رینجرز اور پولیس آپریشن کے دوران بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور نکلنے میں کامیاب ہو گئے: رانا ثنا اللہ

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد کے بلیو ایریا میں رینجرز اور پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

خلاصہ

  • تحریک انصاف کے کارکنان تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ گئے ہیں اور پی ٹی آئی نے مطالبات کی منظوری تک یہاں دھرنے کا اعلان کیا ہے۔
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی اصل قیادت حکومت سے بات کرنا چاہتی ہے مگر ’خفیہ قیادت‘ ایسا نہیں چاہتی۔
  • وفاقی حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں فوج تعینات کر رکھی ہے۔
  • اسلام آباد میں فوج طلب کیے جانے سے کچھ دیر قبل ہی پیر کو رات گئے سرینگر ہائی وے پر سکیورٹی پر تعینات چار رینجرز اہلکاروں کو ایک تیز رفتار گاڑی نے کچل دیا۔
  • اسلام آباد کے باسیوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس تک رسائی اور واٹس ایپ سے ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
  • وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ ہے۔

لائیو کوریج

پیشکش: منزہ انوار

  1. پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی اسلام آباد میں آج احتجاج کی کال ’فائنل‘ ہے۔

    اڈیالہ جیل کے باہر ایک صحافی کے سوال پر کہ آیا اس احتجاج کو منسوخ کیا جا رہا ہے تو انھوں نے سر ہلا کر نفی میں جواب دیا اور کہا کہ ’کال آف والی بات ہی نہیں۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت سے مذاکرات میں کوئی پیشرفت ہوئی ہے تو انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا تاہم انھوں نے تصدیق کی مذاکرات چل رہے ہیں اور جو بھی ہو گا ہم بتائیں گے۔

    خیال رہے کہ بیرسٹر گوہر اور علی محمد خان سمیت پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں اپنی جماعت کے بانی عمران خان سے ملاقات کی ہے۔

    گذشتہ ہفتے پاکستان کے نجی چینلز کے پولیٹکل ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر پاکستان تحریکِ انصاف اور حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کی بازگشت سنی جاتی رہی ہے۔

    ان چہ میگوئیوں کو تقویت اُس وقت ملی جب سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا دعویٰ سامنا آیا کہ اُن کے بھائی نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر علی خان کو اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم انھوں نے یہ بات واضح طور پر نہیں بتائی کہ یہ بات چیت کس سے اور کہاں ہو رہی ہے۔

    گذشتہ منگل کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’عمران خان نے مطالبات پر مذاکرات کی اجازت دی ہے اور جمعرات تک کا وقت دیا ہے، مینڈیٹ واپس ہوتا ہے تو 24 نومبر کا احتجاج جشن میں بدل جائے گا۔‘

    تاہم حکومت اس نوعیت کے دعوؤں کی تردید کرتی آئی ہے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ اگرچہ میں اس حق میں ہوں کہ بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے مگر مذاکرات دھمکیوں سے نہیں ہوتے۔‘

    دوسری جانب تحریک انصاف بارہا یہ اصرار کرتی آئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے ہیں۔

  2. ’پی ٹی آئی کے قافلے ہکلہ انٹرچینج پر جمع ہو کر ایک ریلی کی صورت اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے‘, اعظم خان، بی بی سی اردو

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    اس وقت تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد اسلام آباد کے قریب واقع ہکلہ انٹرچینج پر موجود ہے۔ پشاور سے تحریک انصاف کا قافلہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اس انٹرچینج کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس قافلے کے متعدد لوگ ہکلہ پہنچ بھی چکے ہیں جبکہ لاہور اور بلوچستان سے آنے والے قافلوں کا بھی وہاں پر انتظار کیا جا ریا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما ارباب عاصم نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی آئی کے قافلے ہکلہ انٹرچینج پر جمع ہو کر ایک ریلی کی صورت اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے۔

