ٹرمپ اور نتن یاہو کا غزہ کے لیے نئے امریکی امن منصوبے پر اتفاق، حماس کو اسے قبول کرنے کی تنبیہ

وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو کے ساتھ غزہ امن مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ ’بہت قریب ہے‘۔ دونوں رہنماؤں نے 20 نکاتی امن منصوبے کی حمایت کی ہے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ اسے یہ تجویز باضابطہ طور پر نہیں بھیجی گئی۔

خلاصہ

  • اسرائیل اور حماس امن منصوبے سے کچھ ناخوش ہو سکتے ہیں: ترجمان وائٹ ہاؤس
  • پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت ریکارڈ چار لاکھ روپے سے تجاوز
  • غزہ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے کا 'بہت اچھا ردعمل' مل رہا ہے: صدر ٹرمپ
  • چین میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد کو سزائے موت
  • ایران پر تقریباً ایک دہائی بعد اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایک بار پھر معاشی اور عسکری پابندیاں عائد

لائیو کوریج

  1. ’جلے ہوئے رن وے اور ہینگرز اگر کامیابی ہیں تو پاکستان اس جیت کا مزہ لے‘: انڈیا کا ردعمل

    India UN

    پاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے انڈیا پاکستان جنگ میں کامیابی کے دعوے پر انڈیا کا کہنا ہے کہ اگر ’جلے ہوئے رن وے اور ہینگرز جنگ کی کامیابی ہیں تو پاکستان اس سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔‘

    انڈیا نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب پر جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے کہا پر اپنا ردعمل دیا۔

    اقوام متحدہ میں انڈین سفارت کار پٹل گہلوت نے ’اگر تباہ شدہ رن وے اور جلے ہوئے ہینگرز جنگ کی کامیابی ہیں تو پاکستان اس سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر شدت پسندوں کے کیمپ بند کرنا ہوں گے اور مطلوب دہشت گردوں کو انڈیا کے حوالے کرنے ہو گا۔

    انڈین سفارت کار نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ پاکستان ہی تھا جس نے اسامہ بن لادن کو ایک دہائی تک چھپا رکھا تھا۔‘

    اقوام متحدہ میں انڈین مشن کی فرسٹ سکریٹری نے کہا کہ ’اس ایوان میں پاکستان کے وزیر اعظم نے مضحکہ خیز ڈرامہ پیش کیا اور ایک بار پھر اپنی دہشت گردی کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جو کہ ان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’درحقیقت پاکستان معصوم انڈین شہریوں پر دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار ہے اور پاکستان کے وزیر نے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ ان کا ملک کئی دہائیوں سے دہشت گرد کیمپ چلا رہا ہے۔‘

    وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ ’پاکستان نے اپنی مشرقی سرحد پر دشمن کی جارحیت کا جواب دیا ہے۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’انڈیا نے پہلگام واقعے کو سیاسی طور پر استعمال کیا اور پاکستان پر حملہ کیا۔ پاکستان بیرونی جارحیت کا بھرپور دفاع کرے گا۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم انڈیا سے جنگ جیت چکے ہیں، اب ہم امن کے خواہاں ہیں اور پاکستان، تمام حل طلب مسائل پر انڈیا کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

  2. ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کا دوبارہ نفاذ غیر منصفانہ ہے: ایرانی صدر پزشکیان

    Iran President, UNGA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اقوام متحدہ کی جانب سے بین الاقوامی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو ’غیر منصفانہ اور غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

    اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی اور فوجی پابندیوں کا اطلاق آج رات سے ہو رہا ہے۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین 2016 میں جوہری پروگرام پر معاہدہ ہونے کے بعد ایران پرعائد پابندیاں اُٹھالی گئی تھیں۔

    برطانیہ فرانس اور جرمنی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا تھا کہ ایران معاہدے کے تحت عائد کی گئی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے بعد اقوام متحدہ نے ایران کو معاہدے پر عمل پیرا ہونے کے لیے 30 دن کا وقت دیا تھا۔

    نیویارک میں جنرل اسمبلی کے موقع صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے بیرونی طاقتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے کو آگ میں ڈالنے کے لیے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے واضح کیا کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبردار نہیں ہو رہا ہے۔

    حال ہی میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیابات کے مقامات پر حملے کے بعد ایران نے IAEA معائنہ کاروں کی جوہری تنصیبات تک رسائی روک دی تھی۔

    ایران قانونی طور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے NPT کا حصہ ہے اور IAEA کے ساتھ تعاون کرنے کا پابند ہے۔ اس سلسلے میں ایران اور جوہری توانائی کی ایجنسی کے مابین مذاکرت جاری تھے۔

  3. پشاور میں آج تحریکِ انصاف کا جلسہ: ’یہ صرف سیاسی اجتماع نہیں بلکہ تاریخ کا سنہری باب بننے جا رہا ہے‘, عزیز اللہ خان بی بی سی اردو

