پوتن کو روکا نہ گیا تو وہ جنگ کو ’مزید پھیلا‘ سکتے ہیں: زیلنسکی

نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے یوکرین کے صدر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ولادیمیر پوتن کو روکا نہ گیا تو وہ جنگ کو ’مزید پھیلا‘ سکتے ہیں۔

خلاصہ

  • بلوچستان ہائیکورٹ نے سردار اختر مینگل پر عائد بیرون ملک سفری پابندیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا
  • سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس کی انٹرا کورٹ اپیل پر تفصیلی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ججز ایک دوسرے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کرسکتے۔
  • سمندری طوفان ریگاسا نے تائیوان سمیت چین، ہانگ کانگ، اور تائیوان میں شدید تباہی مچا دی ہے۔
  • ٹرمپ کی شہباز شریف سمیت اسلامی ممالک کے سربراہان سے ملاقات: ’اسرائیلی مغویوں کی رہائی اس گروپ کے سوا کوئی نہیں کروا سکتا‘
  • فرانسیسی صدر کا نیویارک میں ایرانی ہم منصب سے ملاقات کا اعلان
  • پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، عالمی بینک کی رپورٹ میں انکشاف

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    25 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. پوتن کو روکا نہ گیا تو وہ جنگ کو ’مزید پھیلا‘ سکتے ہیں: زیلنسکی

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین کے صدر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ولادیمیر پوتن کو روکا نہ گیا تو وہ جنگ کو ’مزید پھیلا‘ سکتے ہیں۔

    نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ اگر اتحادیوں نے متحدہ مؤقف اختیار نہ کیا اور حمایت میں اضافہ نہ کیا تو مزید ممالک کو روسی جارحیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ تمام ممالک کو عالمی ہتھیاروں کی دوڑ سے خطرہ ہے کیونکہ عسکری ٹیکنالوجی میں ترقی ہو رہی ہے، اور ساتھ ہی کہا کہ ’ہتھیار ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ کون بچتا ہے‘۔

    انھوں نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے عالمی قوانین کی ضرورت پر زور دیا۔

    زیلنسکی کے یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس یوکرین جنگ کے حوالے سے مؤقف تبدیل کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

    ٹرمپ نے پہلی بار کہا ہے کہ یوکرین اپنا پورا علاقہ واپس حاصل کر سکتا ہے۔

  3. نیویارک میں روسی اور امریکی وزرائے خارجہ کی ملاقات

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ مارکو روبیو اور سرگئی لاوروف نے نیویارک کے ایک ہوٹل میں اپنے وفود کے ہمراہ ملاقات کی۔

    اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ روبیو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر لاوروف سے ملاقات کی تھی۔

    مارکو روبیو کی ٹیم نے ایک مختصر بیان جاری کیا ہے: ’امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی ہے۔ وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کے اس مطالبے کو دہرایا کہ قتل و غارت گری بند ہونی چاہیے اور ماسکو کو روس یوکرین جنگ کے پائیدار حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

  4. اقوام متحدہ میں شامی صدر احمد الشرع کا خطاب: اسرائیلی حملوں کی مذمت اور عالمی حمایت کی اپیل

    UN

    ،تصویر کا ذریعہUN

    شام کے صدر احمد الشرع کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر ختم ہو گئی ہے۔ تقریباً چھ دہائیوں میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی شامی رہنما نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کیا۔ شامی صدر کی آخری تقریر 1967 میں اسد خاندان کے اقتدار میں آنے سے پہلے کی گئی تھی۔

    احمد الشرع نے شام پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ ان حملوں سے مزید تنازعات کو ہوا ملنے کا خطرہ ہے۔ انھوں نے کشیدگی کے بجائے مذاکرات پر زور دیا۔ احمد الشرع نے کہا کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے ’شام میں اہداف پر حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ وہ نئی حکومت کے ہاتھ میں فوجی ساز و سامان نہیں جانے دے سکتا۔‘

    شامی صدر نے زور دے کر کہا کہ یہ حملے شام کی نئی حکومت کے لیے جاری بین الاقوامی حمایت سے متصادم ہیں اور انھوں نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کی مذمت کریں اور ان کے عزائم کو روکیں۔

    الشرع نے اپنی تقریر کا آغآز یہ کہتے ہوئے کیا کہ شام چھ دہائیوں سے ظلم کی زد میں تھا اور اب اس نے اپنا ’وقار‘ دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ انھوں نے اسد خاندان کی حکومت پر کیمیائی ہتھیار رکھنے اور منشیات کی منتقلی کا الزام لگایا۔

    شام کے عبوری صدر نے کہا: ’شام کی کہانی اچھائی اور برائی کے درمیان جدوجہد کی کہانی ہے۔ شام ٹوٹ گیا اور خانہ جنگی پوری دنیا سے جنگجوؤں کو وہاں لے آئی۔‘

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں احمد الشرع نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں اپنے ملک اور اس کی خودمختاری کی تعمیر نو کے لیے کیے گئے اقدامات پر بات کی۔ انھوں نے ترکی، قطر، سعودی عرب، یورپی یونین، یورپ اور امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔

    شام کے عبوری صدر نے بتایا کہ انھوں نے نئے قوانین اور اداروں کے قیام، نمائندوں کے انتخاب اور بین الاقوامی کمپنیوں کو راغب کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب وہ ہر ایک پر سے پابندیاں مکمل طور پر ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ شامی عوام مزید اسیر نہ رہیں۔

