ٹرمپ اور نتن یاہو کا غزہ کے لیے نئے امریکی امن منصوبے پر اتفاق، حماس کو اسے قبول کرنے کی تنبیہ

وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو کے ساتھ غزہ امن مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ ’بہت قریب ہے‘۔ دونوں رہنماؤں نے 20 نکاتی امن منصوبے کی حمایت کی ہے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ اسے یہ تجویز باضابطہ طور پر نہیں بھیجی گئی۔

خلاصہ

  • اسرائیل اور حماس امن منصوبے سے کچھ ناخوش ہو سکتے ہیں: ترجمان وائٹ ہاؤس
  • پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت ریکارڈ چار لاکھ روپے سے تجاوز
  • غزہ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے کا 'بہت اچھا ردعمل' مل رہا ہے: صدر ٹرمپ
  • چین میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد کو سزائے موت
  • ایران پر تقریباً ایک دہائی بعد اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایک بار پھر معاشی اور عسکری پابندیاں عائد

لائیو کوریج

  1. عمران خان کوئی ایک نام بتا دیں جو ان کے پاس ڈیل کی آفر لے کر گیا ہو: وزیر داخلہ محسن نقوی

    پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کوئی ایک نام بتا دیں جو ان کے پاس ڈیل کی آفر لے کر گیا ہو۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھیں بار بار ڈیل کی آفر ہوئی۔

    سابق وزیراعظم کے اکاؤنٹ سے ہونے والی اس ٹویٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’مجھے بار بار ڈیل آفر ہوئی اور کہا گیا کہ ملک چھوڑ کر چلا جاؤں یا خاموش ہو جاؤں تو میرے کیسز ختم کر دیے جائیں گے لیکن پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ میں ان مقدمات کا سامنا عدالتوں سے کر کے ہی باہر آؤں گا کسی ڈیل کے نتیجے میں ہرگز نہیں۔ اسی لیے مجھ پر بے بنیاد 300 مقدمات بنائے گئے۔ کوئی بھی اور شخص ہوتا تو ان مقدمات کا سامنا نہیں کر پاتا لیکن میں جانتا ہوں کہ میں بے گناہ اور حق پر ہوں۔‘

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے عمران خان کی اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’کیا آپ کسی ایک شخص کا نام لے سکتے ہیں جو آپ کے پاس آفر لے کر آیا ہو کہ ہم آپ کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

    محسن نقوی نے مزید لکھا کہ ’صرف ایک نام۔ لوگ پہلے ہی آپ کے جھوٹ سے تنگ ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. ٹرمپ کی وزیراعظم اور آرمی چیف سے ملاقات جسے خواجہ آصف نے ’ہائبرڈ نظام کی پارٹنر شپ کی کامیابیوں کا تسلسل‘ قرار دیا

    پاکستان کے وزیرِ دفاع اور حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما خواجہ آصف نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کو ’بے مثال پیشرفت‘ قرار دیا ہے۔

    ایکس پر اپنی ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’انڈیا پر فتح، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور پاکستان امریکہ تعلقات میں بے مثال پیشرفت۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’2025 کامیابیوں سے بھر پور سال الحمدوللہ ۔ہائبرڈ نظام کی پارٹنر شپ کی کامیابیوں کا تسلسل۔ اللہ اکبر۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. ڈونلڈ ٹرمپ کی شہباز شریف اور عاصم منیر سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات: ’پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بہترین شخصیات ہیں‘

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے۔

    پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں اس ملاقات کو خوشگوار قرار دیا گیا جبکہ پاکستان انڈیا جنگ روکنے اور قیام امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے اُنھیں ’مین آف پیس‘ کہا گیا۔

    سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ وہ مشرقِ وسطی کشیدگی اور خاص کر فلسطین میں جنگ بند کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق اس ملاقات میں خطے کی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی میں تعاون پر بات بھی کی گئی۔

    وزیراعظم پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے امریکیوں کمپنیوں کو پاکستان کے زرعی، معدنیات اور توانائی شعبے میں سرکایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

    جمعرات کو صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نیویارک سے واشنگٹن پہنچے۔ اوول آفس میں ہونے والی اس ملاقات میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور سیکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔

    رواں ہفتے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر سے یہ دوسری ملاقات ہے۔

    اس سے قبل غزہ کے معاملے پر منتخب اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر بھی اُن کی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوئی تھی۔

    یاد رہے کہ رواں سال جون میں امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ظہرانہ پر مدعو کیا تھا لیکن اُس ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اُن کے ساتھ نہیں تھے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات سے قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ ’دو عظیم رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل دونوں ہی بہترین شخصیات ہیں۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے پہنچنے میں کچھ تاخیر ہو رہی ہے ، وہ خوبصورت اوول آفس پہنچ چکے ہیں، ابھی کچھ دیر میں ان سے ملاقات ہوگی۔‘

    پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ میں ہیں۔ وہ جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔

  4. سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں مارے جانے والے زبیر بلوچ ایڈووکیٹ کون تھے؟, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    زبیر بلوچ

    ،تصویر کا ذریعہ@BalochInsight

    بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ مبینہ طورپر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کی بنیاد پر بلوچستان کے شہر دالبندین میں جب سکیورٹی فورسز کے اہلکار زبیر بلوچ ایڈووکیٹ کی گرفتاری کے لیے گئے تو انھوں نے گرفتاری دینے کی بجائے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اہلکاروں پر حملہ کیا۔

    انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں زبیربلوچ سمیت دو افراد ہلاک ہوئے۔

    اسلام آباد میں اس واقعے کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ضلع چاغی میں ایئرفورس کے گرائونڈ کے عملے کے دو اہلکاروں کی فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاکت کے بعد زبیر بلوچ کی نگرانی کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

    سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں زبیربلوچ کے مارے جانے کے خلاف جمعرات کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

    حقوق انسانی کی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ زبیر بلوچ کو طویل عرصے سے جانتی تھیں اور وہ ایک پرامن سیاسی کارکن تھے۔

    نیشنل پارٹی، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز سمیت متعدد وکلا نے زبیربلوچ ایڈووکیٹ کے قتل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    زبیربلوچ ایڈووکیٹ کون تھے؟

    زبیر بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ضلع کوئٹہ سے ملحقہ ضلع مستونگ سے تھا۔

    انھوں نے ابتدائی تعلیم مستونگ اور کوئٹہ سے حاصل کی جبکہ یونیورسٹی آف بلوچستان سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔

    نیشنل پارٹی کے رہنما علی احمد بلوچ نے بتایا کہ وہ شادی شدہ تھے اور ان کا چار سال کا ایک بیٹا ہے۔ انھوں نے سیاست کا آغاز زمانہ طالبعلمی سے کیا اوروہ بلوچ قوم پرست طالب علموں کی تنظیم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار سے وابستہ رہے۔

    بی ایس او پجارکا سیاسی اور نظریاتی حوالے سے تعلق نیشنل پارٹی سے ہے جو نہ صرف پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے بلکہ وہ پاکستان کے نظام اور آئین میں رہتے ہوئے بلوچستان کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔

    زبیربلوچ بی ایس او پجار کے مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ اس تنظیم کے مرکزی آرگنائزر رہنے کے علاوہ 2019 سے 2022 تک وہ اس کے چیئرمین کے عہدے پربھی فائزرہے۔

    تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد زبیربلوچ نے وکالت کو بطور پیشہ اختیار کیا۔

    وہ ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر میں گذشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے سے وکالت کر رہے تھے اور وہ وہاں ایک کرائے کے مکان میں رہائش پزیر تھے۔

    لوگوں کی جبری گمشدگی کے خلاف اور ان کی بازیابی کے لیے کوئٹہ میں جومظاہرے ہوتے زبیربلوچ ان میں شریک ہوتے تھے۔

    ان مظاہروں سے خطاب میں نہ وہ صرف حکومتی اداروں بلکہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور متعدد دیگر شخصیات کا نام لے کر ان کو شدید تنقید کا نشابنہ بناتے تھے۔

    پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ نے ان کی ہلاکت کے بارے میں کیا بتایا؟

    بُدھ کے روز دالبندین میں زبیر بلوچ کی ہلاکت کے بعد سماجی رابطوں کی میڈیا پران کے مارے جانے کی خبروں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ لیکن وہاں کی سویلین انتظامیہ اور پولیس حکام کے علاوہ صوبائی سطح پر حکام نے میڈیا کو اس سلسلے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی بلکہ 24 گھنٹے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد وزیر اعلیٰ نے خوداسلام آباد میں اس کی تفصیلات بتائیں۔

    وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ’ہمارے ایئرفورس کے دو اہلکاروں کو رواں سال مئی کے مہینے میں دالبندین میں قتل کیا گیا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئیں توانھوں نے زبیربلوچ عرف شاہ جی کا نام لیا۔ اس کے بعد ان کا تکنیکی اور انسانی انٹیلیجنس کے ذریعے آبزرویشن شروع کی گئی۔

    انھوں نے بتایا کہ جب زبیربلوچ اوران کے ساتھیوں کی نشاندہی ہوئی تو 24 ستمبر کوان کی گرفتاری کے لیے علی الصبح انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کی گئی۔

    ان کا کہنا تھا اس کارروائی کے آغاز سے پہلے مساجد سے لاؤڈ سپیکرز سے اعلانات کیے گئے اور ان کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ سرینڈر کریں لیکن ایسا کرنے کی بجائے وزیر اعلیٰ کے بقول لاؤڈ سپیکر سے اعلانات شروع ہونے کے ساتھ ہی انھوں نے سکیورٹی فورسز پر فائر کھول دیا، جس میں ایف سی کا ایک اہلکار شدید زخمی ہوا۔

    وزیراعلیٰ کے مطابق فورسز کے جوانوں نے جوانمردی سے مقابلہ کیا اور اس میں زبیر بلوچ اور ان کے ساتھی نثار احمد مارے گئے۔

    انھوں نے کہا کہ ان کے تیسرے ساتھی جہانزیب نے سرینڈر کیا اور اس پریس کانفرنس میں ان کا ایک اعترافی ویڈیو بیان بھی چلایا گیا۔

    ان کے اعترافی ویڈیو بیان سے ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ کوئی تحریری بیان پڑھ رہے ہیں۔

    اعترافی بیان میں انھوں نے بتایا کہ ان کا تعلق کوئٹہ میں سمنگلی روڈ سے ہے اور وہ مارے جانے والے زبیرایڈووکیٹ اور نثاراحمد کے ساتھ مل کر کام کرتے تھے۔

