معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا حساب لیا جائے گا: پاکستانی فوج کے ترجمان
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ ’معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا حساب لیا جائے گا۔‘ وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ’انڈیا نے جارحیت کر کے جو فاش غلطی کی اس کا خمیازہ اب اسے ضرور بھگتنا ہوگا۔‘
خلاصہ
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق انڈیا کے پاکستان اور اِس کے زیرِانتظام کشمیر میں کیے گئے میزائل حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے جبکہ 57 زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’معصوم شہریوں کے ناحق خون کے آخری قطرے تک کا حساب لیا جائے گا۔‘
دوسری طرف انڈین فوج کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی گولہ باری سے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں 15 شہری اور ایک انڈین سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ’انڈیا نے جارحیت کر کے جو غلطی کی اس کا خمیازہ اب اسے ضرور بھگتنا ہوگا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مختصر تبصرے میں کہا ہے کہ ’میں چاہتا ہوں کہ یہ معاملہ وہ خود حل کریں، میں چاہتا ہوں کہ وہ رک جائیں۔‘
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اپنی مرضی کے وقت، جگہ اور انداز میں جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ’انڈیا کی فوج نے پاکستان کے خلاف محتاط اور درست انداز میں کارروائی کی ہے۔ ہم نے صرف ان لوگوں کو مارا جنھوں نے ہمارے بے گناہوں کو قتل کیا۔‘
پاکستان کی فوج اور وزیر دفاع نے جوابی کارروائی میں متعدد انڈین طیارے اور ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
لائیو کوریج
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس شروع
انڈیا کی جانب سے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام
کشمیر میں مختلف مقامات پر میزائل حملوں کے بعد بلایا جانے والا قومی سلامتی کمیٹی
کا اجلاس پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت شروع ہو گیا ہے۔اجلاس میں انڈین حملوں کے بعد پیدا ہونے والی
صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف قوم سے خطاب کریں گے۔
یاد رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو انڈیا نے
پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں مختلف مقامات پر میزائلوں سے حملے کیے
تھے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف
چوہدری کے مطابق انڈین حملوں میں 26 شہری ہلاک جبکہ 46 زخمی ہوئے ہیں۔
’ہم اسے فوری طور پر ہسپتال لے گئے لیکن وہ دم توڑ چکی تھی‘, عامر پیرزادہ، بی بی سی نامہ نگار، سرینگر
پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایل او سی کے ساتھ واقع پونچھ ضلع کے رہائشی بووا سنگھ کا کہنا ہے کہ رات گئے ان کی بھانجی روبی کور کے گھر پر مارٹر گولہ گرا۔
انھوں نے بتایا کہ ’وہ اپنے شوہر کے لیے چائے بنانے کے لیے اٹھی تھی کیونکہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ مارٹر گولے کے چند ٹکڑے اس کے سر پر لگے اور شدید خون بہنے لگا۔ ہم اسے فوری طور پر قریبی ہسپتال لے گئے لیکن وہ دم توڑ چکی تھی۔‘
واضح رہے کہ منگل کی شب انڈیا کی جانب سے پاکستان کے مختلف مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد لائن آف کنٹرول پر دونوں افواج کی جانب سے شدید شیلنگ کی اطلاعات ہیں۔
بووا سنگھ نے بتایا کہ اس واقعے میں روبی کور کی بیٹی بری طرح زخمی ہوئی ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے اس سے پہلے کبھی اتنی شدید گولہ باری نہیں دیکھی۔‘
بووا سنگھ کا کہنا تھا کہ علاقے میں کوئی حفاظتی بنکر موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے مکین اپنے گھروں میں پناہ لینے پر مجبور تھے۔
انڈین حملے میں نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا: ڈی جی آئی ایس پی آر
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان فوج کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ انڈیا نے گذشتہ رات
کے حملے میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور
پراجیکٹ کو نشانہ بنایا اور اس دوران نوسیری ڈیم کے ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا پاکستان کے آبی ذخائر کو نقصان
پہنچانا چاہتا ہے اور انڈیا کی اس ’آبی دہشت گردی‘ کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
انھوں
نے سوال کیا کہ کیا جنگی قوانین اور بین الاقوامی قوانین اس بات کی اجازت دیتے ہیں
کہ کسی ملک کے آبی ذخائر اور ڈیمز کو نشانہ بنایا جائے؟
پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’ہائیڈرو سٹرکچرز اور آبی ذخائر کو نقصان پہنچانا ایک ناقابل قبول اور خطرناک حملہ ہے۔ کیا انڈیا پاکستان کے آبی ذخائر کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور کیا وہ جانتا ہے کہ اس کے کیا نتائج ہوں گے اور اس کا کیا مطلب ہے۔
پاکستان پر انڈین حملے کے بعد دونوں ملکوں کی سٹاک مارکیٹس میں مندی, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل اور بدھ کی درمیانی شب انڈیا کی جانب سے پاکستان اور
اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں حملوں اور اس کے جواب میں پاکستانی فوج کی کارروائی کے بعد بدھ کی صبح انڈیا اور پاکستان کی سٹاک ماکیٹس میں کاروبار کا
آغاز منفی انداز میں ہوا۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 6560 پوائنٹس کی کمی کے بعد انڈیکس
107007 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈیا کی نفٹی
50 انڈیکس 0.6 فیصد کمی کے بعد 24,233.3 پوائنٹس جبکہ بی ایس سی سینسیکس 0.86 فیصد کمی کے
ساتھ 79,948 پوائنٹس پر پہنچ گئیں۔
کاروبار کے دوران میں مارکیٹ فروخت کے دباؤ کا شکار نظر آئی۔
سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار پاکستان پر انڈیا کی جانب سے حملوں کو
سٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔
بدھ کی صبح جب پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز ہوا
تو سرمایہ کاروں کی جانب سے جلدی میں حصص کی فروخت دیکھی گئی۔
مارکیٹ تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹاک
مارکیٹ میں مندی کی وجہ انڈیا کی جانب سے گذشتہ رات کیا جانے والا حملہ ہے۔ ان کا
کہنا ہے آج جب کاروبار کا آغاز ہوا تو سرمایہ کاروں نے گھبراہٹ میں حصص فروخت کیے۔
ان کا کہنا ہے کہ انفرادی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں دونوں
کی جانب سے فروخت کا رجحان دیکھا گیا۔
جبران سرفراز کا کہنا ہے کہ کشیدگی اور جنگ کے دوران یہ ہوتا
ہے کیونکہ جن سرمایہ کاروں نے ادھار پر مال خریدا ہوتا ہے وہ مزید نقصان سے بچنے کے
لیے اسے بیچ کر کے مارکیٹ سے نکل جاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے آج بھی ایسا ہی ہوا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں
بڑی کمی دیکھی گئی۔
انڈیا نے سویلین آبادی اور مسجدوں کو نشانہ بنایا: پاکستانی فوج کے ترجمان
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ کے دوران مزید کہا کہ انڈیا نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کیا اور سویلین آبادی اور
مسجدوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا نے پاکستان میں مساجد کو نشانہ بنایا
جو اس تنگ نظر سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو مودی کی حکومت میں بڑھ رہی ہے جس میں اقلیتوں
بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
ترجمان پاکستان فوج نے یہ بھی کہا کہ ’یہ بھی یاد رہے کہ جن
جگہوں کو نشانہ بنیا گیا یہ وہی مقامات ہیں جہاں کل میڈیا بشمول بین الاقوامی میڈیا
نے دورہ کیا تھا اور دیکھا تھا کہ وہاں عام آبادی موجود ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے
انڈیا کے پانچ طیارے اور ایک جنگی ڈرون کو مار گرایا ہے۔
انڈیا نے پاکستان میں چھ مقامات کو نشانہ بنایا جس میں 26 شہری ہلاک جبکہ 46 زخمی ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
چھ اور سات مئی کی درمیانی شب انڈیا کی جانب سے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے متعدد مقامات پر کیے گئے انڈین حملوں کے بعد پاکستانی فوج کے ترجمان اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تفصیل بتا رہے ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب انڈیا نے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں چھ مختلف مقامات کو نشانہ بنایا جس میں 26 شہری ہلاک جبکہ 46 زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق اِن اموات کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں:
