معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا حساب لیا جائے گا: پاکستانی فوج کے ترجمان

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ ’معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا حساب لیا جائے گا۔‘ وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ’انڈیا نے جارحیت کر کے جو فاش غلطی کی اس کا خمیازہ اب اسے ضرور بھگتنا ہوگا۔‘

خلاصہ

  • پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق انڈیا کے پاکستان اور اِس کے زیرِانتظام کشمیر میں کیے گئے میزائل حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے جبکہ 57 زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا حساب لیا جائے گا۔‘
  • دوسری طرف انڈین فوج کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی گولہ باری سے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں 15 شہری اور ایک انڈین سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔
  • پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ’انڈیا نے جارحیت کر کے جو غلطی کی اس کا خمیازہ اب اسے ضرور بھگتنا ہوگا۔‘
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مختصر تبصرے میں کہا ہے کہ ’میں چاہتا ہوں کہ یہ معاملہ وہ خود حل کریں، میں چاہتا ہوں کہ وہ رک جائیں۔‘
  • پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اپنی مرضی کے وقت، جگہ اور انداز میں جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
  • انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ’انڈیا کی فوج نے پاکستان کے خلاف محتاط اور درست انداز میں کارروائی کی ہے۔ ہم نے صرف ان لوگوں کو مارا جنھوں نے ہمارے بے گناہوں کو قتل کیا۔‘
  • پاکستان کی فوج اور وزیر دفاع نے جوابی کارروائی میں متعدد انڈین طیارے اور ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’مظفرآباد میں خوف و ہراس ہے‘, فرحت جاوید، تابندہ کوکب

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے شہری شاہنواز نے بتایا کہ ’ہمیں گولے گِرنے کی آوازیں آئیں، ہم گھروں میں سوئے ہوئے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا یہ آوازیں سن کر ہم جاگ گئے۔ اب لوگ گھروں سے باہر نکل آئے ہیں۔‘

    ’ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی ہیں۔‘

    شاہنواز نے بتایا کہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جو ہونا ہے، دیکھا جائے گا۔‘

    مظفرآباد میں حملے کے بعد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اعلانات کے بعد حملے کا نشانہ بننے والے شیوائی نالہ اور اس سے متصل سماں بانڈی کے مقامات سے کچھ لوگ شہر کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔

    ریڈ کراس کے مقامی اہلکار کے مطابق حملے کے بعد دو زخمیوں کو سی ایم ایچ لایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس مقام پر حملہ ہوا وہاں سے منتقل ہونے والے خاندانوں کو مقامی سکول میں رکھا گیا ہے۔

  2. انڈین حملوں میں سویلین آبادی کو نشانہ بنایا گیا، بھرپور جواب دیں گے: وزیر دفاع خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ انڈیا کی طرف سے کیے جانے والے میزائل حملوں میں سویلین آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انڈیا نے جس طرح حملہ کیا اسے اس سے بڑھ کر جواب دیں گے۔

    خواجہ آصف نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا نے شہری آبادی اورمساجد پرحملے کیے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم فوجی اور سفارتی سطح پر انڈیا کو بھرپورجواب دیں گے۔‘

  3. پاکستان کی فضائی حدود 48 گھنٹوں تک بند رہے گی: سول ایوی ایشن کے ترجمان

    انڈیا کی جانب سے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کارروائیوں کے بعد پاکستان نے تمام پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا ہے۔

    پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق ’پاکستان کی فضائی حدود 48 گھنٹوں تک بند رہے گی۔ تمام ایئرپورٹ آئندہ اطلاع تک بند رہیں گے۔‘

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق تمام ایئرپورٹس پر پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

  4. انڈیا کے میزائل حملوں کے بعد پاکستان کی جوابی فضائی اور زمینی کارروائی جاری ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

    انڈیا، پاکستان، حملہ

    ،تصویر کا ذریعہRed Crescent

    پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ انڈیا کی طرف سے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں پانچ مقامات پر میزائل حملوں کے جواب میں اس وقت پاکستان کی طرف سے فضائی اور زمینی کارروائی جاری ہے۔

    جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس کارروائی سے متعلق تفصیلات شیئر کرتے رہیں گے۔

    ترجمان نے کہا ہے کہ مریدکے اور بہاولپور میں مساجد پر میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بہاولپور کے علاقے احمد پور شرقیہ پر حملے میں 12 شہری زخمی ہوئے ہیں جبکہ کوٹلی میں دو شہری مارے گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان میں مساجد پر حملوں سے مودی اور آر ایس ایس کی ہندوتوا سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔

    انڈیا، پاکستان، حملہ

    ،تصویر کا ذریعہRed Crescent

  5. بریکنگ, ’آپریشن سندور‘ کے تحت نو مقامات کو نشانہ بنایا گیا: انڈین حکومت

    انڈین حکومت کی ایک پریس ریلیز کے مطابق انڈیا کی مسلح افواج نے سات مئی کو پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’دہشتگردی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے آپریشن سندور شروع کیا۔‘

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مجموعی طور پر نو مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    اس کے مطابق ’پاکستانی فوج کی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انڈیا نے اہداف کے تعین اور کارروائی میں تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

    @adgpi

    ،تصویر کا ذریعہ@adgpi

    انڈین حکومت نے اس بیان میں پہلگام میں حملے کا ذکر کیا جس میں 26 سیاحوں کی ہلاکت ہوئی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اس حملے میں ملوث عناصر کا احتساب ہوگا۔‘

    انڈین فوج نے کہا ہے کہ آپریشن سندور کی صورت میں ’انصاف ہو گیا ہے۔‘

  6. بریکنگ, انڈیا نے اپنی فضائی حدود سے بہاولپور، کوٹلی اور مظفرآباد پر میزائل داغے ہیں: پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ انڈین طیاروں نے تین شہروں بہاولپور، کوٹلی اور مظفرآباد میں میزائل داغے ہیں۔