    جہانزیب نے الزام عائد کیا کہ زبیر ایڈووکیٹ گذشتہ دو سال سے تنظیم سے وابستہ تھا اور وہ مبینہ طورپرتنظیم کے ساتھیوں کو اپنے ٹھکانے پر پناہ دینے کے علاوہ تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرتا تھا۔

    جہانزیب نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے ہتھیار ڈال دیے جس پرسکیورٹی فورسز نے مجھے گرفتار کیا۔‘

    جہانزیب کے بقول ’دونوں قریبی ساتھیوں کے مارے جانے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ مسئلے کا حل لڑائی جھگڑے میں نہیں ہے اورہمارے معاشرے میں بی ایس او اور بی وائی سی جیسی تنظیموں کا کردار گمراہ کن ہے‘۔

    وہ ایک پرامن علاقے میں حالات کو خراب کرنا چاہتا تھا‘

    ایک سوال پر وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد کے بارے میں ان کے پاس ٹھوس شواہد ہیں۔

    وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ شدت پسند تنظیمیں انفرادی طور پر کام کرنے کے علاوہ اجتماعی طور پر بھی کام کرتی ہیں اور اس سلسلے میں براس یعنی بلوچ راجی آجوئی سنگر کے علاوہ زراب کے نام سے بھی ایک تنظیم ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دالبندین ایران اور افغانستان کے قریب واقع ایک سٹریٹیجک سرحدی علاقہ ہے اور پچھلے کئی دہائیوں سے یہ پرامن رہا ہے۔

    ان کے بقول زبیر بلوچ کا سب سے بڑا کام یہ تھا کہ وہ اس علاقے میں کالعدم بی ایل اے کے لیے ریکروٹمنٹ کرتے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ وہاں معدنیات کے ذخائر ہیں اور اس علاقے میں چینیوں کی بھی ونقل و حمل ہے۔ وہ وہاں چینیوں کی نقل و حمل کو مانیٹر کرتا تھا اور ایف سی کی ہیڈکوارٹر پر حملے کا منصوبہ بندی کرتا تھا۔

    ’زبیر بلوچ جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک توانا آواز تھے‘

    حقوق انسانی کی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ نے فون پر بتایا کہ زبیربلوچ کو میں 2013 سے جانتی تھی اوران کے بقول وہ دہشت گرد نہیں تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’ہم طویل عرصے سے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے خلاف مظاہروں میں شریک ہوتے رہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ معروف مصنف میرعلی محمد تالپور کی کتاب کی نمائش پرزبیربلوچ کو خود 9 ماہ تک جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور پھر ان کو چھوڑ دیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں کبھی سخت لائن اختیار کرتی تو وہ مجھے سمجھاتے تھے کہ کامریڈ ایسا نہ کرو کیونکہ کسی مشکل میں پڑجائو گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ زبیربلوچ جیسے سیاسی کارکن پرسرکاری حکام کی جانب سے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ کم ازکم مجھے ہضم نہیں ہورہے ہیں۔

    بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ زبیربلوچ لاپتہ افراد کے معاملے میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے اور وہ اس حوالے سے مظاہروں میں شرکت کرتے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیانی کے لیے ہونے والی جدوجہد میں ایک توانا آواز تھے لیکن انھیں مبینہ طور پر ریاستی اداروں نے خاموش کردیا۔

    زبیربلوچ کی ہلاکت کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ

    زبیربلوچ کے قتل کے واقعے کے خلاف وکلا نے بطور احتجاج جمعرات کے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نہ صرف عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کیا بلکہ مستونگ میں عدالت میں سیاہ پرچم بھی آویزاں کیے گئے۔

    نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ماورائے عدالت قرار دیا اور اس سلسلے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

    نیشنل پارٹی کے ترجمان علی احمد بلوچ نے کہا کہ جب سرکار کسی کو مارتی ہے تو اس کے بعد اسی طرح کی باتیں کرتی ہے جو کہ زبیربلوچ کے خلاف کی گئیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ زبیربلوچ ایک پرامن سیاسی کارکن تھا اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کے قتل کے واقعے کا آزادانہ طورپر تحقیقات کی جائیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمارا موقف یہ ہے کہ بلوچستان کے مسائل سیاسی ہیں اور ان کے حل کے لیے مذاکرات کرنے چائیے۔‘

    بی ایس او پجار کے چیئرمین بوہیر بلوچ نے بتایا کہ وہ زبیر بلوچ کے ساتھ بی ایس او کے وائس چیئرمین کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے تھے اس لیے انھوں نے پاکستان کے عدالتوں میں آئینی اور قانونی جنگ لڑنے کا راستہ اپنایا۔

    حقوق انسانی کے کارکن عمران بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ زبیربلوچ گذشتہ دو ڈھائی سال سے وکالت کررہے تھے اور پانچ چھ ماہ تک کوئٹہ میں وکالت کے بعد وہ دالبندین گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ اگر وکیل معاشی طور پرکمزور ہوں تو بڑے شہروں میں ان کا گزارا کرنا مشکل ہوتا ہے اس لیے زبیر نے دالبندین کا انتخاب کیا کیونکہ جونیئر وکلا کے لیے چھوٹے شہروں میں گزارہ کرنا آسان ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ زبیربلوچ دالبندین میں وکالت کررہے تھے اور وہ وہاں مقدمات میں عدالت میں پیش ہوتے تھے اس لیے اگر ان پر کوئی الزام تھا تو ان کو آسانی سے گرفتار کیا جا سکتا تھا لیکن ایسا کرنے کی بجائے ان کے گھر پر صبح چار بجے کارروائی کی گئی۔

