی ٹی آئی کے ساتھ ہاتھ ہو جائے گا۔‘
وزیر داخلہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ پی ٹی آئی کے اس احتجاجی قافلے میں کتنے لوگ ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ صحیح تعداد بتانا تو ممکن نہیں تاہم ’احتجاج میں شامل دو ہزار لوگ تربیت یافتہ ہیں، ان کے بیک گراؤنڈ ہم نے چیک کروا لیے ہیں کہ یہ لوگ کون ہیں۔‘
محسن نقوی نے کے پی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے سوال کیا کہ مظاہرین کے پاس آنسو گیس کے شیل کہاں سے آئے؟
انھوں نے کہا کہ ’ایک شیل ساڑھے چار ہزار روپے کا آتا ہے اور یہ عام آدمی کیسے خرید سکتا ہے۔‘
بریکنگ, پی ٹی آئی کا قافلہ فیصل ایوینیو پہنچ گیا، ڈی چوک صرف چھ کلومیٹر دور, ثنا آصف ڈار، بی بی سی اردو، اسلام آباد
سابق وزیر اعظم اور بانی تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کا مطالبہ لیے پی ٹی آئی کے کارکنان اسلام آباد کے ڈی چوک کی جانب رواں دواں ہیں۔
پی ٹی آئی پشاور ریجن کے ارباب عاصم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس وقت ہم فیصل ایوینیو پر موجود ہیں اور آگے کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔‘
واضح رہے کہ فیصل ایوینیو سے ڈی چوک تک فاصلہ تقریباً چھ کلومیٹر بنتا ہے اور پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ڈی چوک پہنچنے والے کسی بھی احتجاجی سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
پی ٹی آئی کا احتجاج: اب تک ہم اس بارے میں کیا جانتے ہیں؟
پی ٹی آئی کے کارکن اس وقت اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ سرینگر ہائی وے پر زیرو پوائنٹ کے مقام پر موجود ہیں جہاں ان کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے جھڑپیں جاری ہیں۔
پی ٹی آئی نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ آج دن کے اجالے میں ڈی چوک پہنچ جائیں گے جہاں وہ دھرنا دیں گے۔
وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں فوج تعینات کر دی ہے۔
بی بی سی کے نمائندوں نے شہر کے مختلف مقامات پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو سکیورٹی پر مامور دیکھا۔
مظاہرین پر شیلنگ کے نتیجے میں اسلام آباد کے مختلف مقامات پر دھوئیں کے بادل موجود ہیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں کون سے راستے بند اور کون سے کھلے ہیں؟
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج اور مظاہرین کی ریڈ زون تک رسائی کو روکنے کے لیے مختلف مقامات کو کنٹینر لگا کر بند کیا گیا ہے اور بہت سی اہم شاہرائیں آمدورفت کے لیے بند ہیں۔
آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت کون سی سڑکیں بند ہیں:
2. جی ٹی روڈ لاہور تا اسلام آباد مختلف مقامات سے بند ہے۔
3. مین مری روڈ صدر سے فیض آباد تک مختلف مقامات پر بلاک ہے، جن میں صدر، مریر چوک، لیاقت باغ، کمیٹی چوک، ناز سینما اور شمس آباد سمیت دیگر اہم سڑکیں شامل ہیں۔
4. فیض آباد بند ہے۔ فیض آباد انٹر چینج سے اسلام آباد ایکسپریس وے پر داخلے اور خارجی راستوں کو بلاک کر دیا گیا ہے۔
5. آئی جے پی روڈ سے ایکسپریس وے تک داخلہ بند ہے۔
6. سری نگر ہائی وے، زیرو پوائنٹ چیک پوسٹ دونوں سمتوں سے بند ہے۔ سری نگر ہائی وے سے ایکسپریس وے کی طرف نکلنا بھی بند ہے۔
7. پشاور موڑ فلائی اوور بلاک ہے۔
8. مارگلہ ایونیو/ایران ایوینیو ای الیون مارکیز کے قریب بند ہے۔
9. گولڑہ موڑ بلاک ہے۔
10. بہارہ کہو بائی پاس پر مری روڈ دونوں اطراف سے بند ہے۔
11. روات ٹی چوک بلاک ہے۔
12. ٹیکسلا سے اسلام آباد جانے والی تمام سڑکیں بند ہیں۔
13. ترنول پھاٹک بلاک ہے۔