صوبہ پنجاب کے شہر احمد پور شرقیہ میں مسجد سبحان اللہ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 13 افراد مارے گئے ہیں۔ مرنے والوں میں تین برس کی دو بچیاں، سات خواتین اور چار مرد شامل ہیں۔ اس واقعے میں 37 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں نو خواتین اور 28 مرد ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر مظفر آباد کے قریب واقع مسجد بلال کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تین اموات ہوئیں جبکہ ایک بچی اور ایک لڑکا زخمی ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر کوٹلی میں مسجد عباس کو نشانہ بنایا گیا، جس سے 16 سال کی لڑکی اور 18 سال کا لڑکا ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے نتیجے میں ایک ماں اور بیٹی زخمی ہوئے ہیں۔
صوبہ پنجاب کے شہر مریدکے میں مسجد ام القرہ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں تین مرد ہلاک ہوئے جبکہ ایک زخمی ہے۔
پنجاب کے شہروں سیالکوٹ اور شکر گڑھ میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق اسی دورانیے میں لائن آف کنٹرول پر انڈیا کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پانچ شہری ہلاک ہوئے ہیں، جن میں پانچ سال کا ایک بچہ بھی شامل ہے۔
آپریشن سندور پہلگام میں ہمارے معصوم بھائیوں کے وحشیانہ قتل کا جواب ہے: انڈین وزیر داخلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور پہلگام میں ہمارے معصوم بھائیوں کے وحشیانہ قتل کا جواب ہے۔
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت انڈیا اور اس کے لوگوں پر کسی بھی قسم کے حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں طیارے کی تباہی کے بعد کے مناظر
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کو پلوامہ کے علاقے پام پور میں مقامی آبادی نے بتایا ہے کہ منگل کی شب یہاں ایک طیارہ گر کر تباہ ہوا۔
بی بی سی کے نامہ نگار اس وقت پام پور میں موجود ہیں، مزید تفصیلات ان سے جانتے ہیں۔
،ویڈیو کیپشنپام پور میں طیارے کی تباہی
چین نے پاکستان کے خلاف انڈین آپریشن کو ’افسوسناک‘ قرار دے دیا
چین نے پاکستان کے خلاف انڈیا کی فوجی کارروائی کو ’افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ انھیں انڈیا اور پاکستان میں جاری کشیدگی پر ’تشویش‘ تھی۔
چین کی وزارت خارجہ کے مطابق انھوں نے دونوں ملکوں کو ’تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسے اقدامات سے گریز کا مشورہ دیا تھا، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔‘
پام پور میں گرنے والے طیارے کے ملبے کی منتقلی، انڈین ایئر فورس کی ٹیم جائے وقوعہ پر موجود
،تصویر کا ذریعہRiaz Masroor
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ
کے قصبے پام پور میں گرنے والے ایک طیارے کے ملبے کو بلڈوزر کی مدد سے منتقل جا رہا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور اس وقت پام
پور میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی افراد کے مطابق انھوں نے جیٹ بمباروں کی زوردار آوازوں کے بیچ ایک بڑے دھماکے کی آوار سنی۔
ریاض مسرور کے مطابق قصبے کے مختلف حصوں میں گرنے
والے ایک جہاز کے ٹکروں کو جمع کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملبے کے معائنے کے لیے انڈین ایئر
فورس کی ایک ٹیم بھی جائے وقوعہ پر موجود ہے تاہم حکام کی جانب سے تاحال تصدیق نہیں کی گئی کہ یہ کون سا طیارہ تھا یا کس ملک کا تھا۔
،تصویر کا ذریعہRiaz Masroor
بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ جس مقام پر طیارہ گرا، اس جگہ کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا ہے اور کسی بھی شخص کو اس مقام تک جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
ریاض مسرور کا کہنا ہے کہ علاقے کے لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ جگہ پلوامہ کے اس مقام سے تھوڑی ہی دوری پر ہے جہاں پر سنہ 2019 میں ایک خودکش حملے میں 40 سے زیادہ انڈین فورسز اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔
،تصویر کا ذریعہRiaz Masroor
’کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں‘: لیفٹیننٹ گورنر کشمیر منوج سنہا
کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر کے سرحدی اضلاع میں پولیس، انتظامی اور ضلعی عہدیداروں اور ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔
ایکس پر اپنی ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’میں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوں اور حکومت کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ہر شہری کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔‘
واضح رہے کہ منگل کی شب انڈیا کی جانب سے پاکستان کے مختلف مقامات پر میزائل داغے جانے کے واقعات کے بعد لائن آف کنٹرول پر دونوں افواج کی جانب سے شدید شیلنگ کی اطلاعات ہیں۔
پاکستان کی جانب سے کئی انڈین پوسٹوں کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کیے گئے جبکہ انڈیا کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جن کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
دنیا کو دہشت گردی کے خلاف برداشت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے: انڈین وزیر خارجہ
انڈیا کے وزیر خارجہ جے ایس شنکر نے کہا ہے کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف برداشت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
ایکس پر اپنے پیغام میں جے ایس شنکر نے ایک تصویر بھی پوسٹ کی جس پر ’آپریشن سندور‘ کے الفاظ درج ہیں۔
اس تصویر کو ان خواتین کے حوالے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو پہلگام حملے میں اپنے شوہروں کی ہلاکت کے بعد بیوہ ہو گئی ہیں۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں حملے کے نتیجے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
انڈین حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے ’آپریشن سندور‘ کے تحت پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پونچھ میں شیلنگ سے سات افراد ہلاک، 32 زخمی
،تصویر کا ذریعہIshrat Butt
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پونچھ میں
شیلنگ سے کم از کم سات افراد ہلاک اور 32
زخمی ہو گئے ہیں۔
پونچھ کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ اظہر مجید کا کہنا ہے
کہ فی الحال شیلنگ رک گئی ہے اور حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اس سے قبل پونچھ کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر پرویز احمد
خان نے نمائندہ بی بی سی ریاض مسرور سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مینڈھر اور پونچھ میں
شیلنگ سے ایک خاتون سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
پہلگام حملے کے بعد سے انڈیا اور پاکستان دونوں ایک دوسرے
پر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور شہری آبادیوں پر شیلنگ کے الزامات عائد کرتے
رہے ہیں۔
منگل کی شب انڈیا کی جانب سے آپریشن سندور کے تحت پاکستان
کے مختلف مقامات پر میزائل داغے جانے کے واقعات کے بعد لائن آف کنٹرول پر دونوں افواج
کی جانب سے شدید شیلنگ کی اطلاعات ہیں۔
پاکستان کی جانب سے کئی انڈین پوسٹوں کو نشانہ بنائے جانے
کے دعوے کیے گئے ہیں جبکہ انڈیا کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے دعوے سامنے آ رہے ہیں
جن کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
اس سے قبل انڈین نیوز ایجنسی اے
این آئی نے انڈین فوج کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ’6 اور 7 مئی کی رات پاکستانی
فوج نے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے اُس پار، جموں و کشمیر کے سامنے
بلا اشتعال فائرنگ اور توپ خانے سے گولہ باری کی۔‘
انڈین فوج کا دعویٰ ہے کہ ’اس فائرنگ اور گولہ باری
کے نتیجے میں تین شہری ہلاک ہو گئے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز اور اے ایف پی نے بھی انڈین فوج کے حوالے سے کہا ہے
کہ پاکستان کی گولہ باری کے نتیجے میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تین انڈین
شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