    بلوچستان بار کونسل کے رکن اور سابق وائس چیئرمین راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’بطور وکیل میرا مطالبہ یہ ہے کہ اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری ہونی چائیے۔‘

  5. ٹرمپ، اردوغان ملاقات: امریکی صدر کا ترکی کو ایف 16 اور ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کا عندیہ

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں لگتا ہے کہ ترکی امریکہ سے ایف 16 اور ایف 35 لڑاکا طیارے خریدنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

    جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

    اس موقع پر ایک صحافی کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے خیال میں وہ (اردوغان) وہ چیزیں خریدنے میں کامیاب رہیں گے جو وہ خریدنا چاہتے ہیں۔‘ یہاں امریکی صدر کا اشارہ ایف 16 اور ایف 35 لڑاکا طیاروں کی جانب تھا۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’انھیں (اردوغان کو) کچھ چیزوں کی ضرورت ہے اور مجھے بھِی کچھ چیزوں کی ضرورت ہے۔‘

    ترکی کے پاس ایف 35 طیارہ کبھی نہیں رہا ہے اور یہ امریکہ کے پاس موجود سب سے جدید ترین طیارہ ہے۔ سنہ 2019 میں ترکی اور امریکہ مشترکہ طور پر یہ طیارہ بنانے کی تیاری کر رہے تھے لیکن پھر انقرہ کے روس سے ایس 400 ڈیفینس سسٹم خریدنے کے معاملے پر یہ مشترکہ پروگرام بند ہو گیا۔

    ترکی کے صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ انھیں وائٹ ہاؤس آکر ’اچھا‘ لگا اور انھیں یقین ہے کہ وہ اور صدر ٹرمپ ’ترکی اور امریکہ کے تعلقات کو مختلف سطح پر لے جائیں گے۔‘

    ان کا بھی کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے پاس اس ملاقات میں ایف 35 اور ایف 16 طیاروں پر گفتگو کرنے کا موقع ہوگا۔

    اس دوران صدر ٹرمپ سے روس اور یوکرین سے متعلق سوالات بھی پوچھے گئے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہیں گے کہ ترکی روس سے تیل خریدنا بند کر دے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یوکرین کے خلاف جنگ کے سبب ’لاکھوں زندگیاں متاثر‘ ہوئی ہیں۔

    ٹرمپ کے مطابق یوکرین اور روس دونوں کے سربراہان ہی ترکی کے صدر کی ’بہت عزت‘ کرتے ہیں اور اگر وہ چاہیں تو اپنا ’اثر و رسوخ‘ استعمال کر سکتے ہیں۔

  6. اردوغان، ٹرمپ ملاقات: ترک صدر ایف 35 طیارے خریدنے کے معاہدے میں دلچسپی لیں گے, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، وائٹ ہاؤس

    ایف 35

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر آج ترکی کے صدر اردوغان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے اور یقیناً مہمان صدر چاہیں گے کہ ان کی یہ ملاقات ایف 35 طیاروں کی فروخت کے معاہدے پر ختم ہو۔

    ترکی کے پاس ایف 35 طیارہ کبھی نہیں رہا ہے اور یہ امریکہ کے پاس موجود سب سے جدید ترین طیارہ ہے۔ سنہ 2019 میں ترکی اور امریکہ مشترکہ طور پر یہ طیارہ بنانے کی تیاری کر رہے تھے لیکن پھر انقرہ کے روس سے ایس 400 ڈیفینس سسٹم خریدنے کے معاملے پر یہ مشترکہ پروگرام بند ہو گیا۔

    ماضی میں امریکی اراکینِ کانگرس شمالی شام میں فوجی کارروائیوں اور یونان کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر ترکی پر متعدد مرتبہ تنقید کرتے رہے ہیں۔

    سنہ 2020 میں امریکہ میں ایک دفاعی بِل بھی منظور کیا گیا تھا جس کے تحت ترکی کو ایف 35 طیاروں کی فروخت پر پابندی عائد ہو گئی تھی۔ اس بِل کے مطابق ترکی کو ایف 35 طیارے صرف اس صورت میں فروخت کیے جا سکتے ہیں کہ وہ روس سے ایس 400 سسٹم خریدنے کا ارادہ ترک کر دے۔

    ترکی کو ایف 35 طیارے فروخت کرنے یا اس متعلق کوئی بھی معاہدہ کرنے سے قبل امریکی صدر کو کانگرس کی اجازت درکار ہوگی۔ وہ پُرامید ہیں کہ انھیں یہ اجازت مل جائے گی لیکن ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت بھی متوقع ہے۔

    اردوغان کو امید ہو گی کہ ملک میں امریکی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے جیسے اقدامات ضرور ان کے حق میں جائیں گے اور اس کا ایف 35 طیارے سے متعلق کسی بھی معاہدے پر مثبت فرق پڑے گا۔

  7. فلسطینی صدر محمود عباس کا حماس اور دیگر مسلح دھڑوں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ, بی بی سی عربی

    فلسطینی صدر محمود عباس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس اور دیگر مسلح تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔

    جمعرات کو اقوامِ متحدہ میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی فلسطینی علاقوں کا اٹوٹ انگ ہے اور حماس کا حکومت میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔

    خیال رہے امریکہ نے محمود عباس کی ویزا درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد انھوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اقوامِ متحدہ سے خطاب کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل جو کر رہا ہے وہ صرف جارحیت نہیں ہے بلکہ جنگی جرم ہے اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔‘

    محمود عباس نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل کے حملے کو بھی ’مسترد‘ کیا اور کہا کہ وہ ان ’اقدامات‘ کو مسترد کرتے ہیں۔

  8. معمر قذافی سے لاکھوں یورو کے فنڈز لینے کا مقدمہ: فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کو پانچ سال قید کی سزا

    فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کو لیبیا کے صدر معمر قذافی سے لاکھوں یورو کے غیر قانونی فنڈز لینے کے مقدمے میں مجرمانہ سازش کا الزام ثابت ہونے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    پیرس کی فوجداری عدالت نے اس کیس میں انھیں دیگر تمام الزامات جیسے کرپشن اور انتخابی مہم کے لیے غیر قانونی طور پر مالی مدد لینے کے الزمات سے بری کر دیا ہے۔

    سماعت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے 70 سالہ نکولس سرکوزی نے کہا کہ یہ فیصلہ ’قانون کی حکمرانی کے لیے انتہائی اہم‘ ہے۔

    واضح رہے کہ نکولس سرکوزی سنہ 2007 سے 2012 تک فرانس کے صدر رہے۔

    سرکوزی کا دعویٰ ہے کہ اس کیس کے ذریعے انھیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا تاہم ان پر الزام تھا کہ انھوں نے قذافی سے ملنے والے فنڈز کو سنہ 2007 کی انتخابی مہم کے لیے استعمال کیا تھا۔

    استغاثہ کا یہ بھی الزام تھا کہ سرکوزی نے قذافی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مغربی ممالک کے سامنے ان کی ساکھ بہتر کرنے میں مدد کریں گے۔

    سرکوزی کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور عدالتی حکم نامے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اگر اپیل بھی کرتے ہیں تو انھیں یہ وقت جیل میں ہی گزارنا ہو گا۔

    اس کے علاوہ عدالت نے سرکوزی کو ایک لاکھ یورو جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

  9. 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی

    190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت نیب پراسیکیوٹر کی علالت کے باعث بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستوں پر مزید سماعت اب 16 اکتوبر کو ہو گی۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیلوں پر سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، عمران خان کی بہنیں اور وکلا عدالتی کارروائی کا حصہ بنے۔

    درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے کیس کی پیروی کی۔

    بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو کمرہ عدالت تک پہنچنے میں پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا۔

    ’آج عدالت کے باہر ملٹی لیئر سکیورٹی رکھی گئی تھی۔ کورٹ روم پہنچنے میں رکاوٹیں اور دقت پیش آئی۔‘ جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ وہ معذرت خواہ ہیں۔

    نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کے سپیشل پراسیکیوٹر شدید بیمار ہیں اور آج عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں گے۔

    بیرسٹر سلمان صفدر نے نیب پراسیکیوٹر کی عدم پیشی پر کہا کہ نیب اس کیس میں ہمیشہ تاخیری حربے سے کام لیتا ہے۔ ’میں ساری رات کیس کی تیاری کرتا رہا ہوں ان کو کم از کم مجھے اگاہ کرنا چاہیے تھا۔‘

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیب کو کاروائی اگے بڑھانے کا آخری موقع دیا جاتا ہے ورنہ ڈی جی نیب کو طلب کیا جائے گا۔

    بعد ازاں عدالتی عملے نے وکلا کو کیس کی آئندہ تاریخ 16 اکتوبر مقرر ہونے کے بارے میں آگاہ کیا۔

  10. جعلی ڈگری کیس: دنیا میں کہاں ہوتا ہے کہ ایک جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہو، جسٹس جہانگیری, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    جسٹس جہانگیری

    ،تصویر کا ذریعہX

    سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق جہانگیری کی مبینہ جعلی ڈگری کیس میں فریق بننے کی درخواست سمیت سات درخواستیں عدم پیروی پر نمٹا دی ہیں۔

    سماعت کے دوران جسٹس طارق محمود جہانگیری کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک جج ملزم بن کر کٹہرے میں کھڑا ہو۔

    ’میں اللہ اور اس کے نبی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے حلف کی پاسداری کی۔ میری ڈگری اصلی ہے اور میں نے تمام امتحان دیے ہیں۔ میں نے کوئی ٹاوٹی نہیں کی اور کسی سیکٹر کمانڈر کے کہنے پر فیصلہ نہیں کیے۔‘

    واضح رہے کہ جسٹس طارق جہانگیری کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک شہری کی جانب سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت جامعہ کراچی سے جسٹس طارق محمود جہانگیری کا تعلیمی ریکارڈ حاصل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود جسٹس طارق محمود کی پروفائل کے مطابق اُنھوں نے قانون کی ڈگری کراچی یونیورسٹی سے الحاق شدہ اسلامیہ لا کالج سے 1991 میں حاصل کی تھی۔

    کراچی یونیورسٹی کے ترجمان کی جانب سے سینیڈیکٹ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا تھا کہ اجلاس میں ’ان فیئر مینز کمیٹی‘ کی سفارشات کی روشنی میں کئی طلبہ کی ڈگریوں اور انرولمنٹ کی منسوخی کا فیصلہ کیا گیا۔