14. ہری پور (کے پی کے) سے منسلک پیر سوہاوہ روڈ مونال کے قریب بند ہے۔
15. اڈیالہ روڈ خواجہ کارپوریشن چوک سے بند ہے تاہم ایک طرف ابھی کھلی ہے۔
16. سوان پل بھی بند ہے۔
اسلام آباد/راولپنڈی کے کھلے راستے:
1. مارگلہ روڈ ریڈ زون تک رسائی کے لیے کھلا ہے۔
2. کنونشن سینٹر کا راستہ فی الحال کھلا ہے۔
4. 26 نمبر چونگی، سرینگر ہائی وے پر صرف ایک لین کھلی ہے۔
5. ایکسپریس وے ون لین کھل گئی ہے تاہم ٹریفک کا رش متوقع ہے۔
سرینگر ہائی وے پر کشیدہ صورتحال تصاویر میں
پاکستان تحریک انصاف کے کارکن اس وقت اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ سرینگر ہائی وے (کشمیر ہائی وے) پر زیرو پوائنٹ کے مقام پر موجود ہیں جہاں ان کی کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے جھڑپیں جاری ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
زیرو پوائنٹ پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں، مظاہرین کا پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
مقامی پولیس کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان زیرو پوائینٹ کے قریب پہنچ گئے ہیں جہاں پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جاری ہے جبکہ مظاہرین پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ زیرو پوائنٹ کے مقام سے آگے ریڈ زون کی حدود شروع ہو جاتی ہے جہاں پر انتظامیہ کے بقول فوجی اہلکار تعینات ہیں۔
’اس وقت زیرو پوائنٹ پر ہیں، آج دن کے اجالے میں ڈی چوک پہنچ جائیں گے‘: پی ٹی آئی رہنما ارباب نسیم, ثنا آصف ڈار، بی بی سی اردو، اسلام آباد
عمران خان کی ’فائنل کال‘ پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پشاور سے آنے والا قافلہ اس وقت زیرو پوائنٹ پر موجود ہے۔
اس قافلے کے ساتھ موجود پی ٹی آئی رہنما ارباب نسیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ’ہم اس وقت زیرو پوائنٹ پر موجود ہیں اور کارکنان رکاوٹیں ہٹا رہے ہیں۔‘
انھوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ وہ آج دن کے اجالے میں ہی ڈی چوک پہنچ جائیں گے۔
جب ان سے آگے کے لائحہ عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو ارباب نسیم نے کہا کہ وہ ڈی چوک پر دھرنا دیں گے۔
واضح رہے کہ اس قافلے میں عمران خان کی اہلیہ اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی بھی شامل ہیں۔
’شیلنگ اور فائرنگ کی آوازیں سُنی ہیں، آنسو گیس کی بُو گھروں میں داخل ہو چکی ہے‘
اسلام آباد کے سیکٹر جی 11 میں رہائش پذیر بی بی سی کے ایک اور نمائندے نے بتایا کہ صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب انھوں نے اچانک لوگوں کے شور شرابے کی آواز سُنی۔
انھوں نے بتایا کہ ’ساڑھے آٹھ بجے کے قریب شیلنگ اور فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی تھیں۔ شاید فضائی نگرانی بھی ہو رہی ہے کیونکہ بار بار ہیلی کاپٹر کی آواز سنائی دے رہی ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ہوا میں شدید قسم کی آنسو گیس ہے، جس کی بدبو گھروں کے اندر داخل ہو چکی ہے۔
’میں سوچ رہا تھا کہ اپنے بچوں کو لے کر کسی محفوظ مقام پر چلا جاؤں لیکن حالات ایسے ہیں کہ باہر نکلنا مشکل ہے۔ ہم نے اب گھر کے دروازے اور کھڑکیاں اچھی طرح سے بند کر لی ہیں تاکہ آنسو گیس سے بچا جا سکے۔‘
بی بی سی کے نمائندے نے مزید بتایا کہ ’جی الیون کی مہر آبادی میں بھی لوگوں کا شور سنائی دے رہا ہے جبکہ سروس روڈ پر کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔‘
وزیرِاعظم کی رینجرز اہلکاروں کی ہلاکت کی مذمت: ’یہ پُر امن احتجاج نہیں بلکہ شددت پسندی ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے گاڑی سے کچلے گئے رینجرز اہلکاروں کی موت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کی فوری نشاندہی کر کے انھیں سزا دلوانے کی ہدایت کی ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں فوج طلب کیے جانے سے کچھ دیر قبل ہی پیر کو رات گئے سرینگر ہائی وے پر سکیورٹی پر تعینات چار رینجرز اہلکاروں کو ایک تیز رفتار گاڑی نے کچل دیا۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق یہ واقعہ سیکٹر جی ٹین کے سگنل کے قریب پیش آیا۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نام نہاد پر امن احتجاج کی آڑ میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں پر حملے قابل مذمت ہیں۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’پولیس اور رینجرز اہلکار شہر میں امن و امان کے نفاذ کے لیے مامور ہیں اور انتشاری ٹولہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا رہا ہے۔‘
بیان کے مطابق ’یہ پُر امن احتجاج نہیں بلکہ شدّت پسندی ہے۔ پاکستان کسی بھی انتشار اور خوں ریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘
دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی شدید الفاظ میں اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ملوث تمام شرپسندوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
انھوں نے کہا ہے کہ ’حملہ آوروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے اور رینجرز جوانوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔‘
کشمیر ہائی وے پر کنٹینرز کی دیوار اور رینجرز کی گاڑیوں کی طویل قطار: بی بی سی نے اسلام آباد کی سڑکوں پر کیا دیکھا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کا قافلہ اِس وقت سرینگر ہائی وے پر موجود ہیں جن کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔
بی بی سی کے محمد صہیب نے آج صبح اسلام آباد کی سڑکوں پر کیا دیکھا؟ اس کا احوال وہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
’سیکٹر جی 10 میں ہم واضح طور پر ہوا میں آنسو گیس کے بادلوں کو دیکھ سکتے ہیں اور اس کی بُو محسوس کر سکتے ہیں۔ وہاں دھوئیں کے بادل موجود ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمیں گلے میں خراش محسوس ہوتی ہے۔‘
’صبح سوا 8 بجے کے قریب سرینگر ہائی وے سے ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے برابر تھی جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے کشمیر ہائی وے پر کنٹینرز کی ایک دیوار کھڑی کی گئی ہے۔‘
’اس کے علاوہ اسلام آباد کے مشہور مال سینٹورس کے قریب ہمیں رینجرز کی گاڑیوں کی طویل قطار نظر آئی۔ مختلف مقامات پر ہمیں پولیس، رینجرز کے ساتھ ساتھ ایف سی کے اہلکار بھی نظر آئے تاہم فوج کا کوئی اہلکار نظر نہیں آیا۔‘
حکومت حالات کو جان بوجھ کر کشیدگی اور تصادم کی جانب دھکیل رہی ہے: ترجمان تحریک انصاف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر حالات
کو کشیدگی اور تصادم کی جانب دھکیل رہی ہے۔
پارٹی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا
ہے کہ ’پی ٹی آئی ایک مرتبہ پھر واضح کرتی ہے کہ ہمارے کارکن مکمل طور پر نہتے اور
پرامن ہیں، تشدد نہ ہمارا راستہ ہے اور نہ ہی کبھی ہم نے کبھی اس کا سہارا لیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف حکومت کی تمام تر فسطائیت اور ظلم کے باوجود گذشتہ ڈھائی سال
کی طرح آج بھی مکمل طور پر پرامن ہے۔‘
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی رات گئے ہونے والی پریس
کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’محسن نقوی نہ
