ٹرمپ اور نتن یاہو کا غزہ کے لیے نئے امریکی امن منصوبے پر اتفاق، حماس کو اسے قبول کرنے کی تنبیہ

وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو کے ساتھ غزہ امن مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ ’بہت قریب ہے‘۔ دونوں رہنماؤں نے 20 نکاتی امن منصوبے کی حمایت کی ہے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ اسے یہ تجویز باضابطہ طور پر نہیں بھیجی گئی۔

خلاصہ

  • اسرائیل اور حماس امن منصوبے سے کچھ ناخوش ہو سکتے ہیں: ترجمان وائٹ ہاؤس
  • پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت ریکارڈ چار لاکھ روپے سے تجاوز
  • غزہ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے کا 'بہت اچھا ردعمل' مل رہا ہے: صدر ٹرمپ
  • چین میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد کو سزائے موت
  • ایران پر تقریباً ایک دہائی بعد اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایک بار پھر معاشی اور عسکری پابندیاں عائد

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    30 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن یقینی بنانے کے لیے دو ریاستی تجویز پر عمل درآمد ضروری ہے۔ شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانے کے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی لانے کے لیے فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان پائیدار امن ناگزیر ہو گا۔‘

    انھوں نے طویل پوسٹ مںی مزید لکھا کہ ’یہ بھی میرا پختہ یقین ہے کہ صدر ٹرمپ اس انتہائی اہم اور فوری مفاہمت کو حقیقت بنانے کے لیے ہر ممکن مدد کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ میں صدر ٹرمپ کی قیادت اور اس جنگ کے خاتمے میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے اہم کردار کو سراہتا ہوں۔‘

    ’میں اس بات پر بھی پختہ یقین رکھتا ہوں کہ خطے میں دیرپا امن کو یقینی بنانے کے لیے دو ریاستی تجویز پر عمل درآمد ضروری ہے۔‘

  3. نتن یاہو کو غزہ میں لڑائی فوری طور پر ختم کرنی چاہیے: یرغمالیوں کے خاندان

    غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے وزیر اعظم نتن یاہو کے ساتھ معاہدے کے اعلان کے بعد ایک خط میں امریکی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے خاندانوں کے فورم نے ایک پریس ریلیز میں لکھا ، ’ہم صدر ٹرمپ کے بے حد شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ہمارے خاندانوں اور اسرائیل کی ریاست کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی رکھی اور وہ حاصل کیا جو ہم سات اکتوبر سے شدت سے چاہ رہے ہیں، اپنے تمام پیاروں کو گھر واپس لانے کا معاہدہ۔ ‘

    انھوں نے اس معاہدے کو ’تاریخی‘ قرار دیا اور نتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ وہ ’فوری طور پر غزہ میں لڑائی بند کرنے کا حکم دیں، جس سے ہمارے یرغمالیوں کی قسمت خطرے میں پڑ رہی ہے۔‘

  4. بریکنگ, جنگ بندی کی تجویز موصول نہیں ہوئی تاہم معاہدے میں فلسطینیوں کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے: حماس

    حماس کا کہنا ہے کہ اسے امریکی جنگ بندی کی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔

    حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس گروپ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے جنگ بندی کا کوئی اقدام موصول نہیں ہوا ہے۔

    عہدیدار نے کہا کہ حماس غزہ میں جنگ کا خاتمہ کرنے والی کسی بھی تجویز کا مطالعہ کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں فلسطینیوں کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے، غزہ سے اسرائیلی انخلا کو یقینی بنانا چاہیے اور جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

    گروپ کے ہتھیاروں کے بارے میں پوچھے جانے پر عہدیدار نے کہا کہ ’جب تک قبضہ جاری رہے گا مزاحمت کے ہتھیار ایک سرخ لکیر ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہتھیاروں کے مسئلے پر صرف ایک ایسے سیاسی حل کے فریم ورک میں بات کی جا سکتی ہے جو 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دیتا ہے۔‘

