اسرائیلی فوج کا لبنان اور تہران میں اہداف پر نئے حملوں کا اعلان، ’ایران کی 16 بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کر دیا‘: امریکی فوج کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے آج آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی 16 بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ سینٹ کام نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں بظاہر ان کشتیوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایران پر ایک بار پھر حملے شروع کر دیے ہیں اور لبنان کے دارالحکومت بیروت پر بھی نئی فضائی کارروائی کی گئی ہے۔

خلاصہ

  • امریکہ کے تقریباً 140 فوجی زخمی ہوئے، آٹھ شدید زخمی ہیں: پینٹاگون
  • ٹرمپ ایران سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن کسی سفارتی حل کی کوئی علامت نظر نہیں آتی: سٹیو وٹکوف
  • جنگ اس وقت ختم ہوگی جب صدر ٹرمپ فیصلہ کریں گے کہ ایران اب خطرہ نہیں رہا: وائٹ ہاؤس
  • ایران کا امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 206 خواتین اور بچوں سمیت 1300 سے زائد افراد کی ہلاکت کا دعویٰ
  • اسرائیل نے بیروت کے ہوٹل پر حملے میں چار سفارتکاروں کو ہلاک کیا: ایران
  • امریکہ نے ’10 غیر فعال بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں‘ کو تباہ کر دیا: ٹرمپ
  • تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کے لیے کچھ ممالک سے پابندیاں اُٹھا سکتے ہیں: ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. خلیجی ممالک میں رات بھر کہاں حملے ہوئے؟

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایسے میں کہ جب امریکہ اور اسرائیل ایران پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسرائیل لبنان میں بھی حملے کر رہا ہے اسی دوران ایران کی جانب سے بظاہر جوابی حملوں کو خلیجی ممالک کی طرف سے روکا جا رہا ہے۔

    سعودی عرب کا کہنا ہے کہ انھوں نے سوموار اور منگل کی درمیانی شب ایک بیلسٹک میزائل اور پانچ حملہ آور ڈرونز کو تباہ کیا۔

    کویت کی فوج کے مطابق اس نے بھی کامیابی سے چھ ڈرونز کو مُلکی فضائی حدود میں نشاندہی کے بعد مار گرایا۔

    سوموار کی رات بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ایک حملے میں 29 سالہ خاتون کی ہلاکت کے بعد بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دیے گیے اور شہریوں سے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی اپیل کی گئی۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے منگل کی صبح اعلان کیا کہ وہ ایران کی جانب سے آنے والے ’میزائل اور ڈرونز‘ کو روکنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور اس مقصد کے لیے فضائی دفاعی نظام اور جنگی طیارے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

    یو اے ای کی انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ شمالی عراق کے شہر اربیل میں اس کے قونصل خانے کو ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس سے عمارت کو جزوی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  2. ترکی میں کورجک اڈے کے تحفظ کے لیے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام تعینات

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کی وزارتِ دفاع نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ ملک کے جنوب مشرقی صوبے ملاطیہ میں امریکی ساختہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام نیٹو کی جانب سے ایرانی جنگ کے باعث پیدا ہونے والے میزائل حملے کے خطرات کے پیش نظر فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

    نیٹو کا کورجک ریڈار بیس بھی ملاطیہ میں واقع ہے، جو اتحاد کو اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس بیس نے ترکی کی جانب آنے والے ایران کے دو بیلسٹک میزائلوں کے مقام کی نشاندہی کرنے میں بھی مدد دی تھی۔

    وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ترکی نیٹو کے اتحادیوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا اور خطے میں ہونے والی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیتا رہے گا۔

  3. گزشتہ شب بمباری سے دو صوبوں میں بجلی کی فراہمی کُچھ وقت کے لیے متاثر ہوئی: قومی توانائی کمپنی

    ایران کی قومی توانائی کمپنی توانیر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ رات تہران اور قریبی صوبہ البرز میں ہونے والے دھماکوں کے بعد بعض علاقوں میں بجلی کی ترسل اور فراہمی کے نیٹ ورک کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ان علاقوں کے کچھ صارفین کو عارضی طور پر بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا، تاہم دو گھنٹوں سے بھی کم وقت میں بجلی بحال کر دی گئی۔