    شامی صدر نے کہا: ’ہم غزہ کے لوگوں، ان کے بچوں اور عورتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں اور جارحیت کا سامنا کرنے والے تمام لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ہم جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

  5. پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ ’خطے میں ایک جامع سکیورٹی نظام کی ابتدا‘ ہے: ایرانی صدر

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کا ’خیر مقدم‘ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم ’خطے میں ایک مفصل سکیورٹی کے نظام اور مسلمان ممالک کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کی ابتدا ہے۔‘

    بدھ کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ایرانی صدر نے نہ صرف اسرائیل پر کڑی تنقید کی بلکہ رواں مہینے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اسرائیلی حملے کی مذمت بھی کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سکیورٹی کو طاقت کے استعمال سے یقینی نہیں بنایا جا سکتا‘ بلکہ اس کے لیے ’اعتماد کی بحالی، علاقائی رابطوں کو بڑھانا اور کثیر الجہتی اتحاد‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔

    صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران نے ’کبھی جوہری ہتھیار کا حصول نہیں چاہا اور نہ کبھی چاہے گا۔‘

    انھوں نے اپنی تقریر میں رواں برس جون میں اسرائیل اور ایران جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: ’میرے ملک کو بد ترین جارحیت کا نشانہ بنایا گیا‘ اور اسرائیلی حملے ’سفارتکاری کو سنگین دھوکہ‘ دینے کے مترادف تھے۔

    ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیلی ’جارحیت‘ ایران میں ’بچوں اور سائنسدانوں کی شہادت‘ کے ذمہ دار ہے۔

  6. امریکہ: امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایجنسی کے حراستی مرکز پر فائرنگ، دو افراد ہلاک

    ڈیلاس کے حراستی مرکز پر فائرنگ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایجنسی (آئی سی ای) کے حراستی مراکز پر ایک مشتبہ شخص کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے اس واقعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈیلاس میں ہونے والے واقعے کے مشتبہ شخص نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔

    ہوم لینڈ سکیورٹی کی ترجمان ٹریسیا میک لافلن کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے میں آئی سی ای کا کوئی ملازم زخمی نہیں ہوا، لیکن زیر حراست افراد کو نقصان پہنچا ہے۔

    آئی سی ای نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایک مسلح شخص کی جانب سے عمارت میں موجود افراد پر اندھا دھند فائرنگ کے واقعے کے بعد ڈیلاس کے فیلڈ آفس کو محفوظ بنا لیا گیا ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد کو گولی ماری گئی اور دو ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ مسلح شخص نے خود کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔

    ایف بی آئی نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ متاثرین کے ناموں کو فیالحال صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے۔

    ڈیلاس کے حراستی مرکز پر فائرنگ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آئی سی ای کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ماہ کے اندر ایک شخص نے اپنے ساتھ بم لانے کا دعویٰ کیا تھا اور ’یہ تشدد بند ہونا چاہیے۔‘

    محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق رواں اگست میں ایک شخص کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ڈیلاس کی آئی سی ای کی عمارت میں دائل ہوا اور دھمکی دی کہ اس کے بیگ میں بم ہے۔

    آئی سی ای کے حکام کا فروری میں ایک شخص کو حراست میں لینے کا منظر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنآئی سی ای کے حکام کا فروری میں ایک شخص کو حراست میں لینے کا منظر(فائل فوٹو)

    آئی سی ای کیا ہےامیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) امریکہ کی وفاقی ایجنسی ہے جو بنیادی طور پر امریکی امیگریشن قوانین کو نافذ کرنے کی ذمہ دار ہے۔

    آئی سی ای افسران امریکی سرحدی علاقوں میں یا اس کے قریب کام کر سکتے ہیں تاہم وہ امریکہ کے اندر کارروائیوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔

    ایجنسی کے مطابق انفورسمنٹ اینڈ ریموول آپریشنز اس کے ماتحت ایک ڈویژن ہے جو دستاویزات کے بغیر امریکہ میں مقیم لوگوں (یا جنھیں بے دخل کرنے کا حکم دیا گیا ہو) کی شناخت، گرفتاری، حراست اور ملک بدر کرنے کا انچارج ہے۔

  7. ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 13 دہشت گرد ہلاک: آئی ایس پی آر

    سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائی

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائی کے دوران 13 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’24 ستمبر 2025 کو سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی کی جس میں انڈین پراکسی ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا اور 13 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔‘

    ترجمان پاکستانی فوج کے مطابق ’ہلاک ہونے والے انڈین حمایت یافتہ دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ یہ افراد اس علاقے میں کئی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے جن میں دسمبر 2023 میں درابن میں خودکش حملے کی سہولت کاری، سرکاری اہلکاروں اور عام شہریوں کے اغوا اور ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔‘

    آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ’علاقے میں کسی بھی دوسرے انڈین حمایت یافتہ دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔‘

  8. سردار اختر مینگل پر عائد بیرون ملک سفری پابندیاں غیر قانونی قرار, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    سردار اختر مینگل

    بلوچستان ہائیکورٹ نے سردار اختر مینگل پر عائد بیرون ملک سفری پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل پر مارچ میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر خواتین رہنماوں کی گرفتاری کے خلاف دھرنے اور احتجاج کے بعد متعدد مقدمات قائم کرنے کے علاوہ ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