  5. امریکی اور اسرائیلی سربراہان کی نیوز کانفرنس کے اہم نکات

    ’امن کے لیے ایک تاریخی دن‘

    صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک نے اس منصوبے میں حصہ لیا ہے۔

    یرغمالیوں کی رہائی

    امریکی صدر نے کہا کہ منصوبے کے حصے کے طور پر تمام یرغمالیوں کو فوری طور پر واپس کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کر دیا جائے گا۔ غزہ کو ’غیر عسکری‘ بنایا جائے گا اور اسرائیل سکیورٹی کا دائرہ برقرار رکھے گا۔ انھوں نے کہا کہ غزہ میں ایک پرامن سویلین انتظامیہ ہوگی۔

    حماس کا خاتمہ

    ٹرمپ نے کہا کہ حماس کا خطرہ ختم ہو جائے گا، عرب اور مسلم ممالک حماس کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

    امن بورڈ کا قیام

    انھوں نے کہا کہ امریکی صدر کی سربراہی میں امن بورڈ اس منصوبے کی نگرانی کرے گا، انھوں نے مزید کہا کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بورڈ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

    حماس ابھی راضی نہیں

    حماس ابھی تک اس معاہدے پر راضی نہیں ہوئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب یہ حماس پر منحصر ہے کہ وہ اس ’انتہائی منصفانہ‘ تجویز کو قبول کرے۔ ٹرمپ نے کہا کہ فلسطینیوں نے حماس کے ساتھ ’مشکل زندگی‘ گزاری ہے ، لیکن اگر وہ ان کے منصوبے سے راضی نہیں ہوتے ہیں تو پھر انہی کو ہی قصور وار ٹھہرایا جائے گا۔

    منصوبے سے اسرائیلی مقاصد کا حصول

    اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ اس منصوبے سے اسرائیل کے جنگی مقاصد حاصل ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حماس کے غزہ میں رہنے کے لیے یہ ’خوفناک‘ جنگ نہیں لڑی گئی۔

  6. امن منصوبہ غزہ اور پورے مشرق وسطیٰ کے خطے کے لیے ’ایک نئی شروعات‘ ہو سکتا ہے: بنیامن نتن یاہو

    بنیامن نتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ آج کی ملاقات نہ صرف غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن بات بات چیت کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔

    نتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کا کہ ’میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے آپ کے منصوبے کی حمایت کرتا ہوں۔ ‘

    اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’یہ منصوبہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اسرائیل کو دوبارہ حماس کی طرف سے خطرہ نہیں ہے۔‘

    انھوں نے اسرائیل کے فوجیوں کا شکریہ ادا کیا جو ان کے بقول ’بربریت‘ کے خلاف ’شیروں کی طرح‘ لڑتے ہیں۔

    نتن یاہو کا کہنا ہے کہ تمام یرغمالیوں کو زندہ اور مردہ 72 گھنٹوں کے اندر واپس کر دیا جانا چاہیے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’تمام فریقین کو پرامن طریقے سے ایسا کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے لیکن اگر حماس اس منصوبے کو مسترد کر دیتی ہے یا وہ اسے قبول کرتے ہیں تو اس پر عمل نہ کریں تو ’ہم کام مکمل کر لیں گے‘۔

    انھوں نے کہا ،’یہ آسان طریقے سے ہو یا یہ مشکل طریقے سے، لیکن یہ کیا جائے گا۔‘

    نتن یاہو کا کہنا تھا کہ انھوں نے حماس کے غزہ میں رہنے کے لیے یہ ’خوفناک‘ جنگ نہیں لڑی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ میں ’بنیاد پرست اور حقیقی تبدیلی‘ سے گزرے بغیر کوئی کردار نہیں رکھ سکتی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ امن منصوبہ غزہ اور پورے مشرق وسطیٰ کے خطے کے لیے ’ایک نئی شروعات‘ ہو سکتا ہے اور ابراہم معاہدے کو ’دوبارہ متحرک کیا جا سکتا ہے‘' اور اسے دیگر عرب اور مسلم ممالک تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ ‘