    ان کے مطابق پشاور سے آنے والے قافلے میں کارکنان کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو تمام تر رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما کے مطابق احتجاجی ریلی اسلام آباد میں موٹروے کے رستے ہی داخل ہو گی۔ تاہم 26 نمبر چونگی یا اس سے پہلے اگر کوئی رکاوٹیں ہوئیں تو پھر ’روٹ‘ سے متعلق حکمت عملی تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارے کارکنان کی رفتار بہت سست کر دی گئی ہے۔ تاہم ہمیں اس وقت کوئی جلدی نہیں ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مشکلات حکومت کے لیے ہی بڑھیں گی۔‘ عاصم ارباب کے مطابق پولیس نے اس قافلے پر آخری بار کٹی پہاڑی کے مقام پر شیلنگ کی اور پیلٹ گن سے گولیاں بھی برسائیں۔

    دوسری طرف پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے دعویٰ کیا ہے تحریک انصاف نے پولیس پر تشدد کیا ہے۔ عاصم ارباب کے مطابق حکومتی ترجمان الزامات عائد کر رہے ہیں مگر جہاں پولیس رکاوٹ بنتی ہے تو وہاں پی ٹی آئی کے کارکن اپنے قانونی حق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور رکاوٹیں عبور کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس کے درمیان آخری جھڑپ تقریباً ایک گھنٹے قبل یعنی ساڑھے چار بجے کے قریب کٹی پہاڑی کے مقام پر ہوئی تھی جس میں ان کے کافی کارکنان زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    ان کے مطابق اس وقت قافلے کی رفتار بہت سست ہے اور بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ یہ قافلہ اسلام آباد شہر میں عشا کے وقت یعنی تقریباً نو بجے تک داخل ہو سکے گا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس بات کا انحصار بھی انتظامیہ پر ہے کہ وہ رستے میں مزید کتنی مشکلات کھڑی کرتی ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے دیگر علاقوں سے پہلے ہی قافلے ہکلہ انٹرچینج پہنچے ہوئے ہیں جو پشاور سے آنے والے اس قافلے کا انتظار کر رہے ہیں جس میں وزیراعلی علی امین اور عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی شامل ہیں۔

  3. مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں پنجاب پولیس کا ایک اہلکار ہلاک، درجنوں زخمی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والے تحریک انصاف کے کارکنان اور پولیس اہلکاروں کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اٹک کی حدود میں حکام کے مطابق اِن جھڑپوں میں ایک اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

    مقامی صحافی ندیم رضا کے مطابق کٹی پہاڑی کے مقام پر پولیس اہلکار مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کرتے رہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    ایک بیان میں پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ کٹی پہاڑی کے قریب شیل لگنے سے ایم پی اے عبدالغنی آفریدی زخمی ہوئے جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    اٹک پولیس کے اہلکار محمد عرفان کے مطابق مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔

    انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مظاہرین کے پاس ’غلیلیں ہیں جو خصوصی طور پر تیار کی گئی ہیں‘ اور ان کے ذریعے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔

    محمد عرفان کا کہنا ہے کہ اسی پتھراو کے نتیجے میں 50 سے زائد پولیس اہلکار زحمی ہوئے ہیں۔

    کانسٹیبل مبشر کی ہلاکت

    پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں میں اٹک پولیس کے اہلکار کانسٹیبل مبشر گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کانسٹیبل مبشر کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ’تشدد کرنے والے مظاہرین کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔

    ’ہماری تمام تر ہمدردیاں شہید پولیس کانسٹیبل مبشر کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔‘

    ڈی پی او اٹک ڈاکٹر غیاث کا کہنا ہے کہ پولیس کے تازہ دم دستے مختلف مقامات پر پہنچا دیے گئے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس اہلکار مظاہرین کو روکنے میں ’کامیاب ہو جائیں گے۔‘

  4. تحریک انصاف کا قافلہ اسلام آباد کے قریب

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہGoogle Maps

    جب اکتوبر میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے عمران خان کی ہدایت پر اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تھا تو ان کا قافلہ مارگلہ ایونیو کا راستہ اختیار کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون پہنچا تھا۔

    اس بار ان کا قافلہ ہکلہ انٹرچینج پہنچ چکا ہے مگر یہ کس راستے سے اسلام آباد داخل ہوگا، تاحال یہ غیر واضح ہے۔

    اگر ایک نظر گوگل میپس پر ڈالی جائے تو درجنوں سرخ نشانات اسلام آباد کے داخلی راستوں کی بندش کو ظاہر کر رہے ہیں۔ تاہم اس قافلے کے پاس کنٹینر جیسی رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے مشینری موجود ہے۔