    اے آر وائے نیوز سے بات کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ’انڈیا نے پاکستان میں بہاولپور، احمد پور ایسٹ کے علاقے میں مسجد سبحان اللہ، کوٹلی اور مظفر آباد کے پاس میزائل داغے ہیں۔‘

    ’ہماری فضائیہ کے جہاز فضا میں ہیں۔ انھوں نے (طیاروں کے ذریعے) بزدلانہ حملہ اپنی فضائی حدود کے اندر سے کیا ہے۔ انھیں پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ پاکستان اپنی مرضی کی جگہ اور وقت پر اس کا جواب دے گا۔‘

    پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان کی فضائیہ اس وقت مستعید ہے۔ انڈیا کے کسی جہاز کو اندر نہیں آنے دیا گیا۔ یہ انھوں نے اپنی طرف رہتے ہیں کیا ہے۔ اس حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘

  7. پاکستان اور انڈیا کے بیچ تصادم ناگزیر ہے، ہماری تیاری مکمل ہے: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تصادم ناگزیر ہے اور یہ کسی بھی وقت ممکن ہے۔

    جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’انڈیا کے ساتھ تصادم ناگزیر ہوگیا ہے۔ یہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر پر تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی موجودگی میں اس حوالے سے بریفنگ دی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چاہے انڈیا سرجیکل سٹرائیک کرے، گراؤنڈ آپریشن یا بحری راستے سے کوئی کارروائی کرے ’پاکستان تیار ہے۔‘

    پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’اگر انھوں نے اندر آنے کی کوشش کی تو ہم انھیں گھر پہنچا کر آئیں گے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انڈیا کی طرف سے پاکستان پر حملے کا کوئی امکان ہے تو ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے میں چھپ کر کوئی کارروائی ممکن نہیں کیونکہ پاکستان نے سرحد کے قریب اور انڈیا کے فضائی اڈون پر نظر رکھی ہوئی ہے کہ وہاں کتنے طیارے ہیں، کون آ رہا ہے اور کون جا رہا ہے۔ ’وہ چھپ کر کچھ بھی نہیں کر پائیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری تیاری مکمل ہے، ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھیں گے۔ ہر لیول پر منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘

    ’ہمیں اپنی افواج پر اعتماد ہے۔ یہاں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ہماری دفاعی تیاریاں مکمل ہیں۔‘

    وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فضائیہ نے 29 اور 30 اپریل کی درمیانی شب انڈین رفال طیاروں کو سرحد کے قریب سے واپس جانے پر مجبور کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رفال طیارے پاکستانی فضائی حدود کے قریب کسی نیت سے آئے تھے مگر انھیں ’سرینگر میں ایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑی۔‘ تاحال انڈیا حکام نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    خواجہ آصف سے پوچھا گیا کہ اگر انڈیا کوئی سٹرائیک نہیں کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کی مشقیں جنگ کی جانب ایک اشارہ ہے۔ ان کا جواب تھا کہ ’میں کوئی پیشگوئی نہیں کرنا چاہتا۔ حکمت عملی پوشیدہ ہوتی ہے، اسے ٹی وی پر نہیں بتایا جاتا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر انھیں لگتا ہے کہ وہ پاکستان کے کسی علاقے پر قبضہ کر لیں گے تو یہ غلط ہے۔ ’وہ ہمارے علاقے پر ایک قدم نہیں رکھ پائیں گے۔ ہم انھیں چائے نہیں اس بار جوتے مار کر واپس بھیجیں گے۔‘

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ ’میں چار سال پانی کا وزیر رہا۔ پانچوں دریاؤں کے راستے پر سٹوریج بنانا اور راستہ موڑنے کے لیے بہت طویل عرصہ اور بھاری سرمایہ کاری درکار ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا ’اقدام جنگ ہوگا۔ اس قسم کی کوئی تعمیر ہوئی تو ہم اسے تباہ کر دیں گے۔ ہم حملہ کرنے پر حق بجانب ہوں گے۔‘

    خیال رہے کہ مودی نے آج پاکستان کا نام لیے بغیر یہ بیان دیا کہ ’پہلے بھارت کے حق کا پانی بھی باہر جا رہا تھا۔ اب بھارت کا پانی، بھارت کے حق میں ہی بہے گا اور بھارت کے ہی کام آئے گا۔‘

  8. صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اسرائیلی اور امریکی افواج کا حملہ، متعدد زخمی

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    باغی حوثی انصار اللہ گروپ سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے منگل کو یہ خبر نشر کی ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو علاقہ خالی کرنے کے اسرائیلی احکامات کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی فوج نے اس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

    یمنی دارالحکومت میں خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے نامہ نگار نے متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

    اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے خبر نشر کی ہے کہ ’حوثیوں کے قریبی دو ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صنعا ایئرپورٹ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔‘

    یمن میں اہداف پر اسرائیلی فضائی حملوں کے ایک دن بعد اسرائیلی فوج نے صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے علاقے میں موجود آبادی سے یہ علاقہ فوری طور پر خالی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نے اتوار کو تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے جواب میں یمنی انصار اللہ گروپ کے خلاف ’کارروائی‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

    اسرائیلی فوج نے پیر کے روز کہا کہ یہ حملے ’حوثی ملیشیا‘ کے زیر استعمال فوجی اور اقتصادی انفراسٹرکچر پر کیے گئے، جس میں حدیدہ کی بندرگاہ میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جو ’حوثیوں کے لیے فنڈنگ ​​کا ایک ذریعہ ہیں اور ان پر ایرانی ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے بھی استعمال ہونے کا شبہ ہے۔‘

    فوج نے تصدیق کی کہ حدیدہ کے مشرق میں بجل سیمنٹ فیکٹری پر بمباری کی گئی۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق یہ فیکٹری حوثیوں کے فوجی انفراسٹرکچر بشمول سرنگ کی تعمیر کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

