ایران کا دبئی میں یوکرینی ایٹی ڈرون سسٹم تباہ کرنے کا دعویٰ: ’یہ بالکل جھوٹ ہے،‘ کئیو کی تردید

ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے دبئی میں ’یوکرین کے اینٹی ڈرون سسٹمز‘ کے ایک گودام کو نشانہ بنایا ہے۔

خلاصہ

  • ایران پر حملے ٹرمپ کی سفارت کاری کے لیے دی گئی مہلت کے منافی ہیں: عراقچی
  • جی سیون کا عام شہریوں پر حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کا مطالبہ
  • یمن کے حوثی باغیوں کی بھی جنگ میں شامل ہونے کی دھمکی
  • امریکہ اور ایران کے نمائندے 'بہت جلد' پاکستان میں ملاقات کر رہے ہیں: جرمن وزیرِ خارجہ
  • اقوامِ متحدہ کا ایران میں بچیوں کے سکول پر حملے کی شفاف تحقیقات جلد مکمل کرنے اور نتائج عام کرنے کا مطالبہ
  • اسرائیل کا ایران کی سمندری بارودی سرنگیں بنانے کی فیکٹری تباہ کرنے کا دعویٰ
  • امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 'ایرانی حکومت کی درخواست پر' ایران میں انرجی پلانٹس پر حملے مزید 10 دن تک مؤخر کر رہے ہیں

لائیو کوریج

  1. جمعرات کو چھ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے دیکھے گئے, شروتی مینن، بی بی سی ویریفائی

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی ویریفائی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ رہا ہے اور شپ ٹریکنگ سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق جمعرات کو اب تک چھ جہاز اس تنگ آبی راستے سے گزرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

    ان میں ایل پی جی کے دو ٹینکر نِبا اور سلوٹ شامل تھے، جبکہ دیگر چار زیا، این جے جیوپیٹر، گلائیکوفیلوُسا اور نیراکی نامی بلک کیریئرز تھے۔

    ان میں سے پانچ جہازوں نے اپنی پوزیشن نشر کرتے ہوئے آبنائے ہزمز کو عبور کیا، جبکہ ایل پی جی ٹینکر نِبا نے ایران کے جزیرے قشم کے قریب پہنچتے ہی اپنا ٹرانسمیٹر بند کر دیا اور بعد میں مشرق کی جانب دوبارہ ظاہر ہوا۔

    اس سے قبل ایران نے چین، روس، انڈیا، عراق اور پاکستان جیسے دوست ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی تھی، تاہم بظاہر جمعرات کو اس آبی گزر گار سے گزرنے والے جہازوں کا تعلق ان ریاستوں سے نہیں تھا۔

    ان تمام جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے طویل راستہ اختیار کیا اور ایران کے جزیرے قشم کے قریب سے گزرے۔

  2. ایران نے بطور ’تحفہ‘ 10 آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی، ان پر پاکستانی جھنڈے تھے: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 10 آئل ٹینکرز کو خیر سگالی کی علامت کے طور پر گزرنے کی اجازت دی ہے۔

    جمعرات کو کابینہ کے اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 10 ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت بطور ’تحفہ‘ یہ ظاہر کرنے کے لیے دی کہ وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے۔

    خیال رہے امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ان کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاہم ایران نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق دونوں ہی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی امریکی مجوزہ منصوبہ اسلام آباد کے ذریعے تہران بھیجا گیا ہے۔

    ایران نے گذشتہ روز اس منصوبے پر منفی ردِ عمل دیا تھا اور اس کے سرکاری میڈیا کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط رکھی تھیں۔

    تاہم ٹرمپ جمعرات کو ایک بار پھر مذاکرات پر اصرار کرتے ہوئے نظر آئے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’تیل سے بھرے آٹھ تیل کے ٹیکرز (آبنائے ہرمز سے) گزرے۔‘

    ’میرے خیال میں ان (آئل ٹینکرز) پر پاکستانی جھنڈے تھے۔ میں نے کہا ہم ٹھیک لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔‘

    اس کے بعد امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ماضی میں کہی گئی کسی بات پر معذرت بھی کی اور کہا ’ہم دو مزید جہاز (آئل ٹینکر) بھیج رہے ہیں اور پھر ان جہازوں کی تعداد 10 ہو گئی۔‘

