اسرائیلی فوج کا لبنان اور تہران میں اہداف پر نئے حملوں کا اعلان، ’ایران کی 16 بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کر دیا‘: امریکی فوج کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے آج آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی 16 بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ سینٹ کام نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں بظاہر ان کشتیوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایران پر ایک بار پھر حملے شروع کر دیے ہیں اور لبنان کے دارالحکومت بیروت پر بھی نئی فضائی کارروائی کی گئی ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ کے تقریباً 140 فوجی زخمی ہوئے، آٹھ شدید زخمی ہیں: پینٹاگون
  • ٹرمپ ایران سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن کسی سفارتی حل کی کوئی علامت نظر نہیں آتی: سٹیو وٹکوف
  • جنگ اس وقت ختم ہوگی جب صدر ٹرمپ فیصلہ کریں گے کہ ایران اب خطرہ نہیں رہا: وائٹ ہاؤس
  • ایران کا امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 206 خواتین اور بچوں سمیت 1300 سے زائد افراد کی ہلاکت کا دعویٰ
  • اسرائیل نے بیروت کے ہوٹل پر حملے میں چار سفارتکاروں کو ہلاک کیا: ایران
  • امریکہ نے ’10 غیر فعال بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں‘ کو تباہ کر دیا: ٹرمپ
  • تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کے لیے کچھ ممالک سے پابندیاں اُٹھا سکتے ہیں: ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. مشرق وسطیٰ میں جاری بحران روس کو تیل اور گیس کی برآمدات سے زیادہ آمدنی کا موقع دے رہا ہے: ماہرین

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران سے روس کو تیل اور گیس کی برآمدات کی مد میں زیادہ کمائی کا موقع دے رہا ہے۔

    روس عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں خلل اور اس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

    سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر تھنک ٹینک کے مطابق، 28 فروری کو ایران پر اسرائیلی-امریکی فضائی حملوں کے شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد، روس کی اوسط یومیہ ایندھن کی برآمد سے ہونے والی آمدنی کا تخمینہ یومیہ 59 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھی جو فروری کے یومیہ اوسط سے 14 فیصد زیادہ ہے۔

    اس تھنک ٹینک سے تعلق رکھنے والے ویبھو راگھونندن کا کہنا ہے کہ اس میں مزید اجافے کا ہی امکان ہے۔ اس سے یوکرین پر حملے کے باعث روس پر عائد پابندیوں کی وجہ سے ولادیمیر پوتن کو ہونے والے نقصان کی تلافی ہو سکتی ہے۔

    ’گذشتہ ہفتے کے دوران اچانک بہت زیادہ فائدہ ہوا ہے، اور یہ صرف وقت کے ساتھ بڑھے گا۔ یہ بحران جتنا طویل ہو گا، روس کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔‘

  2. تہران اور بیروت پر حملوں کی نئی تصاویر

    منگل کے روز ہونے والے حملوں کے بعد ایران اور لبنان کے دارالحکومتوں تہران اور بیروت پر دھوئیں کے بادہ دیکھے جا سکتے ہیں۔

    پینٹاگون میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ آج ایران کے اندر حملوں کا ہمارا سب سے شدید دن ہوگا۔

    دوسری جانب اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر تازہ حملے کیے ہیں۔

    منگل کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملے کے بعد گاڑھا دھواں اٹھ رہا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنمنگل کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملے کے بعد گاڑھا دھواں اٹھ رہا ہے۔
    منگل کے روز وسطی تہران میں فضائی حملے کی وجہ سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشنمنگل کے روز وسطی تہران میں فضائی حملے کی وجہ سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
    10 مارچ 2026 کو بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایک مقام سے دھواں اٹھ رہا ہے

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشن10 مارچ 2026 کو بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایک مقام سے دھواں اٹھ رہا ہے
    10 مارچ 2026 کو بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایک مقام سے دھواں اٹھ رہا ہے

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشن10 مارچ 2026 کو بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایک مقام سے دھواں اٹھ رہا ہے
  3. اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے جاری، لاکھوں افراد پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور

    ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کی وارننگ کے بعد شمالی اور وسطی اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے میں لاکھوں لوگوں کے لیے آج دن میں تین مرتبہ پناہ گاہوں میں چھپنے کے الرٹ جاری کیے گئے۔