    سینڈیکیٹ کے اس فیصلے کے خلاف ایڈووکیٹ عارف اللہ خان اور محمد طاہر شبیر ایڈووکیٹ نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ بار، اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور کراچی بار بھی اس میں فریق بن گئے۔ ان کا موقف تھا کہ کراچی یونیورسٹی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کا فیصلہ غیر شفاف طریقے سے کیا۔

    سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا اور جسٹس عدنان کریم پر مشتمل آئینی بینچ کے روبرو جمعرات کو اس مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس ثمن رفعت بھی پیش ہوئے۔

    جسٹس جہانگیری نے موقف اختیار کیا کہ انھوں نے بھی اس مقدمے میں فریق بننے کی درخواست دائر کی، انھیں کبھی کراچی یونیورسٹی کی جانب سے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

    آئینی بینچ نے سربراہ جسٹس کے کے آغا نے انھیں کہا کہ وہ پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ دیکھیں گے۔

    انھوں نے سوال کیا کہ جس نے کیس فائل کیا، وہ وکلا کہاں ہیں؟ اس پر اسلام آباد بار کے وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص کو شامل کیے بغیر کیسے درخواست قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کیا کیا جا سکتا ہے؟

    جسٹس جہانگیری کے وکیل بیریسٹر صلاح الدین احمد نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض کیا اور کہا کہ نومبر 2024 میں جسٹس صلاح الدین پہنور کے ساتھ جسٹس عدنان کریم شامل تھے، ایک جوڈیشل آرڈر جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جس کیس میں فاروق ایچ نائیک وکیل ہوں اس میں جسٹس عدنان کریم شامل نہیں ہوں گے۔

    ’کچھ دن پہلے یہ مقدمہ جسٹس یوسف علی سعید کے بینچ میں لگا ہوا تھا 30 ستمبر کو کیس فکس تھا پھر یہ 25 ستمبر کو کیسے لگ گیا اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ لہذا جس طرح یہ کیس یہاں لگایا گیا، انھیں اس پر اعتراض ہے۔‘

    یاد رہے کہ جسٹس عدنان کریم سینیئر وکیل اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک کے جونیئر رہے ہیں۔

    سماعت کے دوران انھوں نے بیریسٹر صلاح الدین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں۔

    ’آپ مجھ پر اعتراض کر رہے ہیں کہ مجھے یہ کیس نہیں سننا چاہیے۔‘

    جسٹس عدنان کریم نے بتایا کہ فاروق ایچ نائیک اب کیس میں نہیں ہیں لہذا وہ اب یہ کیس سن سکتے ہیں۔‘

    بریسٹر صلاح الدین نے انھیں کہا کہ وہ اپنے اعتراض پیش کررہے ہیں اگر انھیں لگتا ہے کہ وہ یہ کیس سن سکتے ہیں تو ان کے اعتراضات مسترد کر دیں۔

    اسلام آباد بار کے وکیل فیصل صدیقی نے اعتراض کیا کہ آئینی بینچ یہ کیس نہیں سن سکتا، جسٹس عدنان کریم نے اس کو مسترد کیا کہ اور کہا کہ آئینی بینچ تمام قسم کے کیسز سن سکتا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بھی ان کی تائید کی اور کہا کہ آئینی بینچ تمام قسم کے کیسز سن سکتا ہے۔

    جسٹس عدنان کریم نے کہا کہ وہ انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہیں ناانصافی نہیں کرسکتے، جس کے دوران فریقین کے وکلا عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر کے چلے گئے اور عدالت نے درخواست عدم پیروی پر نمٹا دی۔

    واضح رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چھ ججز میں شامل تھے جنھوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک مشترکہ خط لکھ کر عدالتی امور میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

    گزشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی امور کی انجام دہی سے روک دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں اسلام آباد کے دو رکنی بینچ نے یہ حکم جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری مبینہ طور پر جعلی ہونے سے متعلق درحواست کی سماعت کے دوران سنایا تھا۔

  11. انڈیا کا چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے کا اعلان

    جنرل انیل چوہان اب مئی 2026 تک سی ڈی ایس کے عہدے پر کام کریں گے۔

    ،تصویر کا ذریعہANI

    ،تصویر کا کیپشنجنرل انیل چوہان اب مئی 2026 تک سی ڈی ایس کے عہدے پر کام کریں گے۔

    انڈیا کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان کی مدتِ ملازمت میں مئی 2026 تک توسیع کردی گئی ہے۔

    وزارتِ دفاع کی جانب سے یہ اعلان جنرل چوہان کی ملازمت کی میعاد ختم ہونے سے سے چند روز قبل کیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ کابینہ کی تقرری کمیٹی (اے سی سی) نے بدھ کو ان کی توسیع کی منظوری دی تھی۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق جنرل چوہان اب 30 مئی 2026 تک یا اگلے احکامات تک سی ڈی ایس اور عسکری امور کے محکمے کے سیکرٹری رہیں گے۔

    جنرل چوہان 30 ستمبر 2022 سے چیف آف ڈیفنس سٹاف کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنجنرل چوہان 30 ستمبر 2022 سے چیف آف ڈیفنس سٹاف کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

