رینجرز اور پولیس آپریشن کے دوران بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور نکلنے میں کامیاب ہو گئے: رانا ثنا اللہ

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں رینجرز اور پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

خلاصہ

  • تحریک انصاف کے کارکنان تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ گئے ہیں اور پی ٹی آئی نے مطالبات کی منظوری تک یہاں دھرنے کا اعلان کیا ہے۔
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی اصل قیادت حکومت سے بات کرنا چاہتی ہے مگر ’خفیہ قیادت‘ ایسا نہیں چاہتی۔
  • وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں فوج تعینات کر رکھی ہے۔
  • اسلام آباد میں فوج طلب کیے جانے سے کچھ دیر قبل ہی پیر کو رات گئے سرینگر ہائی وے پر سکیورٹی پر تعینات چار رینجرز اہلکاروں کو ایک تیز رفتار گاڑی نے کچل دیا۔
  • اسلام آباد کے باسیوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس تک رسائی اور واٹس ایپ سے ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
  • وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ ہے۔

لائیو کوریج

پیشکش: منزہ انوار

  1. عمران خان نے کوئی پیغام ریکارڈ نہیں کروایا: پی ٹی آئی کی بیرسٹر گوہر کے فون میں پیغام ریکارڈ کروانے کی تردید

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریکِ انصاف نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بیرسٹر گوہر کے فون میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور اپنی اہلیہ بشری بی بی کے لیے پیغام ریکارڈ کروانے کی سختی سے تردید کی ہے۔

    زلفی بخاری نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کوئی ویڈیو ریکارڈ نہیں کی گئی۔

    اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے پیغام میں میڈیا پر چلنے والی ان خبروں کو ’فیک نیوز‘ قرار دیا گیا ہے۔

    یاد رہے میڈیا پر چلنے والی خبروں میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ آج اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور اپنی اہلیہ بشری بی بی کے لیے ایک پیغام ریکارڈ کروایا ہے۔

  2. اسلام آباد کو ’کنٹینر سٹی‘ بنانے والے 700 کنٹینرز کہاں سے آئے اور یہ حکمتِ عملی کتنی مہنگی پڑتی ہے؟

    containers

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اس وقت ’کنٹینر سٹی‘ کا منظر پیش کر رہا ہے جس سے نہ صرف عام شہریوں کی معمولات زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ کئی کاروبار بھی نقصان جھیل رہے ہیں۔

    ویسے تو قریب 25 لاکھ کی آبادی والے اس شہر کو یہ نام اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے اگست میں دیا تھا مگر وقتاً فوقتاً اس اصطلاح کو استعمال کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر اسلام آباد پولیس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 700 کنٹینرز کے ذریعے سڑکوں کو بلاک کیا گیا۔ حتیٰ کہ اسلام آباد کو پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ملانے والی سڑکوں کو بھی انھی کنٹینرز کی مدد سے بند کیا گیا ہے۔

    یعنی ایک اندازے کے مطابق 220 مربع کلومیٹر کے شہری علاقے میں ہر ایک مربع کلومیٹر کے فاصلے پر تین کنٹینر کھڑے کیے گئے ہیں۔

  3. تحریکِ انصاف اور حکومت کے ایک دوسرے پر فائرنگ کے الزامات

    پاکستان تحریکِ انصاف کا قافلہ اسلام آباد کو ایئر پورٹ سے ملانے والی سرینگر ہائی وے پر موجود ہے جہاں اب سے کچھ دیر قبل پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے متعدد کارکن زخمی ہوئے ہیں تاہم حکومت کی جانب سے اس دعوے کے حوالے سے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    محسن نقوی اس سے قبل پی ٹی آئی کارکنان کی براہ راست فائرنگ سے پانچ پولیس اہلکاروں اور ایک رینجرز اہلکار کے زخمی ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

    اس کے علاوہ مظاہرین کے ساتھ تصادم کے دوران ایک پولیس اہلکار کانسٹیبل محمد مبشر بلال ہلاک بھی ہو چکا ہے جس کے جنازے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا تھا کہ ’پولیس کے لیے گولی کا جواب گولی سے دینا آسان تھا مگر پولیس نے گولی کا جواب ربڑ بلٹ اور آنسو شیل سے دیا۔‘