    اسرائیل نے زور دے کر کہا کہ یہ کارروائی اس کے شہریوں کو لاحق کسی بھی خطرے کے خلاف اس کی ’ڈیٹرنس پالیسی‘ کا حصہ ہے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ حوثی اسرائیل کو نشانہ بنانے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایران کی مالی اور لاجسٹک مدد کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    یہ بات قابل غور ہے کہ یہ حملے اسرائیل سے تقریباً 2,000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوئے، جو اسرائیلی فوج کی دور دراز کے خطرات تک پہنچنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ریاست اور اس کی آبادی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

    اسرائیل کے چینل 12 نے ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ’اسرائیلی فوج یمن میں اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے‘ جبکہ والہ ویب سائٹ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ’یمن پر اسرائیلی حملے امریکہ کے ساتھ مل کر کیے گئے۔‘

    یمن میں حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے خبر نشر کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے اسی گورنری کے علاقے بجیل میں ایک سیمنٹ فیکٹری کو نشانہ بنانے کے علاوہ حدیدہ کی بندرگاہ کو چھ فضائی حملوں سے نشانہ بنایا۔

    حوثی وزارت صحت کے ترجمان انیس الاصباحی نے اعلان کیا کہ بجل پر حملے میں 21 افراد زخمی ہوئے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جہاں اسرائیل نے فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے تو وہیں ایک امریکی اہلکار نے اس میں امریکہ کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    Israel

    ،تصویر کا ذریعہ@AvichayAdraee

    اس سے قبل حوثیوں سے وابستہ یمنی خبر رساں ادارے سبا نے دارالحکومت صنعا پر فضائی حملوں کی اطلاع دی تھی، جس میں دو امریکی فضائی حملے بھی شامل تھے، جن میں سے ایک میں صنعا کی العربین سٹریٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا اور دوسرے میں ایئرپورٹ سٹریٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    سبا نے حوثی حکومت کی وزارت صحت کے حوالے سے کہا ہے کہ اس میں 16 افراد زخمی ہوئے ہیں جسے اس نے ’دارالحکومت صنعا پر امریکی جارحیت‘ قرار دیا ہے۔

    ایک اسرائیلی اخبار نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فضائیہ نے یمن میں متعدد مقامات پر ’50 بموں اور میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے‘ حملہ کیا۔

    ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے اسرائیل کے چینل 13 کو بتایا کہ اسرائیل کی طرف سے یمن پر شروع کیا گیا حملہ اسرائیلی فوج کی طرف سے کیے گئے سابقہ ​​حملوں سے ملتا جلتا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو امید نہیں ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں یمن سے میزائل داغنے کا سلسلہ رک جائے گا۔

    یمن میں حوثی گروپ نے ایک بیلسٹک میزائل داغنے کی ذمہ داری قبول کی ہے جس نے تل ابیب کے بین گوریون ہوائی اڈے کے آس پاس کو نشانہ بنایا۔

    اس حملے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے ایک ویڈیو میں امریکہ کے ساتھ مل کر یمنی گروپ کے خلاف جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ماضی میں حوثیوں کو نشانہ بنا چکا ہے اور وہ انھیں دوبارہ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    نیتن یاہو کے بیانات کے جواب میں حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساری نے اتوار کی شام ایک بیان میں اعلان کیا کہ ’اسرائیلی دشمن پر بار بار ہوائی اڈوں، خاص طور پر بین گوریون ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر ایک جامع فضائی معاصرہ کر لیا گیا ہے۔‘ بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی ہوائی اڈوں پر تمام پروازیں منسوخ کر دیں۔

    امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکی فوج مارچ کے وسط سے یمن میں حوثی گروپ کے خلاف تقریباً روزانہ حملے کر رہی ہے، جس میں ملک میں 1,000 سے زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

  9. بلوچستان کے علاقے کچھی میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دیسی ساختہ بم حملہ، سات اہلکار ہلاک

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق منگل کو عسکریت پسند ’بلوچ لبریشن آرمی‘ کی طرف سے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا گیا جس سے سات اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    بم حملے میں ہلاک ہونے والوں میں صوبیدار عمر فاروق، نائیک آصف خان، مشکور علی جبکہ سپاہی طارق نواز، محمد عاصم اور محمد کاشف خان شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر نے بی ایل اے کو ’انڈین پراکسی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’علاقے میں موجود کسی بھی دہشت گرد کو ختم کرنے کے لیے علاقے کی صفائی کی جا رہی ہے اور اس گھناؤنے اور بزدلانہ فعل کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

    پاکستان کی سیکیورٹی فورسز قوم کے شانہ بشانہ بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی سرزمین پر کام کرنے والے انڈیا اور اس کے ’پراکسیز‘ کے مذموم عزائم کو بہادر سکیورٹی فورسز، ایل ای اے اور پاکستان کی بہادر قوم شکست دے گی۔

  10. وزیراعظم کا وزرا اور سروسز چیفس کے ہمراہ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کا دورہ، ’پوری قوم بہادر افواج کے پیچھے ہے‘

    PMO

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    ،تصویر کا کیپشنوزیراعظم شہباز شریف کو آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر میں بریفنگ دی جا رہی ہے

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کو انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور سروسز چیفس بھی تھے۔

    وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس دورے میں پاکستان کی مشرقی سرحد پر انڈیا کے بڑھتے ہوئے جارحانہ اور اشتعال انگیز موقف کی روشنی میں روایتی خطرے کے لیے تیاریوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے موجودہ سکیورٹی ماحول کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    اعلامیے کے مطابق ’قیادت کو علاقائی سلامتی کی پیش رفت اور خطرے کے بڑھتے ہوئے امکانات سے آگاہ کیا گیا، جس میں روایتی فوجی آپشنز، ہائبرڈ جنگی حکمت عملی اور دہشت گرد پراکسی شامل ہیں۔‘

