اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے تین علاقوں پر حملے کیے
اسرائیلی فضائیہ کے مطابق ایران کے مختلف حصوں پر بیک وقت فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ نشانہ بنائے گئے مقامات میں تہران، اصفہان اور جنوبی ایران شامل ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے آج آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی 16 بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ سینٹ کام نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں بظاہر ان کشتیوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایران پر ایک بار پھر حملے شروع کر دیے ہیں اور لبنان کے دارالحکومت بیروت پر بھی نئی فضائی کارروائی کی گئی ہے۔
اسرائیلی فضائیہ کے مطابق ایران کے مختلف حصوں پر بیک وقت فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ نشانہ بنائے گئے مقامات میں تہران، اصفہان اور جنوبی ایران شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSputnik/Reuters
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبر اعلیٰ بننے پر مبارکباد دی ہے اور تہران کے لیے ماسکو کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
پوتن نے کریملن کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ’ایران کے سپریم لیڈر کے طور پر آپ کی تقرری پر میری دلی مبارکباد قبول کیجیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ روس ایران کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کو دہراتا ہے اور ایک قابلِ اعتماد شراکت دار رہے گا۔
پوتن نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اس وقت مسلح جارحیت کا سامنا کر رہا ہے اور اس منصب پر آپ کے اقدامات میں غیر معمولی حوصلے اور لگن کی ضرورت ہوگی۔ انھوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مشن کو عزت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور ایرانی عوام کو اس کڑے امتحان میں متحد کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے علاقائی ممالک پر ایران کے حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ممالک کے رہائشی علاقوں سے ایران پر میزائل داغے گئے ہیں۔
ایکس نیٹ پر اپنی پوسٹ میں اسماعیل بقائی نے ان لوگوں کو مخاطب کیا جو ’خطے میں امریکی فوجی اڈوں/اثاثوں پر (ایران کے) دفاعی حملوں کی منطق کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔‘ انھوں نے اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر ایکس نیٹ پر ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی۔
اس ویڈیو میں ایک عمارت کے پیچھے ایک کھلے علاقے سے دو پراجیکٹائل کو فائر ہوتے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن ویڈیو ریکارڈنگ کا صحیح مقام اور وقت معلوم نہیں ہے اور نہ ہی اسماعیل بقائی نے کوئی وضاحت فراہم کی ہے۔
اسماعیل بقائی نے ایکس نیٹ ورک پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران پر ہمسایہ ممالک کے رہائشی علاقوں سے میزائل داغے جاتے ہیں، اور امریکی لڑاکا طیارے ایران پر حملہ کرنے کے لیے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہیں، اور یہ سب علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔‘
ایران کے ساتھ اسرائیل اور امریکہ کی جنگ شروع ہونے سے پہلے خلیج فارس کے ممالک نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور فضائی حدود کو کسی حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان کے مطابق ایک میزائل نے مرکزی اسرائیل میں ایک تعمیراتی مقام کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ایک اور مقام پر ایک شخص، جس کی عمر تقریباً 30 برس ہے کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطری وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف کریمنل انویسٹی گیشن کے اکنامک اینڈ الیکٹرانک کرائمز ڈیپارٹمنٹ نے متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف قومیتوں کے 313 افراد کو اس بنیاد پر گرفتار کیا کہ انھوں نے ویڈیوز بنائیں اور پھر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔
قطر کے مطابق ان ملزمان نے گمراہ کن معلومات اور افواہیں شائع کیں جو رائے عامہ کو مشتعل کرنے والی ہیں۔
تہران میں آج شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ دھماکے شہر کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کس مقام کو نشانہ بنایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب نے ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے جو نہ صرف سعودی عرب بلکہ خلیجی تعاون کونسل کے متعدد عرب، اسلامی اور دوست ممالک کے بھی خلاف ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول یا قابلِ جواز نہیں ہیں۔ سعودی عرب نے ایران پر واضح کیا کہ اسے ’اپنی سلامتی، خودمختاری، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا پورا حق حاصل ہے، تاکہ جارحیت کو روکا جا سکے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری تنصیبات، ہوائی اڈوں اور تیل کی سہولیات کو نشانہ بنانا صرف سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
ایران کے صدر کے اس بیان کے حوالے سے کہ پڑوسی ممالک پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں، سعودی عرب نے کہا کہ ’ایران نے اس دعوے کو عملی طور پر ثابت نہیں کیا اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر حملے جاری رکھے، جن میں یہ جھوٹا دعویٰ بھی شامل ہے کہ سعودی عرب سے لڑاکا طیارے اور ایندھن بردار جہاز جنگ میں شریک ہوئے، حالانکہ وضاحت کی گئی تھی کہ ان کا مقصد صرف فضائی نگرانی اور خلیجی ممالک کو ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے بچانا تھا۔‘