    ان پابندیوں کی وجہ سے سردار اختر مینگل دبئی نہیں جاسکے تھے جہاں طویل عرصے سے علالت کے باعث ان کی اہلیہ زیر علاج ہیں۔ سردار اختر مینگل نے سفری پابندیوں کے فیصلے کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    بدھ کی صبح فریقین کے وکلا کے دلائل کے بعد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل بینچ نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے دوپہر کے بعد سناتے ہوئے عدالت نے سفری پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا۔

    سردار اختر مینگل کے وکیل ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عدالت نے بی این پی کے سربراہ پر عائد سفری پابندیوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے اور وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ وہ اس سلسلے میں سردار اختر مینگل کے نام کو فہرست سے نکال دے ۔

  9. ’چھ سال قبل اقوام متحدہ میں ٹرمپ کے سامعین ہنس رہے تھے مگر اس بار وہ خاموش تھے‘, جیمز لینڈیل، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ روز اقوام متحدہ کے اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر نے دنیا کو یہ واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ دنیا کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے نظریات کیا ہیں۔

    ان کے حامی اس تقریر کو امریکی صدر کے نظریات کے بےلاگ اظہار کے طور پر دیکھیں گے، جبکہ ناقدین شاید اسے غیرضروری جارحانہ تقریر قرار دیں گے۔

    اقوامِ متحدہ میں تقریباً ایک گھنٹے پر محیط اپنی تقریر کے دوران صدر ٹرمپ نے دنیا بھر میں اپنے مخالفین اور ان کے نظریات پر تنقید کی۔

    انھوں نے اس تقریر کی شروعات امریکہ اور اپنی تعریفوں سے کی۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اپنے سنہرے دور سے گزر رہا ہے اور اس کے بعد انھوں نے اپنے دعوے کو دُہرایا کہ کیسے انھوں نے ذاتی طور پر سات جنگوں کو ختم کروایا اور یہ کہ وہ نوبیل امن انعام کے حقدار ہیں۔

    لیکن اس کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنی توپوں کا رُخ اپنے میزبان یعنی اقوامِ متحدہ کی طرف کر لیا۔ ان کے مطابق اقوامِ متحدہ نے دنیا میں امن کی کوششوں میں ان کا ساتھ نہیں دیا۔

    امریکی صدر نے اقوامِ متحدہ کے مقصد پر بھی سوالات اُٹھائے اور کہا کہ یہ ادارہ توقعات پر پورا نہیں اُتر رہا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اقوامِ متحدہ صرف سخت جملوں پر مشتمل خطوط لکھتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ صرف الفاظ جنگوں کے خاتمے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ پناہ گزینوں کو امریکہ میں داخل ہونے میں مدد فراہم کر رہا ہے: ’اقوامِ متحدہ کا کام حملوں کو روکنا نہ ہے، نہ کہ ان کا اہتمام کرنا اور مالی امداد کرنا تو بالکل بھی اس کا کام نہیں ہے۔‘

    انھوں نے عمارت کے خراب ایسکیلیٹر اور ٹیلی پرامٹر کے لیے بھی اقوامِ متحدہ کو ہی ذمہ دار قرار دیا۔

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شاید کہیں نہ کہیں اقوامِ متحدہ پر ان کی تنقید جائز بھی ہو۔ ان دنوں متعدد تجزیہ کار تنازعات کو حل کرنے میں اقوامِ متحدہ کے کردار پر انگلیاں اُٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خصوصی طور پر سلامتی کونسل اور بیوروکریسی سے وہ نالاں نظر آتے ہیں۔

    لیکن ایک نقطہ نظر سے صدر ٹرمپ کو بھی اقوامِ متحدہ کے غیرمؤثر ہونے کا ذمہ دار یا کم از کم اس کی ایک علامت تو قرار دیا ہی جا سکتا ہے۔ ان کا اپنا ماننا یہ ہے کہ صرف ان کی طرح کے طاقتور افراد ہی ساتھ مل کر بین الاقوامی بحران ختم کر سکتے ہیں اور اقوامِ متحدہ جیسے کثیر الاقوامی ادارے ایسے کام نہیں کر سکتے۔

    صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ اقوامِ متحدہ کی فنڈنگ کا بڑا حصہ روک چکا ہے، جس کے باعث یہ ادارہ اپنی فلاحی سرگرمیوں کو کم کرنے پر مجبور ہے۔

    لیکن اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ نے سب سے زیادہ تنقید اپنے یورپی اتحادیوں پر کی اور قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری اور امیگریشن قوانین پر انھیں آڑے ہاتھوں لیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’یورپ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان پر غیرقانونی تارکینِ وطن حملہ آور ہیں۔ امیگریشن اور خودکشی پر مبنی توانائی کی پالیسیاں مغربی یورپ کے خاتمے کا سبب بنیں گی۔‘

    موسمیاتی تبدیلی، صدر ٹرمپ کے مطابق، ’دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ‘ ہے جس کے باعث یورپی ممالک مہنگی توانائی پیدا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے مغربی سمندر سے تیل نکلنے والے تیل پر نئے ٹیکس لگانے پر برطانیہ پر بھی تنقید کی۔

    ’اگر آپ گرین انرجی کے دھوکے سے باہر نہیں نکلتے تو آپ کا ملک ناکامی کی تصویر بن جائے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے یورپ سے محبت ہے۔ مجھے یورپ کے لوگوں سے محبت ہے۔ مجھے بہت دکھ ہے کہ توانائی اور امیگریشن ان کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔‘

    ایسی ہی ایک بات انھوں نے گذشتہ ہفتے برطانیہ کے دورے کے موقع پر بھی کی تھی کہ ’انگریزی بولنے والی دنیا‘ کے حقوق کے دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹرمپ ایک ایسی انتظامیہ کے سربراہ ہیں جو کہ اپنے مذہب کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھتی ہے۔