    آخری دو انتباہات یکے بعد دیگرے آئے۔

    شمالی اسرائیل میں میزائلوں اور ڈرونز کی کم از کم 30 وارننگیں جاری کی گئیں۔ یہ علاقہ لبنان سے حزب اللہ کی جانب سے بھیجے جانے والے ڈرون اور میزائلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ وہ تہران میں مزید حملے کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے ہتھیاروں کی تحقیق کے لیے استعمال ہونے والے زیر زمین کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کی مذہبی قیادت کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، لیکن انھیں امید ہے کہ ایرانی خود اپنے ملک میں ’ظلم کے زنجیروں کو توڑ دیں گے‘۔

    یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی عوام سے 28 فروری کو تہران پر حملے سے قبل کی گئی اس اپیل سے مماثلت رکھتا ہے جس میں انھوں نے ایرانی عوام کو ’اپنی حکومت کا کنٹرول سنبھالنے‘ کا کہا تھا۔

  4. اسرائیل کے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر تازہ حملے

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر تازہ حملے کیے ہیں۔

    ٹیلی گرام پر انگریزی میں جاری ایک پیغام میں، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ شہر کے مضافاتی علاقے دحیہ میں ’حزب اللہ کے انفراسسٹرکچر‘ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

  5. ہرمز ’آبنائے امن‘ یا ’آبنائے تکلیف‘ کچھ بھی بن سکتی ہے، علی لاریجانی کی دھمکی

    علی لاریجانی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے بظاہر امریکہ اور اسرائیل کو انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ’آبنائے امن‘ یا ’آبنائے تکلیف‘ کچھ بھی بن سکتی ہے۔

    لاریجانی نے چھ مختلف زبانوں میں جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز یا تو سب کے لیے امن اور خوشحالی کا باعث ہو گی یا پھر جنگی جنون میں مبتلا لوگوں کے لیے شکست و تکلیف کی وجہ بنے گی۔‘

    یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تیل کی قیمتوں میں اس خدشے کی وجہ سے اضافہ ہو رہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ​​کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے تیل سپلائی میں خلل پڑ سکتا ہے۔ یہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اس گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

    اس سے قبل ایک اور پیغام میں انھوں کہا تھا کہ ایران ٹرمپ کی ’فضول دھمکیوں‘ سے خوفزدہ نہیں۔

    ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں، انھوں نے کہا کہ ’آپ سے بھی بڑے بڑے لوگ ایرانی قوم کو ختم نہیں کر سکے۔

    ’ہوشیار رہیں کہ کہیں آپ ہی ختم نہ ہو جائیں۔‘

    لاریجانی کا یہ بیان امریکی صدر کی جانب سے ٹروتھ سوشل پر جاری اس انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز سے تیل کا ترسیل روکی گئی تو ایران کو ’20 گنا زیادہ‘ شدت سے نشانہ بنایا جائے گا۔

  6. جنگ کے خاتمے سے متعلق صدر ٹرمپ کے ملے جلے اشارے اور پیٹ ہیگستھ کے غیر واضح بیانات, ٹام بیٹ مین، بی بی سی نیوز

    ہیگستھ نے جنگ کی ٹائم لائن کے متعلق اپنے خیالات پر ابہام قائم رکھا۔

    گذشتہ رات ٹرمپ نے کچھ ملے جلے اشارے دیتے ہوئے کہا کہ جنگ ’کافی حد تک مکمل‘ ہو چکی ہے لیکن ساتھ ہی انھوں ہیگستھ کے تبصروں کی بھی تائید کرنے ہوئے کہ ایران پر حملہ تو ’صرف آغاز‘ تھا۔

    ہیگستھ سے اس بارے میں پوچھا گیا۔ انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ہمارا عزم لامتناہی ہے‘ لیکن یہ صدر پر منحصر ہے کہ یہ جنگ کب تک چلتی ہے۔

    ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ٹرمپ کے ابہام کے پیش نظر کچھ بھی کھل کر کہنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔

    ہیگستھ اور چیئر آف جوائنٹ چیفس آف سٹاف ڈین کین کو یہ بھی بتایا گیا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے داغے جانے والے ایرانی میزائلوں کی تعداد میں کمی کے متعلق ان کی جانب سے دیے جانے والے اعداد و شمار بالکل پچھلے ہفتے کے اعدادوشمار سے میل کھاتے ہیں۔