    خیال رہے کہ آج وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے تین مرتبہ میڈیا سے گفتگو کی گئی جس میں انھوں نے حکومت کی جانب سے ’گولی کا جواب گولی سے نہ دینے‘ کا عزم دہرایا ہے۔

    محسن نقوی کی جانب سے ان پریس کانفرنسز میں پی ٹی آئی پر پولیس پر براہ راستِ فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ٹویٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’حکومت نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی ہے جس سے 20 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہمارے پرامن مارچ کو روکنے کے لیے ہر طرح کے حربے آزمائے جا رہے ہیں اور مظاہرین، گیس شیل، ربڑ کی گولیاں، سٹن گرینیڈ اور ایکسپائرڈ شیل مارے جا رہے ہیں۔‘

    ادھر محسن نقوی کی جانب سے پریس کانفرنسز کے دوران یہ بات بھی دہرائی جاتی رہی ہے کہ ’ہماری کوشش یہی ہے کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو، لیکن انھوں نے ہر موقع پر کوشش کی ہے کہ لاشیں مل جائیں۔‘

  4. اگر ریڈ لائن کراس کی تو آرٹیکل 245 کے نفاذ اور کرفیو سمیت سخت ترین اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں: محسن نقوی

    Social Media/Mohsin Naqvi/Facebook

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media/Mohsin Naqvi/Facebook

    پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو ریڈ لائن کا بتا دیا گیا ہے اگر اس کی خلاف ورزی کی گئی تو حکومت سخت ردعمل دے گے۔

    منگل کی شب اسلام آباد کے ڈی چوک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے حکومت کی ریڈ لائن کا بتا دیا ہے، اگر اس کی خلاف ورزی کی گئی تو حکومت ہر طرح کا اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کرے گی۔

    انھوں نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش تھی لاشیں گریں لیکن حکومت نے مختلف حکمت عملی اپنائی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے حکومتی ریڈ لائن کی خلاف ورزی کی تو حکومت آرٹیکل 245 کے نفاذ، کرفیو لگانے سمیت سخت ترین اقدام اٹھا سکتی ہیں۔

    واضح رہے آرٹیکل 245 کے نفاذ سے مراد اسلام آباد میں سیکورٹی و امن عامہ کی صورتحال کے پیش نظر فوج کو طلب کرنا ہے۔

    انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں گولی چلی ہے جس سے پانچ پولیس اہلکار زحمی جبکہ سنگجانی کے قریب ایک رینجرز اہلکار زخمی ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر گولی چلی تو حکومت کو جواب دینے میں پانچ منٹ نہیں لگیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس ہر طرح کا اقدام اٹھانے کا قانونی جواز موجود ہے۔

    واضح رہے اس سے قبل بھی ڈی چوک سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ جو ڈی چوک پہنچے گا وہ گرفتار ہو گا۔ ہم یہاں ایک مختلف منصوبہ بندی کے ساتھ نظر آئیں گے۔

    وزیرداخلہ نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں پر اگر فائرنگ کی جاتی تو وہ پتھر گڑھ سے آگے نہیں نکل سکتے تھے، ہمیں قانونی طور پر ہر طرح کا اختیار حاصل ہے کہ جواب دیا جائے۔

  5. پی ٹی آئی کو سنگجانی میں احتجاج کی آفر کی گئی، عمران خان بھی رضامند تھے لیکن تاحال کوئی حتمی جواب نہیں ملا: محسن نقوی

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو سنگجانی میں احتجاج کرنے کی آفر دی گئی تھی اور اس سلسلے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اڈیالہ جیل میں عمران خان سے دو ملاقاتیں ہوئیں اور وہاں سے اجازت مل گئی تھی لیکن شاید عمران خان سے اوپر بھی کوئی لیڈرشپ آ گئی ہے جس نے ماننے سے انکار کیا ہے تو مجھے نہیں پتا کیونکہ ہمیں کوئی حتمی جواب نہیں آیا۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’ہماری کوشش یہی ہے کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو، لیکن انھوں نے ہر موقع پر کوشش کی ہے کہ لاشیں مل جائیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کی پارٹی میں مجھے نہیں پتا کہ کون لیڈر ہے اور کون نہیں ہے، لیکن تاحال ہماری پیش کش کا کوئی جواب نہیں آیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس وقت اسلام آباد میں ایک ملک کا صدر آیا ہوا ہے اور ہم کوئی جارحانہ قدم نہیں اٹھانا چاہتے۔‘