    اس سے پہلے ان دونوں صوبوں کے بعض رہائشیوں نے بی بی سی کو بجلی بند ہونے کے بارے میں بتایا تھا۔

  4. وسطی ایران میں حکومت کے حامی جلسے کے قریب حملے

    اس ویڈیو میں ایک فضائی حملے کے بعد پسِ منظر میں اٹھتا ہوا دھوئیں کا بڑا بادل دکھائی دیتا ہے۔

    ایران میں حکومت کے حامیوں کے ایک جلسے کے قریب ہونے والے اس حملے کے بعد، وسطی شہر کے نقشِ جہاں سکوائر میں جمع ہجوم کو ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگاتے سنا جا سکتا ہے، جبکہ دھواں تقریباً 1,600 فٹ دور ہونے والے دھماکے سے اٹھتا ہوا نظر آتا ہے۔

    ،ویڈیو کیپشناصفہان میں جلوس کے قریب فضائی حملہ
  5. ریاض کے شمال میں رہائشی علاقے پر ڈرون گر کر تباہ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا: سعودی محکمہ شہری دفاع

    سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ریاض کے شمال میں واقع الزلفی کے ایک رہائشی علاقے میں ایک ڈرون گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

    محکمہ شہری دفاع کی جانب سے اس واقعے سے متعلق جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں معمولی مالی نقصان ہوا ہے، تاہم کوئی جانی نقصان یا کسی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

  6. بیروت میں امریکی سفارت خانے کی اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے یا محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بیروت میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر وہ لبنان چھوڑ کر نہیں جا رہے تو اپنی موجودہ جگہ کو نا چھوڑیں اور اگر وہ وہاں محفوظ نہیں تو کسی محفوظ مقام پر منقتل ہو جائیں۔

    آج صبح جاری کیے گئے ایک سکیورٹی الرٹ میں سفارت خانے نے کہا کہ امریکی شہریوں کو چاہیے کہ اگر انھیں محفوظ محسوس ہو تو وہ بیروت کے رفیق حریری بین الاقوامی ہوائی اڈے سے روانہ ہونے والی مڈل ایسٹ ایئر لائنز کی پروازوں کے ذریعے ملک چھوڑنے پر سنجیدگی سے غور کریں۔

    گزشتہ ایک ہفتے سے بیروت اور جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں پر اسرائیل کی جانب سے مسلسل بمباری کی جا رہی ہے۔

    تاہم بیروت پر بمباری سے متعلق اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔

  7. اسرائیل کا جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیل نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ اس علاقے پر پہلے سے ہی فضائی حملے جاری ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان اوِیخائے ادرعی نے کہا ہے کہ ’اسرائیل دریائے لیتانی کے جنوب میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کی وجہ سے اس کے خلاف شدید کارروائی کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ہم ایک مرتبہ پھر آپ سب سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ فوراً اپنے گھروں کو خالی کریں اور دریائے لیتانی کے شمال کی جانب منتقل ہو جائیں۔‘

    پیر کے روز اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ انھوں نے لبنان میں القرض الحسن ایسوسی ایشن کے اہداف پر کئی حملے کیے ہیں جو حزب اللہ سے منسلک ایک مالیاتی ادارہ ہے۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اس مہینے کے آغاز میں شروع ہونے والے حملوں کے بعد سے اب تک 486 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  8. سکیورٹی خطرات کے باعث جرمنی کا بغداد سے اپنے سفارتی عملے کو عارضی طور پر منتقل کرنے کا اعلان

    جرمنی کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے باعث جرمنی نے بغداد میں اپنے سفارت خانے کے عملے کو عارضی طور پر عراق سے منتقل کر دیا ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ بغداد میں جرمن سفارت خانے کے عملے کی سکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’خطرناک سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر بغداد میں جرمن سفارت خانے کے عملے کو فی الحال عارضی طور پر عراق سے منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگرچہ سکیورٹی صورتحال کے باعث سفارت خانے کی قانونی اور قونصلر خدمات کچھ عرصے کے لیے محدود ہو گئی ہیں، تاہم وہ اب بھی کسی حد تک دستیاب ہیں۔‘

