پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہEPA
تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی اسلام آباد میں آج احتجاج کی کال ’فائنل‘ ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر ایک صحافی کے سوال پر کہ آیا اس احتجاج کو منسوخ کیا جا رہا ہے تو انھوں نے سر ہلا کر نفی میں جواب دیا اور کہا کہ ’کال آف والی بات ہی نہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت سے مذاکرات میں کوئی پیشرفت ہوئی ہے تو انھوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا تاہم انھوں نے تصدیق کی مذاکرات چل رہے ہیں اور جو بھی ہو گا ہم بتائیں گے۔
خیال رہے کہ بیرسٹر گوہر اور علی محمد خان سمیت پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں اپنی جماعت کے بانی عمران خان سے ملاقات کی ہے۔
گذشتہ ہفتے پاکستان کے نجی چینلز کے پولیٹکل ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر پاکستان تحریکِ انصاف اور حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کی بازگشت سنی جاتی رہی ہے۔
ان چہ میگوئیوں کو تقویت اُس وقت ملی جب سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا دعویٰ سامنا آیا کہ اُن کے بھائی نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر علی خان کو اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم انھوں نے یہ بات واضح طور پر نہیں بتائی کہ یہ بات چیت کس سے اور کہاں ہو رہی ہے۔
گذشتہ منگل کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’عمران خان نے مطالبات پر مذاکرات کی اجازت دی ہے اور جمعرات تک کا وقت دیا ہے، مینڈیٹ واپس ہوتا ہے تو 24 نومبر کا احتجاج جشن میں بدل جائے گا۔‘
تاہم حکومت اس نوعیت کے دعوؤں کی تردید کرتی آئی ہے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ اگرچہ میں اس حق میں ہوں کہ بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے مگر مذاکرات دھمکیوں سے نہیں ہوتے۔‘
دوسری جانب تحریک انصاف بارہا یہ اصرار کرتی آئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے ہیں۔