    انھوں نے اقوامِ متحدہ کو کہا کہ: ’ہمیں مذہبی آزادی کا دفاع کرنے دیں، اس سیارے پر سب سے زیادہ مظالم کا شکار مذہب مسیحیت ہے۔‘

    اس کے بعد انھوں نے اپنی تنقید کا رُخ روس کی طرف کیا اور کہا کہ صدر ولادیمیر پوتن یوکرین تنازع ختم کرنے سے انکاری ہیں اور اس کے سبب ’روس بُرا دکھ رہا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس خون خرابے کو ختم کرنے کے لیے روس پر ’انتہائی سخت ٹیرف‘ عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کچھ یورپی ممالک اب بھی روس سے تیل خرید رہے ہیں اور انھیں ایسا کرنا بند کر دینا چاہیے۔

    درحقیقت ہنگری اور سلوواکیہ صرف دو یورپی ممالک ہیں جو روس سے تیل خریدتے ہیں۔

    سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ان دو ممالک کا سہارا اس لیے لے رہے ہیں تاکہ انھیں روس سے تیل خریدنے پر انڈیا اور چین پر مزید پابندیاں نہ عائد کرنا پڑیں۔

    ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ میں اپنی تقریر کے بعد ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ بھی لکھی جو کہ شاید ان کی تقریر سے بھی زیادہ اہم تھی۔ اس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرین اپنی قبضہ شدہ زمین واپس حاصل کر سکتا ہے۔

    انھوں نے روس کو ’کاغذ کا شیر‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ایک ’حقیقی عسکری طاقت‘ نہیں ہے۔ اس سے صدر پوتن کو تکلیف ضرور ہو گی کیونکہ وہ ایسی تمام باتوں کو سنجیدگی سے دیکھتے ہیں جن میں ان کے ملک کو بڑی طاقت نہ سمجھا جائے۔

    لیکن ٹرمپ کے لفظوں کا کوئی بھی مطلب نکالنے میں احتیاط سے ہی کام لینا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ یوکرین یورپی یونین اور نیٹو کی مدد سے اپنی زمین حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں انھوں نے کسی بھی قسم کے امریکی کردار کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

    ہمارے سامنے موجود تمام ثبوت اس طرف اشارے کرتے ہیں کہ امریکی عسکری امداد کے بغیر یوکرین روس سے اپنی زمین واپس نہیں لے سکتا۔

    چھ سال قبل بھی ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ میں ایک تقریر کی تھی اور اس وقت ان کے سامعین ان کی غیرحقیقی دعوؤں پر ہنس رہے تھے۔ لیکن اس بار ان کی تقریر کے دوران زیادہ تر خاموشی کا ہی راج رہا۔

    انھوں نے تقریر کے دوران دنیا کے رہنماؤں کو بتایا کہ ’آپ کے ممالک جہنم بنتے جا رہے ہیں۔‘

  10. ججز ایک دوسرے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کرسکتے: سپریم کورٹ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے سابق ڈپٹی رجسٹرار سپریم کورٹ کی انٹرا کورٹ اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کمیٹی ممبران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کالعدم قرار دے دی ہے اور اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ ججز ایک دوسرے کے خلاف توہین عدالت کارروائی نہیں کرسکتے، ججز کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ آئین کے تحت کوئی بھی جج اپنے ہم منصب جج کے خلاف آرٹیکل 204 کے تحت کارروائی نہیں کر سکتا اور ایسے معاملات کا اختیار صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے۔

    عدالت نے کہا کہ ججز کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور اگر ان کے خلاف بدانتظامی یا مس کنڈکٹ کا الزام ہو تو اس کی انکوائری اور کارروائی صرف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل ہی کر سکتی ہے۔

    فیصلے کے مطابق کسی ریگولر بینچ کو ایسا اختیار حاصل نہیں، ریگولر بینچ کے 21 اور 27 جنوری 2025 کے احکامات اب مؤثر نہیں رہے کیونکہ پارلیمنٹ کی 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ایسے مقدمات خود بخود آئینی بینچز کو منتقل ہو گئے تھے اور ریگولر بینچ ان کی سماعت کا اختیار کھو بیٹھا تھا۔

    واضح رہے کہ معاملہ اس وقت پیدا ہوا جب کسٹمز ایکٹ 1969 کی شق 221-A(2) کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران ریگولر بینچ نے مقدمات کو جزوی زیر سماعت قرار دے کر دوبارہ اپنے سامنے لگانے کی ہدایت کی۔

    تاہم فائلوں کی فکسنگ نہ ہونے پر ریگولر بینچ نے ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) نذر عباس کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر دی۔

    نذر عباس نے اس نوٹس کے خلاف اپیل دائر کی جسے سپریم کورٹ نے سنتے ہوئے قرار دیا کہ ججز کے مابین اس طرح کی کارروائی انصاف کے نظام کو نقصان پہنچاتی ہے۔

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ریگولر بینچ نے آئینی شقوں کے برعکس کارروائی جاری رکھی اور کمیٹی ممبران کے خلاف توہینِ عدالت کا عمل شروع کیا جو غیر پائیدار اور غیر مؤثر تھا۔

    عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ایسے اقدامات سے عدلیہ کے ادارتی وقار کو نقصان پہنچتا ہے اور ججز کے درمیان ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے، اس لیے عدالتی فیصلے کے مطابق کمیٹی ممبران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی غیر مؤثر اور کالعدم قرار پائی اور اس حوالے سے جاری ہونے والے تمام احکامات ختم ہو گئے۔