    جنرل انیل چوہان کون ہیں؟

    64 سالہ جنرل چوہان 30 ستمبر 2022 سے چیف آف ڈیفنس سٹاف اور سیکریٹری محکمہ ملٹری افیئرز کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

    انڈین فوج کے ساتھ اپنے 40 سال سے زیادہ طویل کیریئر میں لیفٹیننٹ جنرل انیل چوہان نے کئی کمانڈز سنبھالی ہیں۔ ان کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا وسیع تجربہ ہے۔

    وہ 18 مئی 1961 کو پیدا ہوئے اور 1981 میں انڈین فوج کی 11 گورکھا رائفلز میں شمولیت اختیار کی۔ انھوں نے نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) اور انڈین ملٹری اکیڈمی (آئی ایم اے) دہرادون سے تعلیم حاصل کی۔

    میجر جنرل کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے، انھوں نے جموں و کشمیر کے بارہ مولہ سیکٹر میں ایک انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ کی۔

    بعد میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر، انھوں نے شمال مشرقی کور کی قیادت کی۔ انڈین فوج میں کل 14 کور ہیں۔

    اس کے بعد وہ ستمبر 2019 سے مئی 2021 تک یعنی اپنی ریٹائرمنٹ تک ایسٹرن کمانڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ انچیف رہے۔

    ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل انیل چوہان اقوام متحدہ کے انگولا مشن میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

    دسمبر 2021 میں انڈیا کے پہلے سی ڈی ایس جنرل بپن راوت کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے بعد ستمبر 2022 میں جنرل چوہان کو اس عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔

    جنرل انیل چوہان

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنجنرل انیل چوہان

    سی ڈی ایس عہدے کا قیام اور اس کی اہم ذمہ داریاں

    سنہ 1999 میں کارگل جنگ کے بعد تشکیل دی گئی جائزہ کمیٹی سے لے کر کئی دیگر کمیٹیوں نے انڈین فوج کی انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈ اور چیف آف ڈیفنس سٹاف کے عہدے کے قیام کی تجویز دی تھی۔

    15 اگست 2019 کو دلی کے لال قلعے سے یوم آزادی کی اپنی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں فوجی نظام، فوجی طاقت اور فوجی وسائل کی بہتری اور چیف آف ڈیفنس سٹاف کے عہدے کی تشکیل پر جاری بحث کا ذکر کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ اس سے تینوں مسلح افواج کو اعلیٰ سطح پر موثر قیادت ملے گی۔

    اس کے بعد جنوری 2020 میں جنرل بپن راوت نے انڈیا کے پہلے سی ڈی ایس کے طور پر چارج سنبھالا۔

    سی ڈی ایس کی اہم ذمہ داریاں فوج، بحریہ اور فضائیہ کے کام کو بہتر طریقے سے مربوط کرنا اور ملک کی فوجی طاقت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

    مرکزی حکومت کے مطابق سی ڈی ایس کی ذمہ داری وزیر دفاع کے پرنسپل ملٹری ایڈوائزر کے طور پر ہوتی ہے۔ تینوں سروسز کے معاملات سی ڈی ایس کے تحت آتے ہیں۔

  12. انڈیا کا پہلی مرتبہ ریل گاڑی پر نصب لانچر سے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے اگنی میزائل کے کامیاب تجربے کا دعویٰ

    انڈیا میزائل

    ،تصویر کا ذریعہx/rajnathsingh

    انڈیا کے دفاعی تحقیق کے ادارے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے پہلی مرتبہ ریل کی پٹری پر چلنے والے موبائل لانچر سے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے اگنی پرائم میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے یہ خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ ریل پر مبنی موبائل لانچر سے کیا گیا اپنی نوعیت کا پہلا میزائل لانچ ہے۔

    راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ لانچر بغیر کسی پیشگی تیاری کے ریل نیٹ ورک پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صلاحیت کے باعث اسے کم وقت میں ملک میں کہیں بھی لے جایا جا سکتا ہے اور انتہائی مختصر مدت میں اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    انڈین وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ میزائل 2 ہزار کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتا ہے اور اس میں کئی جدید خصوصیات ہیں۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اس کامیاب تجربے کے بعد انڈیا ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جن کے پاس ریلوے نیٹورک پر مبنی لانچر سے میزائل داغنے کی صلاحیت ہے۔

    انڈیا ریل میزائل

    ،تصویر کا ذریعہx/rajnathsingh

  13. انڈیا میں لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ: پر تشدد مظاہروں میں چار افراد ہلاک، بی جے پی کا ہیڈ کوارٹر نذرِآتش

    لداخ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام علاقے لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور 30 ​​پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 59 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

    ان مظاہروں کو 1989 کے بعد لداخ میں ہونے والے سب سے پرتشدد مظاہرے کہا جا رہا ہے۔

    بدھ کے روز نوجوانوں کے گروپوں کی جانب سے لداخ کے دارالحکومت لیہہ کو بند کرنے کی کال کے جواب میں سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد کچھ مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی۔ اس کے بعد مظاہرین نے مرکز میں برسرِ اقتداربھارتی جنتا پارٹی کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔

    سرکاری اہلکاروں نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے شہر بھر میں بڑی تعداد میں تعینات پولیس اور نیم فوجی دستوں نے آنسو گیس کے شیلز استعمال کیے۔

