معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا حساب لیا جائے گا: پاکستانی فوج کے ترجمان
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ ’معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا حساب لیا جائے گا۔‘ وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ’انڈیا نے جارحیت کر کے جو فاش غلطی کی اس کا خمیازہ اب اسے ضرور بھگتنا ہوگا۔‘
خلاصہ
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق انڈیا کے پاکستان اور اِس کے زیرِانتظام کشمیر میں کیے گئے میزائل حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے جبکہ 57 زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا حساب لیا جائے گا۔‘
دوسری طرف انڈین فوج کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی گولہ باری سے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں 15 شہری اور ایک انڈین سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ’انڈیا نے جارحیت کر کے جو غلطی کی اس کا خمیازہ اب اسے ضرور بھگتنا ہوگا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مختصر تبصرے میں کہا ہے کہ ’میں چاہتا ہوں کہ یہ معاملہ وہ خود حل کریں، میں چاہتا ہوں کہ وہ رک جائیں۔‘
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اپنی مرضی کے وقت، جگہ اور انداز میں جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ’انڈیا کی فوج نے پاکستان کے خلاف محتاط اور درست انداز میں کارروائی کی ہے۔ ہم نے صرف ان لوگوں کو مارا جنھوں نے ہمارے بے گناہوں کو قتل کیا۔‘
پاکستان کی فوج اور وزیر دفاع نے جوابی کارروائی میں متعدد انڈین طیارے اور ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
لائیو کوریج
پاکستان کے ہوائی اڈے اور فضائی حدود محفوظ اور فعال ہیں: پی اے اے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کی
جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مُلک کے تمام ہوائی اڈے مکمل
طور پر فعال ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ فضائی حدود بھی مکمل طور پر فعال ہے۔
پاکستان کے مختلف مقامات پر انڈیا
کی جانب سے چھ مئی کو ہونے والے حملے کے بعد پاکستان کے تمام ہوائی اڈے اور فضائی
حدود کو بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب پاکستان ائیر پورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قومی فضائی حدود شہری ہوابازی کے لیے دستیاب اور محفوظ ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان
نے انڈیا کے اشتعال انگیز اقدامات سے شہری ہوا بازی کی حفاظت کو لاحق سنگین خطرات
کے بارے میں بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کو باضابطہ طور
پر اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔
ہم نے احتیاط سے کام نہ لیا ہوتا تو انڈیا کے پانچ کے بجائے دس طیارے گرے ہوتے، وزیراعظم شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو انڈیا کے منصوبوں کا پہلے سے علم تھا اور پاکستان فوج تیار تھی کہ کب ان کے جہاز اڑیں اور کب وہ انھیں اٹھا کر سمندر میں پھینک دیں۔
بدھ کے روز قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ رات انڈیا
نے پوری تیاری کے ساتھ حملہ کیا جس میں ان کے 80 طیاروں نے حصہ لیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہماری افواج 24 گھنٹے تیار تھی کہ کب دشمن کے جہاز اڑیں اور کب ہم انہیں اٹھا کر سمندر میں پھینک دیں۔‘
’ہم نے احتیاط سے کام نہ لیا ہوتا تو انڈیا کے پانچ کے بجائے دس طیارے گرے ہوتے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جو کہتے تھے کہ پاکستان روایتی جنگ میں پیچھے ہے انھیں کل رات خبر ہو گئی۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ انڈیا کے گرائے گئے طیاروں میں تین رفال طیارے بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا انڈیا کو اپنے رفال طیاروں پر بہت ناز تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ عوام کا ایک ایسا ملک ہے جو نیوکلیئر طاقت ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح جواب دیا گیا ہے اب دیگر ممالک بھی پاکستان کی طرف دیکھیں گے اور مدد کی درخواست کریں گے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس سے قبل 29 اور 30 اپریل کی رات کو پاکستانی فضائیہ نے انڈین رفال طیاروں کی کمیونیشکین بلاک کر دی تھی جس کے بعد انھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اور انھیں واپس سرینگر میں اترنا پڑا۔
انھوں نے کہا کہ ’کل رات جو گزری انڈیا نے اس کو تاریک رات سمجھ کر، اندھیرے میں ماضی کی طرح چھپ کر پاکستان کے اوپر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ کے کرم سے اور پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی دعاؤں سے افواج پاکستان نے انڈیا کے اس حملے کا منہ توڑ جواب دے کر اس تاریک رات کو چاندنی رات بنا دیا۔‘
برطانوی وزیر خارجہ کا پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے
کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجودہ کشیدگی تشویش کا باعث ہے۔
انھوں نے بدھ کے روز ایک بیان میں
کہا کہ برطانوی حکومت انڈیا اور پاکستان پر زور دے رہی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ
کریں اور آگے بڑھنے کا تیز اور سفارتی راستہ تلاش کرنے کے لئے براہ راست بات چیت
کریں۔
ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ برطانیہ کے
دونوں ممالک کے ساتھ قریبی اور اچھے تعلقات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میں نے انڈیا اور
پاکستان میں اپنے ہم منصبوں پر واضح کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال مزید بڑھتی ہے تو اس
میں جیت کسی کی بھی نہیں ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ برطانیہ نے گزشتہ
ماہ پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی۔ ہمیں علاقائی استحکام کی
بحالی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے تمام فریقوں کو فوری طور پر کام
کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈیوڈ لیمی نے یہ بھی کہا کہ خطے
میں برطانوی شہریوں کی حفاظت ’ہماری ترجیح‘ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ برطانوی دفتر
خارجہ خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث دونوں ملکوں میں 550 پروازیں منسوخ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کی وجہ سے دونوں مُلکوں میں تقریباً 550 شیڈول پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔
ریئل ٹائم فلائٹ ٹریکنگ سروس
فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق فضائی حملوں کے بعد سے پاکستان میں 16
فیصد اور انڈیا میں 3 فیصد کمرشل پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔
ٹریکر کے مطابق پاکستان میں 135
پروازیں منسوخ کی گئی ہیں جبکہ انڈیا میں 417 شیڈول پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی: انڈین فوج کا دعویٰ
انڈین فوج نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے جبکہ 43 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
انڈین فوج کے تازہ ترین بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پونچھ اور تنگدھار میں شہری علاقوں کو
نشانہ بنایا۔
انڈین حملے میں نوسیری ڈیم کے ہائیڈرولک پاور یونٹ کو نقصان پہنچا: مظفر آباد انتظامیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشننیلم جہلم پراجیکٹ۔ فائل فوٹو
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع مظفر آباد کی انتظامیہ
کا کہنا ہے انڈیا کی جانب سے نوسیری میں نیلم جہلم ہائیڈرل منصوبے کے کیمپ سائٹ پر گولہ باری کی گئی ہے جس سے ہائیڈرولک پاور یونٹ کو نقصان پہنچا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ان ٹیک یونٹ متاثر ہوا اور ایک گیٹ کو بھی بند کرنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ منصوبے کی ایمبولینس کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نوسیری میں فائرنگ کے نتیجے میں دو مکانات کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ دو گاڑیاں بھی جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر
انڈیا کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں مظفر آباد کی تحصیل پلہوٹ میں ایک شخص جبکہ میرا
کلسی تحصیل پٹہکہ(نصیر آباد ) میں ایک خاتون زخمی ہوئی ہیں۔ دونوں زخمیوں کو ابتدائی
طبی امداد کے بعد سی ایم ایچ مظفر آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انتظامیہ، پولیس اور دیگر تمام
ادارے کے افسران فیلڈ میں موجود ہیں اور نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔
انڈین وزیرِ داخلہ امت شاہ کی سرحدی ریاستوں میں وزرائے اعلیٰ، چیف سیکریٹریز اور اعلیٰ پولیس حکام سے ملاقاتیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے
پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر موجود انڈین ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، چیف سیکریٹریز اور
اعلیٰ پولیس حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔
انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ کی
صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پنجاب، راجستھان، گجرات، اتراکھنڈ، اتر پردیش،
بہار، سکم، مغربی بنگال کے وزرائے اعلیٰ اور وفاق کے زیر انتظام لداخ اور جموں و
کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرز نے شرکت کی۔
اس ملاقات کی تفصیلات ابھی تک
منظر عام پر نہیں آئی ہیں لیکن یہ ملاقات انڈیا کی جانب سے پاکستان پر فضائی
حملوں اور دہلی اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے چند گھنٹوں بعد ہوئی۔
پاکستان کی چینی سفیر کو انڈین فضائی حملوں پر بریفنگ
،تصویر کا ذریعہPakistan Foreign Ministry
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر
خارجہ اسحاق ڈار نے ملک میں چینی سفیر کو انڈیا کے حملوں کے بارے
میں آگاہ کیا ہے۔