  6. جھڑپوں سے لے کر مذاکرات تک: آج سارا دن کیا ہوتا رہا؟

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کو ملک کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی، جس کے بعد کل یعنی اتوار کے روز ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔

    تحریک انصاف کا ایک قافلہ ایبٹ آباد اور ہری پور سے جبکہ دوسرا ڈیرہ اسماعیل خان و میانوالی سے اور تیسرا سب سے بڑا قافلہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پشاور سے روانہ ہوا۔

    یہ تینوں قافلے آج مختلف اوقات میں اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوئے۔ ان قافلوں کو غازی بروتھا پل اور ہزارہ ایکسپریس وے سے پہلے ایک پہاڑی مقام پر سب سے زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا اور مختلف مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا اور فائرنگ بھی کی گئی جبکہ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، ربڑ کی گولیاں فائر کیں اور کارکنان پر لاٹھی چارج بھی کیا۔

    اس وقت تینوں بڑے قافلے ایک بڑے ہجوم کی شکل میں اسلام آباد کے داخلی راستے پر موجود ہیں اور ڈی چوک تک پہنچنے کے لیے انھیں سینکڑوں کنٹینرز کو عبور کرنا ہو گا۔

    مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس اور رینجرز کی کئی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ تاہم اس دوران پی ٹی آئی قیادت اور حکومت کے مابین مذاکرات کی خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں۔

    اب سے کچھ دیر قبل پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد عمران خان سے ملاقات کے لیے ایک بار پھر اڈیالہ جیل پہنچا ہے۔

    اس سے قبل آج سہہ پہر بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت سے مذاکرات میں کوئی پیشرفت ہوئی ہے تو اگرچہ انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا تاہم تصدیق کی کہ ’مذاکرات چل رہے ہیں اور جو بھی ہو گا ہم بتائیں گے۔‘

    convoy

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے بھی تصدیق کی تھی کہ اس وقت ان کی جماعت کی قیادت اور حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی ان کے ایجنڈے میں خاص طور پر سرفہرست ہے مگر ابھی اس حوالے سے انھیں مزید تفصیلات نہیں ملی ہیں کہ اس پر کیا پیشرفت ہوئی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رؤف حسن نے کہا کہ ’اس وقت تحریک انصاف کا ہدف اسلام آباد پہنچنا ہے اور پھر پارٹی قیادت طے کرے گی کہ کہاں جانا ہے اور کیا کرنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سرپرائز کا عنصر رہے۔ ہمیں ابھی اسلام آباد پہنچنے میں بھی کوئی جلدی نہیں ہے۔‘

    نجی چینل اے آر وائی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رؤف حسن نے کہا کہ ’ہم جب اسلام آباد پہنچیں گے تو ہماری جتنی بڑی تعداد ہے وہ فیصلہ سازوں کو ڈائیلاگ پر مبجور کرے گی اور پرامن رستہ نکلے گا، جس کا جو حق ہے وہ ملے گا۔‘

    ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کی رات میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے لیے گولی کا جواب گولی سے دینا آسان تھا مگر پولیس نے گولی کا جواب ربڑ بلٹ سے دیا ہے اور آنسو شیل سے دیا۔

    پولیس کانسٹیبل مبشر بلال کی ہلاکت سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’جن لوگوں نے اس احتجاج کی کال دی تھی، جنھوں نے ان لوگوں کو بلایا ہے، ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ ان تمام کے خلاف ایف آئی آرز رجسٹر ہوں گی۔ ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔‘

    وزیر داخلہ نے بتایا کے پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث ایک پولیس اہلکار ہلاک اور 119 زخمی ہیں۔

    محسن نقوی سے پی ٹی آئی کے وفد کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اس سوال کا واضح جواب نہیں دیا اور بارہا سوالات کرنے پر محض اتنا کہا کہ ’پی ٹی آئی کے اپنے اندرونی مسائل ہیں اور ہم انتظار کر رہے ہیں کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، انھوں نے جواب دینا ہے۔ اس کے بعد میں آپ کو تفصیل سے بتا دوں گا۔‘

    تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اس وقت بشریٰ بی بی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں اس لیے حکومت کے پاس طاقت کا استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کے احتجاج کے پیشِ نظر اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہر کے تمام تعلیمی ادارے دوسرے روز (منگل) بھی بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

  7. پی ٹی آئی کی ’فائنل کال‘: خیبرپختونخوا کی طرح پنجاب، سندھ سے کارکنان کی بڑی تعداد احتجاج میں شامل کیوں نہ ہوئی؟

    pti

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان تھوڑے ہی عرصے کے دوران دوسری مرتبہ احتجاج کی غرض سے دارالحکومت اسلام آباد کی طرف ریلی کی صورت پہنچ رہے ہیں۔

    اتنی بڑی تعداد میں لوگ یا احتجاجی ریلیاں پاکستان کے دوسرے صوبوں سے سامنے نہیں آئی ہیں۔ خاص طور پر ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے پی ٹی آئی کے کارکنان بڑی تعداد میں باہر نکل کر اسلام آباد کی طرف آتے دکھائی نہیں دیے۔

    اسی طرح صوبہ سندھ اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سے بھی زیادہ لوگ پی ٹی آئی کی اس احتجاجی ریلی میں شامل ہونے کے لیے اسلام آباد کی طرف آتے نہیں دیکھے گئے۔ پیر کی رات تک لاہور یا کراچی کے اندر بھی کوئی بڑا احتجاج سامنے نہیں ہوا۔

    اکا دکا مقامات پر پی ٹی آئی کے چند کارکنان اور مقامی پولیس کے درمیان چھڑپیں ہونے کی اطلاعات آئیں۔ تاہم لاہور سے جماعت کے کسی مرکزی رہنما کی قیادت میں کوئی منظم احتجاج یا رکاوٹوں کو عبور کرکے اسلام آباد کی طرف بڑھنے کی کوشش نظر نہیں آئی۔

    تو سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی طرح باقی صوبوں سے بڑی ریلیاں کیوں نہیں نکال پائی۔

  8. کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کو کسی طریقے سے لاشیں مل جائیں: محسن نقوی

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن محسن نقوی نے ڈی چوک پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بہت آسان ہے کہ رینجرز کو بلایا جائے، وہاں پانچ منٹ فائرنگ ہونی ہے تو ایک بندہ بھی نہیں رہے گا لیکن ہم صبر کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کل بھی کہا تھا، آج بھی کہہ رہے ہیں کہ جو جو نقصان ہو رہا ہے اس سب کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنھوں نے کال دی ہے۔‘

    ’ہمارا مؤقف واضح ہے کہ ان لوگوں کو ایک فیصد بھی احساس نہیں ہے، کل بھی انھوں نے ہمیں بین الاقوامی سطح پر شرمندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’انھوں نے کس طرح منصوبہ بندی کر کے بیلاروس کے وفد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے اس بارے میں ایک دو دن تک آپ کو بتائیں گے لیکن جو یہاں پہنچے گا وہ گرفتار ہو گا، جو یہاں آئے گا وہ واپس نہیں جائے گا۔‘

    محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ ان کو کسی طریقے سے لاشیں مل جائیں۔‘

    محسن نقوی سے ایک موقع پر سوال کیا گیا کہ عام عوام کو راستے بند ہونے کے باعث مشکلات درپیش ہیں تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ آپ ان لوگوں سے پوچھیں جو یہاں دھاوا بولتے ہیں، ہم اپنے لوگوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔‘

    محسن نقوی نے مذاکرات سے متعلق سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا اور ایک موقع پر کہا کہ ’کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘

    محسن نقوی سے جب پی ٹی آئی کے وفد کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے اس سوال کا بھی واضح جواب نہیں دیا اور کہا کہ میں کچھ چیزوں کا انتظار کر رہا ہوں اور اس بارے میں آپ سے بہت تفصیل سے بات کروں گا۔

    انھوں نے بارہا سوالات کرنے پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے اپنے اندرونی مسائل ہیں اور ہم انتظار کر رہے ہیں کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، انھوں نے جواب دینا ہے۔ اس کے بعد میں آپ کو تفصیل سے بتا دوں گا۔‘