  11. سمندری طوفان ریگاسا سے چین، ہانگ کانگ اور تائیوان میں شدید تباہی، جھیل پھٹنے سے 17 افراد ہلاک

    سمندری طوفان ریگاسا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سمندری طوفان ریگاسا نے تائیوان سمیت چین، ہانگ کانگ، اور تائیوان میں شدید تباہی مچا دی ہے۔ تائیوان میں طوفان اور تیز بارشوں کے باعث جھیل اپنی گنجائش سے زیادہ بھرنے کے باعث اب تک کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 124 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی تائیوان میں کم وقت میں بہت زیادہ مقدار میں ہونے والی بارشوں کے باعث شدید تباہی ہوئی۔ پانی کے اس اخراج سے علاقے میں بنے پل بہہ گئے جبکہ ہوالین شہر کے کچھ علاقوں میں سیلاب کا پانی ایک منزلہ عمارت کی اونچائی تک پہنچ گیا۔

    طوفان ریگاسا سے جھیل بھرنے اور پھٹنے سے پڑنے والے اس شگاف کو ماہرین پہاڑوں سے آنے والی سونامی قرار دے رہے ہیں جس سے ایک اندازے کے مطابق 15.4 ملین ٹن پانی(جو 6,000 اولمپک سائز کے سوئمنگ پولز کے برابر ہے) خارج ہوا۔

    حکام کے مطابق دشوار گزارراستوں کی وجہ سے حکام کے لیے ریسکیو کا کام چیلینجنگ ہے۔

    سمندری طوفان ریگاسا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یاد رہے کہ جولائی میں آنے والے سمندری طوفان کی وجہ سے بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ کے بعد مٹائیان کریک بیریئر جھیل بنی تھی۔

    حکومت نے ہوالین میں ایک فرنٹ لائن ڈیزاسٹر ریسپانس سنٹر قائم کیا ہے، اور وزارت قومی دفاع نے ریسکیو کے لیے فوجیوں کو تعینات کیا ہے۔

    اگرچہ شہر میں سیلاب کا پانی کم ہو گیا ہے تاہم ابھی وہاں کیچڑ کی موٹی تہہ اور ملبہ باقی ہے جبکہ امدادی ٹیمیں لاپتہ افراد کو تلاش رہی ہیں۔ اس تباہی نے پورے تائیوان کو بڑے پیمانے پر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

    طوفان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے جنوبی ساحلی شہروں میں اونچی لہروں کے لیے ریڈ الرٹ جاری

    چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے کہا ہے کہ شینزین، ژوہائی اور گوانگ زو کے کچھ نشیبی ساحلی علاقوں میں مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے قریب سمندری پانی کے داخل ہونے کا زیادہ خطرہ ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ تینوں شہر چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ میں واقع ہیں۔

    چین کے نیشنل میری ٹائم انوائرمنٹل فورکاسٹنگ سینٹر نے سمندری لہروں اور طوفان میں شدت آنے کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ الرٹ کے مطابق آج صبح سے کل صبح تک چین کے شمال مغربی حصے میں، سات سے 12 میٹر اونچی لہروں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    چین میں سمندری طوفان ریگاسا کے باعث تقریبا 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    ریگاسا کی تباہی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    موسمیاتی امور کے ماہرین اس طوفان کو اس کی شدت کے باعث ’طوفانوں کا بادشاہ‘ قرار دے رہے ہیں جس میں ایک ماہ کے دوران ہونے والی بارش کی مقدار چند گھنٹوں کے اندر برس گئی۔

    ہانگ کانگ میں طوفان ریگاسا کے باعث 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں جب کہ بلند لہروں نے ساحلی علاقوں کو ڈبو دیا۔

    ریگاسا کی تباہی کے باعث سیکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئیں اور ہانگ کانگ کا سٹاک ایکسچینج غیر متاثر رہنے کے باوجود تجارتی سرگرمیوں میں کمی دیکھی گئی۔

  12. فرانسیسی صدر کا ایرانی ہم منصب سے ملاقات کا اعلان، تہران کا اسرائیلی حملوں میں ’کچھ جوہری تنصیبات‘ کی تباہی کا اعتراف

    فراسیسی صدر

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Image

    فرانس کے صدر ایمانویل میخواں کا کہنا ہے کہ وہ بدھ کے روز ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے ملاقات کریں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر سے ملاقات میں تہران کا جوہری پروگرام زیرِ بحث آئے گا۔

    اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران فرانسیسی صدر نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو کام کرنے نہیں دیا تو تہران پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے سخت پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔

    اس سے قبل گذشتہ روز ایرانی جوہری معاہدے میں شامل تین یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد شائع ہونے والی خبروں کے مطابق، ملاقات میں معمولی پیش رفت ہوئی تھی۔

    فردو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی حملوں میں کچھ جوہری تنصیبات تباہ ہوئی تھیں: ایرانی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ کا اعتراف

    ایران کے ایٹمی انرجی آرگنائزیشن کے سربراہ محمد اسلامی نے سکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جون میں امریکی حملوں میں ایران کی کچھ جوہری تنصیبات تباہ ہو گئی تھیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی دباؤ اور اسرائیلی حملے کے خطرے باوجود ان تنصیبات کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔

    محمد اسلامی کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی حملے میں تنصیبات کو نقصان پہنچنا فطری بات ہے۔ ’لیکن جو چیز زیادہ اہم ہے وہ ہے سائنس، علم اور ٹیکنالوجی۔ اور ایران میں اس [جوہری] صنعت کی تاریخ اور جڑیں بہت گہری ہیں۔‘

    گذشتہ رات، ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا‘ تاہم تہران یورینیم ’کی افزودگی نہیں روکے گا۔‘

    امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں اور یہ نقصان دہ بھی ہے‘ اور ’کوئی بھی ملک خطرے کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا۔‘

  13. انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیلاب سے 150 افراد ہلاک، 13 ہزار گھر تباہ, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر

    جموں کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اگست کے دوران بارشوں اور بادل پھٹنے سے آئی طغیانی سے بڑے پیمانے پر مالی اور جانی نقصان ہوا ہے۔

    سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے متعلق ایک سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں کے کئی اضلاع اور وادی کے جنوبی اضلاع میں سیلابی ریلوں سے 150 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 33 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر جموں اور کشمیر میں 13 ہزار 600 رہائشی مکان تباہ ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ڈھائی لاکھ کنال زرعی اراضی سیلاب کی زد میں آئی اور ان پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

    متاثرین کئی ہفتوں سے انڈین حکومت سے وفاقی امدادی پیکیج کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم جموں کے حالیہ دورے کے دوران انڈین وزیرِ زراعت شوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ کشمیر کی حکومت کے پاس پہلے ہی انسدادِ بحران یا ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے تحت ڈھائی ہزار کروڑ انڈین روپے موجود ہیں اور اس رقم کو متاثرین کی بحالی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان کشمیر کو انڈیا سے ملانی والی واحد شاہراہ سرینگر۔جموں ہائی وے کو پہنچا ہے۔ چٹانیں کھسکنے اور ہائی کا بیشتر حصہ ڈہہ جانے سے ہزاروں لوگ اور میوہ سے لدے سینکڑوں ٹرک کئی روز تک سڑک پر ہی پھنسے رہے۔ اس شاہراہ کی بندش کی وجہ سے کشمیری معیشت کی شہہ رگ کہلانے والی سیب کی فصل راستے میں ہی خراب ہو گئی۔

    سوپور میں واقع کشمیر کی سب سے بڑی فروٹ منڈی کے سربراہ فیاض احمد ملک کا کہنا ہے کہ ’راستے کی وقت پر مرمت نہ ہونے کی وجہ سے فروٹ انڈسٹری کو 1200 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔‘

  14. انڈیا کے شہر کولکتہ میں 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 251 ملی میٹر بارش، 10 افراد ہلاک

    کولکتہ

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

    انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں بارشوں کا 39 سال پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

    بارش سے متعلقہ واقعات میں کم از کم 10 افراد ہو گئے ہیں۔ ان میں سے نو اموت بارش کے بعد کھڑے پانی میں کرنٹ لگنے کے باعث ہوئی ہیں۔

    شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں پیر کی رات سے شروع ہونے والی شدید بارشوں کے باعث پانی کھڑا ہے۔ شہر کی کئی اہم سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں اور ٹرین سروس میں بھی خلل پڑا ہے جس کے باعث مسافروں کو گھٹنے گہرے پانی سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

    یاد رہے کہ چند روز میں درگا پوجا کا تہوار آ رہا ہے۔ یہ اس خطے کا سب سے بڑا اور مشہور سالانہ تہوار ہے جس میں دسیوں ہزار ہندو دیوی درگا کی پوجا کرنے کے لیے نکلتے ہیں۔

    24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں 251.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 1986 کے بعد ریکارڈ کی گئی سب زیادہ بارش ہے۔

    انڈیا کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے بارشیں شمال مشرقی خلیج بنگال میں بننے والے ہوا کے کم دباؤ کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔

    کولکتہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    کولکتہ

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

  15. لندن شرعی قانون کی طرف جانا چاہ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ لندن ’شرعی قانون کی طرف جانا‘ چاہتا ہے۔

    منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے لندن کے میئر سر صادق خان کو ایک پھر تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ انھوں نے پناہ کے متلاشی افراد کے لیے اقوام متحدہ کی امداد پر بھی تنقید کی۔

    ’میں لندن کو دیکھتا ہوں، جہاں آپ کے پاس ایک خراب میئر ہے، خراب، خراب میئر، اور اس شہر کو تبدیل کر دیا گیا ہے، یہ بالکل بدل چکا ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اب وہ شریعت کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ لیکن آپ کسی دوسرے ملک میں ہیں، آپ ایسا نہیں کر سکتے۔‘

    امریکی صدر کے بیان پر لندن میئر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم ان کے متعصبانہ بیانات پر ردعمل بھی دینا نہیں چاہیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لندن دنیا کا سب سے بہترین شہر ہے جو امریکہ کے بڑے شہروں سے زیادہ محفوظ ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمیں ریکارڈ تعداد میں یہاں منتقل ہونے والے امریکی شہریوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے۔

    یاد رہے کہ 2015 میں صادق خان نے اس وقت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز کی مذمت کی تھی کہ مسلمانوں کے امریکہ کے سفر پر پابندی لگا دی جانی چاہیے۔ تب سے ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار لندن کے میئر کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے برطانیہ کے سرکاری دورے کے دوران، امریکی صدر نے کہا تھا کہ سر صادق ’دنیا کے بدترین میئرز میں سے ایک ہیں‘۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے میئر سے کہا تھا کہ وہ دورے کے دوران تقریبات میں شرکت نہ کریں حتیٰ کہ ونڈسر محل میں بادشاہ کی طرف سے دی جانے والی سرکاری ضیافت میں بھی نہیں۔