    ہیگستھ کا کہنا ہے کہ کمی کا رجحان جاری ہے لیکن اس سے کسی بات کا جواب نہیں ملتا۔

  7. پیٹ ہیگستھ کا ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کو جوہری ہتھیاروں کا خواب ترک کرنے کا مشورہ

    پینٹاگون میں نیوز کانفرنس کے دوران امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ سے ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کے زخمی ہونے کی اطلاعات کے متعلق سوال کیا گیا۔

    امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ مجتبی خامنہ ای عقلمندی کا مظاہرہ کریں گے اگر وہ صدر ٹرمپ کے مشورے پر عمل کریں اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں۔

    تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے کہ مجتبی خامنہ ای زخمی ہیں یا نہیں۔

    ہیگستھ کا کہنا ہے کہ جنگ کے نتائج امریکہ کے مفاد میں ہوں گے اور امریکہ کو آئندہ ’نیوکلیئر بلیک میلنگ‘ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

  8. جنگ کب تک جاری رہے گی یہ فیصلہ ٹرمپ کریں گے: امریکی وزیرِ دفاع

    پیٹ

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری کے مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور آج ایران پر حملوں کا سب سے شدید دن ہوگا۔

    پینٹاگون میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ ’آج پھر سے، ایران کے اندر حملوں کا ہمارا سب سے شدید دن ہوگا۔ سب سے زیادہ فائٹر، سب سے زیادہ بمبار، سب سے زیادہ حملے، پہلے سے کہیں بہتر انٹیلی جنس اور سب پہلے سے بہتر۔‘

    ہیگستھ کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک سب سے کم میزائل فائر کیے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہمارا عزم لامتناہی ہے، لیکن یہ صدر ٹرمپ کو طے کرنا ہے کہ ان مقاصد کو کس حد تک حاصل کرنے ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرنا ہے کہ جنگ کب تک جاری رہے گی۔

    نیوز کانفرنس کے دوران انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو دہرایا کہ ہم بھرپور طریقے سے ’دشمن کو کچل رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی مرضی اور اپنے چنے ہوئے وقت کے مطابق ایسا کر رہا ہے۔

    پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کے خلاف جنگ انجام کے قریب ہے۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ ایرانی فورسز ’جان بوجھ کر بے گناہوں کو نشانہ بنا رہی ہیں‘ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی اپنی افواج کو ’منظم طریقے سے نیست و نابود اور تباہ‘ کیا جا رہا ہے۔

    ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ’ایران اس وقت تنہا کھڑا ہے اور وہ بری طرح ہار رہا ہے۔‘

  9. خام تیل کی قیمت میں 30 ڈالر فی بیرل کی کمی

    جنگ کے آغاز کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں کافی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ سوموار کے روز تیل کی فی بیرل قیمت تقریباً 120 ڈالر کی بلند سطح پر پہنچ گئی تھی تاہم اب یہ تقریباً 90 ڈالر فی بیرل ہے۔

    قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ خدشہ تھا کہ اس تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں خلل پڑ سکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر آبنائے کے ذریعے تیل کا بہاؤ روکا گیا تو ایران کو ’20 گنا شدت‘ سے نشانہ بنایا جائے گا۔

    تیل
  10. ایران کے اسرائیل، قطر اور متحدہ عرب امارات پر تازہ حملے

    اسرائیل، قطر اور متحدہ عرب امارات تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ ایران نے ان کے ملکوں پر میزائل داغے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ میزائلوں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام فعال ہیں اور متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو انتباہی پیغامات بھیج دیے گئے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ان کا فضائی دفاع نظام ’فی الحال ایران کی طرف سے آنے والے میزائل اور ڈرون خطرات کا جواب دے رہے ہیں۔‘ انھوں نے قریبی علاقوں میں رہنے والوں سے ’حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے‘ کی ہدایت کی ہے۔

    دریں اثنا، قطر کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ مسلح افواج نے ملک کی جانب داغے گئے ایک میزائل حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔

  11. ایران کا امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 206 خواتین اور بچوں سمیت 1300 سے زائد افراد کی ہلاکت کا دعوی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 1300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    بی بی سی عربی کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر کا کہنا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی اور میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 1,332 ایرانی شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کا کہنا ہے کہ ملک میں مارے جانے والے 1332 افراد میں 206 خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    ترجمان کے مطابق، مرنے والوں میں سے 193 کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔

    فاطمہ مہاجرانی کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سب سے کم عمر ایک آٹھ ماہ کی بچی تھی جبکہ سب سے کم عمر زخمی ایک چار ماہ کی بچی ہے۔

    ترجمان کا دعویٰ ہے کہ منگل کی صبح تک دستیاب اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 52 صحت کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  12. آبنائے ہرمز کی بندش سے نمٹنے کے لیے پاکستان سمیت مختلف ممالک کے ہنگامی اقدامات, باربرا پلیٹ اشر، دوحہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر دھمکیوں کا تبادلہ کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب کئی ممالک تیل اور گیس کی عالمی ترسیل میں رکاوٹوں پر ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔

    پاکستان کی بحریہ نے شپنگ لین اور ایندھن کی سپلائی کی حفاظت کے لیے میری ٹائم سکیورٹی آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    اسلام آباد خلیج سے ایندھن کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ سوموار کے روز پاکستان کی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس کی بحریہ نے محافط البحر کے نام سے ایک آپریشن شروع کیا ہے جس کا مقصد ملک کو توانائی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر ایران نے ٹینکرز کی آمدورفت کو روکنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف ’آگ اور قہر‘ برسائیں گے۔ پاسداران انقلاب نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ جب تک اسرائیل اور امریکہ حملے جاری رکھیں گے، وہ ایک لیٹر تیل بھی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی اور دنیا میں تیل کی سب سے بڑی برآمد کنندہ سعودی آرامکو کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ خطے کی توانائی کی صنعت کو درپیش ’سب سے بڑا بحران‘ ہے۔

    امین ناصر کا کہنا ہے کہ اگر تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل پڑتا رہا تو اس کے عالمی تیل کی منڈیوں پر ’تباہ کن نتائج‘ مرتب ہوں گے۔

    آبنائے ہرمز کی بندش
  13. حملوں میں اصفہان کے تاریخی محل چہل ستون کو پہنچنے والے نقصانات کی تصدیق, شایان سرداری زادہ، غنچے حبیبی ازاد

    چہل ستون

    بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی نے ان تصاویر کا جائزہ لیا ہے جن میں وسطی ایران کے شہر اصفہان میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر تسلیم شدہ 17ویں صدی کے محل چہل ستون اور باغات کو پہنچنے والے نقصانات کو دکھایا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کی جانب سے گذشتہ روز شیئر کی گئی تصدیق شدہ فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ حملوں میں محل کا اندرونی حصہ متاثر ہوا ہے جس میں لکڑی کے کام کو نقصان پہنچا ہے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئی ہیں۔

    ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق، شہر کے تاریخی مرکز میں واقع چہل سوتون سے تقریباً 110 میٹر (370 فٹ) کے فاصلے پر واقع اصفہان کی صوبائی حکومت کے دفتر کو ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ دو دیگر عالمی ثقافتی ورثہ سائٹس صوبائی حکومت کے دفتر سے کچھ ہی فاصلے پر ہیں۔

    اصفہان صوبے کے ثقافتی ورثے کے نائب روح اللہ سید اصغری کا کہنا ہے کہ کئی دیگر تاریخی مقامات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ امریکہ ان جگہوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    حاصل شدہ فوٹیج کی مدد سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حملے کا ہدف کیا تھا یا اسے کس نے انجام دیا۔

    گذشتہ ہفتے کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں ایران کے دارالحکومت میں حملوں کے بعد دو دیگر عالمی ثقافتی ورثوں – تہران گرینڈ بازار اور گلستان محل – کو پہنچنے والے نقصانات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

  14. مجتنی خامنہ ای کی تقرری پر سرکاری ٹی وی پر جشن مگر ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ تاحال عوامی نگاہ سے دور, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    مجتبیٰ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    میں اتوار کی رات کو مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی تقرری کے اعلان کے بعد سے ایرانی سرکاری ٹی وی کی نگرانی کر رہی ہوں۔