    PTI Protest

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے لیے ایک بار پھر عوامی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن اس مرتبہ جلسہ اسلام آباد کے بجائے اُن کے ہوم گراؤنڈ یعنی پشاور میں ہو رہا ہے۔

    جماعت کی جانب سے اس جلسے کے لیے بھرپور تیاریاں کی گئی ہیں اور جلسے میں شرکت کے لیے خیبر پختونخوا کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں سے بھی قافلے پشاور پہنچ رہے ہیں۔

    وزیر اعلی کے ترجمان احمد فراز مغل نے بتایا ہے کہ قافلے پنجاب، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر سے پشاور پہنچیں گے۔

    جلسے کے لیے پشاور کا انتخاب کیوں کیا گیا ہے اس بارے میں جماعت کے قائدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اسلام آباد یا لاہور میں ہونے والے جلسوں میں اُن کے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے 26 نومبر کے جلسے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ریلی پر فائرنگ ہوئی تھی اس لیے انھوں نے پشاور کا انتخاب کیا ہے ۔

    جماعت کے سربراہ عمران خان کی کال پر ہونے والے اس جلسے کا مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔

    پشاور کے رنگ روڈ کے قریب جلسے کے لیے سٹیج تیار کیا گیا ہے اور جلسہ گاہ پہنچنے کے لیے باقاعدہ ٹریفک پلان جاری کیا گیا ہے۔ جلسے میں شریک لوگوں کی رہنمائی کے لیے سوشل میڈیا پر تفصیل بیان کی گئی ہیں کہ وہ کیسے اور کس راستے سے جلسہ گاہ پہنچ سکیں گے۔

    گذشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈہ پور نے جلسہ گاہ کا دورہ کیا تھا۔ انھوں نے وہاں موجود کارکنوں سے کہا تھا کہ یہ جلسہ صرف سیاسی اجتماع نہیں بلکہ تاریخ کا ایک سنہری باب بننے جا رہا ہے کیونکہ عمران خان کی قیادت میں حقیقی آزادی کا خواب اب حقیقت بننے کے قریب ہے۔

    اس سے پہلے پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجا اور دیگر قائدین نے بھی جلسہ گاہ کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ جدو جہد جاری رہے گی۔

    اس کے علاوہ تمام قائدین، اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی کے علاوہ سینیٹ کے اراکین اور رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر اپنے اپنے حقلوں کے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جلسہ گاہ پہنچیں۔

  4. دہشت گردی،غیر قانونی مائیگریشن کی روک تھام، وزیر داخلہ کی ایف بی آئی کے سربراہ سے ملاقات

    Mohsin Naqvi,

    ،تصویر کا ذریعہ@MohsinnaqviC42

    پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکہ کی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل سے ملاقات کی ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اس ملاقات کی تصویر بھی شیئر کی۔

    امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی اس ملاقات کو پاکستان کے وزیر داخلہ نے ’زبردست‘ قرار دیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ملاقات میں انسدادِ دہشت گردی، غیر قانونی مائیگریشن اور افسران کے ایکسچنج پروگرام پر غور کیا گیا۔

    محسن نقوی نے کاش پٹیل کے بارے میں لکھا کہ ’اُن کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ویژن کے سبب وہ کام کرنے کے لیے بہترین ساتھ ہیں۔‘

    گذشتہ روز پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اُن کے ساتھ تھے۔

  5. چین کے ساتھ بلاتعطل رابطے کے لیے ایم ایل ون اور شاہراہ قراقرام کی تعمیر و توسیع ضروری ہے: احسن اقبال

    Pakistan China, CPEC, Ahsan Iqbal

    ،تصویر کا ذریعہGOP

    پاکستان نے ایک بار پھر چین سے کہا ہے کہ ریلولے لائن کی توسیع کے منصوبے ML1 اور پاکستان کو چین سے ملانے والی شاہراہ قراقرام ہائی وے کی تعمیر و توسیع خطے میں اقتصادی خوشحالی کو فروغ دے گی۔

    چین کے دارالحکومت بیجنگ میں 14 ویں مشترکہ کارپوریشن کمیٹی (JCC) کا اجلاس ہوا جس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔ چین کی وفد کی نمائندگی نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے وائس چیئرمین زو ہائی بنگ کر رہے تھے۔ اس اجلاس میں سی پیک کے پہلے فیز کے منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور سی پیک کے دوسرے فیز کے منصوبوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    پاکستان کے وفاقی وزیر نے پاکستان اور چین کے مابین بلا تعطل رابطوں کو یقینی بنانے کے لیے سٹریٹجک اہمیت کے حامل ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کے منصوبے ML1 کے فوری آغاز پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو چین سے ملانے والی شاہراہ قراقرام ہائی وے کو پر بلا تعطل آمدورفت کے لیے شاہراہ کی ریالائنمنٹ ضروری ہے۔

    احسن اقبل نے کہا کہ ان منصوبوں پر جلد عمل درآمد سے دور رس اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔

    پاکستان اور چین کے مابین پاور سیکٹر میں کام کرنے والی نجی چینی کمپنیوں کو واجب ادا قرضوں کے سبب نئے منصوبے کی فائنسنگ میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    بیجنگ کی جانب سے رعایتی قرض میں توسیع نہ ملنے کے بعد اب پاکستان ریلوے لائن کی توسیع کے منصوبے ML1 کے لیے ایشائی ترقیاتی بینک سمیت مختلف عالمی مالیاتی اداروں سے فائنسگ کروانے کی کوشش کررہا ہے۔

  6. جوہری سرگرمیوں کی بحالی، ایران پر اقوام متحدہ کی ہٹائی گئی پابندیاں دوبارہ نافذ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی اور فوجی پابندیوں کا اطلاق ہفتے کی رات سے شروع ہو گا۔ یہ پاپندیاں 2016 میں اُس وقت ختم ہوئی تھیں جب ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین جوہری پروگرام پر معاہدہ ہوا تھا۔

    برطانیہ فرانس اور جرمنی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا تھا کہ ایران معاہدے کے تحت عائد کی گئی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے بعد اقوام متحدہ نے ایران کو معاہدے پر عمل پیرا ہونے کے لیے 30 دن کا وقت دیا تھا۔

    ایران نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیاں بحال ہونے کی صورت میں ایران جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی IAEA کے ساتھ تعاون کرنا چھوڑ دے گا۔

    ایران نے 2016 میں طے پانے والے معاہدے کے بعد جوہری سرگرمیاں اُس وقت دوبارہ شروع کیں جب امریکہ اس معاہدے سے دستبردار ہوا تھا۔

    حال ہی میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیابات کے مقامات پر حملے کے بعد ایران نے IAEA معائنہ کاروں کی جوہری تنصیبات تک رسائی روک دی تھی۔

    ایران قانونی طور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے NPT کا حصہ ہے اور IAEA کے ساتھ تعاون کرنے کا پابند ہے۔ اس سلسلے میں ایران اور جوہری توانائی کی ایجنسی کے مابین مذاکرت جاری تھے۔

    ایران پر عائد ہونے والی پابندیوں کی تفصیلات

    • ہتھیاروں کی خریداری پر پابندی
    • یورینیم کی افزودگی پر پابندی
    • جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائلوں سے منسلک سرگرمیوں پر پابندی
    • اثاثے منجمد اور ایرانی شخصیات اور اداروں پر سفری پابندیاں
    • دیگر ممالک کو ایران ایئر اور ایران شپنگ لائنز کے معائنہ کرنے کی اجازت

    اقوام متحدہ کی جانب سے ان پابندیوں کے نفاذ کے بعد اگلے ہفتے یورپی یونین کی جانب سے ہٹائی گئی پابندیاں بھی دوبارہ نافذ العمل ہو جائیں گی۔

  7. ’نیتن یاہو اپنی جارحانہ تقایر کی وجہ سے جانے جاتے ہیں‘, لیز ڈوسیٹ، بی بی سی کی چیف انٹرنیشنل نامہ نگار کا تجزیہ

    UN

    ،تصویر کا ذریعہUN

    یہ بالکل وہی پرانے نیتن یاہو تھے، جو برسوں سے نہ صرف اس پوڈیم بلکہ دنیا کے دارالحکومتوں میں بھی اپنی جارحانہ اور دبنگ تقریروں کے لیے جانے جاتے ہیں۔

    آج بھی وہ پُرعزم بلکہ جارحانہ دکھائی دیے جب انھوں نے بڑھتی ہوئی ان ممالک کی فہرست کو للکارا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کر کے ’ظالموں کا ساتھ‘ دے رہے ہیں۔

    انھوں نے آغاز اسرائیل کی تعریف سے کیا اسی کے ساتھ ساتھ انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اپنی تاریخ کے سب سے سیاہ دن، 7 اکتوبر 2023، کے بعد اسرائیل نے کامیابی حاصل کی۔

    اس کے بعد انھوں نے باری باری ان سب کو بیان کیا جنھیں اسرائیل ’سات محاذوں کی جنگ‘ کہتا ہے یعنی ایران کی قیادت میں حوثیوں، حزب اللہ اور حماس کا اسرائیل نے کس طرح ان سب کا مقابلہ کیا۔

    روایتی نیتن یاہو انداز میں، انھوں نے کارڈز پر سوالات لکھے دیکھائے سامنے بیٹھے لوگوں سے جوابات لیے اور اپنے کوٹ پر ایک کیو آر کوڈ کے ذریعے جو اسرائیلی یرغمالیوں کے بارے میں معلومات سے جڑا ہوا تھا لوگوں کو اسے سکین کرنے اور حقائق جاننے کو کہا۔

    انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی تقریر غزہ کی پٹی میں لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے نشر کی جا رہی ہے اور یہاں تک کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی مدد سے حماس کے موبائل فونز پر براہِ راست بھیجی جا رہی ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ اسرائیل یرغمالیوں کو واپس چاہتا ہے۔

