ٹرمپ اور نتن یاہو کا غزہ کے لیے نئے امریکی امن منصوبے پر اتفاق، حماس کو اسے قبول کرنے کی تنبیہ

وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو کے ساتھ غزہ امن مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ ’بہت قریب ہے‘۔ دونوں رہنماؤں نے 20 نکاتی امن منصوبے کی حمایت کی ہے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ اسے یہ تجویز باضابطہ طور پر نہیں بھیجی گئی۔

خلاصہ

  • اسرائیل اور حماس امن منصوبے سے کچھ ناخوش ہو سکتے ہیں: ترجمان وائٹ ہاؤس
  • پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت ریکارڈ چار لاکھ روپے سے تجاوز
  • غزہ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے کا 'بہت اچھا ردعمل' مل رہا ہے: صدر ٹرمپ
  • چین میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد کو سزائے موت
  • ایران پر تقریباً ایک دہائی بعد اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایک بار پھر معاشی اور عسکری پابندیاں عائد

لائیو کوریج

  1. مشی گن میں چرچ پر فائرنگ سے دو افراد ہلاک متعدد زخمی

    امریکی ریاست مشی گن کے چرچ میں فائرنگ

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    امریکی ریاست مشی گن کے چرچ میں فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    سکیورٹی حکام کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ چرچ کے اندر لگنے والی آگ پرمکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔

    حکام نے بتایا کہ ڈیٹرائٹ سے 60 میل (100 کلومیٹر) شمال مغرب میں واقع قصبے گرینڈ بلین میں چرچ آف جیسس کرائسٹ پر حملہ اتوار کی ایک سروس کے دوران ہوا جس میں سینکڑوں افراد شامل تھے۔

    مشتبہ شخص ایک 40 سالہ مرد تھا جس نے مبینہ طور پر عمارت کے ایک حصے کو بھی آگ لگائی تھی جس پر قابو پا لیا گیا تھا۔

    مبینہ شوٹر کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

    مشی گن کے گرینڈ بلینک میں پولیس نے بتایا کہ چرچ پر فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص نے جان بوجھ کر چرچ کی عمارت کو آگ لگائی۔

    پولیس نے اس سے متعلق صحافیوں کو بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً 10:25 بجے عبادات میں مصروف تھے تو بندوق سے لیس ایک شخص نے عمارت میں گاڑی چڑھائی۔

    پولیس کے مطابق حملہ آور نے اس کے بعد چرچ کے اندر موجود افراد پر کئی راؤنڈ فائرنگ کی۔

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    پولیس کے مطابق حملہ آور نے اس کے بعد چرچ کے اندر موجود افراد پر کئی راؤنڈ فائرنگ کی۔

    پولیس کے مطابق نو افراد کو گولی لگنے سے زخم آئے اور ان کا ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے، اور متاثرین میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔

    پولیس چیف نے کہا کہ ’ہم ابھی تک اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آگ کب اور کہاں سے لگی اور یہ کیسے شروع ہوئی۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ جان بوجھ کر ترتیب دیا گیا تھا۔‘

    پولیس اس حوالے سے تفتیش کر رہی ہے تاہم مشتبہ حملہ آور کا نام تاحال ظاہر نہیں کیا گیا۔

    دوسری جانب اس واقعے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھیں فائرنگ کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے اور اس کی تحقیقات ایف بی آئی کی قیادت کرے گی۔

    ٹروتھ سوشل پر لکھتے ہوئےانھوں نےاسے امریکہ میں عیسائیوں پر ایک اور نشانہ قرار دیا۔

  2. غزہ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے کا ’بہت اچھا ردعمل‘ مل رہا ہے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ کے مجوزہ امن منصوبے پر ’ہر کوئی معاہدہ کے لیے تیار ہے‘ اور انھیں امید ہے کہ پیر کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران اسے حتمی شکل دی جا سکے گی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انھیں اسرائیل اور عرب رہنماؤں کی جانب سے اس تجویز پر بہت اچھا ردعمل ملا ہے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ تجویز صرف غزہ کے بارے میں نہیں ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر امن کے حصول کے بارے میں ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز لکھا کہ ’مشرق وسطیٰ میں عظیم کامیابیاں حاصل کرنے کا حقیقی موقع مل رہا ہے۔‘

    ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں مزید کہا، ’ہمارے پاس مشرق وسطیٰ میں عظیم کام کرنے کا حقیقی موقع ہے۔ ہر کوئی کسی بہت خاص چیز کے لیے تیار ہے۔ہم ایسا کچھ پہلی بار کرنے جا رہے ہیں۔‘

    تاہم ٹرمپ نے اپنے اس اعلان کے بارے میں زیادہ تفصیل فراہم نہیں کیں۔

    بی بی سی عربی کے مطابق امریکی انتظامیہ کے حکام نے بتایا ہے کہ ٹرمپ پیر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے تاکہ معاہدے کے لیے ایک فریم ورک تک پہنچ سکیں۔

  3. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کا 29 ستمبر کو لاک ڈاؤن کا اعلان: موبائل،انٹرنیٹ اور لینڈ لائن سروس معطل, نصیر چوہدری، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھر میں جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی  کا احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhary

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بھر میں جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے 38 نکات پر مشتمل مطالبات پورے نہ ہونے پر29 ستمبر کو غیر معینہ مدت کے لیے لاک ڈاون کا اعلان کیا ہے جس کے بعد پورے علاقے میں موبائل فون، انٹرنیٹ سروس اور لینڈ لائن فون بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