    سرکاری ٹی وی پر ان کے انتخاب کے بعد سے ماحول انتہائی جشن منانے والا رہا ہے، لیکن خود مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ عوام کے سامنے آئے ہیں۔

    سرکاری نیوز چینل انھیں ’جنگِ رمضان کے تجربہ کار‘ سپاہی کے لقب سے پکار رہے ہیں، تاہم اس بارے میں کوئی اضافی معلومات نہیں کہ وہ اس تنازع کے دوران زخمی ہوئے ہیں یا نہیں۔

    خیال رہے 28 فروری کو امریکی و اسرائیلی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہمراہ مجتبیٰ خامنہ کی والدہ اور اہلیہ بھی ہلاک ہوئی تھیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل کہا تھا کہ وہ مجتبیٰ کے رہبرِ اعلیٰ منتخب ہونے پر ’مایوس‘ ہیں۔ ان کے منتخب ہونے سے قبل، اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ علی خامنہ ای کے ’ہر جانشین کا پیچھا جاری رکھے گا۔‘

    ایران کے اندر موجود وہ لوگ جو اسٹیبلشمنٹ کے مخالف ہیں، مجھے بتاتے ہیں کہ انہیں توقع ہے کہ مجتبیٰ اپنے والد کی سخت گیر پالیسیوں کو جاری رکھیں گے۔

    مجتبیٰ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں۔ انھیں طویل عرصے سے اپنے والد کے جانشینوں میں شمار کیا جاتا رہا تھا، لیکن وہ ہمیشہ عوامی نگاہ سے دور رہے ہیں اور پسِ پردہ اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے نظر آتے رہے ہیں۔

    خیال رہے علی خامنہ ای، اور ان کے پیشرو روح اللہ خمینی دونوں وراثتی جانشینی کے ناقد تھے، خصوصاً پہلوی بادشاہت کے تناظر میں، جسے 1979 کے اسلامی انقلاب میں ختم کر دیا گیا تھا۔

  15. ایران جنگ میں مارے گئے ساتویں امریکی فوجی کی لاش امریکہ پہنچا دی گئی

    امریکی فوجی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ میں مارے جانے والے ساتویں امریکی فوجی کی لاش امریکہ پہنچا دی گئی۔

    سارجنٹ بینجمن این پیننگٹن گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر حملے میں زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہوئے ہیں۔

    جب ان کا تابوت جہاز سے اتارا گیا تو اس وقت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکرٹری دفاع پیٹر ہیگستھ بھی موقع پر موجود تھے۔

    امریکی فوجی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  16. تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کے لیے کچھ ممالک سے پابندیاں اُٹھا سکتے ہیں: ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پیر کو اپنے متعدد انٹرویوز اور نیوز کانفرنسز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کے لیے کچھ ممالک پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

    انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ: ’ہم نے کچھ ممالک پر پابندیاں لگا رکھے ہیں، ہم اس معاملے کے حل ہونے تک ان پابندیوں کو ہٹا سکتے ہیں۔‘

    ’پھر ہو سکتا ہے ہمیں وہ پابندیاں دوبارہ عائد ہی نہ کرنی پڑیں اور ہر جگہ امن ہی امن ہو۔‘

    ٹرمپ نے اسی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر ’اچھی بات‘ ہوئی ہے اور وہ ’مددگار‘ ثابت ہونا چاہتے ہیں۔

    لیکن ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کون سی پابندیاں، کن ممالک پر سے اٹھانے پر غور کریں گے۔ امریکہ پہلے ہی عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی کر چکا ہے تاکہ انڈیا سمندر میں پھنسے روسی تیل کو خرید سکے۔

  17. ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کا ’کوئی جواز نہیں‘ ہے: صدر اردوغان نے ایران کو خبردار کر دیا, ایمیلی وائدر، بی بی سی نیوز

    رجب طیب اردوغان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کا ’کوئی نہیں بنتا‘ اور خطے کے ممالک پر حملے کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہیں۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ترکی جنگ کے خاتمے میں مدد کے لیے سفارتی راستے بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    گذشتہ رات کابینہ کے ایک اجلاس میں اردوغان کا کہنا تھا کہ ’ہماری مخلصانہ وارننگوں کے باوجود، ایسے انتہائی غلط اور اشتعال انگیز اقدامات جاری ہیں جو ترکی کی دوستی کو خطرے میں ڈال دیں گے۔‘

    یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گذشتہ روز نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے دوسرے بیلسٹک میزائل کو مار گرایا تھا۔

    ترکی میں نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج ہے اور اس کی ایران کے ساتھ ایک طویل سرحد ہے جو 500 برس سے مستحکم ہے۔

    کوئی بھی دوسرا نیٹو ملک ایران کے اندر موجود موجودہ نظام کے ساتھ اتنی گہری سطح پر رابطے نہیں رکھتا۔ اس صورتحال میں اردوغان خود کو ایک ثالث کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

  18. امریکہ اور اسرائیل کے پاس کوئی حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی نہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سوموار کی رات دیر گئے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس نیوز کو ’امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ‘ کے بارے میں ایک تفصیلی انٹرویو دیا۔

    اس انٹرویو کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

    مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری:

    ایرنی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ان کے والد کی حکومت کا تسلسل ہے اور اس سے بیک وقت موجودہ حالات میں کسی حد تک استحکام بھی پیدا ہوتا ہے۔

    امریکہ کے ساتھ مذاکرات:

    جب ایرانی وزیرِ خارجہ سے پوچھا گیا کہ کیا ایران جنگ کے حوالے سے مذاکرات کے لیے امریکی حکام سے رابطے میں ہے؟ تو عراقچی نے کہا کہ ’انھیں نہیں لگتا کہ یہ معاملہ فی الحال زیرِ غور آئے گا کیونکہ ایران کو امریکہ کے ساتھ بات چیت کا بہت تلخ تجربہ رہا ہے۔‘

    امریکہ اور اسرائیل کے مقاصد:

    عراقچی نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ان (امریکہ اور اسرائیل) کے ذہن میں کوئی حقیقت پسندانہ آخری حکمت عملی موجود ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کے خیال میں امریکہ اور اسرائیل اب تک اپنے تمام مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘

    تیل کی قیمتیں:

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایران کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ اس کی وجہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے اور جارحیت ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا اور اس راستے سے جہازوں کی آمد و رفت کو نہیں روک رہا۔‘

    شہری ہلاکتیں:

    ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں کچھ ضمنی نقصانات ضرور ہوئے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایران نے کبھی بھی کسی شہری علاقے کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا۔

  19. آبنائے ہرمز کی بندش جاری رہی تو اس کے نتائج ’تباہ کن‘ ہوں گے: سعودی عرب

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنآرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین الناصر

    سعودی کی سرکاری تیل کی کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین الناصر نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور تیل کی رسد میں رکاوٹ کا سلسلہ جاری رہا تو تیل کی عالمی منڈیوں پر اس کے ’تباہ کن اثرات‘ پڑ سکتے ہیں۔

    الناصر نے منگل کے روز کمپنی کے مالی سال 2025 کے نتائج کے اعلان کے بعد یہ بیان دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’موجودہ بحران ’اب تک خطے میں تیل اور گیس کی صنعت کو درپیش سب سے بڑا اور سنگین بحران‘ ہے، حالانکہ اس شعبے کو ماضی میں بھی مختلف رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔‘

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو وہ مشرقِ وسطیٰ سے ’ایک لیٹر تیل بھی گزرنے نہیں دیں گے۔‘

    اس پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے اہم اس خطے سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ ڈالی تو امریکہ ایران پر ’اس سے کہیں زیادہ سخت‘ حملے کرے گا۔

  20. اسرائیل کی فوجی کارروائیاں انھیں شدید تکلیف پہنچا رہی ہیں: نیتن یاہو

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسرائیل کی فوجی کارروائیاں انھیں شدید تکلیف پہنچا رہی ہیں۔‘

    انھوں نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’اسرائیل کا مقصد ایرانی عوام کو موجودہ حکومت کی ’ظلم و جبر (آمریت)‘ سے آزاد کرانا ہے۔‘ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’آخرکار یہ فیصلہ خود ایرانی عوام کو کرنا ہے۔‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ اب تک کیے گئے اقدامات کے ذریعے ہم نے نہ صرف انھیں شدید تکلیف پہنچائی ہے بلکہ ہم اب بھی اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images