سعودی عرب نے زور دیا کہ ایران کے مسلسل حملے مزید کشیدگی کو جنم دے رہے ہیں، جس کے دو طرفہ تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ سعودی عرب نے کہا کہ ایران کے موجودہ اقدامات کشیدگی کم کرنے کی کوئی سنجیدہ خواہش ظاہر نہیں کرتے اور اس بڑھتی ہوئی کشیدگی میں سب سے بڑا نقصان ایران کو ہی ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہHRW
ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل نے رواں ماہ جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں میں سفید فاسفورس استعمال کیا، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سات تصاویر کی تصدیق کی گئی ہے جن میں یُحمور کے رہائشی قصبے پر سفید فاسفورس گولہ باری اور کم از کم دو گھروں میں آگ لگنے کے واقعات دکھائے گئے ہیں۔ یہ واقعہ تین مارچ کو پیش آیا۔
ہیومن رائٹس واچ کے محقق رمزی کیس نے کہا کہ ’رہائشی علاقوں پر اسرائیلی فوج کا سفید فاسفورس استعمال غیر قانونی اور نہایت تشویشناک ہے، جس کے شہریوں پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ سفید فاسفورس کے جلانے والے اثرات موت یا ایسے شدید زخم پیدا کر سکتے ہیں جو عمر بھر کی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔
ایچ آر ڈبلیو نے سات تصاویر کی تصدیق اور جغرافیائی محلِ وقوع کی نشاندہی کی ہے جن میں فضائی دھماکے کے ذریعے سفید فاسفورس دکھائی دیتا ہے، اور شہری دفاع کے کارکن گھروں اور ایک گاڑی میں لگی آگ بجھا رہے ہیں۔
سفید فاسفورس آکسیجن کے سامنے آتے ہی جل اٹھتا ہے، اور گھروں، کھیتوں اور شہری تنصیبات کو آگ لگا سکتا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق آبادی والے علاقوں میں فضائی دھماکے کے ذریعے سفید فاسفورس کا استعمال اندھا دھند اور غیر قانونی ہے۔
ایچ آر ڈبلیو نے اس سے پہلے بھی 2023 اور 2024 میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے وسیع پیمانے پر سفید فاسفورس کے استعمال کو دستاویزی شکل دی تھی۔
حالیہ جھڑپوں میں لبنان میں 217 افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو فوری طور پر اس عمل کو روکنا چاہیے اور اس کے اتحادی ممالک۔۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی۔۔ کو فوجی امداد اور اسلحے کی فروخت معطل کرنی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے شمالی قبرص میں چھ ایف-16 لڑاکا طیارے اور فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیے ہیں۔
وزارتِ دفاع کے مطابق یہ اقدام ترک جمہوریہ شمالی قبرص کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے، جو بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ اور صرف ترکی کی حمایت یافتہ ہے۔
ترکی نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود اس جنگ میں غیر جانبدار رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ ایران کے موجودہ نظام کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی قریبی روابط رکھتا ہے۔
ہفتے کے آخر میں ترک صدر رجب طیب اردوغان نے برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ مکالمے کے لیے حالات پیدا کرنے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہReuters
ابوظہبی حکام کے مطابق دو مختلف مقامات پر ایرانی حملوں کو روکنے کے بعد ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے ایک کو معمولی اور دوسرے کو درمیانے درجے کے زخم آئے ہیں۔
اس سے پہلے متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بحرین کی سرکاری توانائی کمپنی بابکو نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ’فورس ماژور‘ نافذ کر دیا ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور حالیہ ریفائنری پر حملے کے باعث اس کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔
’فورس ماژور‘ ایک قانونی اصطلاح ہے جس کے تحت کوئی کمپنی غیر معمولی اور قابو سے باہر حالات میں اپنے معاہداتی فرائض سے بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ سادہ الفاظ میں اس کا صاف مطلب یہ بنتا ہے کہ اس کمپنی نے جو معاہدے کیے تھے اب وہ اس پر قائم نہیں ہے یعنی اس نے وہ معاہدے معطل کر دیے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ خطے میں حملوں کے باعث تیل کی سپلائی کم ہو رہی ہے اور اسے منڈی تک پہنچانا مزید مشکل اور مہنگا ہو گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیلی فوج نے لبنان کے عوام، خصوصاً بیروت کے جنوبی نواحی علاقوں کے لیے ہنگامی وارننگ جاری کی ہے۔
ترجمان اویخائے ادرعی نے کہا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں اسرائیلی فوج ’القرض الحسن ایسوسی ایشن کی دہشت گردی سے متعلقہ تنصیبات کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔‘
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ القرض الحسن حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کی مالی معاونت کرتا ہے، جبکہ تنظیم اس الزام کی تردید کرتی ہے۔ القرض الحسن کا کہنا ہے کہ وہ صرف عام لبنانی شہریوں کو چھوٹے، بغیر سود کے قرضے فراہم کرتا ہے۔
یہ اعلان خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، کیونکہ بیروت کے جنوبی علاقے حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
گذشتہ ہفتے تک خلیج میں آبنائے ہرمز پر پھنسے تیل اور گیس کے ٹینکروں کے حوالے مارکیٹ قدرے اطمینان میں تھی۔