  7. ٹرمپ اور نتن یاہو کا غزہ کے لیے نئے امریکی امن منصوبے پر اتفاق ، حماس کو اسے قبول کرنے کی تنبیہ

    وزیر اعظم بینامن نتن یاہو ، ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو کے ساتھ غزہ امن مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ ’بہت قریب ہے‘۔

    دونوں رہنماؤں نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے 20 نکاتی امن منصوبے کی حمایت کی ہے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ اسے یہ تجویز باضابطہ طور پر نہیں بھیجی گئی۔

    امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر حماس اس منصوبے پر راضی نہ ہوتے تو اسے ’تباہ کرنے‘ کے لیے نتن یاہو ’جو کچھ کرنا ہے‘ وہ کریں گے۔

    مجوزہ منصوبے میں اس پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ بھی شامل ہے جس کی سربراہی ٹرمپ کر رہے ہیں۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔

    اسرائیلح وزیر اعظم کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’آج کا دن امن کے لیے تاریخی دن ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہ 21 اصولوں پر مشتمل امن منصوبے کو باضابطہ طور پر جاری کر رہے ہیں جسے ان کے بقول ’لوگوں نے واقعی پسند کیا ہے۔‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بہت سے ممالک کی طرف سے اس منصوبے کے بارے میں اِن پُٹ موصول ہوا ہے۔

    ٹرمپ نے یورپ میں اپنے بہت سے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس تجویز کو تیار کرنے میں ’عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں‘ کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے تمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر امن منصوبے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی لاشیں فوری طور پر واپس کر دی جائیں گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ ’جنگ کا فوری خاتمہ‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’عرب اور مسلم ممالک نے اس منصوبے کے ایک حصے کے طور پر غزہ کو فوری طور پر ’غیر عسکری بنانے‘ کا وعدہ کیا ہے۔

    اس منصوبے کے ایک حصے کے طور پر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حماس کی سرنگوں اور پیداواری تنصیبات کو تباہ کر دیا جائے گا۔

    منصوبے کے تحت مقامی پولیس فورسز کی تربیت کی جائے گی اور اسرائیلی دفاعی افواج غزہ سے مرحلہ وار انخلا کریں گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’نتن یاہو ایک ’جنگجو‘ ہیں جو ’معمول کے طرز زندگی پر واپس آنے‘ کے بارے میں نہیں جانتے۔ اسرائیل خوش قسمت ہے کہ وہ اس کے پاس ہیں لیکن اس کے لوگ امن اور ’حقیقی معنوں میں معمول پر آنے‘ کے لیے تیار ہیں۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بہت سے فلسطینی ہیں جو امن سے رہنا چاہتے ہیں ، لیکن انھیں اپنی قسمت کی ذمہ داری لینے خود لینی ہوگی۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’فلسطینیوں نے حماس کے ساتھ ’مشکل زندگی‘ گزاری ہے۔ لیکن اگر وہ ان کے منصوبے سے متفق نہیں ہیں تو ، انھیں اپنے آپ کو الزام دینا ہوگا۔ ‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اب یہ حماس پر منحصر ہے کہ وہ اس ’انتہائی منصفانہ‘ تجویز کو قبول کرے۔ ‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’امن قائم کرنے کا کام آسان نہیں ہوگا ، لیکن کوشش نہ کرنے سے بہت ساری جانیں داؤ پر لگی رہیں گی۔‘

  8. ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی تفصیلات سامنے آنے کے دوران غزہ میں فضائی حملوں میں اضافہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہمیں اب بی بی سی کے امریکی پارٹنر ’سی بی ایس نیوز‘ سے غزہ شہر میں حملوں میں اضافے کے بارے میں اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    ان حملوں میں اضافے کی اطلاعات ایسے وقت میں آئی ہیں، جب امریکی صدر وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ کے غزہ سے متعلق امن منصوبے میں مبینہ طور پر وہ باتیں شامل ہیں جو اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے ایک راستہ ہوگا۔ ریاست کا درجہ ایک ایسی چیز ہے جس کو نیتن یاہو نے اقوام متحدہ سے اپنے حالیہ خطاب میں سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے میں فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے بے دخل کرنے کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ وہ نکات ہوں گے جن پر امریکی صدر، وزیر اعظم نتن یاہو سے بات کریں گے۔

    ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کا دعوی ہے کہ اس کے پاس امریکی تجاویز کی ایک نقل موجود ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کی آبادی کو غیر بنیاد پرست بنانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

    یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس منصوبے کو تسلیم کرنے کے لیے حماس اور اسرائیل، دونوں کو بہت زیادہ رعایتیں دینا ہوں گی۔

  9. ٹرمپ سال میں چوتھی مرتبہ نتن یاہو کا استقبال کرتے ہوئے

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ اس سال نتن یاہو کا واشنگٹن کا چوتھا دورہ ہے جو کسی بھی دوسرے غیر ملکی رہنما سے زیادہ ہے۔

    انھوں نے پہلی مرتبہ فروری میں امریکہ کا دورہ کیا، پھر اپریل میں تجارت اور محصولات پر بات چیت کے لیے واپس آئے۔

    جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر مشترکہ حملے کیے، اس کے چند دن بعد وہ ایک بار پھر واشنگٹن میں تھے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  10. غزہ میں امن کے لیے پراُمید ہوں: صدر ٹرمپ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم کے استقبال کے دوران ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ ’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ غزہ میں جلد امن قائم ہو جائے گا؟‘

    اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں بہت پراُمید ہوں۔‘

    توقع ہے کہ ٹرمپ اور نتن یاہو ایک نئے 21 نکاتی امن منصوبے پر بات چیت کریں گے، جس کے بارے میں امریکی صدر کو امید ہے کہ اس سے غزہ میں جنگ ختم ہو جائے گی۔

    دونوں رہنما اب اوول آفس میں ملاقات کر رہے ہیں۔ لیکن میڈیا کو یہاں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنما مقامی وقت کے مطابق 12 بجے ایک ساتھ لنچ کریں گے۔

    لنچ کے بعد دونوں رہنماؤں کی دوپہر سوا ایک بجے مشترکہ نیوز کانفرنس متوقع ہے۔

  11. ٹرمپ اور نتن یاہو کی ملاقات جاری، غزہ سے متعلق واشنگٹن کے 21 نکاتی امن منصوبے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے درمیان غزہ سے متعلق اہم ملاقات وائٹ ہاؤس میں شروع ہو گئی ہے۔

    وزیر اعظم نتن یاہو کی آمد سے قبل واشنگٹن ڈی سی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

    مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف کا کہنا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ اور غزہ کے لیے 21 نکاتی امن منصوبہ لے کر آیا ہے۔

    منصوبے کی فی الحال بہت کم تفصیلات ہی سامنے آئی ہیں اور اسے باضابطہ طور پر پیش کیا جانا باقی ہے، لیکن امریکی اور اسرائیلی میڈیا میں اس کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

    ان نکات میں مبینہ طور پر وہ باتیں شامل ہیں جو اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے ایک راستہ ہوگا۔ ریاست کا درجہ ایک ایسی چیز ہے جس کو نیتن یاہو نے اقوام متحدہ سے اپنے حالیہ خطاب میں سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے میں فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے بے دخل کرنے کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ وہ نکات ہوں گے جن پر امریکی صدر، وزیر اعظم نتن یاہو سے بات کریں گے۔

    ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کا دعوی ہے کہ اس کے پاس امریکی تجاویز کی ایک نقل موجود ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کی آبادی کو غیر بنیاد پرست بنانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

    یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس منصوبے کو تسلیم کرنے کے لیے حماس اور اسرائیل، دونوں کو بہت زیادہ رعایتیں دینا ہوں گی۔

  12. اسرائیل اور حماس، امن منصوبے سے کچھ ناخوش ہو سکتے ہیں: ترجمان وائٹ ہاؤس

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوِٹ کہتی ہیں کہ اسرائیل اور حماس امن منصوبے سے کچھ ناخوش ہو سکتے ہیں۔

    امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات سے قبل ’فوکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیرولین لیوِٹ کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، نتن یاہو سے ملاقات میں اپنے منصوبے پر بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ تنازع کے خاتمے کے لیے اسرائیل اور حماس دونوں کو اپنے موقف سے کچھ پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ آخرکار ہم اس تنازع کو ختم کرنے جا رہے ہیں۔

    سنیچر کو اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کسی معاہدے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے ٹرمپ کی تجاویز نہیں دیکھیں۔

  13. پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت ریکارڈ چار لاکھ روپے سے بڑھ گئی, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت چار لاکھ روپے سے زائد کی بلند سطح پر پہنچ گئی۔

    پاکستان میں پیر کے روز سونے کی قیمت میں 5900 روپے فی تولہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ملک کی تاریخ میں پہلی باریہ فی تولہ چار لاکھ روپے کی حد عبور کر گئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 5,900 روپے بڑھ کر 403,600 روپے پر جا پہنچی۔

    دس گرام کے حساب سے سونا 5,058 روپے اضافے کے ساتھ 346,021 روپے پر بند ہوا۔

    یہ اعداد و شمار پاکستان کی سونے کی مارکیٹ کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں فی اونس 59 ڈالر کے اضافے کے ساتھ قیمت 3,818 ڈالر پر پہنچ گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

    تجزیہ کار سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ عالمی سطح پر مختلف تنازعات جس میں خاص کر یوکرین اور غزہ کو صورتحال کو قرار دیتے ہیں اس کے ساتھ ان کی جانب سے امریکی شرح سود کی پالیسی میں تبدیلی کو بھی اس اس اضافے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

    تجزیہ کار احسن الیاس نے کہا عالمی سطح پر تنازعات میں کمی کا امکان نہیں نظر آ رہا اور دوسری جانب ڈالر پر بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوا ہے جس کی وجہ سے سونے میں زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔

    اُنھوں نے کہا جو حالات چل رہے ہیں سونے کی عالمی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ سال کے آخر تک 4000 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے۔

  14. چین میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد کو سزائے موت کیوں سنائی گئی؟, جوناتھن ہیڈ اور ٹیسا وونگ، بی بی سی نامہ نگار

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہCCTV

    چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی ایک عدالت نے میانمار میں ’سکیم سینٹر‘ چلانے کے جرم میں ایک مافیا خاندان کے 11 افراد کو سزائے موت سنائی ہے۔

    حکام کے مطابق اس خاندان کے درجنوں افراد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں اور کئی دیگر کو طویل قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    چینی میڈیا کے مطابق یہ چینی مافیا خاندان ان چار قبیلوں میں سے ایک کے لیے کام کرتا تھا جو میانمار-چین کی سرحد کے قریب واقع میانمار کے چھوٹے قصبے لوکائی کو کنٹرول کرتا تھا، جو جوئے، منشیات اور متعدد جرائم کا مرکز بن چکا تھا۔

    سنہ 2023 میں میانمار نے ان خاندانوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کئی افراد کو گرفتار کر کے چینی حکام کے حوالے کر دیا۔

    چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کے مطابق شمالی شہر وینزو کی ایک عدالت نے پیر کو ایک مافیا خاندان کے کل 39 افراد کو سزا سنائی۔

  15. غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں، ٹرمپ پیر کو نتن یاہو سے ملاقات میں معاہدے کے لیے پراُمید

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کو اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی بات چیت کے دوران اسرائیل غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئے امن منصوبے پر زور دیں گے۔

    ٹرمپ نے جمعے کو معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں ہم ایک معاہدے تک پہنچ گئے ہیں۔‘

    لیکن اتوار کو نتن یاہو نے کہا کہ ابھی تک اس معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔ دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ انھیں باضابطہ طور پر تجاویز نہیں بھیجی گئیں۔