  9. بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد عمران خان سے ملاقات کے لیے ایک بار پھر اڈیالہ جیل پہنچا ہے: رؤف حسن, روحان احمد، بی بی سی اردو

    پی ٹی آئی کے رہنما رؤف حسن کے مطابق بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد عمران خان سے ملاقات کے لیے ایک بار پھر اڈیالہ جیل پہنچا ہے۔

    رؤف حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ تاہم جب وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما عمران خان سےملاقات میں انھیں حکومتی وفد سے ہوئے مذاکرات کے متعلق آگاہ کریں گے۔

    بیرسٹر سیف نے بی بی سی کی فرحت جاوید کو بتایا ہے کہ ’مذاکرات چل رہے ہیں مگر فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ شاید ہم کسی بات پر سمجھوتہ کر لیں اور شاید نہ بھی کریں۔‘

    اس سے قبل آج سہہ پہر تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت سے مذاکرات میں کوئی پیشرفت ہوئی ہے تو اگرچہ انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا تاہم تصدیق کی مذاکرات چل رہے ہیں اور جو بھی ہو گا ہم بتائیں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے بھی تصدیق کی تھی کہ اس وقت ان کی جماعت کی قیادت اور حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ عمران خان کی رہائی ان کے ایجنڈے میں خاص طور پر سرفہرست ہے مگر ابھی اس حوالے سے انھیں مزید تفصیلات نہیں ملی ہیں کہ اس پر کیا پیشرفت ہوئی ہے۔

    یاد رہے پی ٹی آئی نے بارہا اصرار کیا ہے کہ احتجاج کی فائنل کال کے حوالے سے حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے۔

  10. بشریٰ بی بی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، حکومت کے پاس طاقت کے استعمال کے سوا کوئی چارہ نہیں: خواجہ آصف

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حکومت کو توقع تھی کہ یہ لوگ اسلام آباد تک پہنچیں گے اور اس حوالے سے حکمتِ عملی تیار کی گئی مگر اس وقت بشریٰ بی بی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اگر یہ ڈی چوک کی جانب بڑھتے ہیں تو حکومت کے پاس طاقت کا استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔

    نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں شاہزیب خانزادہ سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس وقت فیصلہ کن صورتحال پیدا ہوئی ہے کیونکہ مذاکرات کے لیے جو کوشش ہوئی ہے وہ ابھی تک نتیجہ خیز نہیں رہیں۔

    انھوں نے بشریٰ بی بی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جو خاتون لیڈ کر رہی ہیں انھیں پتا ہے کہ میں قریب پہنچ چکی ہوں اور میں لیڈر بن گئی ہوں، انھیں اپنا سیاسی مستقبل دکھائی دے رہا ہے۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی موجودہ صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گی اور اگر وہ ڈی چوک کی جانب بڑھتے ہیں تو اس صورت میں حکومت کے پاس طاقت کا استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔

    خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے اس وقت ڈی چوک کی طرف بڑھنے میں ہی فائدہ ہے، اور اس صورت میں جب ایک غیر ملکی وفد اسلام آباد میں موجود ہے تو حکومت کا عزم نظر آنا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ مذاکرات کی ایک سنجیدہ کوشش ہوئی ہے اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے نیک دلی سے بات چیت کی ہے تاکہ کوئی حل نکلے لیکن بشری بی بی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’بشریٰ بی بی لیڈ کر رہی ہیں اور انھیں زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی موقع نہیں مل سکتا، طاقت ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اسے محسوس کر سکتی ہیں اسی لیے وہ موجودہ صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں اور سارے پتے ان کے ہاتھ میں ہیں۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگر یہ ڈی چوک بیٹھ گئے تو یہ بہت بڑا سیٹ بیک ہو گا۔

  11. گولی کا جواب گولی سے دینا آسان تھا، پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت کے ذمہ داران کو نہیں چھوڑیں گے: وزیر داخلہ محسن نقوی

    Screen Grab

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کی رات میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے لیے گولی کا جواب گولی سے دینا آسان تھا مگر پولیس نے گولی کا جواب ربڑ بلٹ سے دیا ہے اور آنسو شیل سے دیا۔