    Pakistan India

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم اور ان کے ساتھ موجود شرکا نے قوم کی ہمہ وقت تیاری، بلا رکاوٹ ایجنسیوں کے درمیان باہمی تعاون، اور پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے اور فیصلہ کن طور پر جواب دینے کے لیے آپریشنل تیاری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    اعلامیے کے مطابق آئی ایس آئی کی پیشہ ورانہ مہارت اور تزویراتی ذہانت کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے قومی مفادات کے تحفظ اور پیچیدہ اور متحرک حالات میں باخبر قومی سلامتی سے متعلق فیصلہ سازی کے قابل بنانے میں اس ایجنسی کے اہم کردار کی تعریف کی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ’پوری قوم ہماری بہادر مسلح افواج کے پیچھے ہے۔ پاکستانی فوج دنیا کی سب سے زیادہ پیشہ ور اور نظم و ضبط کی فوج میں سے ایک ہے۔‘

    اعلامیے کے مطابق ملکی ’قیادت نے روایتی یا دیگر نوعیت کے تمام خطرات کے خلاف وطن کے دفاع کے لیے پاکستان کے غیر مبہم عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ، مسلح افواج، قومی طاقت کے دیگر تمام عناصر اور ریاستی اداروں کے تعاون سے، ہر حال میں پاکستان کی سلامتی، وقار اور عزت کو برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

  11. پانی روکنا انسانیت کے خلاف جرم، دریائے سندھ ہماری رگوں میں دوڑتا ہے: بلاول بھٹو

    IWT

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی پاکستان کو سزا نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

    منگل کو قومی اسمبلی میں پہلگام حملے سے متعلق انڈیا کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ انڈیا نے فوراً ہی پاکستان پر الزام تراشی شروع کردی، سرحدیں بند کردیں اور نتائج سے دھمکانا شروع کردیا۔

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ ’دریائے سندھ صرف ہماری زمینوں ہی نہیں ہماری رگوں میں دوڑتا ہے، اب انڈیا نے اس دریا کو روکنے کی دھمکی دی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ پانی کو سیاست کی نذر کرنا ہے، یہ قدرت کے خلاف جرم ہے، یہ کیسا پاگل پن ہے کہ آپ کروڑوں انسانوں کی خوراک اور ذریعہ معاش کے خلاف دھمکیاں دے رہے ہیں، وہ بھی اس جرم پر جو آپ کی اپنی سرحدات کے اندر ہوا ہے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’یہ دریا انڈین حکم کا پابند نہیں ہے بلکہ یہ قدرت کا پابند ہے، ٰیہ امن کا داعی ہے، یہ اس تمام انسانیت کا ہے جو اس سے مستفید ہو رہی ہیں۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی برآمد نہیں کررہا بلکہ خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ میں پاکستانی عوام اور دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا اس جرم میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔‘

    Bhutto

    ،تصویر کا ذریعہPPP

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلاول بھٹو نے انڈیا کی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ کے ہاتھ کشمیری ماؤں کے آنسوؤں، بچوں کی چیخوں اور بے جان مردوں کی خاموشی سے آلودہ ہوں تو آپ اخلاقی برتری کی بات نہیں کرسکتے۔‘

    سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ انڈین حکومت غیرذمہ داری کا مظاہرہ کررہی ہے، پاکستان قوم نے ڈر کر جینا نہیں سیکھا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’کوئی اس غلطی فہمی میں نہ رہے کہ برداشت ہماری کمزوری ہے، پاکستانی مسلح افواج ہم وقت چوکس، پرعزم اور تیار ہیں، ہمارے آسمان محفوظ ہیں، ہماری سرحدیں مضبوط اور ہماری قوم کراچی تا خیبر اور لاہور تا لاڑکانہ متحد ہے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اس دریا کا دفاع کرے گا صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اس تہذیب کی یاد میں جو اس تلخی سے بہت زیادہ قدیم ہے، اس دریا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہمارے مشترکہ ماضی کے ساتھ غداری ہے، تم دریا کا رخ موڑ سکتے ہو مگر ہمارے ارادے کو خشک نہیں کرسکتے، دریائے سندھ میں بہنے والے ہر قطرے پر ہمارے کسانوں کی ہمت درج ہے، ہمارے محنت کشوں کا پسینہ شامل ہے اور اللہ کا فضل شامل ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ دریاؤں کے ساتھ کیا بہتا ہے، دریائے سندھ صرف ایک دریا نہیں ہے بلکہ یہ ہماری تہذیب کا گہوارہ ہے، دلی کے نمودار ہونے، سلطنتوں کے قیام اور سرحدوں کی لکیریں کھنچنے سے پہلے موئنجو دڑو اور ہڑپہ موجود تھے‘

    انھوں نے کہا کہ ’دونوں ملکوں کے عوام انڈس ویلی سویلائزیشن سے تعلق رکھتے ہیں، انسانی ترقی کی پہلی جھلک یہیں سے ملتی ہے، اسی تہذیب نے شہری منصوبہ بندی، آبپاشی، زراعت، تجارت اور مواصلات کو جنم دیا، یہ تہذیب تقسیم نہیں کرتی یہ متحد کرتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان بیرونی حمایت یافتہ، نظریاتی اور انتہائی بے رحمانی دہشت گردی سے متاثر ہے، ہم نے اپنے فوجی جوانوں اور سکولوں کے بچوں کو دفنایا ہے، ہم رستے زخموں کے ساتھ تنہا کھڑے تھے اور دنیا نے ہمیں بھلا دیا تھا۔‘

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا کہ ’خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے پاکستان اور انڈیا کو مل کر کام کرنا ہوگا ورنہ ہماری آئندہ نسلیں بھی اس لعنت کو بھگتیں گی۔‘

    ایسا جواب دیں گے کہ مائیں بچوں کو ڈرائیں گی کہ پاکستان آیا ہے، عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ 1965 کی جنگ ہوئی، تو اپوزیشن لیڈر کے دادا جنرل ایوب خان نے کہا تھا کہ دشمن نہیں جانتا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے، میں آج کسی لیڈر کو برا یا اپنے لیڈر کو اچھا نہیں کہوں گا، آج صرف پاکستان کی بات ہوگی، میں نہیں چاہتا کہ اس ایوان سے وہ کلپ انڈین میڈیا کو ملیں، جس میں وہ ہمیں لڑتے ہوئے دکھائیں۔

    عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ’عمران خان بھی اتنا ہی اچھا ہے، جتنے دوسرے سیاسی لیڈر اچھے ہیں، ہم آپس میں بعد میں لڑلیں گے، یہ وقت ایک آواز ہونے کا ہے، دشمن مکار بھی ہے، بدنیت بھی ہے، اور بیوقوف بھی ہے، جس نے پہلگام جیسی جگہ فالس فلیگ آپریشن کا انتخاب کیا، جو پاکستانی سرحد سے سیکڑون کلو میٹر دور ہے۔‘

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلگام واقعے کے 10 منٹ بعد درج کیے گئے مقدمے میں لکھا گیا کہ سرحد پار بیٹھے آقاؤں کی ایما پر یہ حملہ کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ پولیس وہاں ڈیڑھ گھنٹے بعد اس جگہ پر پہنچی تھی۔

    عطا اللہ تارڑ نے راحت اندوری کا شعر پڑھا کہ سرحد پر تناؤ ہے کیا؟ پتا کرو چناؤ ہے کیا؟ انھوں نے انڈین ریاست بہار میں ہونے والے انتخابات کا حوالہ بھی دیا۔

  12. سلال ڈیم: بگلیہار کے علاوہ دریائے چناب پر بنا وہ دوسرا ڈیم جس کی مدد سے انڈیا پانی روک رہا ہے

    وہ آخری مقام ہے جہاں سے دریائے چناب کا پانی پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے انڈیا کنٹرول کر سکتا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہNational Highways Authority of India

    ،تصویر کا کیپشنسلال ڈیم وہ آخری مقام ہے جہاں سے دریائے چناب کا پانی پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے انڈیا کنٹرول کر سکتا ہے۔

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بنایا گیا سلال ڈیم انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

    بگلیہار ڈیم کی طرح سلال ڈیم بھی دریائے چناب پر بنا ہوا ہے۔ بگلیہار دریا کے اوپری حصے پر واقع ہے جبکہ سلال ڈیم دریا کے زیریں حصے پر بنا ہوا ہے۔ دونوں ڈیمز کے درمیان تقریباً 46 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔

    یہ وہ آخری مقام ہے جہاں سے دریائے چناب کا پانی پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے انڈیا کنٹرول کر سکتا ہے۔

    انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق سلال ڈیم کا صرف ایک سپل وے کھلا ہوا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی طرف پانی کا بہاؤ کافی حد تک رک گیا ہے۔

    انڈیا میں حکمران جماعت بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے سوشل میڈیا پر سلال ڈیم کے بند سپل ویز کی ویڈیو شیئر کی ہے اور لکھا ہے کہ ’انڈیا کے مفاد میں سخت فیصلے لینے کے لیے سیاسی عزم کی ضرورت ہوتی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے فیصلوں سے یہ ثابت کیا ہے۔‘

    تاہم اس معاملے پر حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری سطح پر ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    سلال ڈیم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سلال ڈیم پراجیکٹ کیا ہے؟

    خبر رساں ادارے اے این آئی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈیم کے گیٹ بند ہونے کے بعد دریائے چناب میں پانی کی سطح میں خاطر خوا کمی واقع ہوئی ہے ۔

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع ریاسی میں واقع سلال ڈیم ایک راک فل ڈیم ہے اور ضلعی ہیڈکوارٹر سے تقریباً 23 کلومیٹر دور ہے۔

    سلال ڈیم پروجیکٹ ایک ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ ہے جس سے پیدا ہونے والی بجلی کشمیر کے ساتھ ساتھ اتر پردیش، پنجاب، ہریانہ، دہلی، ہماچل پردیش، چندی گڑھ اور راجستھان کو مہیا کی جاتی ہے۔

    اس منصوبے سے تقریباً 690 میگاواٹ حاصل ہوتی ہے۔ یہ انڈین حکومت کے تحت کام کرنے والی نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کا پروجیکٹ ہے۔

    یاد رہے کہ پہلگام حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے خلاف جو اقدامات کیے ہیں اُن میں دہائیوں پرانے سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھی شامل ہے۔ اس معاہدے کے تحت انڈیا دریائے جہلم، چناب اور سندھ کے بیشتر پانی تک پاکستان کو رسائی دینے کا پابند ہے۔ اس معاہدے کی معطلی کے بعد پاکستان بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ اگر انڈیا کی جانب سے پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو اسے ’اقدامِ جنگ‘ تصور کیا جائے گا۔

  13. روس کا یوکرین پر ڈرون حملوں کا الزام، ماسکو کے ہوائی اڈے بند

    روس کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات یوکرین نے دارالحکومت ماسکو پر ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔

    روسی ہوابازی کے ادارے روساویاٹسا کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں دارالحکومت کے چاروں بڑے ہوائی اڈوں کو حفاظتی نکتہ نظر سے کئی گھنٹوں تک بند رکھا گیا جنھیں بعد میں دوبارہ کھول دیا گیا۔

    ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مختلف سمتوں سے‘ آنے والے کم از کم 19 یوکرینی ڈرونز شہر تک پہنچنے سے قبل مار گرائے گئے۔

    ان کے مطابق، ڈرونز کا کچھ ملبہ شہر کی اہم شاہراہوں میں سے ایک پر گرا ہے تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    یہ لگاتار دوسری رات ہے جب روس نے یوکرین پر ڈرون حملوں کا الزام لگایا ہے۔ اس سے قبل سوموار کو روس کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ اس نے راتوں رات 26 یوکرینی ڈرون مار گرائے ہیں۔

    یوکرین کی جانب سے اس بارے میں اب تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کے علاقے خارکیف کے میئر کا کہنا ہے کہ روس نے راتوں رات شہر کے ساتھ ساتھ کیئو کے علاقے میں بھی ڈرون حملے کیے ہیں۔