لیکن گذشتہ دنوں کشیدگی بڑھی ہے۔ ایران اور خلیجی ممالک میں توانائی کے انفراسٹرکچر پر تباہی کے مناظر دیکھے گئے ہیں۔
تو اب اس کے کیا اثرات ہوں گے؟ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر آبنائے ہرمز مارچ کے آخر تک بند رہی تو خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاویز کر سکتی ہے۔
اس اضافے سے پیٹرول کی قیمت بھی بڑھ سکتی ہے جس کے اثرات جیٹ فیول اور فرٹیلائزر پر پڑ سکتے ہیں۔
خلیجی ممالک سے آنے والی توانائی ایشیا میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔
ابھی سے ایشیا میں امریکی گیس کی مانگ بڑھی ہے اور یورپ جانے والے بعض ٹینکروں نے اپنے رُخ موڑ لیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 2022 کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے اور اس میں 20 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جی سیون ممالک کے وزرائے خزانہ پیر کو ہنگامی اجلاس منعقد کریں گے جس میں قیمتوں میں اچانک اضافے سے نمٹنے کے لیے تیل کے ذخائر کے ممکنہ مشترکہ اجرا پر گفتگو کی جائے گی۔
یہ تیل کے ذخائر بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور اس گروپ کے 32 رکن ممالک کے پاس اس ہنگامی اقدام کے تحت سٹریٹیجک ذخائر موجود ہیں جو تیل کی قیمتوں میں بحران کے وقت استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
فنانشل ٹائمز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکہ سمیت تین جی سیون ممالک ممکنہ مشترکہ اقدام کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار ہنری جیفمین کے مطابق برطانوی چانسلر ریچل ریوز بھی اس ہنگامی اجلاس میں شرکت کریں گی۔ اجلاس کی ورچوئل میزبانی فرانس کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہCharly Triballeau via Getty Images
مشرق وسطیٰ کے لیے چین کے خصوصی ایلچی ژائی جن نے اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ میں ثالثی کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیجنگ ’خلیجی خطے میں امن و سلامتی کے لیے‘ ریاض کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
ژائی نے چین کو ’سعودی عرب کا اچھا دوست اور شراکت دار‘ قرار دیا ہے۔ وہ سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
پیر کے روز شہزادہ فیصل کے ساتھ ملاقات میں ژائی نے خطے میں جاری کشیدگی پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا اور زور دیا کہ خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ ’بے گناہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر کسی بھی حملے کی مذمت کی جانی چاہیے۔‘
ژائی نے بیجنگ کے اس مطالبے کو بھی دہرایا کہ ’فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کی جائیں۔‘
بحرین نے جنگ کے آغاز سے اب تک کسی حملے میں سب سے زیادہ جانی نقصان کی اطلاع دی ہے۔
بحرین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے میں چار بچوں سمیت 32 شہری زخمی ہوئے ہیں۔
خلیجی خطے میں اب تک کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار یا غیر ملکی مزدور ہیں۔ قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے بھی رات بھر کے دوران نئے حملوں کی اطلاع دی ہے۔
ریاض کا کہنا ہے کہ اس نے ایک بڑی آئل فیلڈ کی جانب ڈرون حملے ناکام بنائے ہیں۔ اس سے قبل امریکی سفارتخانے پر ایک ڈرون حملہ ہوا تھا جس کے بعد امریکی محکمۂ خارجہ نے غیر ضروری عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ان کی تنصیبات پر حملے جاری رہے تو وہ خطے کے اہم بنیادی ڈھانچے پر اپنے حملوں کو وسعت دے سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فاکس نیوز کے ایک پروگرام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کے انتخاب سے ’خوش نہیں‘ ہیں۔
اینکر برائن کلیڈ کے مطابق انھوں نے اعلان کے بعد صدر سے بات کی جن کا کہنا تھا کہ ’میں خوش نہیں ہوں۔‘
کلمیڈ نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی گفتگو کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی ہیں۔ جبکہ ٹرمپ نے اس پیشرفت پر تاحال کچھ نہیں کہا ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی، اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے جانشین کے طور اُن کے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ’ناقابل قبول‘ ہو گا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران بنگلہ دیش میں توانائی کی کھپت میں کمی کے لیے ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں عید الفطر کی چھٹیاں قبل از وقت دی جا رہی ہیں۔
روئٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا کیونکہ نجی اور سرکاری یونیورسٹیوں میں بہت زیادہ بجلی استعمال ہوتی ہے۔
رمضان کے دوران بنگلہ دیش میں سرکاری اور نجی سکولوں میں پہلے سے چھٹیاں ہیں۔ یعنی اب ملک کے تمام تعلیمی ادارے عید کی چھٹیوں تک بند رہیں گے۔
بنگلہ دیش اپنی توانائی کی 95 ضروریات کو امپورٹ کرتا ہے۔
ایشیا کی بڑی معیشتوں پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ جنوبی کوریا میں حکام نے قریب 30 سال میں پہلی بار ایندھن کی قیمتوں پر حد مقرر کی ہے۔
کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں بات کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے صدر نے کہا کہ پیٹرولیئم مصنوعات پر حد مقرر کرنے کا نظام فوری طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔
جنوبی کوریا توانائی، خام مال اور زراعت کے لیے بڑے پیمانے پر توانائی درآمد کرتا ہے۔