    جرمنی کے وزیرِ خارجہ یوهان وادفول نے پیر کی رات قبرص کے شہر نیکوسیا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے خطے کی صورتحال کے بارے میں اپنے امریکی ہم منصب سے بھی بات چیت کی ہے۔

  9. ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچ کھلاڑیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آسٹریلیا میں ویزے جاری

    X.com

    ،تصویر کا ذریعہX.com

    ایرانی خواتین کی فٹبال ٹیم کی پانچ ارکان کو آسٹریلیا میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے دے دیے گئے ہیں، کیونکہ گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے خلاف میچ سے قبل قومی ترانہ نہ گانے کے بعد ان کی حفاظت کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

    قومی ترانہ نہ گانے کے بعد ان ایران میں ان کھلاڑیوں پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ ایک قدامت پسند مبصر نے ٹیم پر ’غدار‘ ہونے کا الزام لگایا اور ان کے لیے سخت سزا کا مطالبہ کیا۔

    آسٹریلیا کے امیگریشن منسٹر ٹونی برک نے کہا کہ ’ان خواتین کو آسٹریلوی پولیس کی جانب سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘ ان کے مطابق ٹیم کی دیگر کھلاڑیوں کو بھی بتایا گیا ہے کہ وہ ملک میں رہنا چاہیں تو انھیں بھی یہ سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ یہ بات واضح کردینا چاتے ہیں کہ یہ سب سیاسی کارکن نہیں بلکہ صرف کھلاڑی ہیں جو اپنی حفاظت کے لیے ایسا کر رہی ہیں۔‘

    ٹونی برک نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر کئی دنوں سے بات چیت جاری تھی۔

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

  10. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، مارکیٹ میں کاروبار معطل, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز زبردست تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 9303 پوائنٹس اضافے کے بعد کاروبار کو معطل کر دیا گیا۔

    سٹاک ایکسچینج میں پانچ فیصد سے زائد اضافے کے بعد کاروبار پر اپر سرکٹ کے اصول کے تحت ٹریڈنگ ایک گھنٹے کے لیے معطل ہو جاتی ہے۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گزشتہ روز دس ہزار پوائنٹس سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی تاہم آج منگل کے روز کاروبار کے آغاز پر ہی انڈیکس میں نو ہزار پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کی گیا جس کی وجہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ کے جلد خاتمے کے اعلان کے بعد ہوئی تھی۔

    سٹاک ایکسچینج تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹاک ایکسچینج میں تیزی کی آج تین وجوہات ہیں۔

    سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جلد جنگ کے خاتمے کا اعلان ہے، اس کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں کا کم ہونا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں سٹیٹ بینک کی جانب سے گزشتہ روز شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں کاروبار میں تیزی آئی۔

  11. جو بھی امریکی یا اسرائیلی سفیر کو مُلک بدر کرے گا اُسے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز سے گُزرنے کی اجازت صرف اُس ملک کو دی جائے گی کہ جو امریکہ اور اسرائیل کے سفیر کو مُلک بدر کرے گا۔‘

    ایران کی سرکاری خبر رسان ادارے ’اسنا‘ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان کو شئیر کیا گیا ہے جس میں ’ایرانِ پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ کوئی بھی عرب یا یورپی ملک جو اپنے ملک سے اسرائیل اور امریکہ کے سفیروں کو نکال دے گا، انھیں کل سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مکمل اختیار اور آزادی حاصل ہوگی۔‘

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل ڈالنے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر ایران نے ایسا کوئی اقدام کیا جس سے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل رک جائے، تو اسے انتہائی شدید کارروائی کا سامنا کرنا پڑا گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکہ کی آبنائے ہرمز کو بند کرنے پر ایران کے ساتھ پہلے سے جاری کارروائی میں 20 گنا زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔‘

    واضح رہے کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اس آبنائے سے ہوتی ہے اور جنگ کی وجہ سے سمندری آمدورفت میں شدید کمی آئی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