بتائیں کہ اُن کے منھ کو کتنا خون لگا ہوا ہے۔۔۔ نہتے اور پرامن عوام پر تشدد سے
سرکار کے عزائم پہلے دن سے انتہائی واضح ہیں۔‘
ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ دو دن کی بدترین شیلنگ کے بعد
گذشتہ رات مظاہرین پر گولیاں برسائی گئیں جس کے نتیجے میں دو کارکن ہلاک جبکہ دو
درجن سے زائد زخمی ہوئے۔ حکومت نے فی الحال مظاہرین کی ہلاکت کے دعوے پر کوئی
ردعمل نہیں دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر عوام کا مینڈیٹ نہ چھینا جاتا تو
آج عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
ترجمان تحریک انصاف نے مزید کہا کہ عمران خان کی کال پر
نکلنے والا ہر کارکن احتجاج جیسی آئینی و قانونی سیاسی سرگرمی کو کامیابی تک لے
جائے گا۔
تحریک انصاف کا قافلہ سرینگر ہائی وے پر، مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں میں جھڑپیں جاری: گذشتہ رات اسلام آباد میں کیا کچھ ہوتا رہا؟, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اُردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔ اگر آپ نے ہماری لائیو کوریج کو ابھی جوائن کیا ہے تو گذشتہ رات پیش آنے والے چند اہم واقعات کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں
اتوار کی دوپہر صوبائی دارالحکومت پشاور سے روانہ ہونے والا پاکستان تحریک انصاف
کا قافلہ تمام تر رکاوٹیں عبور کرتا ہوا اب وفاقی دارالحکومت کی مرکزی شاہراہ
سرینگر ہائی وے (کشمیر ہائی وے) پر سیکٹر جی 11 کے مقام پر موجود ہے جہاں مظاہرین
اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین کی ڈی چوک کی جانب پیش
قدمی کو روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جا رہی ہے جبکہ مظاہرین سکیورٹی
اہلکاروں پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف پشاور کے صدر عرفان
سلیم نے اب سے کچھ دیرقبل بی بی سی کو بتایا کہ فقیر ایپی روڈ کو سرینگر ہائی وے سے
ملانے والی جنکشن پر اُن کی جماعت کے کارکنان کی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں
ہو رہی ہیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ سکیورٹی اہلکار پی ٹی آئی کارکنان
پر بہت زیادہ شیلنگ کر رہے ہیں جبکہ گولیاں بھی برسائی جا رہی ہیں۔ عرفان سلیم نے
بتایا کہ بشریٰ بی بی اس وقت گاڑی میں جبکہ علی امین گنڈاپور کنٹینر پر سوار ہیں
اور دونوں قافلے کے ابتدائی حصے سے تھوڑا پیچھے ہیں۔
یاد رہے کہ اس قافلے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ
بشری بی بی بھی موجود ہیں۔ قافلے میں موجود تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ
ہر صورت اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچیں گے جبکہ ان کا بڑا مطالبہ بانی پی ٹی آئی عمران
خان کی رہائی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر رات گئے وفاقی
حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت دارالحکومت میں فوج کو طلب کر لیا ہے۔ اسلام
آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان میمن نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو تصدیق کرتے
ہوئے کہا ہے کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر فوج کو طلب کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں فوج طلب کیے جانے سے کچھ دیر قبل ہی پیر کو
رات گئے سرینگر ہائی وے پر سکیورٹی پر تعینات تین رینجرز اہلکاروں کو ایک تیز
رفتار گاڑی نے کچل دیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق یہ واقعہ جی ٹین کے سگنل کے
قریب پیش آیا جس میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سے قبل وفاقی وزیر