    ہکلہ انٹرچینج سے بذریعہ مارگلہ ایونیو ڈی چوک کا فاصلہ قریب 40 کلومیٹر بنتا ہے۔

  5. پی ٹی آئی نو مئی پارٹ ٹو چاہتی ہے، اسی کی تیاری ہو رہی ہے: وزیراطلاعات پنجاب عظمی بخاری

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہscreenshot

    پنجاب کی وزیراطلاعات عظمی بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آیی نو مئی پارٹ ٹو چاہتی ہے، اسی کی تیاری ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور خود غائب ہو گئے ہیں اور بشریٰ بی بی اسلامی ٹچ دے رہی ہیں۔ انھوں نے بشری بی بی کو سیاست میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اب کھل کر مقابلہ ہوگا اب گھریلو خاتون اور اسلامی کارڈ نہ کھیلیں۔

    عظمی بخاری نے کہا کہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ پولیس اہلکاروں پر تشدد ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پولیس والوں کو جس طرح زخمی کیا گیا ہے اور جس طرح ان کے سروں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے یہ طالبان کا طریقہ کار ہے یہ عام نوجوان اس طرح نہیں کر سکتے۔ ہمارے بچے اتنے سنگدل نہیں ہیں۔‘ ان کے مطابق پولیس والوں پر یہ گولیا ’پرامن مظاہرین‘ چلا رہے ہیں۔

    عظمی بخاری نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کا ایجنڈا یہ ہے کہ ریاست بھی گولیاں چلائے تا کہ انھیں لاشیں ملیں۔‘ انھوں نے کہا ’پولیس والوں پر گولیاں کوئی جنات یا مؤکل تو نہیں چلا رہے ہیں، وہی چلا رہے ہیں جنھیں یہ ساتھ لے کر آئے ہیں۔‘

    عظمی بخاری نے کہا کہ ’اٹک میں پی ٹی آئی کا لاشیں گرانے کا ارادہ ہے۔ پولیس والوں کو مارنا، شہید کرنا اسی کو نو مئی کہتے ہیں اور نو مئی کیا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ریاست اس وقت صبر اور تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔‘

  6. بریکنگ, علی امین گنڈاپور کا قافلہ اسلام آباد کے قریب ہکلہ انٹرچینج پہنچ گیا

    تحریک انصاف کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں بڑا قافلہ ہکلہ انٹرچینج پہنچ گیا ہے جہاں سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔

    البتہ اس قافلے کی منزل اسلام آباد کا ریڈ زون اور ڈی چوک ہیں جو ہکلہ انٹرچینج سے قریب 40 کلو میٹر دور ہیں۔

    وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ قافلہ کچھ دیر میں اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ جائے گا، ’روک سکتے ہو تو روک لو۔‘

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان کی رہائی کا وقت آگیا ہے۔ مذاکرات اب عمران خان کی رہائی کے بعد ہوں گے۔‘

  7. بریکنگ, رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں: بشریٰ بی بی

    بشریٰ بی بی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    تحریک انصاف نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا ایک پیغام شیئر کیا ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ ’خان کے حکم پر 24 نومبر سے نہتی عوام رکاوٹیں ہٹاتی ہوئی اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔‘

    انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ ’جو لوگ ابھی نہیں نکلے وہ اپنے اور اپنے ملک کے مستقبل کے لیے نکلیں۔‘

  8. پی ٹی آئی کے احتجاج کے باوجود پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں پیر کو تیزی کا رجحان برقرار رہا اور مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 281 پوائنٹس اضافے کے بعد 98070 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    آج صبح مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی رجحان کے ساتھ ہوا جب مارکیٹ کے انڈیکس میں 660 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔

    تاہم کاروبار کے دوران مارکیٹ میں ریکوری ہوئی اور سٹاک ایکسچینج 99000 پوائنٹس کی سطح بھی عبور کر گئی جو پرافٹ ٹیکنگ کے بعد 281 پوائنٹس اضافے کے بعد بند ہوئی۔