  3. مذاکرات پر ایران اور امریکہ کے متضاد بیانات: بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ, جیما کریو، بزنس رپورٹر

    جنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور مذاکرات کے حوالے سے ایران اور امریکہ دونوں ہی متضاد بیانات دے رہے ہیں اور اس دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت جمعرات کو 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ گذشتہ روز مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام کے وقت اس کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل تھی۔

    خیال رہے امریکہ کا اصرار ہے کہ جنگ کے اختتام کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ بات چیت نہیں ہو رہی۔ دوسری جانب ایران، اسرائیل اور لبنان پر حملے بھی جاری ہیں۔

    بین الاقوامی مالیاتی گروپ ایم یو ایف جی کا کہنا ہے کہ جنگ اور مذاکرات کے حوالے سے ’متضاد اشاروں‘ نے ’غیریقینی‘ میں اضافہ کر دیا ہے۔

    اس کے تجزیہ کار سوجن کم کا کہنا ہے کہ ’تاحال جاری فوجی کشیدگی، فوجی دستوں کی تعیناتی، تازہ حملوں اور سخت ایرانی شرائط کے تحت آئل ٹینکرز کی آمد و رفت کے سبب بین الاقوامی مارکیٹ میں دباؤ نظر آ رہا ہے۔‘

  4. نیٹو کو ایران جنگ پر امریکہ کے ساتھ ’مشترکہ مؤقف‘ اختیار کرنے کی ضرورت ہے: جرمن وزیرِ خارجہ

    جرمنی کے وزیرِ خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جرمنی کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نیٹو ممالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ ایک ’مشترکہ مؤقف‘ اختیار کریں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جرمن وزیرِ خارجہ یوہان واڈے فیہول کا کہنا تھا کہ پیرس کے قریب جی سیون وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل برطانیہ اور فرانس اپنا مؤقف امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کے سامنے رکھیں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں شریک نہ ہونے پر نیٹو ممالک پر مستقل تنقید کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انھیں نیٹو کی ضرورت نہیں ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سے قبل یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے روس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ’امریکیوں کو ہدف، بنانے، امریکیوں کے قتل کے لیے‘ ایران کی انٹیلیجنس کے ذریعے مدد کر رہا ہے۔

    انھوں نے فرانس میں صحافیوں کو بتایا کہ روس اور یوکرین جنگ اور امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں، اگر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی چاہتا ہے تو ’اسے روس پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔‘

  5. امریکہ نے 15 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا: سٹیو وٹکوف

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے ایلچی سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ ’امن معاہدے کے لیے امریکہ نے 15 نکاتی منصوبہ مرتب کیا ہے جسے ثالثی کا کردار ادا کرنے والی پاکستانی حکومت کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا ہے۔‘

    یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ طور پر پاکستان کا نام لیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں اہم کرداد ادا کر رہا ہے۔

    امریکی صدر کے ایلچی سٹیو وٹکوف کا ززید کہنا تھا کہ ’یہ حساس سفارتی معاملہ ہے جسے خفیہ رکھا گیا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’معاہدہ ہونے کے اچھے امکانات ہیں اور اگر ایسا ہو جاتا ہے کہ یہ ایران، خطے اور بلکہ دنیا بھر کے لیے اچھا ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ معاملات کس طرف جاتے ہیں اور آیا ہم ایران کو یہ باور کرا سکتے ہیں کہ یہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے جہاں ان کے پاس مزید تباہی اور ہلاکت کے سوا کوئی بہتر متبادل نہیں۔ ہمارے پاس مضبوط اشارے ہیں کہ یہ ممکن ہے۔‘

  6. آپ کا بہت شکریہ زحمت نہ کریں ہمیں اب آپ کی ضرورت نہیں: صدر ٹرمپ کی برطانوی وزیراعظم پر تنقید

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر سٹارمر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’برطانیہ نے تین ہفتے پہلے طیارے بھیجنے کی پیشکش کی تھی یہ وہ وقت تھا کہ جب جنگ پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے انھیں کہا کہ اوہ یہ بہت اچھا ہے، آپ کا بہت شکریہ۔ زحمت نہ کریں، ہمیں اب اس کی ضرورت نہیں۔‘