انڈیا کا پاکستان کے مختلف مقامات پر حملہ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
انڈیا نے پہلگام حملے کے تناظر میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ اب تک کی معلومات کے مطابق انڈیا نے چھ مقامات پر مجموعی طور پر 24 حملے کیے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق اِن حملوں میں آٹھ عام شہری ہلاک اور 35 زخمی ہوئے ہیں۔
انڈین حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے ’آپریشن سندور‘ کے تحت پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں عام شہریوں یا فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ انڈیا کے میزائل حملوں کے بعد جوابی کارروائی میں پاکستان نے انڈین فضائیہ کے دو جنگی طیارے اور ایک ڈرون مار گرایا جبکہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی فضائیہ نے پانچ انڈین طیارے مار گرائے جبکہ متعدد یو اے ویز کو بھی تباہ کیا گیا تاہم انڈین فضائیہ کی جانب سے تاحال ان دعووں پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اپنی مرضی کی جگہ اور وقت پر اس جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
بریکنگ, انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں دو، بھٹنڈہ میں ایک طیارہ گر کر تباہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے وویان میں لوگ ایک طیارے کے ملبے کے پاس کھڑے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے چھ مقامات پر انڈین میزائل حملوں کے جواب میں متعدد انڈین طیارے گرانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’اب تک میں یہ تصدیق کر سکتا ہو کہ انڈیا کے پانچ طیارے جن میں تین رفال، ایک ایس یو 30، ایک مگ 29 اور ایک ہیرون ڈرون شامل ہے تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘
انڈین فضائیہ کی جانب سے تاحال ان دعووں پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے تاہم سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کو پلوامہ کے علاقے پام پور میں مقامی آبادی نے بتایا ہے کہ منگل کی شب ایک طیارہ مقامی سکول کی عمارت پر گر کر تباہ ہوا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ پر اس طیارے کے ملبے کی تصاویر گردش کر رہی ہیں لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ یہ طیارہ کون سا تھا اور اس کا تعلق انڈین فضائیہ سے تھا یا نہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے وویان میں لوگ ایک طیارے کے ملبے کے پاس کھڑے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ جموں کے ضلع رام بن میں بھی منگل کی شب ایک طیارہ تباہ ہوا ہے۔
ضلع رام بن کے علاقے پنتھیال کے سرپنچ ظہور احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے گاؤں میں بدھ کی شب جیٹ طیاروں کی آواز کے ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے بعد وہ خود پولیس کے ہمراہ جائے واردات پر پہنچے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے وویان میں گرنے والے طیارے کے ملبے کا ٹکرا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’جہاز تباہ ہو چکا ہے تاہم اس کی شناخت کے لیے پولیس اور فوج کے اہلکار اس کا معائنہ کر رہے ہیں۔‘
نامہ نگار کے مطابق اس کے علاوہ انڈیا کی ریاست پنجاب کے ضلع بھٹنڈہ میں بھی طیارہ گرنے کی اطلاعات ہیں تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ طیارہ اکلیان کلاں نامی گاؤں کے قریب گر کر تباہ ہوا اور اس واقعے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں۔
ان دونوں طیاروں کی تباہی کے بارے میں بھی انڈین فضائیہ نے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
ادھر ایئرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا کے مطابق سرینگر ایئرپورٹ کو انڈین فضائیہ نے اپنی تحویل میں لے کر سرینگر آنے اور جانے والی سبھی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
فضائی حدود کی بندش، قطر ایئر ویز کا پاکستان کے لیے پروازیں معطل کرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطر ایئر ویز کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان کے لیے اپنی
پروزیں بند کر دی ہیں۔