    لینڈلائن فون بند ہونے کے باعث شہریوں کا باہر کی دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس ہڑتال کی کال کو واپس لینے اور مطالبات کے حل کے لیے حکومت پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کی مقامی حکومت نے 25 ستمبر کو مظفرآباد میں عوامی ایکشن کمیٹی سے مزاکرات کیے تھے جو بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ناکام ہو گئے تھے۔

    مزاکرات میں ناکامی کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے 29 ستمبر کشمیر بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کا دوبارہ اعلان کیا تھا۔

    عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کیا ہیں

    جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات میں حکمران طبقات کی مراعات اور مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کا خاتمہ، علاج معالجہ کی مفت سہولیات، یکساں و مفت تعلیم کی فراہمی،انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا قیام شامل کیا ہے۔

    اس کے علاوہ مطالبات میں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، عدالتی نظام میں اصلاحات بھی مطالبات کا حصہ ہیں۔

    حکومت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے دوران مذاکرات کئی مطالبات تسلیم کر لیے تھے مگر کچھ مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے مزاکرات ناکام ہوئے تھے۔

    پاکستان کے وزیر امور کشمیر امیر مقام نے جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی سے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دعویٰ کیا کہ ’ایکشن کمیٹی کے ساتھ دوران مذاکرات تمام عوامی مطالبات مان لیے گئے تھے مگر کشمیر کے اندر آئینی معاملات کو ہم ایک کمرے میں بیٹھے کر کیسے تسلیم کر سکتے تھے۔‘

    ان کے مطابق ’وہ اختیار ہمارے پاس نہیں بلکہ اسمبلی کے پاس ہے۔ ان کے بیشتر مطالبات، جو آئین و قانون کے دائرہ کار میں آتے تھے اور جن کا تعلق کشمیری عوام کی بہتری سے تھا، خواہ وہ مرکزی حکومت سے متعلق تھے یا کشمیر حکومت سے، مان لیے گئے۔ آخر میں ایکشن کمیٹی نے کچھ غیر قانونی مطالبات رکھ دیے، جن میں کشمیر اسمبلی سے مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ بھی شامل تھا۔‘

    امیر مقام نے کہا کہ ’کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ آئینی اور قانونی معاملہ ہے، آپ عوام کا مینڈیٹ لے کر الیکشن جیتیں اور اسمبلی میں آئیں، پھرترامیم کرائیں، اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔‘

    ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے ڈور ٹو ڈور مہم

    یاد رہے کہ اس وقت عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ دران ڈور ٹو ڈور اس ہڑتال کو کامیاب بنانے کی مہم چلا رہے ہیں جبکہ پاکستان سے رینجرز کی گاڑیاں کشمیر کے مختلف اضلاع میں پہنچا دی گئی ہیں، جسے مقامی سطح پر ممکنہ احتجاجی لہر سے نمٹنے کی تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع میں پولیس اور رینجیرز نے مشترکہ طور پر فلیگ مارچ بھی کیے۔

    دارالحکومت مظفرآباد میں مظاہرین نے رینجرز کی گاڑیاں روک کر نعرے بازی بھی کی۔

  4. امداد لیجانے والا گلوبل فلوٹیلا غزہ سے 825 کلو میٹر دُور، 44 ممالک کے سینکڑوں کارکن سوار

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    غزہ کی پٹی کی اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے وقف گروپ ’گلوبل سٹیڈ فاسٹنیس فلوٹیلا‘ نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ یہ پٹی سے صرف 825 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    اس بحری بیڑے میں 50 سے زائد کشتیاں شامل ہیں جن میں 44 ممالک کے سینکڑوں کارکن سوار ہیں۔

    فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق اس فلوٹیلا میں فریڈم فلوٹیلا یونین، گلوبل غزہ موومنٹ، اسٹیڈ فاسٹنیس فلوٹیلا اور ملائیشیا کی سمد نوسنتارا آرگنائزیشن شامل ہیں۔

    بحری بیڑے کی الما کشتی پر سوار ایک کارکن نے ’ایکس‘ پر ایک مختصر ویڈیو میں بتایا کہ دو ڈرونز کشتیوں سے کچھ بلندی پر پرواز کرتے رہے، لیکن انھوں نے کوئی حملہ نہیں کیا۔

    فلوٹیلا میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ وہ ’اسرائیلی دھمکیوں‘ کے باوجود غزہ کی طرف سفر جاری رکھیں گے۔

    سٹیڈ فاسٹنیس فلوٹیلا میں شریک یوسف سمور نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی کشتی پر ڈرون حملہ کیا گیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ کچھ مواد کشتی کے بالکل باہر گرا اور اس میں سے کچھ چیزیں چہرے کو بھی لگی ہیں۔

    فرانسیسی اداکارہ ایڈیل ہینیل نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ کشتی میں خرابی کی وجہ سے غزہ جانے والے عالمی فلوٹیلا کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

    اداکارہ اور کارکن نے 5 ستمبر کو تیونس سے گلوبل ریزیلینس فلوٹیلا پر سوار ہو کر سفر کیا، جو خود کو ’غزہ کی اسرائیل کی غیر قانونی ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا بحری مشن‘ قرار دیتا ہے۔

    انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں، اینل نے کہا کہ وہ جس کشتی پر تھی اس کا انجن خراب ہونے کے بعد وہ مشن چھوڑنے پر مجبور ہوگئیں۔

  5. یوکرین میں مسلسل 12 گھنٹے تک روسی بمباری میں چار ہلاکتیں، زیلنسکی کی مذمت

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرین پر مسلسل 12 گھنٹوں تک جاری رہنے والی روسی بمباری کی مذمت کی ہے۔

    زیلنسکی کے مطابق بمباری سے چار ہلاکتیں دارالحکومت کیئو میں ہوئی ہیں جبکہ مجموعی طور پر 70 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    صدر زیلنسکی کے مطابق روس کی جانب سے 12 گھنٹوں کے دوران 600 ڈرونز اور درجنوں میزائل داغے گئے جن کے ذریعے یوکرین کے سات علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    زیلنسکی کا کہنا تھا کہ اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو لڑائی اور قتل و غارت جاری رکھنا چاہتا ہے، لہذِا یوکرین، روس کے ان حملوں کا جواب دے گا۔

    دوسری جانب روس نے کہا کہ اس نے یوکرین کی مسلح افواج کی حمایت کرنے والی فوجی تنصیبات اور صنعتی اداروں کو نشانہ بنایا ہے۔

    یوکرین کے وزیر دفاع ایگور کلیمینکو نے کہا کہ حملے سے ملک بھر میں کم از کم 100 سویلین سائٹس کو نقصان پہنچا ہے اور کئی محلے کھنڈر بن کر رہ گئے ہیں۔

    ایمرجنسی سروسز کے مطابق کیف کے انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے میں ایک نرس اور ایک مریض ہلاک ہو گئے۔ زیلنسکی نے کہا کہ ایک بڑی بیکری، ایک آٹوموبائل ربڑ فیکٹری کے ساتھ ساتھ اپارٹمنٹ کی عمارتوں اور شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

  6. انڈین مندوب کی جانب سے ’ٹیررستان‘ کہنے پر پاکستان کا سخت ردعمل: ’اقوام متحدہ کے رُکن ملک کا نام بگاڑنا شرمناک ہے‘

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAssociated Press of Pakistan

    انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر کی جانب سے اقوام متحدہ میں پاکستان کا نام لیے بغیر تنقید اور انڈین مندوب کی جانب سے پاکستان کو ’ٹیررستان‘ کہنے پر پاکستان نے شدید ردعمل دیا ہے۔

    انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر نے سنیچر کو اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ ہمارا ایک پڑوسی طویل عرصے سے دہشتگردی کا مرکز رہا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پچھلی کئی دہائیوں سے، بڑے بین الاقوامی دہشت گرد حملوں کے تانے بانے اس ملک سے ملتے آئے ہیں۔ ’اپریل میں پہلگام میں معصوم سیاحوں کا قتل اس کی تازہ مثال ہے۔‘

    انڈین وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن میں انڈر سیکریٹری محمد راشد نے جے شنکر کے بیان کو پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’درحقیقت انڈیا دہشت گردوں کا سہولت کار ہے اور جنوبی ایشیا کو اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور بنیاد پرست نظریے کے ہاتھوں یرغمال بنا رہا ہے۔‘

    محمد راشد کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف 90 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا جسے عالمی برادری بھی تسلیم کرتی ہے۔

    پاکستانی مندوب کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انڈین مشن میں سیکنڈ سیکریٹری سری نواس نے کہا کہ ’انڈین وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کسی ملک کا نام نہیں لیا تھا، لیکن پاکستان نے پھر بھی اس پر ردعمل دیا اور تسلیم کر لیا کہ سرحد پار دہشت گردی کا مرکز ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’کوئی دلیل یا جھوٹ کبھی بھی ٹیررستان کے جرائم کو نہیں چھپا سکے گے۔‘

    انڈین مندوب کے بیان پر ایک بار پھر جواب دینے کا حق استعمال کرتے ہوئے پاکستانی مندوب محمد راشد نے کہا کہ ’یہ اتنا شرمناک ہے کہ انڈیا اس حد تک گر چکا ہے کہ وہ بار بار اقوام متحدہ کے ایک رُکن ملک کا نام بگاڑ رہا ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ایک خودمختار قومی ریاست کے نام کا مذاق اڑانا پوری قوم کو بدنام کرنے اور ان کی توہین کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔

    محمد راشد کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی سیاسی جلسہ نہیں ہے۔۔انڈیا کے پاس دنیا کو دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہے، اسی لیے بغیر کسی ٹھوس دلیل کے ایسی باتیں کی جا رہی ہیں جو سنجیدہ بحث کے لائق نہیں ہیں۔‘

  7. روس کا یوکرین کے دارالحکومت پر حملہ، چار افراد ہلاک، 27 زخمی

    یوکرین کی وزارتِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ تازہ روسی حملے میں سینکڑوں ڈرون اور میزائل استعمال کیے گئے ہیں.

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنیوکرین کی وزارتِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ تازہ روسی حملے میں سینکڑوں ڈرون اور میزائل استعمال کیے گئے ہیں.

    یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر حملے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ 27 زخمی ہو گئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات ملک کے مختلف ریجنز بشمول زاپورزہیا پر ڈرونز سے حملے کیے گئے جس میں تین بچوں سمیت 16 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    یوکرین کی وزارتِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ تازہ حملے میں سینکڑوں ڈرون اور میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔ روس نے فی الحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    سنیچر کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا تھا کہ روس صرف ان کے ملک پر حملہ کر کے نہیں رکے گا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس ہی لیے روس نیٹو میں مختلف ممالک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے ان کی فضائی طاقت جانچ رہا ہے۔

    تاہم سنیچر کے روز اقوامِ متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یورپی یونین یا نیٹو کے رکن ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، لیکن ماسکو کے خلاف کسی بھی ’جارحیت‘ پر ’فیصلہ کن جواب‘ دیا جائے گا۔

    لاوروف کا کہنا تھا کہ’مغربی ممالک کی طرف سے روس کو دی جانے والی دھمکیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔‘

  8. ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی شہر پورٹ لینڈ میں امیگریشن سینٹرز کے باہر فوج تعینات کرنے کا اعلان

    امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) پورٹ لینڈ میں ایک حراستی مرکز کے باہر تعینات ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنامیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) پورٹ لینڈ میں ایک حراستی مرکز کے باہر تعینات ہیں۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست اوریگون کے شہر پورٹ لینڈ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیتے ہوئے امیگریشن حراستی مراکز کو نشانہ بنانے والے مظاہروں کو دبانے کے لیے ’طاقت کے بھرپور‘ استعمال کی اجازت دے دی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ’امریکہ کے جنگ کے سکریٹری (سیکریٹری دفاع) پیٹ ہیگستھ کو ہدایت دے رہے ہیں کہ وہ جنگ سے تباہ شدہ پورٹ لینڈ کی حفاظت کے لیے درکار فوجی فراہم کریں۔‘

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے انٹیفا اور دیگر مقامی دہشت گردوں کی جانب سے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) کے حراستی مراکز کو ممکنہ خطرات سے بچانے میں مدد ملے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ضرورت پڑنے پر طاقت کے بھرپور استعمال کی بھی اجازت دے دی ہے۔

    ڈیموکریٹک ممبران نے ٹرمپ کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں فوج تعینات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    اوریگون کی گورنر ٹینا کوٹیک کا کہنا ہے کہ ’پورٹ لینڈ میں قومی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہماری کمیونٹیز محفوظ اور پرسکون ہیں۔‘

    ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کے چلتے صدر ٹرمپ کا یہ اعلان امریکی شہروں میں فوجیوں کی تعیناتی میں مزید توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے پیغام میں تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ نیشنل گارڈز یا باقاعدہ امریکی فوج، کس کو تعینات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ سے یہ بھی واضح نہیں کہ ’مکمل طاقت‘ کے استعمال سے کیا مراد ہے۔

  9. ہمارا ایک پڑوسی طویل عرصے سے دہشتگردی کا مرکز رہا ہے: انڈین وزیرِ خارجہ کا اقوامِ متحدہ میں بیان

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والوں کی حمایت کرنے والے ممالک کو بالآخر نتائج بھگتنا ہوں گے

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والوں کی حمایت کرنے والے ممالک کو بالآخر نتائج بھگتنا ہوں گے

    سنیچر کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کا نام لیے بغیر متعدد بار اس کی جانب اشارہ کیا۔

    جے شنکر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’دہشت گردی سے لڑنا ہمارے لیے خاص ترجیح ہے کیونکہ یہ جنونیت، تشدد، عدم برداشت اور خوف کا مجموعہ ہے۔ انڈیا آزادی کے بعد سے ہی اس چیلنج کا سامنا کرتا آیا ہے کیونکہ ہمارا ایک پڑوسی طویل عرصے سے عالمی دہشت گردی کا مرکز رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پچھلی کئی دہائیوں سے، بڑے بین الاقوامی دہشت گرد حملوں کے تانے بانے اس ملک سے ملتے آئے ہیں۔ ’اپریل میں پہلگام میں معصوم سیاحوں کا قتل اس کی تازہ مثال ہے۔‘

    جے شنکر کا کہنا تھا کہ انڈیا نے اپنے لوگوں کے تحفظ کے لیے اپنا حق استعمال کیا اور پہلگام حملے کے منصوبہ سازوں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا۔

    انڈین وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ خطرہ ہے اور اس سے مقابلے کے لیے گہری بین الاقوامی شراکت داری ضروری ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب ممالک کھلے عام دہشت گردی کو ریاستی پالیسی قرار دیں، جب دہشت گردی کے اڈے صنعتی پیمانے پر کام کر رہے ہوں، جب دہشت گردوں کی سرعام تعریف کی جائے تو ایسی کارروائیوں کی غیر مشروط مذمت کی جانی چاہیے۔‘

    انڈین وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی فنڈنگ ​​کو روکنا ضروری ہے۔ ’بڑے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ، ہمیں دہشت گردی کے پورے ڈھانچے پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنا چاہیے۔ دہشت گردی کو فروغ دینے والوں کی حمایت کرنے والے ممالک کو بالآخر نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘

  10. ایران پر ایک بار پھر پابندیاں عائد: برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا تہران کو کشیدگی نہ بڑھانے اور مذاکرات سے معاملات حل کرنے کا مشورہ

    امریکی حملے کے بعد ایران کے فردو جوہری تنصیب کی تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنامریکی حملے کے بعد ایران کے فردو جوہری تنصیب کی تصویر۔