    اس کے بعد ٹرمپ کہتے ہیں کہ برطانیہ کے طیارے ’اتنے بہترین نہیں ہیں۔۔۔ وہ ہمارے مقابلے میں کھلونوں جیسے ہیں۔‘

    آبنائے ہرمز کے حوالے سے صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ اور ایران ’درست معاہدہ‘ کر لیتے ہیں تو یہ اہم بحری تجارتی گزرگاہ دوبارہ کھول دی جائے گی۔‘

  7. ایرانی ’بیکار جنگجو، لیکن زبردست مذاکرات کار‘ ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ 28 فروری کو جنگ کے آغآز کے بعد سے امریکہ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو اس حد تک نشانہ بنایا ہے جو پہلے بہت کم لوگوں نے دیکھا ہو گا۔

    صدر ٹرمپ کا واشنگٹن میں ایران کے حوالے سے کابینہ کے اجلاس میں کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ’مکمل طور پر‘ ختم کر دیا ہے اور ایران کے ’90 فیصد کے قریب‘ میزائل لانچرز اور ’شاید 90 فیصد سے زیادہ‘ میزائل بھی تباہ کر دیے ہیں۔

    ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ ایران معاہدہ کرنے کی بھیک مانگ رہا ہے۔

    ’وہ بہت اچھے مذاکرات کار ہیں۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ ’بیکار جنگجو، لیکن زبردست مذاکرات کار۔‘

  8. تہران نے امریکہ کے 15 نکاتی امن منصوبے کا جواب دے دیا ہے، ایرانی میڈیا

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکہ کے 15 نکاتی امن منصوبے کا جواب دے دیا ہے اور اب اسے امریکہ کے جواب کا انتظار ہے۔

    ایک ’باخبر عہدیدار‘ کا حوالہ دیتے ہوئے تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مندرجہ ذیل شرائط رکھی گئی ہیں:

    ’دشمن کی جارحیت اور قتل و غارت کی کارروائیاں بند کی جائیں‘

    ’ایسے حالات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ جنگ دوبارہ نہ ہو‘

    ’ہرجانہ اور جنگی معاوضہ کا واضح طور پر تعین ہونا چاہیے اور اس کی ضمانت دی جائے‘

    خطے میں ایران کے اتحادیوں اور پراکسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام محاذوں اور خطے میں مزاحمتی گروپوں کے خلاف کارروائیاں ختم کی جائے۔

    ایرانی عہدیدار نے تسنیم نیوز ایجنسی کو یہ بھی بتایا ہے آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری اس کا ’فطری اور قانونی حق‘ ہے۔

  9. اسرائیلی شہر کفر قاسم پر میزائل حملے کے مناظر

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہX

    بی بی سی ویریفائی نے جیولوکیشن کی مدد سے اسرائیلی شہر کفر قاسم کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج کی تصدیق کی ہے جس میں جمعرات کو علی الصبح ایک کار پر میزائل لگتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے شہر پر میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    ویڈیو میں میزائل کے ٹکرانے سے کچھ لمحے قبل ہی دو افراد کو میزائل کا نشانہ بننے والی گاڑی کے نزدیک کھڑی ایک اور کار سے نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    دھماکے سے قبل دونوں افراد قریبی ایک گھر میں داخل ہوگئے تھے۔

    ہم نے ویڈیو میں دیکھائی دینے والی گلی کا موازنہ علاقے کی سیٹلائٹ امیجری کے ساتھ کر کے فوٹیج کی تصدیق کی ہے۔

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم (ایم ڈی اے) نے بتایا تھا کہ وسطی اسرائیل پر ہونے والے میزائل حملے کے بعد چھ افراد کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

  10. ایرانی بحریہ کے سربراہ کا قتل اسرائیل، امریکہ تعاون کی ’ایک اور مثال‘ ہے: بنیامن نیتن یاہو

    نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بینیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کا قتل اسرائیل اور امریکا کے درمیان ’تعاون کی ایک اور مثال‘ ہے۔

    عبرانی زبان میں جاری ایک ویڈیو پیغام میں، اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران بھر میں اہداف پر ’زبردست حملہے‘ کر رہا ہے۔

    نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’اس شخص کے ہاتھوں پر بہت زیادہ خون تھا۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ ہمارے اور ہمارے دوست، امریکہ کے درمیان جنگ کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے طرف تعاون کی ایک اور مثال ہے۔‘

