ایران کا دبئی میں یوکرینی ایٹی ڈرون سسٹم تباہ کرنے کا دعویٰ: ’یہ بالکل جھوٹ ہے،‘ کئیو کی تردید
ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے دبئی میں ’یوکرین کے اینٹی ڈرون سسٹمز‘ کے ایک گودام کو نشانہ بنایا ہے۔
خلاصہ
ایران پر حملے ٹرمپ کی سفارت کاری کے لیے دی گئی مہلت کے منافی ہیں: عراقچی
جی سیون کا عام شہریوں پر حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کا مطالبہ
یمن کے حوثی باغیوں کی بھی جنگ میں شامل ہونے کی دھمکی
امریکہ اور ایران کے نمائندے 'بہت جلد' پاکستان میں ملاقات کر رہے ہیں: جرمن وزیرِ خارجہ
اقوامِ متحدہ کا ایران میں بچیوں کے سکول پر حملے کی شفاف تحقیقات جلد مکمل کرنے اور نتائج عام کرنے کا مطالبہ
اسرائیل کا ایران کی سمندری بارودی سرنگیں بنانے کی فیکٹری تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 'ایرانی حکومت کی درخواست پر' ایران میں انرجی پلانٹس پر حملے مزید 10 دن تک مؤخر کر رہے ہیں
لائیو کوریج
ایران میں دو جوہری تنصیبات پر حملے ہوئے: سرکاری میڈیا
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی دو جوہری تنصیبات پر حملے کیے گئے ہیں لیکن کوئی تابکار مواد خارج نہیں ہوا۔
ارنا نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے شمال مغربی ایران میں واقع خونداب ہیوی واٹر کمپلیکس پر حملہ کیا۔ ارنا نے صوبہ مرکزی کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسرا حملہ یزد کے شہر اردکان میں یورینیئم افزودگی کی تنصیب پر کیا گیا جہاں حکام کے مطابق تابکار مادے کا اخراج تنصیب کی حدود سے باہر نہیں ہوا۔ یہ اطلاع پاسدارانِ انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی فارس نے دی ہے۔
جی سیون کا عام شہریوں پر حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
فرانس کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ جی سیون ممالک ایران میں جاری جنگ کے اثرات کی شدت کم رکھنے کے لیے ’پُرعزم‘ ہیں۔
ان کے مطابق دنیا کی سات بڑی ’ترقی یافتہ‘ معیشتوں کے اس گروپ نے شہری تنصیبات اور عام شہریوں پر حملوں کے ’فوری خاتمے‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
شمالی فرانس میں اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کے بعد اُن کا کہنا تھا کہ ’کچھ بھی ان حملوں کو جائز نہیں ٹھہراتا‘ اور عام شہریوں کا ’واضح طور پر تحفظ کیا جانا چاہیے۔‘
اپنی گفتگو میں انھوں نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی ’آزاد اور محفوظ آمد و رفت‘ کو یقینی بنانے کے لیے جی سیون کی کوششوں پر بھی زور دیا۔
ان کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے یورپی یونین کی کونسل آف فارن افیئرز کو بریفنگ دینے اور آبنائے ہرمز کے بحران کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
جی سیون اجلاس میں شریک برطانوی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے ’فوری حل‘ کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کر کے ’عالمی معیشت کو یرغمال‘ بنا لے۔
کوپر کے مطابق ’30 سے زائد ممالک‘ اس بات پر غور کرنے کے لیے جمع ہوئے کہ آبنائے ہرمز کو کیسے کھولا جائے اور بین الاقوامی جہازرانی کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے۔
ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد سے دنیا کی مصروف ترین تیل بردار راہداریوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔
دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل معمول کے حالات میں اسی آبنائے سے گزرتی ہے۔ جنگ کے باعث عالمی ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار: ’یہ بوجھ حکومت برداشت کرے گی‘
،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز
شریف کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باوجود وفاقی حکومت نے ملک میں پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتیں برقرار
رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب
کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ انھیں جمعے کو پیٹرول پر فی لیٹر 95 روپے اور ڈیزل
پر 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز موصول ہوئی تھی جسے ایک بار پھر مسترد کیا گیا
ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت ’56 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس طوفان کا مقابلہ
کرنے کے لیے پہلے سے تیاری کر رکھی تھی۔‘
شہباز شریف کے مطابق اب تک ترقیاتی
بجٹ میں ’100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے‘ جبکہ کفایت شعاری و سادگی مہم سے ’اربوں
روپے عام آدمی کے لیے وقف کیے گئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر عالمی
منڈی میں خام تیل کی قیمت دیکھی جائے تو آج پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 544 روپے
فی لیٹر ہونی چاہیے تھی لیکن ’آپ اسے صرف 322 روپے میں حاصل کر رہے ہیں۔‘
جبکہ ان کے بقول ڈیزل کی
قیمت 790 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی لیکن ’حکومت آپ کو 335 روپے فی لیٹر میں
فراہم کر رہی ہے تاکہ آپ پر مزید بوجھ نہ پڑے۔‘
انھوں نے کہا کہ حکومت نے
گذشتہ ہفتوں میں ’125 ارب روپے کا تاریخی بوجھ برداشت اٹھایا ہے۔ یہ خطیر رقم فلاح
کے کئی منصوبوں میں استعمال ہو سکتی تھی۔‘
وزیر اعظم نے عام عوام سے غیر
ضروری سفر سے اجتناب کا مطالبہ کیا ہے۔
دریں اثنا امریکہ اور ایران
کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کے کردار پر شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں
’امت مسلمہ کے بہترین مفاد کے لیے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’متعدد بار
ایران اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔ اسحاق ڈار کی کوششیں بھی جاری
ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس مفاہمتی عمل کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔‘
اسرائیلی فوج کی جانب سے وسطی ایران کے شہر اراک سے فوری انخلا کی وارننگ جاری
اسرائیلی فوج نے وسطی ایران کے صوبہ مرکزی کے دارالحکومت اراک کے کچھ حصوں سے لوگوں کو فوری طور پر انخلا کا حکم دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ’آنے والے گھنٹوں میں‘ خطے کے کئی علاقوں میں آپریشن کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیوں کا ہدف ’ایرانی حکومت کے فوجی ڈھانچے‘ ہوں گے۔
یہ ہدایات اسرائیلی فوج کے فارسی زبان کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری کی گئی ہیں۔
’اپنی حفاظت اور بہبود کی خاطر، ہماری درخواست ہے کہ آپ فوری طور پر نکل جائیں۔‘ اسرائیل فوج کا مزید کہنا ہے کہ ’ان علاقوں میں موجودگی سے آپ کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘
آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام کی ہلاکت کے باوجود ایرانی حکومت اب بھی اپنے پاؤں پر کیسے کھڑی ہے؟, جیریمی بوون، انٹرنیشنل ایڈیٹر
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
امریکہ اور اسرائیل
کی جانب سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام کو قتل کیے جانے کے باوجود ایران کی حکومت اب بھی اس
جنگ میں کھڑی ہے۔
ایرانی حکومت کے ڈھانچے
کے بارے میں جو چیز جاننا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دراصل اس میں انفرادی شخصیات سے زیادہ
ادارے اہم ہیں۔
قذافی کے ماتحت لیبیا
کے برعکس ایرانی حکومت اس لیے زیادہ مضبوط ثابت ہوئی کیوں کہ اس کے پاس یہ ادارے
ہیں۔ اس کا انحصار انفرادی شخصیات پر نہیں۔
اگر کوئی سسٹم ادارہ
جاتی نظام پر مبنی ہو تو ایسے میں اگر اس نظام سے کچھ مخصوص لوگ نکل بھی جائیں تب بھی
نظام چلتا رہتا ہے۔
2011
میں لیبیا کے رہنما قذافی کے ہلاکت نے وہاں کی حکومت کو مکمل طور پر کھوکھلا کر دیا
تھا اور سارا نظام بیٹھ گیا۔ ایران اس سے بالکل مختلف ہے۔
یہاں اداروں کے ساتھ
ساتھ، قوم پرستی، مزاحمت، بقا اور شہادت کا تصور اس پورے نظام کو جوڑے رکھے ہے۔
’مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ طوفان کا شور تھا یا دھماکے‘: ایرانیوں نے رات بھر تہران اور کرج میں کیا محسوس کیا, غنچے جبیبی آزاد، سینیئر نامہ نگار برائے بی بی سی فارسی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنگذشتہ رات کے حملوں کے نتیجے میں تہران کی یہ عمارت ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی ہے۔
ایران کے
دارالحکومت تہران اور قریبی شہر کرج میں گذشتہ رات طوفان کے دوران شدید بمباری کا سلسلہ
جاری رہا۔
تہران سے ایک 20 سالہ
خاتون بتاتی ہیں کہ، ’میں بالکل بھی سو نہیں سکی۔ یہ بہت خوفناک تھا۔ میرے خیال میں یہ جنگ
