معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا حساب لیا جائے گا: پاکستانی فوج کے ترجمان

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ ’معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا حساب لیا جائے گا۔‘ وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ’انڈیا نے جارحیت کر کے جو فاش غلطی کی اس کا خمیازہ اب اسے ضرور بھگتنا ہوگا۔‘

خلاصہ

  • پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق انڈیا کے پاکستان اور اِس کے زیرِانتظام کشمیر میں کیے گئے میزائل حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے جبکہ 57 زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا حساب لیا جائے گا۔‘
  • دوسری طرف انڈین فوج کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی گولہ باری سے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں 15 شہری اور ایک انڈین سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔
  • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ’انڈیا نے جارحیت کر کے جو غلطی کی اس کا خمیازہ اب اسے ضرور بھگتنا ہوگا۔‘
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مختصر تبصرے میں کہا ہے کہ ’میں چاہتا ہوں کہ یہ معاملہ وہ خود حل کریں، میں چاہتا ہوں کہ وہ رک جائیں۔‘
  • پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اپنی مرضی کے وقت، جگہ اور انداز میں جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
  • انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ’انڈیا کی فوج نے پاکستان کے خلاف محتاط اور درست انداز میں کارروائی کی ہے۔ ہم نے صرف ان لوگوں کو مارا جنھوں نے ہمارے بے گناہوں کو قتل کیا۔‘
  • پاکستان کی فوج اور وزیر دفاع نے جوابی کارروائی میں متعدد انڈین طیارے اور ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان محاذ آرائی نہیں چاہتا لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تیار ہے: اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ علاقائی استحکام یکطرفہ طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ علاقائی استحکام یکطرفہ طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں تسلیم کیا گیا کہ علاقائی استحکام یکطرفہ طور پر برقرار نہیں رہ سکتا اور پاکستان محاذ آرائی نہیں چاہتا لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں کونسل کے 15 اراکین بشمول پانچ مستقل ارکان اجلاس میں شریک ہوئے۔

    اجلاس کے بعد میڈیا کو دی گئی بریفنگ میں عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت سے قوم کے مقاصد ’بڑی حد تک حاصل ہوئے‘ اور یہ کہ پاکستان پرامن رہنے اور بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ ’کونسل کے متعدد ارکان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر تنازع سمیت تمام مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اجلاس میں تسلیم کیا گیا کہ علاقائی استحکام یکطرفہ طور پر برقرار نہیں رہ سکتا، اس کے لیے اصولی سفارت کاری، رابطے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ضرورت ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے انڈیا کے حالیہ یکطرفہ اقدامات بالخصوص 23 اپریل کے غیر قانونی اقدامات، فوجی اضافے اور اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان محاذ آرائی نہیں چاہتا لیکن ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل51 کے مطابق اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ جب ایک چوتھائی آبادی والے خطے میں امن کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو یہ ایک عالمی مسئلہ بن جاتا ہے۔

    افتخار نے کہا کہ پاکستان نے انڈیا کے ان الزامات کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔

    علاقائی استحکام یکطرفہ طور پر برقرار نہیں رہ سکتا

    سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان نے انڈیا کی جانب سے غلط معلومات کو ہتھیار بنانے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یاد دلایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ رہا ہے اور اس نے 19 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔‘

    سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان نے پہلگام حملے کی شفاف، غیر جانبدار اور قابل اعتماد تحقیقات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب ہم امن کے خواہاں ہیں تو ہم اپنے مفادات کا دفاع کریں گے اور اپنی خودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل پر زور دیتے ہیں کہ وہ امن قائم کرنے اور روک تھام کی سفارتکاری میں فعال طور پر مصروف رہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ کونسل کا کام صرف دور سے تنازعات کا مشاہدہ کرنا نہیں بلکہ بروقت اور اصولی اقدامات کے ذریعے اس کی روک تھام کرنا ہے۔

    ’بات چیت، رابطے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے ذریعے امن قائم کیا جانا چاہیے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’کشمیر کے لوگوں نے انصاف کے لیے بہت طویل انتظار کیا ہے اور پاکستان کے عوام اس وقت تک کھڑے نہیں ہوں گے جب تک کہ ان کے پانی ، امن اور خودمختاری کے حقوق کو خطرہ لاحق نہیں ہے۔ ‘