    امریکی اور اسرائیلی میڈیا میں اس مجوزہ جنگ بندی منصوبے کی گردش کرنے والی نقول کے مطابق اس معاہدے میں 48 گھنٹوں میں یرغمالیوں کی رہائی کی شرط رکھی گئی ہے۔ ان کی واپسی کے بعد اسرائیل عمر قید کی سزا کاٹنے والے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دے گا۔

    مجوزہ معاہدے کے تحت حماس کے ارکان جو امن کا عزم کرتے ہیں انہیں عام معافی اور غزہ سے محفوظ راستے کی پیشکش کی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس گروپ کا علاقے میں مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔ حماس کے تمام فوجی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جائے گا۔

    مجوزہ معاہدے کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورسز بتدریج غزہ سے نکل جائیں گی اور غزہ کی ایک عبوری حکومت ہو گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی میں تبدیلی کا عکاس ہو گا، کیونکہ ٹرمپ اس سے قبل غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی کو منتقل کرنے اور غزہ کو امریکی ملکیت والی کسی فاؤنڈیشن کے سپرد کرنے کا کہہ چکے ہیں۔

  16. ایشیا کپ کے بعد بھی انڈیا میں ’ہینڈ شیک تنازع‘ کی گونج: ’یہ اوپر سے نیچے تک ڈرامہ ہی ڈرامہ ہے‘

    محسن، سوریہ

    ،تصویر کا ذریعہX

    ایشیا کپ کے فائنل کے بعد بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان ’ہاتھ ملانے کا تنازع‘ سرخیوں میں ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین اس بابت باتیں کر رہے ہیں اور ویڈیو کلپس بھی شیئر کر رہے ہیں۔

    مہاراشٹر کی اہم سیاسی جماعت شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمان سنجے راوت نے مصافحہ کے حوالے سے ایک دعویٰ کیا ہے اور اپنے دعوے کی تائید میں انھوں نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں انڈین کپتان سوریہ کمار یادیو کو ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر اور پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے لکھا: ’15 دن پہلے، سیریز کے آغاز میں، پاکستان کے وزیر محسن نقوی سے مصافحہ کیا اور تصویر بھی کھنچوائی، ابھی یہ لوگ ملک کو ایک ڈرامہ دکھا رہے ہیں۔‘

    سنجے راوت نے کہا کہ ’اگر آپ کے خون میں اتنی ہی حب الوطنی تھی تو آپ کو پاکستان کے ساتھ میدان میں نہیں اترنا چاہیے تھا، یہ اوپر سے نیچے تک ڈرامہ ہی ڈرامہ ہے۔‘

    دوسری جانب پاکستان کے کپتان سلمان آغا نے اتوار کو فائنل کے بعد پریس کانفرنس میں یہ بات کہی ہے کہ ’جب ہم ٹورنامنٹ کے آغاز میں پریس کانفرنس کر رہے تھے تو انھوں نے مجھ سے ہاتھ ملایا تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ریفریز کی میٹنگ کے دوران بھی مصافحہ ہوا۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کس کھلاڑی نے ان سے مصافحہ کیا۔

    محسن نقوی سے سوریہ کمار یادو کے ہاتھ ملانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عامر خان فین-2 نامی ایک صارف نے لکھا: ’سارا ملک انڈیا کی جیت کا جشن منا رہا ہے اور انڈین کھلاڑیوں کی ہاتھ نہ ملانے کی پالیسی پر فخر محسوس کر رہا ہے۔ لیکن کیمرے کے پیچھے ٹیم انڈیا کچھ اور ہے۔ سب جھول جھال ہے۔'

    ڈاکٹر نیمو یادو نامی ایک صارف نے سوریہ کمار یادو اور محسن نقوی کی ہاتھ ملاتے ہوئے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’یہ پاکستانیوں سے بند کمرے کے پیچھے مصافحہ کرسکتے ہیں کیا جی؟ پوچھنا تو پڑے گا ناں جی، پوچھنا تو پڑے گا۔‘