    ایران پر تقریباً ایک دہائی بعد اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایک بار پھر معاشی اور عسکری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی نہ بڑھائے اور مذاکرات سے معاملات حل کرنے کی کوشش کرے۔

    جولائی 2015 میں ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام کے متعلق معاہدہ طے پائے جانے کے بعد ایران پر عائد پابندیاں اٹھالی گئی تھیں۔ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں چین، فرانس، جرمنی، روس، برطانیہ اور امریکہ شامل تھے۔

    تاہم 2016 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایران نے اس معاہدے کے تحت ممنوعہ جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے پیشرو باراک اوبامہ کی جانب سے کیا جانے والا یہ معاہدہ غیر موثر ہے۔

    برطانیہ، جرمنی اور فرانس کا کہنا ہے کہ تہران کی جانب سے ’مسلسل جوہری کشیدگی‘ اور عدم تعاون کے باعث ان کے پاس ایران کے خلاف آخری حربے کے طور پر پابندیاں عائد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

    اس سے قبل گذشتہ ہفتے ایران کے صدر مسعود مزشکیان نے واضح کیا تھا کہ ان کے ملک کا نیوکلیئر ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں اور انھوں نے بین الاقوامی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو ’غیر منصفانہ اور غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی تھی۔

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے: ’ہم ایران پر زور دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیز کارروائی سے باز رہے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ یہ مطلب نہیں کہ سفارت کاری کی ذریعے مزید بات نہیں ہو سکتی۔

    تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ وہ ’سفارتی کوششیں اور مذاکرات جاری رکھیں گے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ طویل مذکرات کے باوجود ایران ’ہمارے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے اور توسیع سے متعلق ہمارے مطالبات پورا کرنے‘ میں ناکام رہا ہے۔

    انھوں نے خاص طور پر تہران کی جانب سے اقوام متحدہ کے جوہری سررگرمیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون سے انکار کا ذکر کیا ہے۔

    مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات تک دوبارہ رسائی نہیں دی اور نہ ہی ادارے کو اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے متعلق رپورٹ پیش کی۔

    یار دہے کہ رواں سال جون میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات اور فوجی اڈوں پر بمباری کے بعد ایران نے آئی اے ای اے کا معائنہ معطل کر دیا تھا۔

    ایران پر عائد ہونے والی پابندیوں کی تفصیلات

    • ہتھیاروں کی خریداری پر پابندی
    • یورینیم کی افزودگی پر پابندی
    • جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائلوں سے منسلک سرگرمیوں پر پابندی
    • اثاثے منجمد اور ایرانی شخصیات اور اداروں پر سفری پابندیاں
    • دیگر ممالک کو ایران ایئر اور ایران شپنگ لائنز کے معائنہ کرنے کی اجازت

    اقوام متحدہ کی جانب سے ان پابندیوں کے نفاذ کے بعد اگلے ہفتے یورپی یونین کی جانب سے ہٹائی گئی پابندیاں بھی دوبارہ نافذ العمل ہو جائیں گی۔

  11. غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 35 فلسطینی ہلاک، متعدد زخمی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ کے ہسپتال ذرائع کے مطابق سنیچر کے روز اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ میں 35 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    غزہ سٹی کے الانجیل عرب ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ وسطی غزہ میں ایک مکان پر حملے میں کم از کم 11 افراد مارے گئے، جن میں سے نصف سے زیادہ خواتین اور بچے تھے۔

    طبی کارکنوں نے کہا کہ نصیرات پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد ہلاک ہوئے جبکہ کم از کم 6 افراد کو وسطی اور جنوبی غزہ میں امداد کے حصول کے دوران ہلاک کیا گیا۔

    یہ حملے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی اُس تقریر کے ایک دن بعد ہوئے ہیں کہ جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کو حماس کے خاتمے کے لیے شروع کی جانے والی کارروائی کو مکمل کرنا ہے اور اپنے یرغمالیوں کو ہر قیمت پر وطن واپس لانا ہے۔‘

    Ali Jadallah/Anadolu via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAli Jadallah/Anadolu via Getty Images

    اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اُن کی جانب سے جمعہ سے اب تک غزہ بھر میں تقریباً 120 اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں فوج کے مطابق ’دہشت گرد گروہوں کے زیرِ استعمال عمارتیں، جنگجو اور دیگر اہم تنصیبات‘ شامل ہیں۔

    یہ واضح ہے کہ اسرائیل کی حالیہ وسیع زمینی کارروائی، جو حماس کے خلاف کی جا رہی ہے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ یہ کارروائی اب بنیادی طور پر غزہ سٹی پر مرکوز ہے جہاں اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ مسلح گروہ کا آخری گڑھ ہے۔

    واضح رہے کہ لاکھوں افراد پہلے ہی اس علاقے کے سب سے بڑے شہری مرکز سے نقل مکانی کر چکے ہیں جہاں گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ ایک ادارے نے قحط کی تصدیق کی تھی۔ لیکن اب بھی لاکھوں لوگ وہاں انتہائی سنگین انسانی حالات میں موجود ہیں جہاں صحت اور دیگر بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

  12. انڈیا میں سیاسی جلسے کے دوران بھگدڑ مچنے سے 36 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    BBC

    انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں ایک سیاسی جلسے کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 36 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

    ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز جنوبی ضلع کرور میں اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی انتخابی مہم کے ایک جلسے میں لاکھوں افراد جمع ہوئے تھے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق جلسہ کئی گھنٹے تاخیر کا شکار ہوا۔ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں دکھایا گیا کہ بھیڑ میں لوگ بے ہوش ہو رہے ہیں۔

    سیاستدان سنتھل بالاجی نے مقامی ہسپتال کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ مزید 50 سے زائد افراد شدید زخمی ہیں جن کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔

    TVK

    ،تصویر کا ذریعہTVK

    ریاستی وزیرِ صحت ما سبرامنین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ہلاکتوں میں کم از کم 16 خواتین، 9 مرد اور 6 بچے شامل ہیں۔

    تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ ایم کے سٹالن نے کہا کہ کچھ لوگوں کو بھگدڑ میں بے ہوش ہونے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ قریبی اضلاع میں کام کرنے والے ڈاکٹروں سے اضافی مدد طلب کی گئی ہے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  13. روس کا یورپی یونین یا نیٹو ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں: روسی وزیرِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ ان کا ملک یورپی یونین یا نیٹو کے رکن ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، لیکن ماسکو کے خلاف کسی بھی ’جارحیت‘ پر ’فیصلہ کن جواب‘ دیا جائے گا۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سنیچر کے روز اپنے خطاب کے دوران لاوروف نے کہا کہ ’مغربی ممالک کی طرف سے روس کو دی جانے والی دھمکیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔‘

    انھوں نے اسرائیل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’اگرچہ روس نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کی مذمت کی تھی لیکن فلسطینیوں کے ’بے رحمانہ قتل‘ یا مغربی کنارے کو ضم کرنے کے منصوبوں کے لیے ’کوئی جواز‘ نہیں بنتا ہے۔‘

    تاہم اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کہ چُکے ہیں کہ غزہ میں آپریشن حماس کو شکست دینے کے لیے ضروری ہے۔

    انھوں نے مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی جس سے خطے کے ’تباہ ہونے‘ کا خطرہ ہے۔

    ایران کے حوالے سے لاوروف نے مغربی طاقتوں پر سفارتکاری کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا۔

  14. فیلڈ مارشل عاصم منیر عمران خان کا مسئلہ حل کریں، پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی: علی امین گنڈاپور

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ’عمران خان کا مسئلہ حل کرنے‘ اور عدالتوں سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

    پشاور میں عمران خان کی رہائی کے حوالے سے منعقد پی ٹی آئی جلسے سے خطاب کے دوران علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’ہم عدلیہ کو پیغام دیتے ہیں کہ آئین کے مطابق آپ انصاف فراہم کریں اور آئین کے تحت عمران خان،ان کی اہلیہ، پی ٹی آئی کارکنان اور تمام 25 کروڑ عوام کو انصاف دیں۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان دو سال سے زائد کے عرصے سے جیل میں ہیں اور ان کو مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔

    علی امین گنڈاپور نے پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے عمران خان کا ’مسئلہ‘ حل کرنے کی درخواست بھی کی۔

    ’عمران خان کہتا ہے کہ اس ملک میں عاصم لا ہے تو فیلڈ مارشل صاحب آپ پر فرض بنتا ہے کہ اپنا کردار ادا کریں۔ 25 کروڑ عوام کے لیڈر عمران خان کا مسئلہ حل کریں۔ جب عمران خان نے کہا کہ فوج ہماری ہے تو پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی تو آپ عمران خان کا مسئلہ حل کریں پوری عوام آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اس ظلم کا جواب دیا جائے جس میں ہمارے کارکنان اور رہنما جیلوں میں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہم اپنے صوبے میں کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔ جنگوں سے نقصان ہوا ہم جنگ نہیں چاہتے۔

    انھوں نے کارکنوں سے عہد لیا کہ ’عمران خان کے باہر نکلنے تک آپ سب عمران خان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔‘

  15. خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے: علی امین گنڈاپور, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    گنڈاپور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی صورت میں آپریشن نہیں چاہتے بلکہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں تاکہ صوبے میں امن قائم ہو۔

    یہ بات انھوں نے اتوار کے روز پشاور میں ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے میں تقریر کے دوران کہی۔

    ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی وہ اس حق میں ہیں کہ یہاں آپریشن کیے جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’وفاقی حکومت سے کہتا ہوں افغانستان کے ساتھ مذاکرات کریں۔ عمران خان نے بھی مذاکرات کے ذریعے حالات بہتر کرنے کا کہا تھا۔‘

    علی امین گنڈاپورکا کہنا تھا کہ ہم ان کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ سب کو عمران خان کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

    ’جو حقیقی آزادی کی جنگ عمران خان لڑ رہا ہے وہ جنگ اس وقت جاری رہے گی جب تک مدینہ کی ریاست کا خواب پورا نہیں ہو جاتا جس میں لوگوں کو انصاف ملے۔‘

    انھوں نے کہا کہ آج اس ملک میں عدلیہ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلے کریں۔

    وزیر اعلی نے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ’عمران خان، ان کی اہلیہ جماعت کے کارکنوں اور پاکستان کی عوام کو انصاف فراہم کریں گے۔ اور جب تک آئین کے مطابق سارے ادارے کام نہیں کرتے، اس وقت تک آواز اٹھاتے رہیں گے۔‘