اسحاق ڈار کی چین کے سفیر جیانگ زیدونگ سے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر نے چینی
سفیر کو انڈیا کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری کی بلا اشتعال خلاف ورزی اور بے
گناہ جانوں کے ضیاع کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسحاق
ڈار نے ہر قیمت پر اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پاکستان کے
پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
چینی سفیر اور پاکستان کے نائب وزیراعظم نے علاقائی سلامتی کی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا
اور تمام متعلقہ شعبوں میں قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
اس سے قبل چینی وزارت خارجہ نے پاکستان
کے خلاف انڈیا کے فوجی آپریشن کو ’افسوسناک‘ قرار دیا تھا۔
انڈین فضائی حملوں کے نتیجے میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا: ترکی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے داراحکومت مظفرآباد میں انڈین فاضائی حملے کا نشانہ بننے والی مسجد۔
ترکی کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں فضائی حملوں کے نتیجے میں جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ترکی کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم کسی بھی ایسے اشتعال انگیز اقدام اور شہریوں اور شہری عمارتوں پر حملے کی مذمت
کرتے ہیں۔‘
’ہمیں امید ہے کہ جلد از جلد کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔‘
بیان میں فریقین سے یکطرفہ کارروائی سے اجتناب کرنے کی اپیل بھی کی گئی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ترکی پاکستان کی جانب سے پہلگام
حملے کی تحقیقات کے مطالبے کی حمایت کرتا ہے۔
دوسری جانب قطر نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش
کا اظہار کرتے ہوئے دونوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں زور دیا گیا کہ دونوں ملک بحران کو حل کرنے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کریں۔ بیان میں پاکستان اور انڈیا پر زور دیا گیا کہ کشیدگی کم
کرنے کے لیے رابطے کے چینل قائم رکھے جائیں۔
روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور محاذ آرائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
روسی خبر رساں ادارے کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’روس دہشت گردی کی کارروائیوں کی سختی سے مذمت کرتا ہے اور اس کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے پوری بین الاقوامی برادری کی کوششوں کو متحد کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ اُمید کی جاتی ہے کہ دہلی اور اسلام آباد کے مابین موجودہ اختلافات کو پرامن طریقوں سے حل کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ روس کئی دہائیوں سے انڈیا کا قریبی اتحادی رہا ہے تاہم ماسکو کے اسلام آباد کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات ہیں۔
ادھر فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئل باروٹ نے بھی دہلی اور اسلام آباد سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔
ایک فرانسیسی نیوز چینل کو انٹرویو میں باروٹ نے کہا کہ ’ہم دہشت گردی سے خود کو بچانے کی انڈین خواہش کو سمجھتے ہیں لیکن ہم انڈیا اور پاکستان دونوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشیدگی سے بچنے اور یقینی طور پر شہریوں کی حفاظت کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘
پاکستان کا پانچ انڈین طیارے گرانے کا دعویٰ: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل کی شب انڈین حملوں کے بعد پاکستان کی جانب سے انڈین فضائیہ کے طیارے گرانے کی خبریں سامنے آنے لگیں اور ساتھ ہی سوشل میڈیا پر مختلف دعوے بھی کیے جانے لگے۔ ایسے میں سرحد کے دونوں جانب سے ان دعووں پر سوالات بھی اٹھے اور جوابی دعوے بھی سامنے آئے۔
کوئی بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ نہیں چاہتا: عمر عبداللہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت نے گذشتہ ماہ پہلگام میں ہونے والے حملوں کے ذمہ داروں کو جواب دینے کے لیے ’بہترین طریقے‘ کا انتخاب کیا
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کا
کہنا ہے کہ خطے میں کوئی بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ نہیں چاہتا تاہم ان
کے مطابق کشیدگی کم کرنے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔
انڈیا کی جانب سے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں کیے
جانے والے فضائی حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت نے گذشتہ
ماہ پہلگام میں ہونے والے حملوں کے ذمہ داروں کو ’مناسب جواب‘ دینے کے لیے ’صحیح طریقے‘ کا انتخاب کیا۔
انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے ان کا
کہنا تھا کہ ’پاکستان میں کسی فوجی یا شہری علاقے کی بجائے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ
بنایا گیا لیکن پاکستان نے کچھ علاقوں میں بمباری کی اور شہریوں کو نشانہ بنایا۔‘
عمر عبداللہ نے لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ انھیں
گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو علاقہ چھوڑ کر جانے کی ضرورت
نہیں۔
عمر عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی بحران کی صورت میں
خطے میں ضروری اشیا کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔
برطانیہ کی پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مدد کی پیشکش
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی
کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
بدھ کے روز برطانیہ کے سیکرٹری تجارت جوناتھن رینالڈز کا کہنا
تھا کہ برطانوی کابینہ کے رکن ڈیوڈ لیمی نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کم
کرنے کی کوشش میں دونوں ممالک سے رابطہ کیا ہے۔
جوناتھن رینالڈز کا کہنا ہے کہ کشمیر کی صورتحال ’بہت
تشویشناک‘
ہے۔
’ہمارا پیغام ہے کہ ہم دونوں ملکوں کے دوست اور پارٹنر ہیں۔
ہم دونوں ملکوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کا خطے کے استحکام،
مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے میں ایک بڑا کردار ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے میں ہم جو مدد فراہم کر سکتے ہیں، ہم اس کے
لیے تیار ہیں۔
قومی سلامتی کمیٹی: ’پاکستان اپنی مرضی کے وقت، جگہ اور انداز میں جواب دینے کا حق رکھتا ہے‘
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
پاکستان پر انڈین حملے کے بعد بلائے جانے والے پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی مرضی کے وقت، جگہ اور انداز میں جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری اس اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق پاکستان اپنے دفاع میں، معصوم پاکستانی جانوں کے ضیاع اور اس کی خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا بدلہ لینے کے لیے اپنی مرضی کے وقت، جگہ اور انداز میں جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کو اس سلسلے میں مناسب کارروائیاں کرنے کا باضابطہ اختیار دیا گیا ہے۔‘
اعلامیے کے مطابق ’انڈین جارحیت پر شدید غم و غصہ کا شکار پاکستانی قوم مسلح افواج کی بہادری اور جرات اور مادر وطن کے دفاع میں ان کی بروقت کارروائی کو بے حد سراہتی ہے۔ قوم مزید کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انڈیا کے غیر قانونی اقدامات کی سنگینی کو تسلیم کرے اور اسے بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی صریح خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ ٹھہرائے۔
یہ بھی کہا گیا کہ ’پاکستان امن کے لیے پرعزم ہے اور اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ کبھی بھی اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی اپنے لوگوں کو کوئی نقصان پہنچانے دے گا۔‘
انڈین حملے میں مظفر آباد کی مسجد بلال تباہ: ’امید نہیں تھی کہ یہاں حملہ ہو گا‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں رات گئے کیے جانے والے انڈین حملے میں مظفرآباد کے علاقے شوائی میں ایک مسجد مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید وہاں پہنچی ہیں۔ انھوں نے کیا دیکھا، جانیے اس ویڈیو میں۔۔۔
،ویڈیو کیپشنمظفرآباد: انڈین حملے میں مسجد مکمل طور پر تباہ
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ختم، وزیر اعظم شہباز شریف قوم سے خطاب کریں گے
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ختم ہو گیا ہے اور کچھ دیر میں وزیر اعظم شہباز شریف قوم سے خطاب کریں گے۔
انڈیا کی جانب سے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں انڈین حملوں کے بعد بلایا جانے والا قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں اعلیٰ فوجی حکام، وزرا اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئے۔
اجلاس میں انڈین حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
پونچھ میں گولہ باری کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پونچھ میں گولہ باری کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔
ایک سینیئر فوجی اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ یہ سب ہلاکتیں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پونچھ میں ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ پونچھ پاکستان اور انڈیا کے درمیان لائن آف کنٹرول پر واقع علاقہ ہے۔
منگل کی شب انڈیا کے پاکستان کے مختلف مقامات پر حملوں کے بعد دونوں ملکوں کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر گولہ باری اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
پاکستان کی فضائی حدود پروازوں کے لیے کھول دی گئی: سول ایوی ایشن اتھارٹی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنسول ایوی ایشن کی جانب سے فضائی حدود بند کرنے کے اعلان کے باعث پروازیں منسوخ ہونے کے بعد مسافر کراچی کے باہر انتظار کر رہے ہیں۔
پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ
فضائی حدود کی بندش سے متعلق جاری کیا گیا نوٹم منسوخ کر دیا گیا ہے اور ملک بھر کی فضائی حدود اب پروازوں
کے لیے فعال ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مسافر اپنی متعلقہ ایئرلانز سے شیڈول کے
مطابق پرواز یا کینسل شدہ فلائٹ کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔
یاد رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب انڈیا
کی جانب سے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں کارروائیوں کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا تھا۔
پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان
کی فضائی حدود 48 گھنٹے تک بند رہے گی اور تمام ایئرپورٹ آئندہ اطلاع تک بند رہیں
گے۔
انڈین ناظم الامور کی دفترِ خارجہ طلبی، پاکستان کا فضائی حملوں پر احتجاج
،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان
میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کے ناظم الاُمور کو طلب کر کے فضائی حملوں پر بھرپور احتجاج کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں عورتوں
اور بچوں سمیت بہت سے شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
دفترِ خارجہ کا کہنا کہ انڈین ناظم الاُمور کو بتایا
گیا کہ یہ حملے پاکستان کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس طرح کے حملے بین
الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ چارٹر اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ضمن میں روایات کی بھی خلاف ورزی ہیں۔
’انڈیا کو
خبردار کیا گیا کہ اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ روّیہ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے
بڑا خطرہ ہے۔‘
خیال رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب انڈیا نے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف مقامات پرفضائی حملے کیے جن میں پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق 26 شہری ہلاک جبکہ 46 زخمی ہوئے ہیں۔
مزید حملوں کی اطلاعات تھیں، جنھیں روکنے کے لیے پاکستان میں کارروائی کی: انڈین سیکریٹری خارجہ
،تصویر کا ذریعہPIB INDIA
انڈین سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا ہے کہ پاکستان میں انڈین کارروائی نپی تلی ہے اور اس کا مقصد کشیدگی کو بڑھانا نہیں۔
منگل کی شب پاکستان کے مختلف مقامات پر انڈین حملوں کے بعد بدھ کی صبح پریس بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا کہ انڈین انٹیلیجنس کی معلومات کے مطابق اس طرح کے مزید حملے ہونے والے تھے لہذا انھیں روکنے کے لیے یہ کارروائی کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا نے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کا جواب دیتے ہوئے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ پر حملہ کیا۔
انڈین سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پہلگام حملہ پاکستان اور پاکستان میں تربیت یافتہ دہشتگردوں نے کیا اور تحقیقات نے دہشت گردوں کے پاکستان کے ساتھ روابط کو بے نقاب کر دیا۔
انڈین سیکریٹری خارجہ نے پہلگام حملے کا الزام کالعدم عسکریت پسند گروپ ’دا ریزسٹنس فرنٹ‘ پر عائد کیا۔
واضح رہے کہ انڈین حکومت ’دا ریزسٹنس فرنٹ‘ کو کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کی ذیلی تنظیم یا پراکسی قرار دیتی ہے جبکہ پہلگام حملے کے فوراً بعد ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا اس حملے کے پیچھے ٹی آر ایف کا ہاتھ ہے تاہم بعد میں اس عسکریت پسند گروپ نے اس کی تردید کی تھی۔
وکرم مصری نے مزید کہا کہ ’پہلگام حملہ انتہائی وحشیانہ تھا، جس کا مقصد جموں کشمیر میں معمول پر آنے والے حالات کو بری طرح سے نقصان پہنچانا تھا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان پہلگام حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔
بریکنگ, بہاولپور میں مسجد سبحان پر حملہ اور ہلاکتوں کی اطلاعات
پنجاب کے شہر بہاولپور میں مسجد سبحان پر ہونے والے
حملے کے بعد کالعدم تنظیم جیش محمد سے منسلک چند واٹس ایپ گروپس پر اس گروہ کے
سربراہ سے منسوب یہ بیان زیر گردش ہے جس میں
مبینہ طور پر وہ (مسعود اظہر) دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس حملے میں اُن کے خاندان کے
10 افراد اور چار دیگر قریبی ساتھی مارے گئے ہیںتاہم اس بیان کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
اس بیان میں مرنے والوں کی تفصیلات اور مولانا
مسعود اظہر سے ان کے مبینہ رشتہ داری کی بابت بھی بتایا گیا ہے تاہم اس حوالے سے
ہسپتال یا مقامی انتظامیہ سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
نوٹ: اس پوسٹ کو موجود تفصیلات کو ہسپتال، مقامی
انتظامیہ اور مولانا مسعود اظہر سے منسلک افراد کی جانب سے ملنے والی تفصیلات کی
بنیاد پر ایڈٹ کیا گیا ہے۔