    دلچسپ اتفاق یہ ہوا کہ جیسے ہی ان کی تقریر ختم ہوئی صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں اعلان کیا کہ ’ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارے پاس غزہ پر ایک معاہدہ ہے،‘ یہی وہ پیغام ہے جسے نہ صرف بڑھتی ہوئی تعداد میں اسرائیلی بلکہ دنیا بھر کے بہت سے لوگ، اور سب سے بڑھ کر غزہ کے باشندے، سننا چاہتے تھے۔

  8. ’شور اور ہجوم کی وجہ سے کچھ واضح نہیں تھا، سمجھ نہیں سکے کہ سپیکروں پر کیا چل رہا ہے‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جیسے ہی نیتن یاہو کی تقریر نیویارک میں شروع ہوئی، جنوبی اسرائیل میں غزہ کی سرحد پر نصب لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے ان کے الفاظ غزہ کی پٹی میں نشر کیے گئے۔

    لیکن تمام غزہ کے باشندوں نے یہ نہیں سنا اور جنھوں نے سنا بھی سب نے اس پر توجہ نہیں دی۔

    اقوام متحدہ میں اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر سے قبل اُن کے دفتر کی جانب سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ایک ’اطلاعیتی کوشش‘ کے حصے کے طور پر غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر اسرائیلی علاقوں میں ٹرکوں پر لاؤڈ سپیکر نصب کیے گئے ہیں۔

    وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق ان لاؤڈ سپیکروں کے نصب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اقوامِ متحدہ میں کی جانے والی تقریر غزہ کے علاقے میں نشر کی جائے گی۔

    غزہ کے ایک باشندے فادی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم دور سے آوازیں سن سکتے ہیں لیکن لوگوں کے ہجوم اور شور کی وجہ سے کچھ واضح نہیں تھا کُچھ بھی سمجھ نہیں آیا کہ سپیکروں پر کیا چل رہا ہے۔‘

    فادی نے سوال کیا کہ ’وہ محصور شہریوں کے خیموں میں زبردستی اپنی تقریر نشر کر کے کیا حاصل کرتا ہے، سوائے اس کے کہ انھیں مزید ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے؟‘

    دوسری جانب 26 سالہ حنان جو غزہ کے جنوبی علاقے رفع میں مقیم ہیں نے کہا کہ وہ کچھ بھی نہیں سن پائیں۔

    bbc

    دوسری جانب ٹائمز سکوائر میں نیتن یاہو کی تقریر کے دوران ’فری فلسطین‘ کے نعرے لگانے والے مظاہرین میں ربی یتزوک ڈوئچ بھی شامل تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’نیتن یاہو کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ سے خطاب نہیں کرنا چاہیے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم یہاں یہ کہنے آئے ہیں کہ وہ ہماری نمائندگی نہیں کرتے۔ وہ اپنے جرائم کو درست ثابت کرنے کے لیے ہمارے مذہب کا سہارا لے رہے ہیں۔‘

    ربی ڈوئچ کا ماننا ہے کہ دنیا بھر کے بہت سے یہودی اس بات سے متفق ہیں کہ غزہ کی جنگ ختم ہونی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ اگرچہ وہ 7 اکتوبر کے حماس حملوں کی مذمت کرتے ہیں، لیکن امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازع کی ’بنیادی وجہ‘ کو حل نہ کیا جائے۔

  9. اقوام متحدہ میں اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر ’گمراہ کُن‘ تھی: حماس

    حماس کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اقوامِ متحدہ میں خطاب پر ٹیلیگرام پر ایک طویل بیان میں ردعمل سامنے آیا ہے۔

    حماس، جو کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین میں کالعدم تنظیم ہے نے اسرائیلی وزیراعظم کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو نے ایک ’گمراہ کن‘ تقریر کی جس میں ’کھلے عام جھوٹ اور تضادات کی ایک لمبی فہرست‘ شامل تھی۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جھوٹ سچائی کو نہیں بدل سکتا اور دنیا اب اس بات سے ’زیادہ باخبر‘ ہو گئی ہے کہ اسرائیل غزہ میں کیا کر رہا ہے۔‘

    حماس کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی فوج کی جاری کارروائیوں کو ’منظم قتلِ عام‘ پر مبنی ’قبضہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

    حماس کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر پر اپنے ردِ عمل کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ’ہم دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں قتل و غارت گری کو روکے۔ اسرائیل کو علاقے سے انخلا پر مجبور کرے، خوراک اور ادویات کی ترسیل کو یقینی بنائے اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدامات مکمل کرے۔‘

  10. میرے خیال میں غزہ میں جنگ بندی سے متعلق ہم ایک معاہدے کے قریب ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی ریاست نیو یارک سے تقریباً 320 کلومیٹر دور، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’ایسا لگ رہا ہے کہ ہم میں جنگ بندی سے متعلق ایک معاہدہ کے قریب ہیں۔‘

    امریکی صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے یہ وہ معاہدہ ہے جو یرغمالیوں کو واپس لے آئے گا، جنگ ختم کرے گا اور امن قائم کرے گا، میرا خیال ہے ہمارے پاس ایک معاہدہ ہے۔‘