    اس سے قبل اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ تنگسیری نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

  11. ایرانی فضا میں لڑاکا طیارے کو مار گرانے کی کوشش کے مناظر, بی بی سی ویریفائی

    ایف-18

    ،تصویر کا ذریعہX

    بی بی سی ویریفائی نے تین ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جن میں خلیج عمان کے ساحل پر واقع ایرانی شہر چابہار کے نزدیک ایک لڑاکا طیارے کو مار گرانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    فوٹیج میں ایک پروجیکٹائل جیٹ کی طرف بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پروجیکٹائل طیارے سے ٹکرایا یا اس سے پہلے ہی پھٹ گیا۔

    بدھ کو ایران میں انگریزی زبان کے سرکاری نیوز چینل پریس ٹی وی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاسداران انقلاب نے ایک امریکی ایف-18 لڑاکا طیارے کو ’کامیابی سے نشانہ بنایا‘ ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایران نے کوئی امریکی لڑاکا طیارہ نہیں مار گرایا۔‘

    ہم نے یہ جاننے کے لیے ماہرین سے رابطہ کیا ہے کہ آیا دستیاب شواہد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پروجیکٹائل طیارے سے ٹکرایا ہے یا اس سے طیارے کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔

  12. ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ہلاک ہونے والوں میں ایک پاکستانی شامل

    اس سے قبل بی بی سی نے ابوظہبی میں حکام کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ایک میزائل کا ملبہ گرنے سے دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق متعدد کاروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    مقامی حکام نے اس حوالے سے ایک اپڈیٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے ایک شخص کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ دوسرا شخص انڈین ہے۔

    ابو ظہبی میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق زخمی ہونے والوں میں متحدہ عرب امارات، اردن اور انڈیا کے ایک ایک شہری شامل ہیں۔

  13. پاکستان اور افغانستان کی سرحد جزوی طور پر کھول دی گئی, بلال احمد، بی بی سی پشاور

    طورخم

    ،تصویر کا ذریعہAssistant Commissioner Landikotal Inamullah Wazir

    پاکستان اور افغانستان کی سرحد جزوی طور پر کھول دی گئی ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل انعام اللہ وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے روز طورخم بارڈر سے پچاس افراد نے سرحد عبور کی۔

    یاد رہے کہ گذشتہ برس ستمبر کے آخر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور جھڑپوں کے باعث طورخم سرحد ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کردی گئی تھی۔ تاہم کچھ عرصہ بعد پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے لیے سرحد کو جزوی طور پر کھول دیا گیا تھا۔

    بعد ازاں رواں سال 26 فروری کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی کشیدگی کے باعث بارڈر کراسنگ مکمل طور پر بند کردی گئی تھی۔ اب دوبارہ بارڈر بھی صرف پاکستان سے غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کھولا گیا ہے۔

    اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں وہ افغان شہری جو مختلف جیلوں میں قید تھے ان کو ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔ ان افغان شہریوں کو لنڈی کوتل میں قائم حمزہ بابا کیمپ سے ضروری کاغذی کارروائی کے بعد بارڈر کراس کرایا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق فی الحال گزرگاہ کھلی ہے اور کب تک کھلی ہے یہ تو اعلی حکام ہی بتا سکتے ہیں۔

  14. ’فی الحال ہماری پالیسی مزاحمت جاری رکھنے کی ہے‘، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی

    ،ویڈیو کیپشن’فی الحال ہماری پالیسی مزاحمت جاری رکھنے کی ہے‘

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کچھ تجاویز دی گئی ہیں جنھیں ملک کی اعلیٰ قیادت تک پہنچا دیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ فی الحال ہماری پالیسی مزاحمت جاری رکھنے اور اپنے ملک کا دفاع کرتے رہنے کی ہے۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ، ’فی الوقت ہمارا مذاکرات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی کوئی مذاکرات ہوئے ہیں۔‘

  15. ’سنجیدہ ہو جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے‘: ٹرمپ کا ایرانی رہنماؤں کو مذاکرات کے حوالے سے پیغام

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کو ’بہت مختلف‘ اور ’عجیب‘ قرار دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امریکہ سے معاہدے کے لیے ’بھیک‘ مانگ رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی فوج بالکل تباہ ہو گئی ہے اور ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔

    ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ، ’اس کے باوجود وہ عوامی طور پر کہتے ہیں کہ وہ محض ’ہماری تجویز پر غور کر رہے ہیں۔'جھوٹ!!!‘

    ’بہتر ہے کہ وہ جلد سنجیدہ ہو جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔‘

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ ایک بار دیر ہو گئی تو دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔

  16. نیٹو نے ایران کے خلاف بالکل مدد نہیں کی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بار پھر نیٹو ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران جنگ میں ان کی مدد کی ضرورت نہیں۔

    ان کا کہنا ہے، ’نیٹو ممالک نے پاگل ملک ایران کے خلاف مدد کے لیے بالکل کچھ نہیں کیا جو اب عسکری طور پر ختم ہو چکا ہے۔ امریکہ کو نیٹو سے کسی چیز کی ضرورت نہیں لیکن اس اہم وقت کو ’کبھی نہیں بھولیں گے‘!ً‘

  17. پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کون ہیں؟

    علی رضا تنگسیری 2018 میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر مقرر ہوئے تھے۔ اس سے قبل وہ 2010 سے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ ڈپٹی کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

    علی رضا تنگسیری سے منسوب ایک ایکس اکاؤنٹ رواں ماہ کی تاریخ سے فعال ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاق ان کے اس کاؤنٹ سے جاری کیے جانے والے بیانات کا حوالہ دیتے ہیں۔

    اس کاؤنٹ سے وہ کئی بار آبنائے ہرمز کے بارے میں بیان جاری کر چکے ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ایران کے خلاف جارحیت کرنے والوں سے وابستہ کسی بھی جہاز کو وہاں سے گزرنے کا حق نہیں ہے۔‘

    تنگسیری ماضی میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کئی بیانات دے چکے ہیں۔

    2019 میں انھوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران کی تیل کی برآمدات میں خلل پڑا تو آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جائے گا۔

    2019 میں ایران کی جانب سے آبنائے کے قریب نگرانی والے ایک امریکی ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد امریکہ نے پاسدارانِ انقلاب کے دیگر کمانڈروں کے ہمراہ تنگسیری پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔

  18. اسرائیل کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    علی رضا تنگسیری

    ،تصویر کا ذریعہTasnim

    اسرائیل نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ تنگسیری آبنائے ہرمز کی بندش اور بمباری کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے براہ راست ذمہ دار تھے اور انھیں ’اڑا دیا گیا ہے‘۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ایرنی بحریہ کے متعدد دیگر سینئیر حکام بھی مارے گئے ہیں۔

    ایران نے تاحال اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  19. روس کی ایران کو ڈرونز بھجوانے کی خبر کی تردید: ’میڈیا کی طرف سے بہت سے جھوٹ پھیلائے جا رہے ہیں‘

    روس نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ماسکو نے تہران کو ڈرونز کی کھیپ بھیجی ہے۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی تھی کہ گذشتہ ماہ تہران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے آغاز کے بعد شےنےخر ایرانے اور روسے حکام نے ڈرون کی فراہمی کے بارے میں خفیہ طور پر بات چیت شروع کر دی تھی۔ اخبار نے مغربی انٹیلی جنس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ماسکو نے مارچ کے اوائل میں اپنی ڈیلیوری شروع کردی تھی، اور توقع کی جارہی تھی کہ رواں ماہ کے آخر تک یہ ڈیلیوری مکمل ہوجائے گی۔

    جمعرات کے روز روس نے برطانوی اخبار کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

    روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک سوال کے جواب میں اے ایف پی کو بتایا کہ ’میڈیا کی طرف سے بہت سے جھوٹ پھیلائے جا رہے ہیں... ان پر کوئی توجہ نہ دیں۔‘

  20. ایران کی جانب سے مزید میزائل داغے گئے ہیں: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے اپنی سرزمین کی طرف داغے گئے مزید میزائلوں کا پتہ لگایا ہے۔

    پچھلے چار گھنٹوں میں یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایرانی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

    اس سے قبل اسرائیل کی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم نے بتایا تھا کہ وسطی اسرائیل پر ہونے والے میزائل حملے کے بعد چھ افراد کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق کفر قاسم شہر میں بھی کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