  12. مشرقِ وسطیٰ سے ایک لیٹر تیل بھی نہیں گزرنے دیں گے: ایرانی پاسدارنِ انقلاب

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی پاسدارنِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ہم کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ایران میں جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ’اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو تہران خطے سے ’ایک لیٹر تیل‘ بھی برآمد ہونے نہیں دے گا۔‘

    آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی منڈی کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ دنیا میں تقریباً پانچ حصے خام تیل اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  13. بحرین میں ایک شخص کی ہلاکت ایرانی حملے میں ہوئی: وزارت داخلہ کا دعویٰ

    بحرین کی وزارت داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے گئے ایک حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔

    وزارت کے مطابق ایران کے اس حملے میں بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔

    بحرین کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایرانی فوج کے حملے میں دارالحکومت کی ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے باعث ایک شخص ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔‘

    دوسری جانب ایران نے ہمسایہ ممالک میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ صرف امریکی فوجی اڈوں اور ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں امریکی افواج موجود ہیں یا جنہیں وہ استعمال کر رہی ہیں۔

  14. تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے: ’گزشتہ رات لڑاکا طیاروں کی گھن گرج اور شدید دھماکوں کے باعث جاگتے گُزری‘

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    تہران میں منگل کی صبح ہونے والے تازہ حملوں سے متعلق مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ’پورا شہر شدید حملوں کی زد میں ہے۔‘

    منگل کی صبح تہران میں رہنے والے متعدد شہریوں نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دارالحکومت کے مختلف علاقوں پر شدید حملے کیے گئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’طیارے انتہائی کم بلندی پر پرواز کر رہے ہیں اور ان جنگی طیاروں کی آواز مسلسل سنائی دے رہی ہے اور جو رک نہیں رہی۔‘

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے ایک نامہ نگار نے بھی مشرقی تہران پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’مشرقی تہران میں ایک صنعتی مرکز اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شہریوں کے مطابق دھماکے اتنے شدید تھے کہ زمین لرز اُٹھی، جبکہ تہران سے جاری ہونے والی تصاویر میں دھماکوں کی وجہ سے شدید روشنی اور فضا میں بلند ہوتے دھوئیں کے بادل دیکھائی دے رہے ہیں۔

    تہران کے ایک رہائشی کے مطابق ’زمین کا آپ کے قدموں تلے لرزنا کیا ہوتا ہے، یہ صرف اسی وقت سمجھ میں آتا ہے جب آپ خود اس زمین پر رہ رہے ہوں۔ آج رات نہ جانے کتنی بار تہران میں دھماکوں کی شدت کی وجہ سے ہم خود بھی اور ہمارے گھر بھی لرز اٹھے۔ گزشتہ شب انتہائی خوفناک تھی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’گزشتہ رات لڑاکا طیاروں کی گھن گرج اور شدید دھماکوں کے باعث جاگتے گُزری۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تہران کے بعض علاقوں میں بجلی کی بندش کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    تہران میں موجود ایک نامہ نگار نے ایکس پر لکھا کہ ’جنگی طیارے زمین کے اتنے قریب پرواز کر رہے تھے جیسے انھیں کسی چیز کا کوئی خوف نہ ہو، یہ سب اس قدر خوفناک تھا کہ اس حالت کو بیان کرنا انتہائی مُشکل ہے۔‘

    ایک اور نامہ نگار نے گزشتہ دنوں اور رات کے وقت کے صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی بی ٹو بمبار طیاروں کے حملے اور تہران کے اطراف میں تیل کے ذخائر پر رات کے وقت ہونے والے حملوں کے بعد آج کی رات سب سے زیادہ خوفناک رات تھی۔‘

    خبر رساں ادارے فارس کے مطابق تہران کے مختلف علاقوں میں شدید فضائی حملوں اور بڑے شدید دھماکوں کے ساتھ ساتھ ایران کے دیگر کئی شہروں، جن میں کرج اور تبریز شامل ہیں کو بھی شدید حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