داخلہ چند ہی گھنٹوں میں تین مرتبہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی جس کے دوران
انھوں نے بتایا کہ تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران ہوئے حملوں میں اب تک دو پولیس
اہلکار ہلاک جبکہ 100 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق متعدد پولیس
اہلکار شدید زخمی بھی ہیں۔
تحریک انصاف کے قافلے کے اسلام آباد میں داخل ہونے کے موقع پر
وفاقی وزیر داخلہ اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر ڈائریکٹ فائرنگ
کے الزامات عائد کیے گیے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا ہے کہ قافلے میں
موجود پی ٹی آئی کارکنان کی براہ راست فائرنگ سے ایک رینجرز اہلکار سمیت چھ
سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی نے بھی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اپنے
متعدد کارکنوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈی چوک پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیر کی شب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب
سے پی ٹی آئی کو سنگجانی میں احتجاج کرنے کی آفر دی گئی تھی اور اس سلسلے میں
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اڈیالہ جیل میں عمران خان سے دو ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی جانب سے اجازت مل گئی تھی ’لیکن شاید عمران
خان سے اوپر بھی کوئی لیڈرشپ آ گئی ہے جس نے یہ بات ماننے سے انکار کیا ہے۔‘
تحریک انصاف کا قافلہ جب رات گئے اسلام آباد کے مرکزی علاقے
تک پہنچنے کی غرض سے چونگی نمبر 26 پہنچا تو اس موقع پر شدید شیلنگ اور پتھراؤ ہوا۔
پی ٹی آئی پشاور ریجن کے صدر ارباب عاصم نے بی بی سی کو بتایا کہ سخت مشکلات کے
بعد 26 نمبر چونگی سے تمام رکاوٹیں ہٹا لی گئی تھیں جس کے بعد قافلہ مرکزی سرینگر
ہائی وے کی جانب بڑھا۔
دوسری جانب نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو توقع تھی کہ یہ لوگ اسلام
آباد تک پہنچیں گے اور اس حوالے سے حکمتِ عملی تیار کی گئی مگر اس وقت بشریٰ بی بی
پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اگر یہ ڈی چوک کی جانب بڑھتے ہیں تو حکومت کے
پاس طاقت کا استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔‘
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ’پولیس کے لیے گولی کا جواب گولی سے دینا
آسان تھا مگر پولیس نے گولی کا جواب ربڑ بلٹ سے اور آنسو شیل سے دیا۔‘ تاہم انھوں
نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مظاہرین کو ڈی چوک نہیں جانے دیا جائے گا۔
اسلام آباد میں داخل ہونے والا پی ٹی آئی کا قافلہ اس وقت کہاں ہے ؟, منزہ انوار، بی بی سی - اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف کا دعویٰ ہے کہ ان کہ قافلے نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اور ٹیکنالوجی (نسٹ) والا چوک کراس کر لیا ہے۔
پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم نے اب سے کچھ دیرقبل بی بی سی کو بتایا ہے کہ فقیر ایپی روڈ کو کشمیر ہائے وے سے ملانے والی جنکشن پر ان کے کارکنان کی سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی اہلکار پی ٹی آئی کارکنان پر ہیوی شیلنگ کر رہے ہیں اور گولیاں برسائی جا رہی ہیں۔
عرفان سلیم نے بتایا کہ بشریٰ بی بی اس وقت گاڑی میں جبکہ علی امین گنڈاپور کنٹینر پر سوار ہیں اور دونوں تھوڑا پیچھے ہیں۔
انھوں نے ڈی چوک جانے کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ خان نے کہا ہے ہر حال میں ڈی چوک پہنچنا ہے۔
پی ٹی آئی کا احتجاجی مارچ: اسلام آباد میں جھڑپیں، کشیدگی اور فوج