  11. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس پہلی بار 162000 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔ انڈیکس 2976 پوائنٹس اضافے کے بعد 162257 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا جو سٹاک ایکسچینج کی بلند ترین سطح ہے۔

    مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور دو کاروباری سیشنز کے دوران انڈیکس مثبت رہا۔ جمعے کے روز کاروبار میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کا رجحان غالب رہا۔

    موجودہ ہفتے کے پہلے روز مارکیٹ انڈیکس میں تھوڑی کمی ریکارڈ کی گئی تھی تاہم اس کے بعد چار کاروباری دنوں میں اس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ روز مارکیٹ انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہوا تھا اور آج تقریباً 3000 پوائنٹس اضافے کے بعد انڈیکس 162257 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔

    سٹاک ایکسچینج تجزیہ کار تیزی کی وجہ سفارتی محاذ پر پاکستان کی کامیابیوں کو قرار دیتے ہیں۔ ان کی مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کا بھی امکان ہے اس کے ساتھ ساتھ اب پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعلقات نے بھی مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ کے مطابق سفارتی تعلقات کے ساتھ آئی ایم ایف مشن بھی پاکستان میں موجود ہے اور نئے سرمایا کار بھی مارکیٹ میں آرہے ہیں جس سے مارکیٹ میں کاروبار کو فروغ ملا ہے۔

  12. پشاور ہائیکورٹ کا پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی روکنے کا حکم, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پشاور ہائیکورٹ نے ایسے افغان پناہ گزینوں کی پاکستان سے بے دخلی کے عمل کو روکنے کا حکم دے دیا ہے جنھوں نے پاکستانی شہریوں سے شادی کی ہے اور ان کے بچے ہیں۔

    جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتنل بینچ نے آج متعدد افغان شہریوں کو پاکستان سے بے دخلی کو روک دیا ہے۔ پشاور ہائیکورٹ میں اس وقت درجنوں ایسی درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن میں افغان باشندوں نے پاکستانی خواتین سے شادی کی ہے اور ان سے ان کے بچے ہیں۔ ان میں بیشتر درخواستیں ان خواتین نے دی ہیں جنھوں نے افغان مردوں سے شادی کی ہے اور ان کے بچے بھی ہیں۔

    ان افغان باشندوں نے ہائیکورٹ میں پاکستان اوریجن کارڈ حاصل کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کو اپنے وطن واپس بھیجا جا رہا ہے۔ ان افغان باشندوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے علاوہ ایسے افغان شامل ہیں جن کے پاس پی او آر کارڈ پروف آف رجسٹریشن کارڈ اور اے سی سی افغان سیٹیزن کارڈز موجود ہیں۔

    پاکستانی خاتون حسنہ نے اپنے شوہر مسعود کے لیے پاکستان اوریجن کارڈ کی درخواست پشاور ہائیکورٹ میں جمع کرائی تھی۔ حسنہ اور مسعود کے دو بچے ہیں۔ سیف اللہ محب کاکاخیل ایڈووکیٹ اور نعمان محب کاکاخیل ایڈووکیٹ خاتون حسنہ کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے عدالت کو بتایا کہ خاتون کے افغان شوہر پاکستان اوریجن کارڈ پی او سی حاصل کرنے کا قانونی حق رکھتے ہیں۔

    انھوں نے پاکستان کے آئین کے ریفرنس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کی شادی کے نتیجے میں دو بچے پیدا ہوئے ہیں اور وہ دونوں پاکستانی ہیں۔ اس لیے پاکستان کے قانون اور آئین کے مطابق خاندان کے تقدس کو بحال رکھنے کے لیے یہ حق انھیں ملنا چاہیے۔

    وکلا کی جانب سے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’درخواست گزار نمبر دو چونکہ پاکستانی شہری کے خاندان کا حصہ ہے اس لیے انھوں پاکستان سے اس وقت تک بے دخل نہ کیا جائے جب تک نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی نادرا حتمی طور پر انھیں پی او سی جاری کرنے کا حتمی فیصلہ جاری نہیں کر دیتا۔‘

    اس وقت اگرچے خیبر پختونخوا میں افغان پناہ گزینوں کے خلاف کوئی بڑے پیمانے پر بے دخلی کا آپریشن نہیں ہو رہا لیکن بیشتر افغان شہریوں میں خوف ضرور پایا جاتا ہے کہ انھیں کسی بھی وقت اس صوبے سے بھی نکالا جا سکتا ہے۔

  13. شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں خطاب: ’ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان تباہ کن جنگ ہو سکتی تھی‘

    UN

    ،تصویر کا ذریعہUN

    وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ ’پاکستان نے اپنی مشرقی سرحد پر دشمن کی جاہریت کا جواب دیا اور پاکستان نے انڈیا کو پہلگام حملے کی غیرجانبدار تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان اپنے بانی قائدِاعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق ہر مسئلے کا حل بات چیت اور مذاکرات کی مدد سے کرنا چاہتا ہے۔‘

    وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے پہلگام واقعے کو سیاسی طور پر استعمال کیا اور پاکستان پر حملہ کیا۔ پاکستان بیرونی جارہیت کا بھرپور دفاع کرے گا۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم انڈیا سے جنگ جیت چکے ہیں، اب ہم امن کے خواہاں ہیں اور پاکستان، تمام حل طلب مسائل پر انڈیا کے ساتھ جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی خارجہ پالیسی باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہے۔ ہم تنازعات کا پرامن حل چاہتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر امریکی صدر ٹرمپ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں مداخلت نہ کرتے تو جنگ کے نتائج تباہ کُن ہو سکتے تھے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوانے پر ٹرمپ امن کے نوبیل انعام کے مستحق ہیں۔‘

    فلسطین سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔‘

    اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’تقریباً 80 سالوں سے فلسطینی عوام اسرائیلی ظلم و جبر کا سامنا کررہے ہیں، مغربی کنارے میں فلسطینی اسرائیلی آباد کاروں کی جارحیت کا سامنا کررہے ہیں جبکہ غزہ میں بھی فلسطینی عورتیں اور بچے اسرائیلی فوج کی درندگی کا نشانہ بن رہے ہیں۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’غزہ میں فوری اور اسی وقت جنگ بندی ہونی چاہیے، پاکستان آزاد اور خودمختار فسلطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جو 1967 کی سرحدوں پر قائم ہو۔‘

    پاکستان ہمیشہ سے اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی اُن کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان آج یہاں اقوامِ متحدہ میں خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے۔‘

  14. نیتن یاہو کا اقوام متحدہ میں خطاب، درجنوں شرکا کا واک آؤٹ: ’اگر حماس ہتھیار ڈال دے تو جنگ ختم ہو سکتی ہے‘

    UN

    ،تصویر کا ذریعہUN

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعے کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کے دوران کہاں کہ اسرائیل دہشت گردوں کے خلاف آپ سب کی جنگ لڑ رہا ہے۔

    نیتن یاہو نے اپنی تقریر کے آغاز پر ایک نقشہ دکھایا جس میں ایران، عراق، شام اور لبنان نظر آ رہے تھے۔ انھوں نے اپنے خطاب کا آغاز اسے تباہ کرنے کے مطالبے سے کیا جسے وہ ’ایران کی سربراہی میں دہشت گردی کا محور‘ کہہ رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ پچھلے سال ہونے والے حملوں میں ’ہم نے ہزاروں دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔‘

    نیتن یاہو نے کہا کہ ’یہ دہشت گردی کا محور پوری دنیا کے امن، ہمارے خطے کے استحکام اور میرے ملک اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ تھا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال کے دوران اسرائیل نے ’حوثیوں کو کچلا‘، ’حماس کو غزہ کے بیشتر حصے میں تباہ کر دیا‘ اور ’حزب اللہ کو مفلوج کر دیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو تباہ کر دیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اب تک ہم اپنے یرغمالیوں میں سے 207 کو واپس لا چکے ہیں اور مزید بتایا کہ غزہ میں موجود باقی 48 میں سے 20 زندہ ہیں۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم نے غزہ کی سرحد پر لگے لاؤڈسپیکرز کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کی مدد سے میں براہِ راست اپنی یرغمالیوں سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے آپ کو فراموش یا بھلایا نہیں ہے،‘ اور مزید کہا کہ ’ملک اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھے گا جب تک ہم آپ سب کو واپس نہ لے آئیں۔‘

    اسی کے ساتھ ساتھ انھوں نے حماس سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’اگر آپ ہتھیار ڈال دیں تو جنگ ابھی ختم ہو سکتی ہے۔‘

    تاہم جیسے ہی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سٹیج پر آئے تو درجنوں افراد احتجاجاً ہال سے باہر نکل گئے جبکہ دیگر نے تالیاں بجا کر اُن کا استقبال کیا۔

    UN

    ،تصویر کا ذریعہUN

  15. اقوامِ متحدہ میں نیتن یاہو کے خطاب سے قبل غزہ میں لاؤڈ سپیکر نصب

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو اب سے کُچھ دیر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، وہ یہ خطاب ایک ایسے وقت میں کرنے جا رہے ہیں کہ جب اسرائیل پر غزہ میں جنگ کے ختمے کے لیے دُنیا کے متعدد مُمالک کے جانب سے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    اس خطاب کے حوالے سے توقع کی جا رہی ہے کہ نیتن یاہو ان رہنماؤں کو ’تنقید کا نشانہ‘ بنائیں گے کہ جنھوں نے اس ہفتے جنرل اسمبلی کے سامنے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے ان میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون بھی شامل ہیں۔

    تاہم دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے ابھی یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ ایک ’اطلاعیتی کوشش‘ کے حصے کے طور پر غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر اسرائیلی علاقوں میں ٹرکوں پر لاؤڈ سپیکر نصب کیے گئے ہیں۔

    وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق ان لاؤڈ سپیکروں کے نصب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اقوامِ متحدہ میں کی جانے والی تقریر غزہ کے علاقے میں نشر کی جائے گی۔