    وینا جین نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ٹیم انڈیا، پاکستان اور محسن نقوی نے ٹورنامنٹ کے آغاز پر ہاتھ ملایا اور فوٹو شوٹ کیا۔ لیکن انڈیا میں غم و غصے کے بعد بی جے پی، بی سی سی آئی، اور پی سی بی نے سکرپٹ کو تبدیل کیا اور لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے جعلی غصہ، ہاتھ نہ ملانے کا ڈرامہ وغیرہ چلایا۔‘

  17. کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے صحافی امتیاز میر زحموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہو گئے, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    امتیاز میر

    ،تصویر کا ذریعہFacebook/ImtiazMir

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے صحافی اور اینکر پرسن امتیاز میر زحموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہو گئے ہیں.

    24 ستمبر کی شب امتیاز میر اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ کراچی کے علاقے ملیر کالا بورڈ کے قریب موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے وقت امتیاز میر کے بھائی محمد صالح گاڑی چلا رہے تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ امتیاز میر کو تین جبکہ محمد صالح کو ایک گولی لگی تھی۔

    واقعے کے بعد انھیں نجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ابتدائی طور پر امتیاز میر کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔ چند روز تک ان کی طبیعت میں بہتری آئی لیکن بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پا گئے۔

    ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حلق میں لگنے والی گولی ان کی موت کی وجہ بنی۔

    امتیاز میر گذشتہ ایک دہائی سے صحافت کے شعبے سے منسلک تھے۔ وہ سندھی چینل آواز اور اردو چینل میٹرو پر حالات حاضرہ کے پروگراموں کی میزبانی کرتے تھے۔

    امتیاز پر حملے کی ایف آئی آر میں کیا ہے؟

    کراچی پولیس نے امتیاز میر اور محمد صالح پر حملے کا مقدمہ ان کے بھائی ریاض علی کی مدعیت میں تھانہ لانڈھی میں دفعہ 324 اور 34 کے تحت درج کر رکھا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق، چھ نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے امتیاز میر اور محمد صالح کو نشانہ بنایا۔

    اس حملے میں زخمی ہونے والے محمد صالح کا بھی کہنا ہے کہ ان پر حملہ ذاتی دشمنی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، ان کا زمین کے معاملے پر تنازع ہے۔

    امتیاز میر نے 2022 میں پاکستان سمیت دنیا کے بعض دیگر صحافیوں کے ہمراہ اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔

    امتیاز میر پر حملے کے بعد ایک غیر معروف گروپ لشکر تہار اللہ حسینی مزاحمت نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

    تاہم پولیس نے بھی امتیاز میر پر حملے کو ابتدائی طور پر ذاتی دشمنی کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ ڈی آئی جی فرخ لنجار کا کہنا ہے کہ جس تنظیم کا دعویٰ سامنے آیا ہے، اس تناظر میں بھی تفتیش کی جارہی ہے کیونکہ بعض اوقات جعلی دعوے بھی کیے جاتے ہیں تاہم جیو فینسنگ اور ہیومن انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیس تفتیش کو آگے بڑھا رہی ہے۔

  18. میں اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ہر معاملے پر ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں، ہم ایک پیج پر ہیں: وزیر اعظم شہباز شریف

    شہباز، ٹرمپ، عاصم

    ،تصویر کا ذریعہPak PM Office

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ہر معاملے پر ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں۔

    لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’چاہے خارجہ پالیسی ہے، جنگ ہے، اقتصادی پالیسی ہے یا آئی ایم ایف ہے، ہر بات پر ہم مشاورت کرتے ہیں اور ہم ایک پیج پر ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت، اداروں اور عسکری قیادت کے درمیان ایسا ہی تعاون مستقبل میں بھی جاری رہا تو پاکستان اوج ثریا پہ پہنچ جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سے انتہائی خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں پاکستان کی جانب سے ان کے علاوہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے جبکہ امریکہ کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکور روبیو ملاقات میں شامل تھے۔