    یوکرین کے اوڈیسا علاقے کے گورنر اولیح کیپر کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

  14. انڈیا، پاکستان کشیدگی: بگلیہار، سلال ڈیموں کے سپل ویز بند ہونے سے دریائے چناب کے کچھ حصے خشک ہونے لگے

    بگلیہار ڈیم کے ایک سپل وے سے پانی چھوڑا جا رہا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہANI

    ،تصویر کا کیپشنبگلیہار ڈیم کے ایک سپل وے سے پانی چھوڑا جا رہا ہے۔

    انڈیا کی جانب سے بگلیہار ڈیم اور سلال ڈیم کے سپل ویز بند کیے جانے کے باعث دریائے چناب کے کئی حصے خشک ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ پہلگام حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے خلاف جو اقدامات کیے ہیں اُن میں دہائیوں پرانے سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھی شامل ہے۔ اس معاہدے کے تحت انڈیا دریائے جہلم، چناب اور سندھ کے بیشتر پانی تک پاکستان کو رسائی دینے کا پابند ہے۔ اس معاہدے کی معطلی کے بعد پاکستان بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ اگر انڈیا کی جانب سے پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو اسے ’اقدامِ جنگ‘ تصور کیا جائے گا۔

    انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق، پانی کے بہاؤ کو روکنے کی وجہ سے آبی حیات پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے سلال اور بگلیہار ڈیموں کے ایک ایک سپل ویز سے پانی چھوڑا جا رہا ہے۔

    اے این آئی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شخص کلیان سنگھ کا کہنا تھا کہ پہلے دریائے چناب میں 25 سے 30 فٹ پانی بہتا تھا جو اب گھٹ کر محض ڈیڑھ سے دو فٹ رہ گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے پاکستان کو پانی کی فراہمی روکنے کے فیصلے بعد ہوا ہے اور وہ انڈین وزیرِ اعظم کے ساتھ ہیں۔

    اے این آئی کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بگلیہار ڈیم کے صرف ایک سپل وے سے پانی چھوڑا جا رہا ہے جبکہ باقی سارے دروازے بند ہیں جبکہ ایک اور ویڈیو میں ڈیم بھرا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے اخنور میں رواں ماہ کی دو تاریخ کو ہونے والی بارشوں کے بعد دریائے چناب میں پانی کی سطح کافی اونچی ہو گئی ہے اور انتظامیہ نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔

  15. ایئر فرانس، لفتھانسا سمیت متعدد بین الاقوامی ایئر لائنز کا پاکستانی فضائی حدود کے استعمال سے اجتناب

    ایئر فرانس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایئر فرانس اور جرمنی کی لفتھانسا سمیت متعدد بین الاقوامی ایئر لائنز پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے سے اجتناب کر رہی ہیں۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ایئر فرانس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر ’ایئرلائن نے اگلے نوٹس تک پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    ایئر فرانس کا کہنا ہے کہ پروازوں کا دورانیہ بڑھنے کے باعث وہ دہلی، بینکاک اور ہو چی من کی پروازوں کا نیا شیڈول جاری کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل ایئر لائنز گروپ لفتھانسا نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ صورتحال میں لفتھانسا گروپ کی ایئرلائنز غیر معینہ مدت کے لیے پاکستان کی ایئر سپیس استعمال نہیں کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے ایشیا کے لیے کچھ روٹس پر فلائٹس کے دورانیے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    ایک بیان میں گروپ نے کہا کہ ’ہم تمام مسافروں سے روانگی سے قبل فلائٹ کی تمام تفصیلات ایپ اور ویب سائٹ سے تصدیق کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔

    ’لفتھانسا گروپ تمام پیشرفت کا جائزہ لے رہی ہے۔ لفتھانسا گروپ میں موجود تمام ایئرلائنز کے لیے تحفظ سب سے اہم ترجیح ہے۔‘

    پروازوں کے ڈیٹا پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائیٹ ریڈار 24 کے مطابق، اتوار کے روز فرینکفرٹ سے نئی دہلی جانے والی لفتھانسا کی پرواز LH760 معمول سے لمبا روٹ استعمال کرنے کے باعث ایک گھنٹہ اضافی وقت لگا۔

    فلائیٹ ڈیٹا کے مطابق برٹش ایئرویز، سوئس انٹرنیشنل ایئر لائن اور ایمرٹس نے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کے بجائے بحیرہ عرب کے اوپر سے گزر کر دہلی گئیں۔

    برٹش ایئر ویز اور ایمرٹس نے تاحال اس پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    اس لمبے روٹ کے استعمال کے نتیجے میں نہ صرف ایئرلائنز کی فیول کی لاگت میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کو اپنی فضائی حدود کی استعمال کی مد میں ملنے والی آمدنی میں بھی کمی آئے گی جو کہ فی طیارہ کئی سو ڈالرز تک ہو سکتی ہے۔

  16. انڈین کرکٹر محمد شامی کو جان سے مارنے کی دھمکی اور ایک کروڑ تاوان کا مطالبہ, مرزا اے بی بیگ، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، دلی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین فاسٹ بولر محمد شامی کو اتوار کے روز موصول ہونے والی ایک ای میل کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے جبکہ ان سے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

    یہ ای میل موصول ہونے کے بعد مقامی پولیس نے پیر کے روز محمد شامی کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    محمد شامی کا تعلق انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے ضلع امروہہ سے ہے۔ انڈین خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق کے امروہہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) امت کمار نے بتایا کہ محمد شامی کی جانب سے رپورٹ ان کے بھائی محمد حسیب نے درج کروائی ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق ای میل میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر بنگلور کے پربھاکر نامی شخص کو ایک کروڑ روپے نہ دیے گئے تو شامی کی جان کو خطرہ ہو گا۔ ای میل بھیجنے والے نے اپنی شناخت راجپوت سندھر کے طور پر ظاہر کی ہے۔