    پشاور میں منعقد پی ٹی آئی جلسہ

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    ،تصویر کا کیپشنپشاور میں منعقد پی ٹی آئی جلسہ

    یاد رہے کہ پشاور میں منعقد پی ٹی آئی کے اس جلسے میں پاکستان کے مختلف شہروں سے کارکن اور عام شہری آئے تھے جن میں بلوچستان،سندھ اور پنجاب کے لوگ شامل تھے۔

    خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں سے بھی کارکن اور قائدین اس جلسے میں شریک تھے۔

    پاکستان تحریک انصاف کے اس جلسہ میں علی امین کے علاوہ جماعت کی سطح کے تمام قائدین نے شرکت کی ۔

    ایسی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ اس جلسہ سے پہلے یہ عہد کیا گیا تھا کہ تمام رہنما اور قائدین اختلافات بھلا کر متحد ہو کر اس جلسے کو کامیاب بنائیں گے تاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے جدو جہد کی جا سکے تاہم بی بی اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

  16. انڈیا ہر سال اس فورم پر جھوٹ کا انبار لے آتا ہے: پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم

    پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم

    ،تصویر کا ذریعہUNGA/ScreenGrab

    اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم نے خطاب میں انڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ انڈیا دنیا کا واحد ملک ہے جو دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کررہا ہے۔

    صائمہ سلیم کے مطابق ’انڈیا پاکستان میں دہشت گردوں کی سرپرستی، پورے خطے میں خفیہ نیٹ ورکس اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اپنے ظلم و جبر کو چھپا نہیں سکتا۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ میں انڈین سفارت کار پٹل گہلوت نے پاکستان پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ’پاکستان کو اپنی سرزمین پر شدت پسندوں کے کیمپ بند کرنا ہوں گے اور مطلوب دہشت گردوں کو انڈیا کے حوالے کرنے ہو گا۔‘

    انڈین سفارت کار نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ پاکستان ہی تھا جس نے اسامہ بن لادن کو ایک دہائی تک چھپا رکھا تھا۔

    انڈین مندوب کے بیان کے بعد پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ ’ہم مجبور ہیں کہ اُس ملک کو جواب دیں جو فیصلہ نہیں کر پایا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا لبادہ اوڑھے یا دنیا کی سب سے بڑی جھوٹ کی فیکٹری کے طور پر سامنے آئے، ہر سال انڈیا اس فورم پر اپنے جھوٹ کا انبارلے کر آتا ہے۔‘

    انھوں نے خطاب میں کہا کہ ’پاکستان کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں طویل عرصے سے عالمی برادری تسلیم کرتی آئی ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ فورم ایک جارح، قابض اور دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی کرنے والے ملک کا کوئی لیکچر سننے کا محتاج نہیں، پاکستان نے نہ صرف پہلگام واقعہ کی مذمت کی بلکہ آزاد، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا، اگر انڈیا کے پاس چھپانے کو کچھ نہ ہوتا تو وہ ایسی تحقیقات سے انکار نہ کرتا۔‘

  17. باجوڑ: کھیتوں میں دھماکے سے چار نوجوان ہلاک، تین زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    دھماکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    باجوڑ کے علاقے ماموند لغڑی میں کھیتوں میں ہونے والے ایک دھماکے میں چار نوجوان ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

    دھماکے کی نوعیت کا تاحال تعین نہیں کیا جا سکا۔ پولیس کے مطابق زخمیوں کو ابتدائی طور پر سول ہسپتال خار منتقل کیا گیا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ضلعی پولیس افسر وقاص رفیق نے بتایا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ دھماکہ مارٹر گولہ تھا یا کوئی دیسی ساختہ بم رکھا گیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ ’اس واقعے میں چار بچوں کی جان چلی گئی ہے اور دو زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

    ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی عمریں 13 سے 18 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔

  18. یمن کی بندرگاہ میں یرغمال بنائے جانے والے 24 پاکستانیوں سمیت عملے کے تمام 27 افراد رہا

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے ایل پی جی ٹینکر کے 27 رکنی عملے کو رہا کر دیا ہے۔

    وزیر داخلہ کے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حوثی کنٹرول میں یمن کی راس العیسی بندرگاہ پر ایل پی جی ٹینکر، جس میں 27 رکنی عملہ موجود تھا، پر 17 ستمبر کو اسرائیل نے ڈورن حملہ کیا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایل پی جی ٹینکر میں کیپٹن مختار اکبر سمیت 24 پاکستانی، دو سری لنکن اور ایک نیپالی بطور عملہ موجود تھے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    محسن نقوی کے مطابق ’حملے کے بعد ایک ایل پی جی ٹینک میں آگ لگ گئی تاہم آگ کو عملے نے بجھا دیا۔ حوثی کشتیوں نے ٹینکر کو روک کر 27 رکنی عملے کو یرغمال بنا لیا تھا، جس کے بعد پاکستان کے سکیورٹی اداروں، سعودی عرب کے رفقا کار اور دیگر حکام نے غیر معمولی حالات میں پاکستانی شہریوں کی بحفاظت رہائی کو ممکن بنایا۔‘

    ان کے مطابق ’ٹینکر اور عملہ یمن کی سمندری حدود سے باہر جا چکے ہیں۔‘

  19. خیبرپختونخوا کے ضلع لکی نروت میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17 شدت پسند ہلاک