    پولیس کانسٹیبل مبشر بلال کی ہلاکت سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’جن لوگوں نے اس احتجاج کی کال دی تھی، جنھوں نے ان لوگوں کو بلایا ہے، ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ ان تمام کے خلاف ایف آئی آرز رجسٹر ہوں گی۔ ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔‘

    آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے 119 پولیس اہلکار اس احتجاج کے دوران زخمی ہوئے ہیں۔ جن میں سے کچھ شدید زخمی ہوئے ہیں اور دو کی حالت نازک ہے۔

  12. احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے پولیس کانسٹیبل محمد مبشر بلال کون تھے؟

    POLICE

    ،تصویر کا ذریعہDGPR

    احتجاج کے دوران مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے پنجاب پولیس کے اہلکار محمد مبشر بلال کا تعلق ضلع مظفر گڑھ سے تھا۔ انھوں نے سوگواران میں اہلیہ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

    ان کی موت کی وزیراعظم، وزیر داخلہ اور آئی جی پنجاب نے مذمت کی۔ آئی جی پنجاب نے کانسٹیبل محمد مبشربلال کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’پنجاب پولیس اپنے بہادر شہید کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مبشر کی شہادت میں ملوث شرپسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔‘

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ ’شہید کانسٹیبل کے اہل خانہ کی ویلفیئر کا ہر ممکن خیال رکھا جائے گا۔‘

  13. حکومت سے مذاکرات جاری ہیں: زلفی بخاری کی تصدیق

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے بی بی سی کے روحان احمد کو تصدیق کی ہے کہ اس وقت ان کی جماعت کی قیادت اور حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی ان کے ایجنڈے میں خاص طور پر سرفہرست ہے مگر ابھی اس حوالے سے انھیں مزید تفصیلات نہیں ملی ہیں کہ اس پر کیا پیشرفت ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جیسے ہی تفصیلات ملیں تو وہ آگاہ کریں گے۔

  14. اسلام آباد اتنی بڑی تعداد میں کارکن پہنچیں گے کہ فیصلہ ساز مذاکرات پر مجبور ہوں گے: رؤف حسن

    RAUF HASSAN

    ،تصویر کا ذریعہx

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رؤف حسن نے کہا کہ اس وقت تحریک انصاف کا ہدف اسلام آباد پہنچنا ہے اور پھر پارٹی قیادت طے کرے گی کہ کہاں جانا ہے اور کیا کرنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سرپرائز کا عنصر رہے۔ ہمیں ابھی اسلام آباد پہنچنے میں بھی کوئی جلدی نہیں ہے۔‘

    رؤف حسن نے کہا کہ ’حکومت نے پورے ملک کو کنٹینرستان میں تبدیل کر دیا ہے اس کے ایک دو دن تک یہ مزے اور لے لیں۔ ہم نے کہا تھا کہ یہ احتجاج شروع کر رہے ہیں اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔‘

    رؤف حسن نے کہا کہ ان کے مطالبات میں عمران خان سمیت دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی، 26ویں آئینی ترمیم کی تنسیخ، مینڈیٹ کی واپسی اور آئین اور قانونی کی بحالی شامل ہیں۔

    اے آر وائی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رؤف حسن نے کہا کہ ’ہم جب اسلام آباد پہنچیں گے تو ہماری جتنی بڑی تعداد ہے وہ فیصلہ سازوں کو ڈائیلاگ پر مبجور کرے گی اور پرامن رستہ نکلے گا، جس کا جو حق ہے وہ ملے گا۔‘

    ان کے مطابق کامیابی کا پیمانہ مذاکرات سے ہی طے ہو سے گا۔

    ’شاید آج بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف عمران خان سے حکومتی ٹیم سے مذاکرات کی اجازت لینے گئے تھے‘

    آج ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رؤف حسن نے کہا کہ شاید آج بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف اڈیالہ جیل میں عمران خان سے حکومتی وزرا کے ساتھ مذاکرات کرنے سے متعلق اجازت حاصل کرنے گئے تھے۔ انھوں نے کہا اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کہ کیا اس وقت شبلی فراز، اسد قیصراور بیرسٹر گوہر پر مشتمل پی ٹی آئی کی ٹیم سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وفاقی وزیر امیر مقام، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے مذاکرات کر رہی ہے۔