    سٹارک مارکیٹ تجزیہ کار پاکستان میں سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باوجود مارکیٹ میں تیزی کی وجہ سرمایے کی آمد کو قرار دیتے ہیں۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بتایا کہ تحریک انصاف کے احتجاج کی وجہ سے مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر منفی ردعمل دیکھا گیا تاہم اس کے بعد مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ مارکیٹ میں سرمایے کی آمد ہے کیونکہ اس وقت پاکستان میں سرمایہ کاری کا سب سے پُرکشش ایوینو سٹاک ایکسچینج ہے جہاں شرح سود میں کمی کے بعد لوگ بینکوں سے پیسے نکال کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ مارکیٹ میں حالیہ ہفتوں میں نئے سرمایہ کار آئے ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ میں تیزی ہے، اس لیے مارکیٹ سیاسی صورتحال کے باوجود اوپر گئی ہے۔

  9. اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے سی آئی اے بلڈنگ آئی نائن کو سب جیل قرار دے دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    protest

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے سی آئی اے بلڈنگ آئی نائن کو سب جیل قرار دے دیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق تحریک انصاف کے احتجاج اور گرفتاریوں کے پیش نظر انتظامیہ نے آئی نائن میں واقع سی آئی اے بلڈنگ کو سب جیل قرار دیا ہے۔

    چیف کمشنر اسلام آباد نے سی آئی اے بلڈنگ کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے مطابق بلڈنگ کو آرٹیکل پرزنرز ایکٹ 1894 کی سکیشن 3 کے تحت سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد انتظامیہ کی درخواست پر سب جیل بنانے کی منظوری وزارت قانون اور پارلیمانی امور نے دی۔ پی ٹی آئی کے احتجاج میں گرفتار ہونے والوں کو اس سب جیل میں رکھا جائے گا۔

  10. اسحاق ڈار کی بیلاروسی وزیر خارجہ سے ملاقات: بیلاروس کے صدر اسلام آباد کیوں آ رہے ہیں؟

    اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    جہاں ایک طرف تحریک انصاف کا قافلہ اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے تو وہیں امکان ہے کہ آج ہی بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے۔

    پیر کو پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اپنے بیلاروسی ہم منصب میکسم رائزنکوف سے ملاقات کی جہاں سرکاری بیان کے مطابق ’باہمی تعلقات کی اہمیت اور تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔‘

    پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق بیلاروس کے صدر وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات کریں گے اور دو طرفہ تعلقات، مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ان کی آمد سے قبل اتوار کو بیلاروس کا ایک وزارتی وفد وزیر خارجہ میکسم رائزنکوف کی قیادت میں اسلام آباد پہنچا تھا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق اس دوران پاکستان اور بیلاروس کے درمیان کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارت میں اضافہ ضروری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ’زرعی مشینری اور آٹو موبائل کے شعبے میں تعاون کو وسعت دی جائے گی۔‘

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بیلاروس کے ٹریکٹرز پائیداری اور مضبوطی کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور یہاں مقامی مارکیٹ میں ان کی بہت طلب بہت زیادہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان سے گوشت، ڈیری، زرعی مصنوعات اور کاغذی مصنوعات کی برآمدات بڑھائی جا سکتی ہیں۔‘

    جام کمال خان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت بیلاروس کے ساتھ تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانے پر کام کر رہی ہے۔

  11. پی ٹی آئی کے احتجاج سے متعلق اس وقت تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سے آنے والے قافلے اسلام آباد کے قریب پہنچ چکے ہیں اور کچھ دیر میں وہ وفاقی دارالحکومت کی حدود میں داخل ہو جائیں گے۔
    • عمران خان کی رہائی کا مطالبہ لیے پی ٹی آئی کے قافلے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں اور ان کی ’آخری منزل‘ اسلام آباد کا ڈی چوک ہے۔
    • پشاور سے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آنے والا قافلہ برہان انٹرچینج کراس کر چکا ہے اور کٹی پہاڑی کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ اس کے کارکنان یہاں سے رکاوٹیں ہٹانے کے بعد آگے بڑھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
    • پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد بھر میں سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں جبکہ جگہ جگہ کنٹینرز رکھ کر متعدد راستے بھی بند کیے گئے ہیں۔
    • ایک جانب عمران خان کی رہائی کا مطالبہ لیے تحریکِ انصاف کا اسلام آباد کی جانب مارچ جاری ہے تو وہیں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اپنی جماعت کے بانی سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے اس ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی کال فائنل ہے، ’کال آف‘ والی کوئی بات نہیں۔
    • عمران خان کی رہائی کی غرض سے ہونے والے احتجاج میں جہاں پی ٹی آئی کی قیادت حصہ لے رہی ہے وہیں پہلی بار عمران خان کی اہلیہ اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی بھی اس احتجاجی ریلی میں موجود ہیں۔
    • عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے کہا ہے کہ ’جب تک خان ہمارے پاس نہیں آئیں گے، یہ مارچ ختم نہیں کریں گے۔‘ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پشاور سے اسلام آباد آنے والے پی ٹی آئی کے قافلے سے خطاب کرتے ہوئے بشریٰ بی بی نے کہا کہ ’میں آخری سانس تک کھڑی رہوں گی اور آپ نے میرا ساتھ دینا ہے۔
  12. بشریٰ بی بی کی برہان انٹرچینج سے اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی ہدایت