ایئر لائنز کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عارضی
طور پر پروازیں بند کرنے کا فیصلہ پاکستان کی جانب سے 48 گھنٹے کے لیے اپنی فضائی
حدود بند کرنے کے اعلان کے بعد کیا گیا۔
قطر ایئر ویز کی جانب سے مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی فلائٹ سے متعلق مزید جاننے کے لیے کمپنی کی ویب سائٹ یا کال سینٹر سے رابطہ
کریں۔
مریدکے میں انڈین حملے کے بعد بی بی سی نے کیا دیکھا؟
پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق انڈیا کی جانب سے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں احمدپور شرقیہ، مریدکے، سیالکوٹ اور شکر گڑھ جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کوٹلی اور مظفرآباد کو نشانہ بنایا گیا۔
بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ اس وقت مریدکے میں حملے کی جگہ پر موجود ہیں اور ہمیں وہاں کی صورتحال کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
،ویڈیو کیپشنمریدکے میں انڈین حملے کے بعد بی بی سی نے کیا دیکھا؟
مریدکے میں انڈین حملے کا نشانہ بننے والی عمارت سے ایک اور لاش برآمد
بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کا کہنا ہے کہ مریدکے میں انڈین حملے کا نشانہ بننے والی عمارت کے ملبے میں سے ایک اور لاش نکالی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ریسکیو ورکرز نے سیڑھی لگا کر عمارت کی
چھت پر موجود لاش کو اتارا۔
اس مقام پر امدادی کارکن ریسکیو کی گاڑیاں، کرین، فائر بریگیڈ اور ایمبولینسز کھڑی ہوئی ہیں اور اب سے تھوڑی دیر پہلے ہم نے دیکھا کہ ریسکیو ورکرز سیڑھی لگا کر عمارت کے اندر چڑھنے کی کوشش کر ر ہے تھے۔
سکول اور ہسپتال کی عمارت کے ساتھ کچھ اور بھی عمارتیں تھیں جو دیکھنے میں ایسا لگ رہا ہے کہ کوئی رہائشی کمپلیکس تھا۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جب حملہ ہوا تو اس وقت یہاں زیادہ لوگ موجود نہیں تھے بلکہ پہلے ہی نکل چکے تھے اور یہی بی بی سی کے نامہ نگار نے دیکھا کہ یہاں زیادہ موومنٹ نہیں اور یہ تقریباً پورا خالی پڑا ہے۔
نامہ نگار عمر دراز کے مطابق ’اہم باہر والے علاقے میں جہاں باڑ لگی ہوئی ہے اور جس کو سکیورٹی پولیس اور رینجرز کی جانب سے گھیرے میں لیا گیا۔
اس کے دوسری جانب لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو یہ دیکھنے کے لیے موجود ہے کہ یہاں کیا ہوا۔‘
عینی شاہدین کا بھی یہ کہنا ہے کہ جس وقت حملہ ہوا اس وقت وہاں پر بہت بڑا دھماکہ ہوا ۔ یہاں جو دکانیں ہیں وہ اس وقت بند ہے گو کہ پولیس لوگوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
بریکنگ, ’پاکستان اپنی مرضی کی جگہ اور وقت پر اس جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے‘
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو ’انڈیا کی کھلم کھلا جارحیت اور اس سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات‘ سے آگاہ کیا ہے۔
بیان کے مطابق ’سکیورٹی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنی مرضی کے وقت اور جگہ پر اس جارحیت کا مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘
’یہ بروقت ثالثی کا وقت ہے‘, مائیکل کوگلمین، تجزیہ کار، واشنگٹن
یہ بروقت ثالثی کا وقت ہے۔
انڈین حملے اور پاکستان کی طرف سے جوابی حملے کی وارننگ کے بعد اب کشیدگی میں اضافے کے خطرات اس سے کہیں زیادہ ہیں جو پچھلے کچھ برسوں میں نہیں تھے۔
ان ابتدائی کارروائیوں کی نوعیت کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے درمیان مزید دشمنی کا امکان ہے۔
بین الاقوامی برادری اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں گزشتہ ماہ ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی جانی چاہیے لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
کوئی بھی ایسی دنیا میں جنگ نہیں چاہے گا جہاں پہلے ہی جنگیں جاری ہیں اور وہ بھی دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ۔
انڈیا اور پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے والے ممالک، جیسے امریکہ اور عرب خلیجی ریاستوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری کشیدگی شروع ہونے سے پہلے صورتحال کو سلجھانے کی کوشش کریں۔