کی اب تک کی بدترین رات تھی۔ میزائلوں اور طوفان کی ملی جلی آواز سنائی دیتی رہی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا
کہ وہ ’ہر
چیز سے اتنا تھک چکی ہیں‘ کہ وہ اب چاہتی ہیں کہ بس یہ جنگ ’اب‘ ختم ہو جائے۔
تہران سے ہی ایک 40
سالہ خاتون بتاتی ہیں کہ ’وہ میرے گھر کے نزدیک کہیں اس زور سے ٹکرائے کہ پورا کمرہ اور اس کی کھڑکیاں
ہلنے لگیں… لگاتار دو بار ایسا ہوا۔ میں رات بھر بارش کی آواز سن سکتی تھی۔ میں کئی
بار سوئی اور کئی بار جاگی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ طوفان کا شور تھا یا دھماکے۔‘
میں نے آج ان سے پوچھا
کہ وہ جنگ کے خاتمے کے بارے میں کیا سوچتی ہیں: ’میں نہیں چاہتی کہ یہ اس وقت تک ختم ہو جب تک یہ تمام
مذہبی رہنما ختم نہ ہو جائیں۔ میرے پاس اس کو برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔‘
تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں بھی کئی لوگوں
نے بتایا کہ وہاں بھی رات بھر بارش ہوتی رہی۔ ایک 20 سالہ شخص کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ رات بارش کے دوران
ایک زبردست دھماکہ ہوا۔‘
کویتی ولی عہد کا وزیرِ اعظم شہباز شریف سے رابطہ، ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستانی کوششوں کی حمایت
پاکستان کے وزیراعظم
شہباز شریف اور کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد الصباح کے درمیان ٹیلیفونک
رابطہ ہوا ہے جس میں کویتی ولی عہد نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان
کی کوششوں کی حمایت کی۔
جمعہ کے روز پاکستانی
وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کویت کے ولی عہد نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو کال کی۔ بیان کے مطابق گفتگو کے دوران وزیراعظم نے کویت
پر ہونے والے حملوں کی مذمت کا اعادہ کیا اور ان مشکل حالات میں کویت کے عوام کے ساتھ
پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہبازشریف
نے کویتی قیادت کو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے
بھی آگاہ کیا۔
بیان کے مطابق کویت
کے ولی عہد نے پاکستانی وزیراعظم کی قیادت کو سراہتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان
ثالثی کے لیے پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کی۔
انھوں نے موجودہ بحران
میں کویت کی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
کویت کے ولی عہد
نے حالات بہتر ہوتے ہی پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
اس موقع پر وزیراعظم
شہباز شرید نے کویتی ولی عہد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں یقین دلایا کہ پاکستان خطے
میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
،تصویر کا ذریعہPak PM Office/Reuters
جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 1,900 افراد مارے جا چکے ہیں: بین الاقوامی فیڈریشن برائے ریڈ کراس اور ہلال احمر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی فیڈریشن
برائے ریڈ کراس اور ہلال احمر سے وابستہ اہلکار نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ایرانی ہلال
احمر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر، امریکی اور اسرائیلی حملوں کے
آغاز سے اب تک ایران میں 1,900 سے زائد افراد ہلاک اور کم از کم 20,000 زخمی ہو چکے ہیں۔
بی بی سی عربی کے
مطابق ماریا مارٹینز کا کہنا ہے کہ ایرانی ہلال احمر قومی سطح پر کام کرنے والی واحد
امدادی تنظیم ہے جو بڑھتے ہوئے تنازعات کے درمیان ملک بھر میں کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران کے شہر قم پر حملے میں 18 افراد ہلاک
مقامی میڈیا کے مطابق ایران کے شہر قم پر ہونے والے حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی اور تسنیم کے مطابق یہ حملہ آج صبح شہر کے پاردیسن علاقے میں ہوا۔
ابتدائی طور پر اس حملے میں چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی جو کہ اب بڑھ کر 18 ہو گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں 10 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک نے رہائشی علاقہ ہے۔