    بشریٰ بی بی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی زیرِ قیادت قافلہ برہان انٹرچینج سے اسلام آباد کی طرف گامزن ہے۔

    بشریٰ بی بی نے برہان انٹرچینج کے مقام پر ورکرز کو اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی ہدایت دی ہے۔ برہان انٹرچینج سے اسلام آباد کا فاصلہ 50 کلومیٹر سے کم ہے۔

    برہان انٹرچینج کے مقام پر پی ٹی آئی کے کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی جبکہ کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔

    پی ٹی آئی، احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پی ٹی آئی کے ترجمان فراز احمد مغل کا کہنا ہے کہ ’جس طرح اٹک پل کراس کیا ہے، اسی طرح باقی راستے کراس کرتے ہوئے ڈی چوک (اسلام آباد) پہنچیں گے۔‘

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’روک سکتے ہو تو روک لو۔۔۔ جس طرح اسلام اباد میں داخل ہوں گے، عمران خان کی رہائی ہو جائے گی۔‘

  13. پی ٹی آئی کے قافلے اسلام آباد کے کتنے قریب ہیں؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    پی ٹی آئی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    ،تصویر کا کیپشنپی ٹی آئی کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں قافلہ ’کٹی پہاڑی پہنچ گیا ہے‘

    تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سے آنے والے قافلے اسلام آباد کے قریب پہنچ چکے ہیں اور کچھ دیر میں وہ وفاقی دارالحکومت کی حدود میں داخل ہو جائیں گے۔

    تازہ معلومات کے مطابق خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے روانہ ہونے والے قافلے ہکلہ انٹرچینج سے پر رُک گئے ہیں جہاں کنٹینرز ہٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    ادھر پی ٹی آئی پشاور کے مقامی رہنما عمران خان سالارزئی کا کہنا ہے کہ کٹی پہاڑی کے مقام پر ’ورکرز ہاتھوں سے کنٹینرز سائیڈ پر کر رہے ہیں۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ ’پولیس کی جانب سے شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں چلائی جا رہی ہیں جس سے کئی کارکن زخمی ہوئے ہیں۔‘

    بلوچستان سے آنے والا قافلہ اسلام آباد سے چند کلومیٹر دور

    بلوچستان سے روانہ ہونے والے قافلے کو آج سفر میں چار روز ہو گئے ہیں۔ اس قافلے میں خواتین اور بچے شامل ہیں اور اب یہ قافلہ اسلام آباد سے چند کلومیٹر ہی دور ہے۔

    زلیخہ عزیز مندوخیل اس قافلے میں شامل ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت انتظار کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا سے علی امین گنڈا پور کی قیادت میں آنے والا قافلہ پہنچے تو پھر پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قافلے ایک ساتھ اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔

    واضح رہے کہ یہ قافلہ آج دن 11 بجے اسلام آباد کے قریب پہنچ گیا تھا۔

    زلیخہ عزیز مندوخیل نے بتایا کہ یہ قافلہ 22 نومبر کو روانہ ہوا تاہم پولیس نے انھیں روک کر گاڑیوں سے اتار دیا۔

    ’اس کے بعد راستے میں رکاوٹیں بھی بہت تھیں لیکن ہم نے وہ عبور کیں تو پھر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقے شیرانی میں ہمیں روک دیا گیا۔ ہمارے قائدین نے وہاں رات بسر کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر اگلی صبح ہم رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے تھے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’یہاں ہمارے لیے انتظام بہتر تھا، راستے میں لنگر لگائے گئے تھے جہاں خوراک اور پانی دستیاب تھا۔ ہمارے بچے بیمار ہو گئے تھے جنھیں ڈیرہ اسماعیل خان میں طبی امداد فراہم کی گئی اور ان کے والدین سے کہا گیا کہ اگر وہ واپس جانا چاہتے ہیں تو چلے جائیں لیکن انھوں نے قافلے کے ہمراہ رہنے کا فیصلہ کیا۔‘