،ویڈیو کیپشنپی ٹی آئی کا احتجاجی مارچ: اسلام آباد میں جھڑپیں، کشیدگی اور فوج
عمران خان کی رہائی کے لیے بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ ڈی چوک کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ حکومت نے اسلام آباد میں فوج طلب کر لی ہے۔
مزید جانیے اس ویڈیو میں منزہ انوار سے۔
بریکنگ, تیز رفتار گاڑی نے کم از کم تین سکیورٹی اہلکاروں کو کچل دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کی شب پی ٹی آئی کے
احتجاج کے تناظر میں سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو ایک تیز رفتار گاڑی نے کچل دیا
ہے۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق یہ واقعہ سرینگر ہائی وے پر جی ٹین کے سگنل کے قریب پیش آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم تین سکیورٹی
اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سے قبل منگل کی شام وفاقی وزیر داخلہ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ
تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران اب تک دو پولیس اہلکار ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے جن
میں متعدد شدید زخمی ہیں۔
امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر اسلام آباد میں فوج کو طلب کر لیا گیا: ڈی سی اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیشِ نظر شہر میں امن و امان قائم کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان میمن نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو تصدیق کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے فوج کو طلب کر لیا ہے۔
یاد رہے پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 245 فوج کے فرائض اور ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔
آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاکستان کی مسلح افواج، وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت بیرونی افواج کے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی۔
آرٹیکل 245 کے تحت اگر ملک کو جارحیت یا جنگ کا خطرہ ہو یا قانون و امن و عامہ کی صورتحال درپیش ہو تو وفاقی حکومت کی ہدایت پر وہ سول حکومت کی مدد کے لیے شہر، صوبے یا کسی علاقے کی سیکورٹی کا انتظام سنبھال سکتی ہیں۔
آرٹیکل 245 یہ بھی کہتا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فوج کو طلب کرنے کے فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹیکل 245 کے عمل میں لانے کے بعد ہائی کورٹ کے اختیارات صرف اس آرٹیکل کی حد تک معطل ہو جاتے ہیں اور وہ اس حکم نامے کو چیلنج نہیں کر سکتیں۔
یاد رہے کہ آرٹیکل 245 کے تحت ماضی میں بھی مختلف حکومتوں کی جانب سے فوج طلب کی جاتی رہی ہے۔ سنہ 2020 اور 2021 میں کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائے گئے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کروانے کے لیے عمران خان حکومت کی جانب سے اسی آرٹیکل کے تحت فوج کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
اسی طرح سنہ 2017 کے ٹی ایل پی کے فیض آباد دھرنے اور سنہ 2014 کے عمران خان اور طاہر القادری دھرنے کے لیے بھی فوج کو اسی آرٹیکل کے تحت طلب کیا جاتا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کا قافلہ اسلام آباد میں داخل: ’26 نمبر چونگی سے تمام رکاوٹیں ہٹا لی گئی ہیں‘