    دوسری جانب جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے افتتاح پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مندوبین کو بتایا تھا کہ غزہ میں بین الاقوامی قانون کو ’پامال‘ کیا جا رہا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ انھوں نے خطے میں ’دو ریاستی حل‘ کے مطالبے کو دہرایا۔

  16. ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پانچ رہنما جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    BYC

    ،تصویر کا ذریعہBYC

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت پانچ رہنماؤں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

    انھیں گزشتہ 15 روزہ ریمانڈ کے خاتم ہو جانے پر جمعہ کے روز سخت سکیورٹی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ ون میں پیش کیا گیا۔

    دیگر رہنماؤں میں بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور ویل چیئر پر بیبرگ بلوچ بھی ان میں شامل تھے۔

    گرفتار رہنماؤں جانب سے عدالت میں اسرار جتک ایڈووکیٹ اور شعیب مینگل ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

    اسرار جتک ایڈووکیٹ نے پیشی کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ سی ٹی ڈی کی جانب سے عدالت سے مزید ریمانڈ کی اپیل کی گئی لیکن ہم نے اس کی مخالفت کی۔

    ان کا کہنا تھا عدالت کے جج محمد علی مبین نے پانچوں رہنماؤں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم دیا۔

    Social Media

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    خیال رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں کو رواں سال مارچ کے مہینے کے آخر میں اُس احتجاجی دھرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا جو کہ اُن لوگوں کی لاشوں کو حوالے نہ کرنے کے خلاف دیا گیا تھا جو کہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں مارے گئے تھے۔

    پہلے انھیں تھری ایم پی او کے تحت حراست میں رکھا گیا گیا تاہم بعد میں ان کی گرفتاری ان مقدمات میں کی گئی جو کہ مختلف تھانوں میں احتجاج کی مناسبت سے درج کیے گئے تھے۔ اس سلسلے میں درج ایف آئی آرز میں انسداد دہشت گردی کے دفعات کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

    تین ماہ تک ایم پی او میں حراست میں رکھے جانے کے بعد سے وہ اب تک فزیکل ریمانڈ پر پولیس اور سی ٹی ڈی کی تحویل میں رہے۔

    جمعہ کو پیشی کے موقع پر عدالت کے احاطے میں خواتین سمیت بی وائی سی کے دیگر حامی بھی موجود تھے۔ پیشی کے بعد جب بی وائی سی کے گارفات رہنما احاطہ عدالت سے باہر نکلے اور انھیں پریزنر وینز تک لے جایا جا رہا تھا تو اُس وقت شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔

    Maqbool Jaffar

    ،تصویر کا ذریعہMaqbool Jaffar

  17. جامعہ کراچی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی انرولمنٹ منسوخ کر دی

    X/Social Media

    ،تصویر کا ذریعہX/Social Media

    کراچی یونیورسٹی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کا ایل ایل بی انرولمنٹ منسوخ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔

    رجسٹرار جامعہ کراچی کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق طارق محمود ناجائز ذرائع استعمال کرنے کے مرتکب پائے گئے جس کی وجہ سے اُن پر تین سال تک یونیورسٹی کالج میں داخلہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

    اعلامیہ میں مزید یہ بھی بتایا گیا کہ وہ کبھی بھی اسلامیہ لا کالج کراچی کے طالب علم نہیں رہے، اسسٹنٹ رجسٹرار سیٹلمنٹ نے ان کا ایل ایل بی انرولمنٹ نمبر منسوخ کردیا۔

    واضح رہے کہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’جامعہ کراچی نے یہ حکم وائس چانسلر کی منظوری سے جاری کیا ہے۔‘

    جامعہ کراچی کے اعلامیہ کے مطابق طارق محمود جہانگیری سے متعلق یہ سینڈیکٹ اجلاس 31 اگست سنہ 2024 کو ’فیئر مینز کمیٹی‘ کی سفارش پر ہوا تھا۔‘

    تاہم جسٹس طارق محمودجہانگیری کی ڈگری کا کیس عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

    واضح رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری اسلام آباد ہائیکورٹ کے اُن چھ ججز میں شامل تھے جنھوں نے سنیارٹی کے معاملے پر جسٹس سرفراز ڈوگر کو لاہور ہائیکورٹ سے اور دیگر دو ججز کو بلوچستان اور سندھ ہائیکورٹ سے لانے کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اس درخواست کو کثرت رائے سے مسترد کردیا تھا تاہم اس فیصلے کے خلاف ان ججز نے نظر ثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے۔

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کے خلاف درخواست میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کراچی کے جس کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے وہ جعلی ہے۔

    جسٹس طارق محمود جہانگیری اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہ چکے ہیں۔

    رواں ماہ 16 ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی امور کی انجام دہی سے روک دیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں اسلام آباد کے دو رکنی بینچ نے یہ حکم جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری مبینہ طور پر جعلی ہونے سے متعلق درحواست کی سماعت کے دوران سنایا تھا۔