کیا صدر ٹرمپ کے دعوؤں مطابق ’10 تیل بردار کشتیوں‘ کا ’تحفہ‘ آبنائے ہرمز سے گزرا ہے؟, بی بی سی ویریفائی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ نے جمعرات کے روز کابینہ کے اجلاس کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران نے خیر سگالی
کی علامت کے طور پر آبنائے ہرمز سے 10 آئل ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا
تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے ان 10 ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت بطور ’تحفہ‘ یہ
ظاہر کرنے کے لیے دی کہ وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے۔
امریکی صدر کا
کہنا تھا کہ ’تیل سے بھرے آٹھ تیل کے ٹیکرز (آبنائے ہرمز سے) گزرے۔‘
’میرے
خیال میں یہ (آئل ٹینکرز) پاکستانی جھنڈا بردار تھے۔ میں نے کہا ہم ٹھیک لوگوں سے
بات کر رہے ہیں۔‘
اس کے بعد امریکی
صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ماضی میں کہی گئی کسی بات پر معذرت بھی کی اور کہا
’ہم دو مزید جہاز (آئل ٹینکر) بھیج رہے ہیں اور پھر ان جہازوں کی تعداد 10 ہو
گئی۔‘
بی بی سی ویریفائِ
نے عوامی طور پر دستیاب جہازوں کی آمد و رفت کے ڈیٹا کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی
کوشش کی کہ 23 اور 25 مارچ کے درمیان کن جہازوں نے اپنے لوکیشن ٹرانسمیٹر کے ساتھ
آبنائے کو عبور کیا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق انھی دنوں میں جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے
ہیں۔
اس عرصے کے دوران آبنائے
سے تیل لے جانے والے پانچ جہازوں کی نشاندہی ہوئی ہے تاہم ان میں سے کسی پر بھی پاکستان
کا جھنڈا نہیں تھا۔ ان کے علاوہ جن پانچ دیگر جہازوں نے آبنائے ہرمز پار کی ان میں
سے کوئی بھی تیل لے جانے والے ٹینکر کے طور پر درج نہیں تھا۔
جہازوں کی آمدورفت
پر رکھنے والوں کو ان جہازوں کے متعلق معلوم نہیں ہو سکتا جو آبنائے سے گزرتے ہوئے
اپنا جی پی ایس سگنل عوامی طور پر نشر کرنا بند کر دیں۔
ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تین کنٹینر جہازوں کو واپس بھیجنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایران کے پاسداران انقلاب
نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے آج صبح تین جہازوں کو واپس کر دیا ہے جو آبنائے ہرمز سے
گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
پاسداران انقلاب کی
جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تین کنٹینر بحری
جہازوں نے راہداری کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تھی۔ ’انھیں پاسداران انقلاب کی بحریہ کی
جانب سے انتباہ کے بعد واپس بھیج دیا گیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا
ہے کہ ’آبنائے ہرمز بند ہے اور اس سے گزرنے کی کسی بھی کوشش کا سختی سے جواب دیا جائے
گا۔‘
’امریکہ اور اسرائیل کے اتحادیوں اور حامیوں کی بندرگاہوں سے آنے
والے یا ان کی جانب جانے والے کسی بھی بحری جہاز کے راہداری سے گزرنے پر پابندی ہے۔‘
دو روز قبل ایرانی وزیر
خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی پر کہا تھا کہ ایران نے اب تک ’چین، روس، پاکستان،
عراق اور انڈیا‘ جیسے ممالک کے جہازوں کے گزرنے کی درخواستیں قبول کی ہیں۔ انھوں نے
کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے نقطہ نظر سے ’مکمل طور پر بند نہیں بلکہ صرف دشمنوں کے
لیے بند ہے۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 10 آئل ٹینکرز کو خیر سگالی کی علامت کے طور پر گزرنے کی اجازت دی تھی۔
ایسے علاقوں سے نکل جائیں جہاں امریکی افواج تعینات ہیں: ایران کا مشرقِ وسطیٰ کے لوگوں کو مشورہ
ایران کے پاسدارانِ
انقلاب نے خطے کے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے علاقوں سے نکل جائیں جہاں امریکی
افواج تعینات ہیں۔
پاسداران انقلاب سے
وابستہ فارس نیوز ایجنسی کی طرف سے شائع کردہ ایک بیان میں، پاسداران انقلاب نے الزام
لگایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ’شہری مقامات اور معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور
پر استعمال کر رہے ہیں۔‘
بیان میں امریکہ پر
ایرانی شہریوں اور اہلکاروں کو قتل کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ جنگ کے
آغاز کے بعد سے پاسداران انقلاب اس طرز کے کئی انتباہات جاری کر چکی ہے۔ اس سے قبل
14 مارچ کو پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں امریکی صنعتی مقامات کے قریب رہنے