    وزیرِ اعظم شہبار شریف کا کہنا تھا کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ذاتی دلچسپی لے کر جنگ بندی کروائی۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ اگر آپ نے بروقت مداخلت نہ کی ہوتی تو نہ جانے حالات کتنے بگڑ جاتے۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ اس ہی وجہ سے پاکستانی قوم نے انھیں نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔

  19. نو ماہ سے افغانستان میں طالبان کی حراست میں موجود امریکی شہری رہا

    طالبان کی قید سے رہائی پانے والے شخص کی شناخت عامر امیری (بائیں) کے نام سے ہوئی ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہQatari Diplomat via Reuters

    ،تصویر کا کیپشنطالبان کی قید سے رہائی پانے والے شخص کی شناخت عامر امیری (بائیں) کے نام سے ہوئی ہے۔

    قطری ثالثوں کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں افغانستان میں طالبان کے زیر حراست امریکی شہری رہا کر دیا گیا ہے۔

    طالبان کی قید سے رہائی پانے والے شخص کی شناخت عامر امیری کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ اس سال افغانستان میں قید سے رہا ہونے والے پانچواں امریکی ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ قطر کی ’انتھک سفارتی کوششوں‘ کے نتیجے میں امیری کی رہائی ممکن ہو پائی ہے۔

    تاحال یہ واضح نہیں کہ عامر امیری کو کیوں حراست میں لیا گیا تھا۔

    امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اب بھی مزید امریکی شہری ’غیر منصفانہ طور پر نظر بند‘ ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ ان کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

    قطر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے عامر امیری کی رہائی میں سہولت فراہم کی ہے اور امریکہ کے سفر سے قبل انھیں دوحہ لے جایا جا رہا ہے۔

    ذرائع نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ قطر نے مارچ میں امیری کی رہائی کے لیے بات چیت شروع کی اور اس سے سلسلے میں ان کی اور امریکی ایلچی ایڈم بوہلر سے ملاقات کا انتظام کیا تھا۔

  20. امریکی ریاست مشی گن میں چرچ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی

    حکام کا کہنا ہے کہ چرچ آف جیسس کرائسٹ پر حملہ اتوار کی ایک سروس کے دوران ہوا جس میں سینکڑوں افراد شامل تھے۔

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ چرچ آف جیسس کرائسٹ پر حملہ اتوار کی ایک سروس کے دوران ہوا جس میں سینکڑوں افراد شامل تھے۔

    امریکہ کی ریاست مشی گن میں اتوار کے روز چرچ پر ایک مسلح شخص کی جانب سے گاڑی چڑھانے اور فائرنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چار ہو گئی ہے جبکہ متعدد زخمی ہیں۔

    حملہ آور نے چرچ کے عمارت کو آگ بھی لگا دی تھی۔

    حکام نے بتایا کہ ڈیٹرائٹ سے 60 میل (100 کلومیٹر) شمال مغرب میں واقع قصبے گرینڈ بلینک میں چرچ آف جیسس کرائسٹ پر حملہ اتوار کی ایک سروس کے دوران ہوا جس میں سینکڑوں افراد شامل تھے۔

    حملہ آور کی شناخت مشی گن کے شہر برٹن کے 40 سالہ رہائشی جیکب سینفورڈ کے نام سے ہوئی ہے۔ حملے کے بعد پولیس نے انھیں چرچ کی پارکنگ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسے ایک ’ٹارگٹد پر تشدد کارروائی‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاہم حملے کی وجہ اب تک سامنے نہیں آئی ہے۔

    گرینڈ بلینک کے پولیس چیف ولیم رینے نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ دو افراد گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔

    پولیس چیف کا کہنا تھا کہ آگ لگنے سے عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے جبکہ کچھ لوگوں کا تاحال پتہ نہیں چل سکا ہے۔

    اس سے قبل پولیس نے بتایا تھا کہ چرچ پر حملہ آور نے جان بوجھ کر چرچ کی عمارت کو آگ لگائی تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش میں مدد کے لیے ایف بی آئی کے 100 اہلکاروں کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