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کا قافلہ اب 26 نمبر میں رکاوٹیں عبور کر کے اسلام آباد کی مشہور سرینگر ہائی وے پر جی 13 کے مقام سے گزر رہا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے پشاور سے آنے والے قافلے میں شامل صدر پی ٹی آئی پشاور ریجن ارباب عاصم نے بی بی سی کی منزہ انوار کو بتایا ہے کہ ’26 نمبر چونگی سے تمام رکاوٹیں ہٹا لی گئی ہیں اور اب وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’علی امین گنڈا پور اور بشری بی بی کا کنٹینر اس وقت سب سے آگے ہے اور ان کا رکنے کا کوئی ارادہ نہیں۔‘
ارباب عاصم کا کہنا ہے کہ ’ان کے قافلے میں شامل کچھ لڑکے آگے نکلے ہیں جن کی نسٹ یونیورسٹی کے مقام پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔‘
آئین کا آرٹیکل 245 کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے حکومتی ریڈ لائن کی خلاف ورزی
کی تو حکومت آرٹیکل 245 کے نفاذ، کرفیو لگانے سمیت سخت ترین اقدام اٹھا سکتی ہیں۔
مگر یہ
آرٹیکل 245 ہے کیا اور وزیر داخلہ اس کے نفاذ کی بات کیوں کر رہے ہیں۔
پاکستان کے
آئین کا آرٹیکل 245 فوج کے فرائض اور ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔
آئین کے
آرٹیکل 245 کے تحت پاکستان کی مسلح افواج، وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت بیرونی
افواج کے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی۔
آرٹیکل 245کے تحت اگر ملک کو جارحیت
یا جنگ کا خطرہ ہو یا قانون و امن و عامہ کی صورتحال درپیش ہو تو وفاقی حکومت کی ہدایت
پر وہ سول حکومت کی مدد کے لیے شہر، صوبے یا کسی علاقے کی سیکورٹی کا انتظام
سنبھال سکتی ہیں۔
آرٹیکل 245 یہ بھی کہتا ہے کہ
وفاقی حکومت کی جانب سے فوج کو طلب کرنے کے فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا
جا سکتا۔ آرٹیکل 245 کے عمل میں لانے کے بعد ہائی کورٹ کے اختیارات صرف اس آرٹیکل
کی حد تک معطل ہو جاتے ہیں اور وہ اس حکم نامے کو چیلنج نہیں کر سکتیں۔
،تصویر کا ذریعہConstitution Of Pakistan
آرٹیکل کی تین شقیں درجِ ذیل ہیں:
شق 1: اس شق کے تحت وفاقی حکومت کی طرف سے جاری شدہ کسی ہدایت کے جواز کو کسی عدالت میں زیرِ اعتراض نہیں لایا جائے گا۔
شق 2: اس شق کے مطابق کوئی عدالت عالیہ کسی ایسے علاقے میں، جس میں پاکستان کی مسلح افواج فی الوقت آرٹیکل 245 کی تعمیل میں شہری حکام کی مدد کے لیے کام کر رہی ہوں، آرٹیکل 199 کے تحت کوئی اختیارِ سماعت استعمال نہیں کرے گی، مگر شرط یہ ہے کہ اس شق کا اس دن سے عین قبل جس پر مسلح افواج نے شہری حکام کی مدد کے لیے کام کرنا شروع کیا ہو، کسی زیرِ سماعت کارروائی سے متعلق عدالت عالیہ کے اختیار سماعت کو متاثر کرنا مقصود نہیں ہو گا۔
شق 3: اس شق میں محولہ کسی علاقہ سے متعلق کوئی کارروائی جسے اس دن یا اس کے بعد دائر کیا گیا ہو، جبکہ مسلح افواج نے شہری حکام کی مدد کے لے کام شروع کیا ہو اور جو کسی عدالتِ عالیہ میں زیرِ سماعت ہو، اس عرصے کے لیے معطل رہے گی۔
اگر آسان الفاظ میں کہا جائے تو آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ سے مراد اسلام آباد میں سیکورٹی و امن عامہ کی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے سیکورٹی کے لیے فوج کو طلب کرنا ہے۔
یاد رہے کہ آرٹیکل 245 کے تحت ماضی میں بھی مختلف حکومتوں کی جانب سے فوج طلب کی جاتی رہی ہے۔ سنہ 2020 اور 2021 میں کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائے گئے لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کروانے کے لیے عمران خان حکومت کی جانب سے اسی آرٹیکل کے تحت فوج کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
اسی طرح سنہ 2017 کے ٹی ایل پی کے فیض آباد دھرنے اور سنہ 2014 کے عمران خان اور طاہر القادری دھرنے کے لیے بھی فوج کو اسی آرٹیکل کے تحت طلب کیا جاتا رہا ہے۔