والے رہائشیوں کو وہاں سے نکل جانے کا مشورہ دیا تھا۔
تاہم، اس تازہ ترین
انتباہ میں، ایرانی حکام نے کسی مخصوص جگہ کا ذکر نہیں کیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ
یہ ایک وسیع پیمانے کا انتباہ ہے۔
موجودہ جنگ میں پاسداران
انقلاب کے کئی اعلیٰ کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔
ایران کی جانب سے حالیہ
دنوں میں اس جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے متعلق نہیں بتایا گیا ہے۔ امریکہ
میں مقیم انسانی حقوق کے کارکنوں کی نیوز ایجنسی (ہرانا) نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ
اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 221 بچوں سمیت 1,492 ایرانی شہری مارے جا
چکے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والے ایرانی فوجی اہلکاروں کی تعداد 1,167 تک پہنچ گئی ہے۔
کوئی بھی یقین نہیں کرے گا کہ بچیوں کے سکول پر حملہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا، ایرانی وزیرِ خارجہ
اقوام متحدہ کی
انسانی حقوق کونسل میں تنازعات میں بچوں کے تحفظ کے بارے میں ہونے والی بحث کے
دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مناب میں لڑکیوں کے اسکول پر حملے کو ’جنگی
جرم اور انسانیت کے خلاف جرم‘ قرار دیا ہے۔
ویڈیو لنک کے ذریعے
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے عراقچی نے اس حملے کو ایک ’تپا تلا، مرحلہ وار حملہ‘
قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس ہدف پر نشانہ لگانے کی بہترین فوجی ٹیکنالوجی
ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ، ’کوئی بھی یقین نہیں کر سکتا کہ اس سکول پر حملہ جان بوجھ کر
نہیں کیا گیا تھا۔‘
انھوں نے تمام
ممالک کی جانب سے اس حملے کی ’بھرپور مذمت‘ اور ’مجرموں کے احتساب‘ کا مطالبہ کیا۔
اقوامِ متحدہ کا ایران میں بچیوں کے سکول پر حملے کی شفاف تحقیقات جلد مکمل کرنے اور نتائج عام کرنے کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہMehr News/WANA/Reuters
اقوام متحدہ کے انسانی
حقوق کے کمشنر وولکر ترک نے جنوبی ایران میں مناب میں لڑکیوں کے سکول پر ہونے والے
حملے کی ’جلد سے جلد‘ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق
مناب میں سکول پر حملے میں 168 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر بچے تھے۔
امریکی میڈیا کے
مطابق امریکی فوجی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر امریکی فورسز سکول کو غیر
ارادی طور پر نشانہ بنانے کی ذمہ دار ہیں تاہم وہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔
اقوام متحدہ کی انسانی
حقوق کونسل میں تنازعات میں بچوں کے تحفظ کے بارے میں ہونے والی بحث کے دوران ترک کا
کہنا تھا کہ اب یہ ’حملہ کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا فوری، غیرجانبدارانہ
اور شفاف تحقیقات کریں تاکہ مکمل حقائق کا تعین کیا جا سکے اور جوابدہی کے لیے بنیاد
قائم کی جا سکے۔‘
انھوں نے ’جلد سے
جلد‘ تحقیقات مکمل کرنے اور نتائج کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترک کا کہنا تھا کہ
’سینئر امریکی حکام نے کہا ہے کہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا
کہ ممالک کے درمیان جو بھی اختلافات ہیں، ’ اس بات پر تو ہم سب ہی متفق ہو سکتے ہیں
کہ سکول کے بچوں کو مارنے سے یہ اختلافات حل نہیں ہوں گے۔‘
اقوام متحدہ اور امریکہ
دونوں نے الگ الگ کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کا ریاض کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل مار گرانے کا دعویٰ
سعودی عرب کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز سعودی دارالحکومت ریاض کی جانب چھ بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے۔
وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دو بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا گیا ہے جبکہ چار دیگر خلیج عرب اور غیر آباد علاقوں میں گرے ہیں۔
چاہ بہار میں امریکی ایف 18 طیارے گرانے کی کوشش
بی بی سی کے فیکٹ چیک ڈپارٹمنٹ نے ایران سے آنے والی ان ویڈیوز کا جائزہ لیا جن میں چاہ بہار کے علاقے میں ایک امریکی ایف 18 لڑاکا طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