  15. خضدار سے اغوا ہونے والے 11 افراد بازیاب: پولیس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے ضلع خضدار میں ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے ایک پراجیکٹ کے اغوا ہونے والے 11 اہلکار اور مزدور بازیاب ہوگئے ہیں۔

    نجنی کمپنی سے تعلق رکھنے والے ان اہلکاروں اور مزدوروں کو ضلع خضدار کے علاقے کرخ سے 22 فروری کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا گیا تھا۔

    فون پر رابطہ کرنے پر خضدار پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ تمام مغوی افراد گزشتہ شب بازیاب ہوگئے ہیں۔

    پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ بازیاب ہونے والے یہ افراد ورلڈ بینک کے تعاون سے کرخ میں چلنے والے واٹر چینلز کے ایک پراجیکٹ پر کام کررہے تھے جنھیں وہاں سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ مغویوں میں نجی کمپنی کے پراجیکٹ مینیجر بھی شامل تھے جبکہ ان میں چھ مزدور بھی شامل تھے جن کا تعلق سندھ سے تھا۔

    ان افراد کے اغوا کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

  16. ایران میں پھنسے مزید 14 پاکستانیوں کی آزربائیجان آمد

    آزربائیجان میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں پھنسے مزید 14 پاکستانی شہری آزربائیجان پہنچ گئے ہیں۔

    آزربائیجان میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آج یعنی منگل کے روز 14 پاکستانی شہریوں کو آستارا کے مقام سے ایران سے آزربائیجان پہنچایا گیا۔ تاہم سفارت خانے کی جانب سے ان میں سے 12 افراد کو پاکستان روانہ کرنے میں بھی معاونت کی۔‘

    پاکستانی سفارت خانے کی جانے سے جاری ایکس پر بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم آذربائیجان کی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ وہ پاکستانی شہریوں کے محفوظ انخلا میں مسلسل تعاون فراہم کر رہی ہے۔‘

    واضح رہے کہ ’آستارا‘ ایران کے صوبہ گیلان کا ایک سرحدی شہر ہے جو بحیرۂ کیسپین کے کنارے اور آذربائیجان کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ ایران اور قفقاز کے درمیان ایک اہم تجارتی مرکز بھی ہے۔

  17. ’ایران سے جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی‘: ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نو فیصد تک کمی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    منگل کی صبح ایشیا میں کاروباری دن کے آغاز پر عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد کم ہو کر 92 اعشاریہ 50 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ امریکہ میں تجارت ہونے والا تیل بھی تقریباً نو فیصد گر کر 88 اعشاریہ 60 ڈالر فی بیرل تک آ گیا ہے۔

    تاہم قیمتیں اب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جارنے والی کارروائی کے آغاز کے وقت سے تقریباً 30 فیصد زیادہ ہیں۔

    یہ کمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیر کے روز دیے گئے اس بیان کے بعد آئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ جنگ ’بہت جلد ختم ہو جائے گی۔‘

    ایشیا کی منڈیوں کو کاروباری دن کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں کمی سے کچھ سہارا ملا۔ جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں دو اعشاریہ آٹھ فیصد اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی ایکسچینج میں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایشیائی مارکیٹوں کو پہلے شدید دھچکا لگا تھا کیونکہ اس خطے کے بہت سے ممالک خلیجی ریاستوں سے تیل کے بڑے خریدار ہیں۔

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  18. آبنائے ہرمز سے رکاوٹ ختم نہ ہوئی تو موت، آگ اور قہر برسے گا: ٹرمپ کی ایران کو تنبیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل ڈالنے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر ایران نے ایسا کوئی اقدام کیا جس سے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل رک جائے، تو اسے انتہائی شدید کارروائی کا سامنا کرنا پڑا گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکہ کی آبنائے ہرمز کو بند کرنے پر ایران کے ساتھ پہلے سے جاری کارروائی میں 20 گنا زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔‘

    واضح رہے کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اس آبنائے سے ہوتی ہے اور جنگ کی وجہ سے سمندری آمدورفت میں شدید کمی آئی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اس کے علاوہ ہم ایسے اہداف کو بھی تباہ کر دیں گے جنھیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، ہمارے ایسا کرنے سے ایران کے لیے دوبارہ ایک قوم کے طور پر کھڑا ہونا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔‘

    ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آبنائے ہرمز سے رکاوٹ ختم نہ ہوئی تو ان پر موت، آگ اور قہر برسے گا، لیکن مجھے اُمید ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو۔‘

  19. ایران پورے مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل پر حملہ کرنے والا تھا: امریکی صدر کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں رپبلکن پارٹی کے کانگریسی ارکان سے خطاب میں کہا کہ جنگ ’بہت جلد ختم ہو جائے گی‘۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملہ سے قبل ایران امریکہ پر حملہ کرنے والا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایک ہفتے کے اندر وہ 100 فیصد ہم پر حملہ کرنے والے تھے۔ وہ تیار تھے۔ ان کے پاس توقع سے کہیں زیادہ میزائل تھے، اور وہ ہم پر نہیں پورے مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل پر حملہ کرنے والے تھے۔‘

    ٹرمپ مزید دعویٰ کیا کہ ’اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو وہ اسے اسرائیل پر استعمال کرتے۔ یہ ایک بہت بڑا حملہ ہونے والا تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ ان کے پاس میزائل سائٹس اور لانچرز تھے، جن میں سے تقریباً 80 فیصد ہم ختم کر چکے ہیں۔ اسی لیے آپ دیکھ رہے ہیں کہ حملے اب بہت کم رہ گئے ہیں۔ ان کے پاس بہت کم لانچز باقی ہیں۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج ’حیرت انگیز‘ رہی ہے۔

    ان کے مطابق ’ان کے زیادہ تر میزائل ختم کر دیے گئے ہیں، ان کے ڈرون مار گرائے جا چکے ہیں، اور ہم اُن جگہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں وہ ڈرون بناتے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم ان سب کو جانتے ہیں، اور وہاں زبردست کارروائی کر رہے ہیں جہاں وہ ڈرون تیار کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی یہ سب ختم ہوگا۔۔۔ اور بہت جلد ہوگا۔۔۔ دنیا کہیں زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایک چھوٹی سی کارروائی کی، کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ کچھ برائی کو ختم کرنا ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک قلیل مدتی کارروائی ثابت ہوگی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم کئی لحاظ سے پہلے ہی جیت چکے ہیں، لیکن ابھی کافی نہیں جیتے۔ ہم سابقہ سے زیادہ عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ مکمل فتح حاصل کر سکیں۔۔۔ ایک ایسی فتح جو ہمیشہ کے لیے اس دیرینہ خطرے کا خاتمہ کر دے گی۔‘

    اپنے پہلے دورِ صدارت میں ایران کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر وہ زندہ ہوتے تو شاید آج ایران کہیں زیادہ طاقتور ہوتا، کیونکہ وہ ایک قابل اور خطرناک شخص تھے۔۔۔ سفاک، پُرتشدد اور بہت مؤثر۔ لیکن ہم نے سب سے پہلے انھیں ہی ختم کر دیا۔‘

  20. امریکہ نے ایران میں ’بڑی پیش رفت‘ کی اور 5,000 اہداف کو نشانہ بنایا گیا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں رپبلکن پارٹی کے کانگریسی ارکان سے خطاب کیا، جہاں انھوں نے ایران میں جاری امریکی کارروائی کو اپنی سیاست کی ’ایک چھوٹی سی مہم‘ قرار دیتے ہوئے متعدد دعوے کیے۔

    خطاب کے چند منٹ بعد ٹرمپ نے ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں سے بات کی۔

    انھوں نے آغاز میں کہا کہ امریکہ نے ایران میں ’بڑی پیش رفت‘ کی ہے اور مشن ’تقریباً مکمل‘ ہوگیا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے ایران میں ہر ایک فوجی قوت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔‘

    صدر کے مطابق اب تک 5,000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں ڈرون بنانے والی تنصیبات، ایران کی بحریہ کی طاقت اور میزائل صلاحیت کے مراکز شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ان کی میزائل صلاحیت اب تقریباً 10 فیصد رہ گئی ہے شاید اس سے بھی کم۔‘