    رؤف حسن نے کہا کہ گذشتہ دن سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ایک اقدام اٹھایا اور پھر مذاکرات سے متعلق میٹنگ کی۔

    ’گذشتہ دنوں پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کا دور شروع ہوا پھر تعطل آ گیا‘

    رؤف حسن نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سے گذشتہ دنوں مذاکرات شروع ہوئے مگر پھر ان میں تعطل آ گیا، جس کی وجہ سے احتجاج کی کال دی گئی۔ رؤف حسن نے نجی ٹی وی چینل آج نیوز کو بتایا کہ ’میں زیادہ تفصیل سے بات نہیں کر سکوں گا مگر ان مذاکرات میں کوئی حکومتی وزیر شامل نہیں تھا۔‘

    رؤف حسن نے کہا کہ ’ہم کہتے رہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہمارے ساتھ بیٹھے۔ گذشتہ دنوں کچھ سلسلہ آگے چلا۔ پھر تعطل آیا۔ عمران خان نے بھی یہ کہا ہے کہ بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی آنا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ معاملات آگے بڑھیں اور کچھ حل نکلے۔‘

    رؤف حس نے ایک سوال پر کہا کہ وہ ان مذاکرات سے متعلق تفصیلات شیئر نہیں کر سکیں گے۔ ان کے مطابق ’ان تفصیلات کو اگر اس ’سٹیج‘ پر ’پبلک‘ کیا تو معاملات ’ڈیمج‘ ہو سکتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس حوالے سے پی ٹی آئی کا ایک وفد عمران خان سے جیل ملنے گیا جس میں میں خود بھی شامل تھا مگر پھر کسی وجہ سے ہم عمران خان سے نہیں مل سکے ہیں۔‘

    رؤف حسن نے کہا کہ ’جب عمران خان کو گرفتار کیا گیا تھا تو انھیں یہ کہا گیا تھا کہ وہ دو یا تین سال تک آرام کریں، خاموش رہیں۔ مگر خان صاحب نے کوئی شرط قبول نہیں کی۔‘

  15. وفاقی دارالحکومت میں تعلیمی ادارے دوسرے روز بھی بند رکھنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریکِ انصاف کے احتجاج کے پیشِ نظر اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہر کے تمام تعلیمی ادارے دوسرے روز (منگل) بھی بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق شہر بھر میں تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے بروز منگل بند رہیں گے۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے اور اس فیصلے کا اطلاق وفاقی دارالحکومت کے تمام تعلیمی اداروں پر ہو گا۔

    DC Islamabad

    ،تصویر کا ذریعہDC Islamabad

  16. بریکنگ, پی ٹی آئی کا قافلہ 26 نمبر سٹاپ کے قریب جہاں چار اضلاع کی پولیس مظاہرین کو روکے گی

    تحریک انصاف کا قافلہ مرکزی اسلام آباد میں داخل ہونے کے لیے 26 نمبر سٹاپ کے قریب ہے جہاں چار اضلاع کی پولیس مظاہرین کو روکنے کی کوشش کرے گی

    ،تصویر کا ذریعہGoogle Maps

    ،تصویر کا کیپشنتحریک انصاف کا قافلہ مرکزی اسلام آباد میں داخل ہونے کے لیے 26 نمبر سٹاپ کے قریب ہے جہاں چار اضلاع کی پولیس مظاہرین کو روکنے کی کوشش کرے گی

    اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے والا تحریک انصاف کا قافلہ مرکزی شہر کی طرف گامزن ہے مگر قوی امکان ہے کہ 26 نمبر سٹاپ پر اس قافلے کا سامنا پولیس کے دستوں اور رینجرز سے ہوگا۔

    پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کو بتایا کہ ’ہم کشمیر ہائیوے پر 26 نمبر سٹاپ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔‘

    26 نمبر سٹاپ مرکزی اسلام آباد کے متعدد داخلی راستوں میں سے ایک ہے جو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو بذریعہ موٹروے لاہور اور پشاور سے ملاتا ہے۔

    پولیس حکام نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ اٹک اور چکوال سے پولیس کے دستوں کو 26 نمبر سٹاپ پہنچنے کی ہدایت دی گئی ہے جہاں اسلام آباد اور راولپنڈی کی پولیس پہلے سے تعینات ہے۔