    صادق خان نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ پر دھیاں نہیں دیتے اور ان کے پاس ’فکر کرنے کی زیادہ اہم چیزیں‘ ہیں۔

  16. پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، عالمی بینک کی رپورٹ میں انکشاف, تنویر ملک، صحافی

    ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے، آمدن میں کمی آئی اور شہری غریب آبادی کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے، آمدن میں کمی آئی اور شہری غریب آبادی کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    عالمی بینک (ورلڈ بینک) نے پاکستان میں غربت کی شرح کے نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق ملک کی آبادی کا 25.3 فیصد یعنی تقریباً چھ کروڑ افراد خطِ غربت سے نیچے ہیں۔

    عالمی بینک نے پاکستان میں غربت سے متعلق اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’پاکستان کی ماضی میں غربت میں کمی کی امید افزا سمت اب ایک تشویشناک رکاوٹ کا شکار ہو گئی ہے، جس سے برسوں میں مشکل سے حاصل کی گئی کامیابیاں ضائع ہو رہی ہیں۔‘

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2001 میں غربت کی شرح 64.3 فیصد تھی جو 2018 میں کم ہو کر 21.9 فیصد تک آگئی تھی۔ بینک کا کہنا ہے کہ 2015 تک سالانہ اوسطاً تین فیصد کی شرح سے غربت میں واقع ہوئی۔ تاہم اس کے بعد یہ شرح کم ہو کر ایک فیصد پوائنٹ سے بھی کم رہ گئی۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں غربت کی شرح دوبارہ بڑھ کر 25.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مختلف صوبوں میں غربت کی شرح نمایاں طور پر مختلف ہے۔ پنجاب میں غربت کی شرح 16.3 فیصد ہے جو کہ ملک میں سب سے کم ہے۔ لیکن آبادی کے بڑے حجم کی وجہ سے ملک کے 40 فیصد غریب اسی صوبے میں رہتے ہیں۔

    بلوچستان جو کہ ملک کا سب سے غریب صوبہ ہے وہاں 42.7 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ تاہم مجموعی طور پر کم آبادی کے باعث صوبے میں ملک کے بارہ فیصد غریب موجود ہیں۔ سندھ اور خیبر پختونخوا میں غربت کی شرح بالترتیب 24.1 اور 29.5 فیصد ہے۔

    رپورت کے مطابق سنہ 2020 کے بعد سے آنے والے مسلسل بحرانوں سے پاکستان میں غربت کے خاتمے کی کوششوں کو گہرا دھچکا لگا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق، کووِڈ-19 کی وبا نے ملک کو شدید صحت اور معاشی بحران سے دوچار کیا، جس کا سب سے زیادہ اثر غیر رسمی شعبے پر پڑا جو کہ 85 فیصد سے زائد پاکستانیوں کے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے۔

    کورونا وبا کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے، آمدن میں کمی آئی اور شہری غریب آبادی کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    اس عرصے کے دوران قومی سطح پر غربت کی شرح بڑھ کر 24.7 فیصد تک پہنچ گئی۔

    مزید برآں، معاشی عدم استحکام اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ صورتِ حال اس وقت مزید ابتر ہوگئی جب 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے تین کروڑ 30 لاکھ افراد کو متاثر کیا، لاکھوں مکانات کو نقصان پہنچایا اور روزگار کے ذرائع تباہ کیے۔

  17. بلوچستان حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذاکرات کامیاب، مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر عمل درآمد معطل

    ریکو ڈک

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد صوبے میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے نئے متنازع قانون پر ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے عمل درآمد روک دیا گیا۔

    حکومتی جماعتوں اور اپوزیشن کمیٹی کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات منگل کے روز ہوئے۔ حکومتی کمیٹی کی قیادت وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کی جبکہ اختلاف کی کمیٹی کی قیادت بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے کی۔

    خیال رہے کہ رواں سال مارچ کے مہینے میں صوبائی اسمبلی سے معدنیات سے متعلق بلوچستان مائنز منرلز ایکٹ 2025 کا قانون منظور کیا گیا تھا جسے حزب اختلاف کی جماعتوں نے بلوچستان کے مفادات کے منافی اور معدنی وسائل پر صوبے کے اختیارات وفاق کے حوالے کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

    اس قانون کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی متعدد درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

    منگل کے روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ سے متعلق مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اور اپوزیشن کمیٹی کی ملاقات کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو دوبارہ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

    میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے اور اب یہ ایکٹ قرارداد کی صورت میں دوبارہ ایوان میں لایا جائے گا ۔

    وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایوان کے اندر اور باہر موجود تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ایکٹ کو دوبارہ اسمبلی میں لایا جائے گا تاکہ کسی کے تحفظات باقی نہ رہیں۔

  18. بلوچستان: مستونگ میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ، جعفرایکسپریس کو نقصان

    ٹرین

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں ریلوے ٹریک پر بم دھماکے کے نتہجے میں جعفرایکسپریس کی ایک بوگی گر گئی جبکہ تین بوگیاں پٹڑی سے اترگئیں۔

    سرکاری حکام کے مطابق یہ واقعہ منگل کی شام اسپیزنڈ کے قریب پیش آیا۔

    لیویز فورس دشت کے ایس ایچ او اختر بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے ریلوے ٹریک پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جو اس وقت پھٹ گیا جب پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس وہاں سے گزررہی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی وجہ سے ٹرین کی ایک بوگی بالکل گر گئی جبکہ تین پٹڑی سے اتر گئیں۔