    محمد شامی آج کل انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم ’سن رائزرز حیدرآباد‘ کی جانب سے کھیل رہے ہیں لیکن گذشتہ رات دہلی کے خلاف ہونے والے میچ میں وہ ٹیم میں شامل نہیں تھے۔

    حیدرآباد کی پلیئنگ الیون میں اُن کی غیر موجودگی جاری ٹورنامنٹ میں اُن کی ناقص کارکردگی اور اُن کی فٹنس کے مسائل کے حوالے سے بتائی جا رہی ہے۔

    انھوں نے آئی پی ایل کے رواں سیزن میں اب تک کھیلے جانے والے نو میچوں میں شرکت کی ہے اور وہ صرف چھ وکٹیں حاصل کر سکے ہیں جبکہ گذشتہ ہفتے گجرات ٹائٹنز کے خلاف کھیلے جانے والے میچ میں انھوں نے تین اوورز میں 48 رنز دیے تھے اور وہ کوئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے تھے۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پولیس کے مطابق محمد شامی کے بھائی محمد حسیب کی شکایت پر تعزیرات ہند (بی این ایس) 2023 کے سیکشن 308(4)، انفارمیشن ٹیکنالوجی (ترمیمی) ایکٹ، 2008 سیکشن 66 ڈی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (ترمیمی) ایکٹ، 2008 سیکشن 66 ای کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

    پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے اور ای میل بھیجنے والے کو ٹریس کیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ انڈین ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کو بھی گذشتہ ماہ اس طری کی ای میل کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

    محمد شامی کے حوالے سے خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین بھی اس حوالے سے تبصرے کر رہے ہیں۔

    سوشل ایکٹیوسٹ محمد وسیم تیاگی نے ایکس پر لکھا کہ ’شامی کو ایک ای میل کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔‘ ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’اس ملک میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔‘

    یاد رہے کہ شامی کو ماضی قریب میں پاکستان کے خلاف بُری کارکردگی دکھانے پر بھی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ تاہم اس موقع پر وراٹ کوہلی نے ان کے حق میں آواز بلند کی تھی۔ انڈیا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے بھی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا: ’محمد شامی ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ لوگ نفرت سے بھرے ہوئے ہیں کیونکہ کسی نے انھیں محبت نہیں دی، انھیں معاف کر دیں۔‘

    محمد شامی نے انڈیا کے لیے چیمپیئنز ٹرافی میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور انگلینڈ کے خلاف مجوزہ ٹیسٹ میچز میں ان کے کھیلنے کا قوی امکان ہے۔

  17. انڈیا کا ملک بھر میں 7 مئی کو سول ڈیفینس کی مشقوں کا اعلان

    سول ڈیفینس کی مشقوں میں یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جنگ یا قدرتی آفات جیسی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہری دفاع کے ادارے کتنے تیار ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہANI

    ،تصویر کا کیپشنسول ڈیفینس کی مشقوں میں یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جنگ یا قدرتی آفات جیسی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہری دفاع کے ادارے کتنے تیار ہیں۔

    انڈیا کی وزارتِ داخلہ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو 7 مئی کو شہری دفاع (سول ڈیفنس) کی مشقوں کا حکم دیا ہے۔ 22 اپریل کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اسے کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔

    وزارت داخلہ کے جنرل فائر سروس، سول ڈیفنس اور ہوم گارڈ اور سول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ جنرل کی جانب سے یہ ہدایت 5 مئی کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریوں کو بھیجی گئی ہے۔

    انڈیا کے شہری دفاع کے قوانین کے مطابق، وزارت داخلہ کو ریاستوں کو اس طرح کی فرضی مشقیں کرنے کی ہدایات جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

    سول ڈیفنس کی مشقوں میں کیا ہو گا؟

    ان مشقوں میں یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جنگ یا قدرتی آفات جیسی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہری دفاع کے ادارے کتنے تیار ہیں۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے بھیجے گئے خط کے مطابق 7 مئی کو ہونے والی سول ڈیفینس کی ڈرلز کے دوران کئی طرح کی مشقیں کی جائیں گی۔

    ان مشقوں کی مدد سے یہ جانچنے کی کوشش کی جائے گی کہ فضائی حملے کی وارننگ کا نظام کتنا موثر ہے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قائم کنٹرول روم کا نظام کیسے چلایا جائے گا۔ اس کے علاوہ عام افراد اور طلبا کو اس صورتحال کے دوران امدادی کاموں کی تربیت فراہم کی جائے گی۔

    ان مشقوں کے دوران لوگوں کو اپنے گھروں یا اداروں کی تمام لائٹس کو کچھ دیر کے لیے مکمل طور پر بند کر کے بلیک آؤٹ کی ہدایت بھی کی جا سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کے آخر میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں شہری دفاع کے محکمے نے ممکنہ جنگی حالات سے نمٹنے کے لیے مختلف تعلیمی اداروں میں طلبا زندگیاں بچانے کی تربیت دینے کے سلسلے کا آغاز کر دیا تھا۔

    اس تربیتی پروگرام میں ابتدائی طبی امداد، پناہ گاہوں کا استعمال اور بمباری یا گولہ باری کے دوران حفاظتی تدابیر سے متعلق بتایا گیا۔

  18. پاکستان کا انڈین بحریہ کے طیارے کی کڑی نگرانی کا دعویٰ: انڈیا پی 8 آئی طیارہ کن مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے؟

    پاکستان بحریہ

    ،تصویر کا ذریعہPakistan Navy

    پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی بحریہ نے سوموار کے روز اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ انڈین بحریہ کے نگرانی کرنے والے طیارے پی 8 آئی (P-8I) پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    پاکستانی بحریہ کی جانب سے پوسٹ کی گئی 26 سیکنڈ طویل ویڈیو کے آغاز میں انڈین بحریہ کے پی 8 آئی کی ایک پرانی تصویر دکھائی گئی ہے۔ بعد ازاں ویڈیو میں دور سے ایک طیارے کو دکھایا گیا ہے جس کے بارے میں پاکستانی بحریہ دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ انڈین بحریہ کا پی 8 آئی طیارہ ہے۔