کویت کی بندرگاہوں پر ڈرون اور میزائلوں سے حملے
کویت کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز اس کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
چند گھنٹے قبل کویت نے کہا تھا کہ شوائیخ میں اس کی مرکزی تجارتی بندرگاہ پر حملہ کیا گیا جس کے بعد پورٹ پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔
اب کویت کی وزارت پبلک ورکس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی مبارک الکبیر بندرگاہ کو دشمن ’ڈرونز اور کروز میزائلوں‘ نے ’دوہرے حملے‘ کا نشانہ بنایا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن بندرگاہ کو نقصان پہنچا ہے۔
امریکہ، ایران مذاکرات میں کیا ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں معاہدہ ہونے کا کتنا امکان ہے؟, جیریمی بوون، انٹرنیشنل ایڈیٹر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (دائیں) پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قاليباف
اتنا تو واضح ہے کہ
کچھ تو چل رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے
متضاد بیانات کے تناظر میں اس بارے میں تو بحث ہو سکتی ہے کہ آیا یہ مذاکرات ہیں یا
محض رابطے۔ لیکن جو بھی ہے یقینی طور پر کچھ تو ہو رہا ہے۔
ایرانی معاہدہ کرنے
میں دلچسپی تو رکھتے ہیں - لیکن یہ ایک ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جو انھیں پسند آئے۔
اسرائیلی ذرائع سے لیک
ہونے والا ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبے تو بظاہر ہتھیار ڈالنے کی دستاویز جیسا معلوم
ہوتا ہے۔
اس میں وہ سب کچھ ہے
جو اسرائیل اور امریکہ ہمیشہ سے ایران سے چاہتے آئے ہیں۔
اور اس کے جواب میں
ایران عوامی سطح پر اپنے مطالبات کی فہرست سامنے لے کر آیا ہے جو بظاہر اس کے
مخالفین کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو گا۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو دونوں
ملکوں کے درمیان کافی فاصلہ ہے۔
مارکو روبیو جی سیون اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچ گئے، ایران کے معاملے پر بات چیت متوقع
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وزیر خارجہ مارکو
روبیو آج جی سیون ممالک کے اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس میں موجود ہیں جہاں ایران جنگ
پر بات چیت متوقع ہے۔
یہ اجلاس امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو پر بارہا تنقید کے بعد ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے نیٹو ممالک بشمول جی سیون کے رکن ممالک برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی
کو ایران تنازع پر امریکہ کا ساتھ نہ دینے اور آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے بحری
جہاز نہ بھیجنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں
ادارے اے ایف پی کے مطابق، جمعرات کی رات امریکہ سے روانگی سے قبل روبیو نے کہا تھا
کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے زور دینا تمام جی سیون ممالک کے ’مفاد میں‘
ہے۔
جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے جمعرات کو کہا کہ نیٹو ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ
ایران کے متعلق امریکہ کے ساتھ ’مشترکہ موقف‘ تیار کریں۔
اسرائیل کا ایران کی سمندری بارودی سرنگیں بنانے کی فیکٹری تباہ کرنے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے
دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی ’میزائل اور سمندری بارودی سرنگیں تیار کرنے کی بنیادی
تنصیب‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کے
مطابق اس کی فضائیہ نے وسطی ایران میں یزد میں ایک مقام کو نشانہ بنایا، جہاں اس کا
کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ اپنے بیشتر میزائل اور سمندری بارودی سرنگیں تیار کرتی
ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ
ایران کے پاس ہزاروں کی تعداد میں سمندری بارودی سرنگیں ہیں۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے
کہ آیا تہران نے ان سرنگوں کو سمندری راستوں میں بچھایا ہے، لیکن تجارتی جہازوں کو نقصان پہنچانے
کی ان کی صلاحیت سے پیدا ہونے والے خدشات نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کرنے
میں کردار ادا دیا ہے۔