    ایس ایچ او اختر بلوچ کا کہنا تھا کہ اس واقعہ میں پانچ کے قریب مسافر معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب، ریلویز کے مقامی ترجمان کے مطابق ٹرین میں 270 کے قریب مسافر سوار تھے تاہم انھوں نے کسی مسافر کی زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی۔

    دشت کا علاقہ کوئٹہ شہر سے اندازاً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں ضلع مستونگ میں واقع ہے۔

    کوئٹہ اور کولپور کے درمیان دشت کے علاقے میں ماضی میں بھی ٹرینوں کو متعدد بار بم حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

  19. ٹرمپ کی شہباز شریف سمیت اسلامی ممالک کے سربراہان سے ملاقات: ’اسرائیلی مغویوں کی رہائی اس گروپ کے سوا کوئی نہیں کروا سکتا‘

    Meeting with Islamic counties, Trump

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    اسلامی ممالک کے سربراہان نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ ختم کروانے اور عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

    منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر سائیڈ لائن پر ہونے والا یہ اجلاس قطر اور امریکہ کی میزبانی میں ہوا جس میں منتخب اسلامی ممالک کو مدعو کیا گیا تھا۔

    اس ملاقات کا مقصد غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کے مـجوزہ منصوے کے بارے میں منتخب اسلامی ممالک کو آگاہ کرنا تھا۔

    اس اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارت، قطر، مصر، ،ترکی، اردن، انڈونیشیا اور پاکستان کے سربراہان شریک تھے۔

    باضابطہ ملاقات سے قبل ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی بات چیت کے مطابق ملاقات میں شریک قطر کے امیر نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور اسرائیلی مغویوں کی رہائی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ میں جنگ ختم کروانے کے لیے امریکہ اُن کے ساتھ ہے۔

    جس کے جواب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اسرائیلی مغویوں کی رہائی چاہتے ہیں اور دنیا میں کوئی بھی یہ نہیں کروا سکتا سوا اس گروپ کے (منتخب اسلامی ممالک) اس لیے یہ ملاقات اُن کے لیے بھی ایک عزاز ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ ’جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر میری 32 ملاقاتیں ہیں لیکن یہ سب سے اہم ملاقات ہے۔ ہم اس چیز (جنگ) کو ختم کرنے جا رہے جسے شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

    اس ملاقات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے حصول کی کوششوں کا حصہ رہے ہیں تاکہ مذاکرات کرنے والے فریقین اس ہدف کو حاصل کر لیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ دنوں میں کئی طاقتور ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔

    حماس کے تاوان کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جو لوگ امن چاہتے ہیں انھیں ایک نکتے پر متحد ہونا چاہیے کہ یرغمالیوں کو اب فوری رہا کر دیا جائے۔

  20. ایران یورینیئم کی افزودگی نہیں روکے گا، امریکہ سے مذاکرات کا فائدہ نہیں: آیت اللہ علی خامنہ ای

    آیت اللہ علی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ’ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا‘ لیکن یہ کہ ’اس کی افزودگی نہیں روکے گا۔‘

    ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی اپنی تقریر میں ایرانی رہنما نے تین باتوں پر زور دیا، ایرانی قوم کا اتحاد، یورینیم کی افزودگی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات۔

    امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں اور یہ نقصان دہ بھی ہے‘ اور ’کوئی بھی ملک خطرے کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا۔‘

    خامنہ ای نے مزید کہا کہ ’دوسرا فریق اپنے وعدے توڑتا ہے، دھمکیاں دیتا ہے، اور موقع ملنے پر قتل کا ارتکاب بھی کر لیتا ہے‘ اور اس بات پر زور دیا کہ ایسی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا ’خالص نقصان‘ ہو گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ان مذاکرات کا نتیجہ ایران میں جوہری سرگرمیوں اور افزودگی کی بندش ہے‘۔

    اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اعلیٰ نے کہا کہ ’ملک کی ترقی کا راز مضبوط بننے میں ہے، ہمیں مضبوط بننا چاہیے، فوجی طاقت ضروری ہے، سائنسی طاقت ضروری ہے، ریاستی اور ساختی طاقت ضروری ہے‘۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’جب ہم مضبوط ہوں گے تو دوسری طرف سے ہمیں خطرہ نہیں ہوگا۔‘

    ایرانی رہنما نے ملک کے اندر جوہری صنعت کی بندش اور افزودگی کا مطالبہ کرنے والے امریکی حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’ایرانی عوام جو بھی ایسی بات کہے گا اسے تھپڑ ماریں گے۔‘

    خامنہ ای کا یہ تبصرہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر میں یہ کہنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے، کہ ’میں نے ایران کے رہنما کو فراخدلی سے خط لکھا، لیکن انھوں نے دھمکیوں کا جواب دیا۔‘

    اس تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ ’ایران دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی ریاست ہے اور اس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیں۔‘

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آج اپنی تقریر میں ڈونلڈٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ’امریکہ کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔‘

    اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران امریکہ نے نتنز، اصفہان اور فردو میں ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی۔

    اسرائیل ایران جنگ کے آغاز کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کی یہ چوتھی ٹیلی ویژن تقریر ہے۔

    تاہم ایرانی حکومت کے رہنما نے آج اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کے پاس نہ تو جوہری ہتھیار ہیں اور نہ ہی وہ مستقبل میں انھیں بنائے گا۔