    زلیخہ عزیز مندوخیل نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھ چائے پتی، اور خشک میوہ لائے ہیں جبکہ باقی ضرورت کا سامان قائدین نے اپنی گاڑیوں میں رکھا ہے۔

    ’راستے میں آنسو گیس سے بچنے کے لیے ماسک بھی ہیں اور بعض دوستوں کے پاس مکمل کٹ ہے تاکہ کسی بھی صورتحال میں مشکل کا مقابلہ کیا جا سکے۔‘

    زلیخہ عزیز مندوخیل کے مطابق اس مرتبہ جماعت کی طرف سے آنسو گیس کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑے پنکھے فرنٹ پر ساتھ رکھے گئے ہیں تاکہ آنسو گیس کا دھواں واپس پولیس کی طرف ہوا سے بھیجا جائے۔

    پی ٹی آئی کارکنوں کے مطابق وہ اپنے ساتھ موبائل اور دیگر چیزوں کے علاوہ باقی ضروریات زندگی کا سامان بھی لے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس مرتبہ لکڑیاں بھی گاڑیوں میں رکھی گئی ہیں اور یہ اس لیے کہ اگر راستے میں سردی ہو تو آگ جلا کر گزارا کیا جائے۔

  14. پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات

    ایک جانب عمران خان کی رہائی کا مطالبہ لیے تحریکِ انصاف کا اسلام آباد کی جانب مارچ جاری ہے تو وہیں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں اپنی جماعت کے بانی سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔

    تحریکِ انصاف کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر اور علی محمد خان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملی۔

  15. پی ٹی آئی کا احتجاج: صوابی موٹروے پر چار پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی

    صوابی موٹروے پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    باچا خان میڈیکل کمپلیکس کے ترجمان کے مطابق زخمیوں میں پنجاب پولیس کے چار اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ تمام زخمیوں کو ہسپتال کی جانب سے مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

    ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر رازق شاہ کے مطابق زخمیوں کو زیادہ تر چوٹیں سر پر لگی ہیں اور چار پولیس اہلکار اور تین عام شہری اس وقت سرجیکل ایمرجنسی میں ہیں۔

  16. بریکنگ, جب تک خان ہمارے پاس نہیں آئیں گے، مارچ ختم نہیں کریں گے: بشریٰ بی بی کا کارکنوں سے خطاب

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے کہا ہے کہ ’جب تک خان ہمارے پاس نہیں آئیں گے، یہ مارچ ختم نہیں کریں گے۔‘

    علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پشاور سے اسلام آباد آنے والے پی ٹی آئی کے قافلے سے خطاب کرتے ہوئے بشریٰ بی بی نے کہا کہ ’میں آخری سانس تک کھڑی رہوں گی اور آپ نے میرا ساتھ دینا ہے۔‘

    بشریٰ بی بی کے اس خطاب کے جواب میں کارکنوں نے پرجوش انداز میں جواب دیا کہ وہ ان کا ساتھ دیں گے۔

    بشریٰ بی بی نے مزید کہا کہ اگر کوئی ساتھ نہیں بھی دے گا تو وہ تب بھی کھڑی رہیں گی کیونکہ ’یہ صرف میرے میاں کی نہیں بلکہ اس ملک اور اس کے لیڈر کی بات ہے۔‘

  17. کٹی پہاڑی: پی ٹی آئی کے قافلے پر ’پولیس کی شیلنگ‘، مظاہرین کی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں پشاور سے اسلام آباد آنے والا پی ٹی آئی کا قافلہ کٹی پہاڑی پہنچ گیا ہے۔

    پی ٹی آئی پشاور ریجن کے صدر ارباب عاصم نے بی بی سی کی ثنا آصف ڈار کو بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے قافلے پر پولیس کی شدید شیلنگ جاری ہے جبکہ کارکنان رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے امید کا اظہار کیا کہ یہ قافلہ آج شام سے پہلے وفاقی دارالحکومت پہنچ پائے گا۔