    سکیورٹی فورسز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آئی ایس پی آر کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے آپریشن میں17شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں جن کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ’گرشتہ رات سکیورٹی فورسز نے انڈیا کی پشت پناہی رکھنے والے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع لکی مروت میں آپریشن کیا۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’آپریشن کے دوران پاکستانی فوج نے مؤثر طریقے سے کام کیا اور 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’انڈیا کی پشت پناہی والے ’فتنہ الخوارج‘(دہشت گرد) سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا اور یہ دہشت گرد سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف بدامنی کی متعدد کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ شہریوں کے قتل میں بھی سرگرم رہے۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے ان حملوں میں متعد بار ’انڈیا کی پشت پناہی والے ’فتنہ الخوارج‘ کے ملوث ہونے کا الزام سامنے آتا ہے تاہم دوسری جانب انڈیا بارہا ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ’علاقے میں پائے جانے والے دیگر دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سےانڈیا کی پشت پناہی رکھنے والے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

  20. پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کی وجہ قطر پر اسرائیلی حملہ نہیں: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے امریکی صحافی مہدی حسن کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا تاریخی دفاعی معاہدہ قطر پر اسرائیلی حملے کا رد عمل نہیں بلکہ اس پر کافی عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت جاری تھی۔

    نیویارک میں موجود پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف سے امریکی صحافی و مصنف مہدی حسن کے انٹرویو کا تقریبا ساڑھے پانچ منٹ کا ایک مختصر کلپ زیٹیو کی ویب سائٹ پر موجود ہے جس میں وزیر دفاع سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب دیتے دکھائی دیے۔

    صحافی مہدی حسن نے پوچھا کہ ’پاکستان کو برطانوی راج سے 1947 آزادی کے بعد تسلیم کرنے والا سب سے پہلا ملک سعودی عرب تھا اور اب کچھ روز قبل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ بھی عمل میں آیا ہے جس کے تحت ان ممالک میں کسی پر بھی اگر حملہ ہوا تو وہ دونوں ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا۔ تو کیا آپ کے خیال میں یہ قطر پر ہونے والے حملے کے رد عمل کے طور پر معاہدہ کیا گیا؟

    خواجہ آصف نے اس تفصیلی سوال کے جواب میں کہا کہ ’یہ معاہدہ قطر میں ہونے والے اسرائیلی حملے کا رد عمل نہیں ہے کیونکہ اس پر کافی عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت جاری تھی۔تاہم اس حملے نے شاید اس عمل کو کچھ تیز کر دیا ہو لیکن اس پر پہلےسے بات چیت جاری تھی جسے اب باضابطہ معاہدے کی شکل دی گئی پے۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان چند روز قبل ’باہمی دفاع کا سٹریٹیجک معاہدہ‘ طے پایا ہے جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘

    مہدی حسن نے سوال کیا کہ ’پاکستان مسلم ممللک میں واحد نیوکلیئر پاور ملک ہے اور سعودی عرب نے بھحی اس میں دلچسپی ظاہر کی تھی، کیا اس معاہدے کے تحت سعودی عرب نے پاکستان کو ایٹمی تحفظ فراہم کیا؟’ آپ نےخبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ جوہری ہتھیار اس معاہدے کا حصہ نہیں۔ تو کیا سعودی عرب کو پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی چھتری تلے محفوظ بنایا جائے گا۔

    اس سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ ’سعودی عرب کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں ہماری افواج وہاں موجود رہی ہیں۔ مارا سعودی عرب کے ساتھ طویل دفاعی تعلق ہے جو دہائیوں پر محیط ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم نے اس تعلق کو باضابطہ شکل دے دی ہے جو اس سے قبل کچھ کچھ عارضی بنیاد پر تھے‘۔

    مہدی حسن نے پوچھا کہ ’یہ باضابطہ شکل جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ہے یا ان کے بغیر؟’

    وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ ’میں تفصیلات میں جانے سے گریز کروں گا لیکن اب ان تمام تعلقات کو رسمی شکل دے گئی ہے جن کا سلسلہ ماضی میں بھی جاری تھا۔ یہ دفاعی معاملات ہیں اور دفاعی امور کو عوامی سطح پر بیان نہیں کیا جاتا۔‘

    پاکستان اور سعودی عرب کے سربراہان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مہدی حسن نے پوچھا کہ ’پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اور سعودی عرب کے پاس نہیں۔ تو لوگ اس کا جو چاہے مطلب سمجھ لیں؟ خواجہ آصف نے کہا کہ میں اکثر اس کے لیے ہیرو شیما اور نگا ساگی کی مثال سامنے دیکھ کر دعا کرتا ہوں کہ کوئی بھی ملک اس صورتحال کا شکار نہ ہو۔

    مصنف مہدی حسن نے کہا کہ ’2024 میں باب وولڈ ورلڈ(مصنف)نے اپنی کتاب میں تذکرہ کیا کہ محمد بن سلمان نے امریکی سینیٹر سے کہا گیا ایک جملہ مشہور ہے کہ مجھے بم بنانے کے لیے یورینیئم نہیں چاہیے وہ میں پاکستان سے خرید سکتا ہوں۔ ‘

    خواجہ آصف نے اس کے جواب میں کہا کہ میرے خیال میں اس کا حقیقت سے تعلق نہیں بلکہ یہ صرف سنسنی خیز بنانے کے لیے پھیلایا گیا اور میں اس بیان کو درست نہیں سمجھتا۔‘