    انھوں نے کہا کہ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر سیکرٹری جنرل کی جانب سے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے مطالبے اور آج ہم نے کونسل کے ارکان سے جو کچھ سنا وہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے سب سے زیادہ مناسب اور آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

  2. بلوچستان حکومت نے ماہرنگ بلوچ سمیت سات افراد کے سوا گرفتار ہونے والے تمام افراد کے خلاف گرفتاری کے حکم نامے واپس لے لیے, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت سات افراد کے سوا گرفتار ہونے والے باقی تمام افراد کے خلاف تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے حکم نامے کو واپس لیا ہے۔  یہ بات ڈاکٹر ماہ رنگ اور

    ،تصویر کا ذریعہBYC

    ،تصویر کا کیپشنمحکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت سات افراد کے سوا گرفتار ہونے والے باقی تمام افراد کے خلاف تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے حکم نامے کو واپس لیا ہے۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت سات افراد کے سوا گرفتار ہونے والے باقی تمام افراد کے خلاف تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کے حکم نامے کو واپس لیا ہے۔

    یہ بات ڈاکٹر ماہ رنگ اور گرفتار ہونے والے دیگر افراد کے وکلا نے ان کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتائی۔

    درخواستوں کی سماعت بلوچستان ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس اعجاز سواتی اور جسٹس عامر رانا پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔

    درخواست گزاروں کی پیروی سینیٹر کامران مرتضٰی ایڈووکیٹ، ساجد ترین ایڈووکیٹ، عمران بلوچ ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا نے کی۔ سرکار کی استدعا پر ہائیکورٹ نے درخواستوں کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

    سماعت کے بعد ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ سمیت سات افراد کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کی حکومت دفاع کرے گی جبکہ باقی تمام لوگوں کے خلاف گرفتاری کے حکم نامے کو واپس لیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے خلاف حکومت نے تین ایم پی او کے تحت گرفتاری کے حکم نامے کو واپس نہیں لیا گیا ان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی، بیبرگ بلوچ اور ثنا اللہ کے علاوہ نیشنل پارٹی کے ماما غفار بلوچ شامل ہیں جو کہ بیبو بلوچ کے والد ہیں۔

    ساجد ترین کا کہنا تھا کہ باقی جن افراد کے خلاف ایم پی او کے تحت گرفتاری کے حکم نامے کو واپس لیا گیا ہے ان کی تعداد ڈیڑھ سو زائد ہے جو کہ بی وائی سی اور بی این پی کے کارکن ہیں۔

    ان میں سے اب تک زیادہ تر کی رہائی بھی عمل میں آ چکی ہے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ جہاں سرکار کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ حکومت ان سات افراد کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کے مبینہ غیر قانونی حکمنامے کو واپس نہیں لے گی وہاں ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے یہ بھی درخواست دائر کی گئی کہ ان سات افراد کے خلاف مقدمے کی سماعت کھلی عدالت میں نہیں ہونی چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس کی مخالفت کی اور یہ کہا کہ اس کی سماعت کھلی عدالت میں ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ کے وکیل عمران بلوچ نے بتایا کہ وہ بھی مقدمے کی ان کیمرا سماعت کے خلاف کل ایک درخواست دائر کریں گے۔

  3. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود میں ایک فیصد کمی کا اعلان کیا ہے جس کے بعد یہ بارہ فیصد سے گیارہ فیصد پر گر گئی ہے۔
    • پاکستان نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے فتح سیریز کے میزائل کا تربیتی تجربہ کیا ہے جو 120 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔
    • پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے مقدمات چلائے جانے سے متعلق وفاق اور دو صوبائی حکومتوں کی جانب سے دائر انٹراکورٹ اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کا کہنا ہے کہ مختصر فیصلہ اسی ہفتے جاری کیا جائے گا۔
    • پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی کے اظہار کو عمران خان کی ان کیمرہ اجلاس میں شرکت اور رہائی سے مشروط کرنا پاکستان تحریکِ انصاف کی کوتاہ اندیشی اور حب الوطنی کو مشروط کرنے کے مترادف ہے۔
  4. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