  18. عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پہلی بار کسی سیاسی ریلی کا حصہ

    عمران خان، بشریٰ بی بی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کی غرض سے ہونے والے احتجاج میں جہاں پی ٹی آئی کی قیادت حصہ لے رہی ہے وہیں پہلی بار عمران خان کی اہلیہ اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی بھی اس احتجاجی ریلی میں موجود ہیں۔

    عمران خان سے شادی سے قبل بشریٰ بی بی بشریٰ مانیکا کے نام سے جانی جاتی تھیں اور وہ عمران خان کو روحانی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی تھیں۔

    عمران خان تصوف کے بارے میں مشورے کے لیے بشریٰ بی بی کے گھر جایا کرتے تھے۔ تصوف مذہب اسلام کی ایک ایسی روایت ہے جس میں دنیاوی معاملات کو ترک کرنے اور خدا کی تلاش پر زور دیا جاتا ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے بشریٰ بی بی سے اپنی تیسری شادی کی تصدیق فروری 2018 میں کی تھی۔

    عمران خان کے 2018 میں وزیرِ اعظم بننے کے بعد اُن کی اہلیہ بطور خاتون اول مختلف سماجی کاموں میں مصروف نظر آتی تھیں۔ بشریٰ بی بی لاہور میں بنائی جانے والے لنگر خانوں، پناہ گاہوں اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے دورے کرتی تھیں اور ان مواقع پر بنائی گئی ان کی تصاویر سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا کی زینت بنتی رہتی تھیں۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو رواں برس جنوری میں اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ان پر 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

    بشریٰ بی بی اور عمران خان کو توشہ خانہ کے تحائف مالیت سے کم قیمت پر خریدنے کے الزام میں 14،14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد کچھ دن قبل ہی بشریٰ بی بی نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ ’عمران خان جب ننگے پاؤں مدینہ شریف گئے اور واپس آئے تو جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہو گئیں کہ ’یہ تم کیا اُٹھا کر لے آئے ہو۔ ہم تو ملک میں شریعت ختم کرنے لگے ہیں اور تم شریعت کے ٹھیکیداروں کو لے آئے ہو۔ ہمیں یہ نہیں چاہیے‘۔

    اس ویڈیو بیان کے بعد بشریٰ بی بی کو خاصی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

  19. پی ٹی آئی کا احتجاج: اس وقت اسلام آباد میں کیا صورتحال ہے؟

    پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد بھر میں سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں جبکہ جگہ جگہ کنٹینرز رکھ کر متعدد راستے بھی بند کیے گئے ہیں۔

    بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک اور کیمرہ پرسن نیر عباس نے اب سے کچھ دیر قبل ڈی چوک کا دورہ کیا اور وہ ہمیں وہاں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

    ،ویڈیو کیپشنپی ٹی آئی کا احتجاج: اس وقت اسلام آباد میں کیا صورتحال ہے؟
  20. پی ٹی آئی مظاہرین کی ’آخری منزل‘ ڈی چوک اتنی اہم کیوں؟

    ڈی چوک، پی ٹی آئی احتجاج

    عمران خان کی رہائی کا مطالبہ لیے پی ٹی آئی کے قافلے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہیں اور ان کی ’آخری منزل‘ اسلام آباد کا ڈی چوک ہے۔

    اسلام آباد کے مرکز میں واقع ڈی چوک کے قریب وزیراعظم ہاؤس، پارلیمان اور سپریم کورٹ کے علاوہ کئی اہم سرکاری عمارتیں موجود ہیں۔

    ڈی چوک کو اکثر ریلیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور مظاہرین اپنے مطالبات لیے اکثر اسی چوک کا رخ کرتے ہیں۔

    ڈی چوک پر مظاہرین کے جمع ہونے کی وجہ سے کئی بار اسلام آباد کی ٹریفک میں خلل بھی آتا ہے۔

    پی ٹی آئی احتجاج کے پیش نظر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری کو ڈی چوک اور اس کے اطراف میں تعینات کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی یہ کہہ چکے ہیں کہ پولیس ڈی چوک کی نگرانی کر رہی ہے اور اگر کوئی بھی احتجاجی یہاں آئے گا تو اسے فوراً گرفتار کر لیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ اسلام آباد پولیس کے مطابق انھوں نے ڈی چوک سے چار مظاہرین کو گرفتار بھی کیا ہے۔