مشی گن میں چرچ پر فائرنگ سے دو افراد ہلاک متعدد زخمی

،تصویر کا ذریعہSocial Media
امریکی ریاست مشی گن کے چرچ میں فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سکیورٹی حکام کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ چرچ کے اندر لگنے والی آگ پرمکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ ڈیٹرائٹ سے 60 میل (100 کلومیٹر) شمال مغرب میں واقع قصبے گرینڈ بلین میں چرچ آف جیسس کرائسٹ پر حملہ اتوار کی ایک سروس کے دوران ہوا جس میں سینکڑوں افراد شامل تھے۔
مشتبہ شخص ایک 40 سالہ مرد تھا جس نے مبینہ طور پر عمارت کے ایک حصے کو بھی آگ لگائی تھی جس پر قابو پا لیا گیا تھا۔
مبینہ شوٹر کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
مشی گن کے گرینڈ بلینک میں پولیس نے بتایا کہ چرچ پر فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص نے جان بوجھ کر چرچ کی عمارت کو آگ لگائی۔
پولیس نے اس سے متعلق صحافیوں کو بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً 10:25 بجے عبادات میں مصروف تھے تو بندوق سے لیس ایک شخص نے عمارت میں گاڑی چڑھائی۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
پولیس کے مطابق حملہ آور نے اس کے بعد چرچ کے اندر موجود افراد پر کئی راؤنڈ فائرنگ کی۔
پولیس کے مطابق نو افراد کو گولی لگنے سے زخم آئے اور ان کا ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے، اور متاثرین میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔
پولیس چیف نے کہا کہ ’ہم ابھی تک اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آگ کب اور کہاں سے لگی اور یہ کیسے شروع ہوئی۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ جان بوجھ کر ترتیب دیا گیا تھا۔‘
پولیس اس حوالے سے تفتیش کر رہی ہے تاہم مشتبہ حملہ آور کا نام تاحال ظاہر نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب اس واقعے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھیں فائرنگ کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے اور اس کی تحقیقات ایف بی آئی کی قیادت کرے گی۔
ٹروتھ سوشل پر لکھتے ہوئےانھوں نےاسے امریکہ میں عیسائیوں پر ایک اور نشانہ قرار دیا۔