    پاکستانی بحریہ کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق یہ ویڈیو چار اور پانچ مئی کی درمیانی شب لی گئی ہے۔

    انڈیا کی جانب سے فی الحال اس بارے میں کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    پی 8 آئی طیارہ بنانے والی کمپنی بوئنگ کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق پی 8 آئی انڈین بحریہ کے تیار کیا گیا طیارہ ہے جسے سمندری حدود میں نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہBoeing

    ،تصویر کا کیپشنپی 8 آئی طیارہ بنانے والی کمپنی بوئنگ کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق پی 8 آئی انڈین بحریہ کے تیار کیا گیا طیارہ ہے جسے سمندری حدود میں نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    پی 8 آئی طیارہ کس لیے استعمال ہوتا ہے؟

    پی 8 آئی طیارہ بنانے والی کمپنی بوئنگ کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق پی 8 آئی انڈین بحریہ کے لیے تیار کیا گیا طیارہ ہے جسے سمندری حدود میں نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ پی 8 آئی کو آبدوزوں کی روک تھام کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    بوئنگ کے مطابق P-8I ساحلی گشت کے علاوہ اسے دیگر اہم مشنوں جیسے تلاش اور بچاؤ، سمندری قزاقوں کے خلاف آپریشن، اور فوج کے دیگر شعبوں کی معاونت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق 2013 میں انڈین بحریہ میں شامل کیے جانے کے بعد سے اب تک P-8I کا بحری بیڑا 29,000 گھنٹوں کی پرواز کر چکا ہے۔

    پی 8 آئی ایک وقت میں 12 ہزار سمندری سے زائد کی دوری طے کر سکتا ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 789 کلومیٹر ہے۔ اس طارے میں عملے کے نو ارکان سوار ہوتے ہیں۔

  19. پاکستان، انڈیا کشیدگی: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ثالثی کی پیشکش، ’عسکری حل کوئی حل نہیں‘

    قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ نڈیا اور پاکستان کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس وقت کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ نڈیا اور پاکستان کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس وقت کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے دونوں ملکوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

    نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں انڈیا اور پاکستان کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس وقت کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔

    بعدازاں ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ ’عسکری حل کوئی حل نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایسی صورتحال میں یہ دیکھ کر مجھے تکلیف ہوتی ہے کہ ان کے باہمی تعلقات اتنے خطرناک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔‘

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ’میں ایک بار پھر پہلگام میں سیاحوں پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کرتا ہوں۔ شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ خاص طور پر اس نازک وقت میں یہ ضروری ہے کہ انڈیا اور پاکستان ایک ایسے فوجی تصادم سے گریز کریں جو آسانی سے قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔ کوئی غلطی نہ کریں عسکری فوجی حل کوئی حل نہیں ہے۔‘

    یاد رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان پر الزام عائد کتے ہوئے سخت اقدامات کیے جن میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی شامل ہے۔

    دونوں ممالک میں کشیدگی جاری ہے اور اطراف سے سخت بیانات دیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور انڈیا کی جانب سے عسکری طاقت کے مظارے بھی ہو رہے ہیں۔

    پاکستان نے سوموار کے روز زمین سے زمین تک مار کرنے والے فتح سیریز کے میزائل کا تربیتی تجربہ کیا ہے جو 120 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ انڈس مشق کے دوران کیے جانے والے لانچ کا مقصد فوجیوں کی آپریشنل تیاری کو یقینی بنانا اور میزائل کے جدید نیویگیشن سسٹم سمیت اہم تکنیکی پیرامیٹرز کی توثیق کرنا تھا۔

    فتح سیریز کا یہ میزائل ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار ہے جسکی مدد سے کسی بھی حملے کے جواب میں سویلین آبادی کو نقصان پہنچائے بغیر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    اس سے قبل گذشتہ روز پاکستان نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل ابدالی ویپن سسٹم کا تربیتی تجربہ کیا تھا جو 450 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

  20. پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس آج دن گیارہ بجے پھر منعقد ہو گا

    اجلاس میں انڈیا کی جانب سے پہلگام حملے سے پاکستان کا تعلق جوڑنے کی بے بنیاد کوششوں کے حوالے سے بحث کی جائے گی۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنقومی اسمبلی کے اجلاس میں انڈیا کی جانب سے پہلگام حملے سے پاکستان کا تعلق جوڑنے کی بے بنیاد کوششوں کے حوالے سے بحث کی جائے گی۔

    پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس منگل چھ مئی کو صبح گیارہ بجے منعقد ہو گا۔

    اجلاس میں انڈیا کی جانب سے پہلگام حملے سے پاکستان کا تعلق جوڑنے کی بے بنیاد کوششوں کے حوالے سے بحث کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ اراکینِ اسمبلی انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اعلان سے پیدا ہونے والی صور تحال پر بھی بات کریں گے۔

    اس سے پہلے سوموار کو ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ بے گناہ شہریوں کا قتل پاکستان کی اقدار کے منافی ہے۔

    قومی اسلبمی کے اراکین نے پہلگام حملے سے پاکستان کو جوڑنے کی تمام بے بنیاد اور بے بنیاد کوششوں کو مسترد کیا اور انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو واضح طور پر جنگی کارروائی کے مترادف قرار دیا۔

    اراکینِ اسمبلی نے خبردار کیا کہ پاکستان فوجی اشتعال انگیزی سمیت کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے انڈیا کی کسی بھی مہم جوئی کا ٹھوس، فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    اراکینِ قومی اسمبلی نے اس بات پر زور دیا کہ ’پاکستان کے عوام امن کے لیے پرعزم ہیں لیکن ملک کی خودمختاری، سلامتی اور مفادات کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    اراکین نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