    کم از کم چھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    یہ احتجاج وفاق کے زیر انتظام علاقے میں چل رہی ایک بڑی تحریک کا حصہ ہیں جو زمین اور زرعی فیصلوں پر خود مختاری کے لیے انڈین حکومت سے لداخ کو ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    انڈیا کی مرکزی حکومت نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ لوگ لداخ کے لوگوں کے ساتھ مکمل ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کی توسیع پر ہونے والے مذاکرات کی پیشرفت سے خوش نہیں اور اس میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

  14. اسرائیلی حملوں میں مزید تیزی، غزہ میں 80 زائد افراد ہلاک، ہسپتال ذرائع

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ میں مقامی ہسپتالوں کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اسرائیلی حملوں میں 80 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر اموات غزہ شہر میں ہوئیں۔

    ہنگامی امداد کے اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ شہر کے علاقے دراج میں فراس مارکیٹ کے قریب بے گھر پناہ گزینوں کی عمارت اور خیموں پر حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے حماس کے دو جنگجووؑں کو نشانہ بنایا تھا اور ہلاکتوں کی تعداد ان کے پاس موجود معلومات سے میل نہیں کھاتی۔

    بدھ کی سہ پہر کو غزہ شہر کے ہسپتالوں نے اطلاع دی کہ گذشتی رات سے 60 سے زائد افراد کی لاشیں موصول ہوئی ہیں جو اسرائیلی حملوں اور فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔

    حماس کے زیرانتظام سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ان میں سے ایک تہائی ہلاکتیں فراس مارکیٹ کے قریب ایک گودام پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہوئیں جہاں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے اور مرنے والوں چھ خواتین اور نو بچے بھی شامل ہیں۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینک غزہ شہر کے جنوب مغربی علاقے تل الحوا اور شمال مغرب میں رمل کے علاقے میں دیکھے گئے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ،تصویر کا کیپشنعینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینک غزہ شہر کے جنوب مغربی علاقے تل الحوا اور شمال مغرب میں رمل کے علاقے میں دیکھے گئے ہیں۔

    محمد حجاج جن کے رشتہ دار بھی اس حملے میں مارے جانے والوں میں شامل ہیں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس عمارت کو اس وقت شدید بمباری‘ کا نشانہ بنایا گیا جب لوگ سو رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب ہم آئے تو ہم نے دیکھا کہ بچوں اور عورتوں کے جسم ٹکرے ٹکرے ہوئے تھے۔

    ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں اس کی بہن کے شوہر، دو بچے اور سسر بھی شامل ہیں۔

    جب اسرائیلی فوج سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے حماس کے دو عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ان کا مزید کہنا ٹھا کہ انھیں ہلاکتوں کے دعوؤں کے متعلق علم ہے لیکن ان کے پاس موجود معلومات اس سے مختلف ہیں۔

    دوسری جانب، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینک غزہ شہر کے جنوب مغربی علاقے تل الحوا اور شمال مغرب میں رمل کے علاقے میں دیکھے گئے ہیں۔

  15. پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ ’خطے میں ایک جامع سکیورٹی نظام کی ابتدا‘ ہے: ایرانی صدر

    ایرانی صدر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کا ’خیر مقدم‘ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم ’خطے میں ایک مفصل سکیورٹی کے نظام اور مسلمان ممالک کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کی ابتدا ہے۔‘

    بدھ کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ایرانی صدر نے نہ صرف اسرائیل پر کڑی تنقید کی بلکہ رواں مہینے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اسرائیلی حملے کی مذمت بھی کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سکیورٹی کو طاقت کے استعمال سے یقینی نہیں بنایا جا سکتا‘ بلکہ اس کے لیے ’اعتماد کی بحالی، علاقائی رابطوں کو بڑھانا اور کثیر الجہتی اتحاد‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔

    صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران نے ’کبھی جوہری ہتھیار کا حصول نہیں چاہا اور نہ کبھی چاہے گا۔‘

    انھوں نے اپنی تقریر میں رواں برس جون میں اسرائیل اور ایران جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: ’میرے ملک کو بد ترین جارحیت کا نشانہ بنایا گیا‘ اور اسرائیلی حملے ’سفارتکاری کو سنگین دھوکہ‘ دینے کے مترادف تھے۔

    ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیلی ’جارحیت‘ ایران میں ’بچوں اور سائنسدانوں کی شہادت‘ کے ذمہ دار ہے۔

  16. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • یوکرین کے صدر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ولادیمیر پوتن کو روکا نہ گیا تو وہ جنگ کو ’مزید پھیلا‘ سکتے ہیں
    • امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ مارکو روبیو اور سرگئی لاوروف نے نیویارک کے ایک ہوٹل میں اپنے وفود کے ہمراہ ملاقات کی ہے
    • شام کے صدر احمد الشرع نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے شام پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ ان حملوں سے مزید تنازعات کو ہوا ملنے کا خطرہ ہے۔ تقریباً چھ دہائیوں میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی شامی رہنما نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کیا
    • سمندری طوفان ریگاسا نے تائیوان سمیت چین، ہانگ کانگ، اور تائیوان میں شدید تباہی مچا دی ہے۔ تائیوان میں طوفان اور تیز بارشوں کے باعث جھیل پھٹنے سے کم از کم 17 افراد ہلاک ہو جبکہ 124 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہوگئے ہیں
  17. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