    تاہم اسلام آباد بار کونسل نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصلے کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا اور اس دن کو عدلیہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا تھا۔

  18. غزہ میں جنگ کے بعد عبوری قیادت کے لیے سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے نام پر غور

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سابق برطانوی وزیرِاعظم سر ٹونی بلیئر کے بارے میں بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ وہ مُمکنہ طور پر اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کے بعد ایک عبوری انتظامیہ کی قیادت کریں گے۔

    بتایا جا رہا ہے کہ اس تجویز میں وائٹ ہاؤس کی حمایت اور مرضی بھی شامل ہے۔ غزہ میں جنگ کے بعد ٹونی بلیئر اقوامِ متحدہ اور خلیجی ممالک کی حمایت سے ایک حکومتی اتھارٹی کی قیادت کریں گے اور بعد میں اس کا کنٹرول واپس فلسطینیوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔

    تاہم سابق برطانوی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ کسی ایسی تجویز کی حمایت نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں غزہ کے عوام کو بے دخل کیا جائے۔

    سر ٹونی بلیئر جن کی سربراہی میں سنہ 2003 میں برطانیہ عراق جنگ میں شامل ہوا تھا، غزہ کے مستقبل کے بارے میں امریکہ اور دیگر فریقوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی منصوبہ بندی کی بات چیت کا حصہ رہے ہیں۔

    اگست میں انھوں نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ساتھ ایک ملاقات میں شرکت کی تاکہ اس خطے کے منصوبوں پر بات چیت کی جا سکے، جسے امریکی مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے ’انتہائی جامع‘ قرار دیا، اگرچہ اس ملاقات کے بارے میں مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں تھیں۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سنہ2007 میں عہدہ چھوڑنے کے بعد بلیئر نے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی کے طور پر امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوامِ متحدہ کی نمائندگی کی۔ ان کی توجہ فلسطین میں معاشی ترقی لانے اور دو ریاستی حل کے لیے حالات پیدا کرنے پر مرکوز رہی۔

    وزیراعظم کے طور پر انھوں نے سنہ 2003 کی عراق جنگ میں برطانوی فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا جسے اس تنازع پر سرکاری انکوائری میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس انکوائری میں سامنے آیا کہ انھوں نے ناقص خفیہ معلومات پر عمل کیا اور وہاں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کے بارے میں تحقیق کے بغیر فیصلہ لیا۔

    غزہ کے لیے ایک عبوری انتظامیہ میں ان کی شمولیت سے متعلق بات چیت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب فلسطینی صدر محمود عباس نے جمعرات کو کہا کہ وہ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ دو ریاستی امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    عباس نے اس بات پر زور دیا کہ وہ غزہ میں مستقبل کی حکومتی قیادت کے لیے حماس کے کردار کو مسترد کرتے ہیں اور اس کے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔

  19. خیبر پختوخوا: داناسر میں ٹریفک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 11 افراد ہلاک

    پاکستان کے صوبے خیبر پختوخوا کے علاقے داناسر میں درازندہ کے مقام پر ایک ٹریفک حادثے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق ایک مزدا گاڑی جس میں ایک ہی خاندان کے افراد سوار تھے، گاڑی بلوچستان کے علاقے خانوزئی سے ڈیرہ اسماعیل خان آرہی تھی۔ راستے میں داناسر کے مقام پر بریک فیل ہونے کے باعث یہ حادثہ پیشں آیا۔

    ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کی ٹیم نے حادثے میں زخمی ہونے والے 03 افراد کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا گیا۔

    ریسکیو ٹیم نے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں بھی ہسپتال منتقل کیں۔

  20. نتن یاہو کو مغربی کنارے کے ساتھ الحاق کی اجازت نہیں دی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو مغربی کنارے کے ساتھ الحاق کی اجازت نہیں دیں گے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں، لیکن اس سے پہلے ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے کہا، ’میں اسرائیل کو مغربی کنارے کے ساتھ الحاق کی اجازت نہیں دوں گا۔ ایسا نہیں ہونے والا ہے۔‘

    صدر ٹرمپ پیر کو وزیر اعظم نتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات سے پہلے انھوں نے کہا کہ غزہ کا معاہدہ ’بہت قریب‘ ہے۔

    اسرائیل پر غزہ کی جنگ اور مغربی کنارے پر قبضہ ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    کئی مغربی ممالک رسمی طور پر فلسطین کو ایک ملک کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔

    وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کی زیرقیادت اسرائیل کی حکمران اتحادی حکومت میں انتہائی قوم پرستوں نے متعدد بار مغربی کنارے کے مکمل الحاق کا مطالبہ کیا ہے جو کہ فلسطینی علاقوں کا حصہ ہے۔

    برطانیہ اور جرمنی نے کہا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کو ایسے اقدام کے نتائج سے خبردار کیا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کو تنظیم کی جنرل اسمبلی کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ یہ اقدام ’اخلاقی، قانونی اور سیاسی طور پر ناقابل برداشت ہوگا۔‘