    یعنی چار اضلاع کی پولیس اس مقام پر مظاہرین کو روکنے کی کوشش کرے گی۔

  17. پی ٹی آئی کا گاڑیوں پر مشتمل قافلہ اسلام آباد کی حدود میں داخل

    ،ویڈیو کیپشنپی ٹی آئی کا گاڑیوں پر مشتمل قافلہ اسلام آباد کی حدود میں داخل
  18. بیلاروس کے صدر الیگزنڈر لوکاشینکو تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    بیلا روس

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    بیلاروس کے صدر الیگزنڈر لوکاشینکو تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پی اے ایف نور خان ائیر بیس پر بیلاروس کے صدر کا استقبال کیا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے بیلا روس کے صدر کا کابینہ ارکان سے تعارف کرایا جبکہ روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے انھیں گلدستہ پیش کیا۔ بیلاروس کے صدر وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر 25 سے 27 نومبر 2024 تک پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

    بیلاروس کے صدر کے دورہ پاکستان کے دوران صدر لوکا شینکو اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہو گی اور دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر بھی بات چیت ہو گی۔ اس دوران بیلاروس اور پاکستان کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئےمفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے۔

    بیلاروس کے وزیر خارجہ کی زیر قیادت 68 رکنی اعلیٰ سطح کا وفد گذشتہ روز پاکستان پہنچا تھا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق وفد میں بیلاروس کی کابینہ کے اہم وزرا سمیت معروف کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار شامل ہیں۔

  19. تحریک انصاف کا قافلہ اس وقت کہاں موجود ہے؟

    تحریک انصاف کا قافلہ

    ،تصویر کا ذریعہGoogle Maps

    خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والا پی ٹی آئی کا قافلہ وفاقی دارالحکومت کی حدود میں داخل ہو چکا ہے مگر ڈی چوک تک پہنچنے کے لیے اسے سینکڑوں کنٹینرز کو عبور کرنا ہوگا۔

    مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس اور رینجرز کی کئی تہیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔

    اگر گوگل میپس پر نظر دوڑائی جائے تو تصویر میں بائیں جانب پشاور کو اسلام آباد سے ملانے والی ایم ون موٹر وے پر ٹریفک کی سرخ لکیر دیکھی جاسکتی ہے جو کہ ممکنہ طور پر پی ٹی آئی کے قافلے کی نشاندہی کرتی ہے۔

  20. پی ٹی آئی کا قافلہ اسلام آباد کی حدود میں داخل، ’علی امین حتمی لائحہ عمل دیں گے‘, اعظم خان، بی بی سی اردو

    PTI

    پاکستان تحریک انصاف کا قافلہ اسلام آباد کی حدود میں داخل ہو چکا ہے۔ اس قافلے میں سینکڑوں گاڑیاں، ویگنیں اور بسیں موجود ہیں۔ اس قافلے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی بھی شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکنان نعرے بازی کر رہے ہیں اور انھوں نے راستے میں جگہ جگہ جھاڑیوں کو آگ لگا کر سردی کو کم کرنے کا بھی خصوصی اہتمام کیا ہے۔

    اس قافلے میں موجود تحریک انصاف کے رہنما عاصم ارباب کے مطابق جب تمام قافلے ایک ریلی کی صورت اختیار کرے گی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور حتمی لائحہ عمل دیں گے۔ عاصم ارباب کے مطابق کارکنان کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ وہ کسی بھی رکاوٹ کو خاطر میں لائے بغیر آگے بڑھیں گے اور اپنے مطالبات تسلیم کروائیں گے۔

    پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت سمیت مرکزی کنٹینر سنگجانی ٹول پلازہ کے راستے اسلام آباد داخل ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف کے مطابق اس مظاہرے کی منزل اسلام آباد کا ڈی چوک ہے جو حساس علاقے ریڈ زون میں واقع ہے۔

    اسلام آباد میں عوامی اجتماعات پر پابندی ہے اور وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے ہی مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کر چکے ہیں۔

    شہر میں سینکڑوں پولیس اہلکاروں کے علاوہ رینجرز کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