یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
دو اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کا کہنا ہے ’تشدد کے راستے سے کسی بھی مقصد کا حصول ممکن نہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے جانے والے مطالبات میں سے 90 فیصد مان لیے گئے ہیں اور باقی پر بات ختم نہیں ہوئی۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
دو اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق اس کی بحری افواج نے گلوبل صمود فلوٹیلا کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا ہے۔
بحری بیڑے کے کچھ بحری جہازوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الما اور سائرس پر سوار شرکا کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور بیڑے کے بیشتر جہازوں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
فلوٹیلا کے شرکا نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے ان سے رابطہ کیا اور راستہ بدلنے کے لیے کہا، جس کے فوراً بعد 20 سے زائد نامعلوم جہاز فلوٹیلا سے چند سمندری میل کے فاصلے پر دیکھے گئے۔
بحری بیڑے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی افواج نے جہازوں کو روکا اور ان پر سوار ہونا شروع کر دیا۔
یہ بیان اسرائیلی وزارت خارجہ کے بیان کے چند لمحوں بعد سامنے آیا ہے جس میں اس نے فلوٹیلا کو ’حماس فلوٹیلا‘ کے طور پر بیان کرتے ہوئے اس پر الزام لگایا کہ اس کا صرف ایک مقصد ہے: اشتعال انگیزی۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا ے کہ ’اسرائیلی بحریہ نے حماس-صمود فلوٹیلا سے رابطہ کیا اور اسے راستہ بدلنے کو کہا۔ اسرائیل نے فلوٹیلا کو مطلع کیا کہ وہ ایک فعال جنگی زون کے قریب پہنچ رہا ہے اور قانونی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
گلوبل صمود فلوٹیلا کے ممبران نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 20 سے زیادہ اسرائیلی جنگی جہاز فلوٹیلا سے تین ناٹیکل میل سے بھی کم فاصلے پر دیکھے گئے ہیں، اور انھیں خدشہ ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں قافلے کو روک لیا جائے گا۔
الما جہاز کے کپتان نے اطلاع دی ہے کہ بحری بیڑے کے قریب چار سمندری بارودی سرنگیں دیکھی گئی ہیں، جبکہ مغرب فلیٹ اتھارٹی کے رکن نبیل چنوفی نے اعلان کیا کہ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں مداخلت شروع ہو جائے گی۔
اس سے قبل بدھ کی شام، گلوبل صمود فلوٹیلا کے یولارا جہاز پر سوار ایک کارکن یوسف سمور نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ فلوٹیلا کے ریڈاروں نے فلوٹیلا سے سات ناٹیکل میل دور سات اسرائیلی جنگی جہازوں کا پتہ لگایا۔
انھوں نے کہا کہ انھیں خدشہ ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں بیڑے کو روک لیا جائے گا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کے ساتھ ایک برازیلی کارکن تھیاگو ایویلا نے پہلے بتایا تھا کہ یہ فلوٹیلا غزہ کی پٹی سے 118 ناٹیکل میل کے فاصلے پر سفر کر رہا تھا، توقع ہے کہ کل جمعرات کو غزہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح 10:00 بجے پٹی کے ساحلوں تک پہنچ جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
طالبان حکومت کے اہم رہنما اور قطر میں سفیر سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انٹرنیٹ سروسز بحال کر دی گئی ہیں۔
افغانستان میں انٹرنیٹ سروسز کے بحال ہونے کے بعد افغان عوام سڑکوں پر نکل آئے تاکہ انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز کی بحالی پر خوشی کا اظہار کر سکیں تاہم طالبان حکومت انتظامیہ کی جانب سے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔
مقامی صحافیوں کے مطابق متعدد علاقوں میں رابطے بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں جبکہ نیٹ بلاکس نے کہا کہ نیٹ ورک کے اعداد و شمار ’جزوی طور پر بحالی‘ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان میں 48 گھنٹوں کے بعد انٹرنیٹ بحال ہوا ہے لیکن انٹرنیٹ کی یہ بندش کاروبار اور پروازوں میں خلل کا باعث بنی۔
طالبان انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کی اس بندش پر کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔
تاہم گزشتہ ماہ طالبان کے شمالی صوبے بلخ کے گورنر کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ انٹرنیٹ تک رسائی کو ’برائیوں کو روکنے‘ کے لیے محدود کیا گیا تھا۔
اقتدار میں واپسی کے بعد سے طالبان کی جانب سے افغان عوام پر شریعت کے نام پر متعدد پابندیاں عائد کی جا چُکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہScreen Grab
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’تشدد کے راستے سے کسی بھی مقصد کا حصول ممکن نہیں۔ تنازعات کا حل ہمیشہ مذاکرات سے نکلتا ہے۔‘
چوہدری انوارالحق کا کہنا تھا کہ ’اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جاری مظاہروں میں بدھ کے روز خاصی شدت دیکھی گئی اور چمیاٹی کے مقام پر جھڑپ کے دوران تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک ہے۔‘
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’عوامی ایکش کمیٹی کے پرامن احتجاج کی بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیراعظم پاکستان نے میری ذمہ داری لگائی کہ آپ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کریں اور ان کے مطالبات کے حل کے لیے کوشش کریں۔‘
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات کو تسلیم کیا ہے اور مزید پر بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کا وفاقی وزیر طارق فضل کے بعد کہنا تھا کہ ’پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں گزشتہ تین روز سے جاری مظاہروں کی وجہ سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں، مختلف مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔‘
چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ ’بدھ کے روز مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چمیاٹی کے مقام پر تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔‘
ان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ پولیس کے علاوہ عام ان پرتشدد واقعات میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں تاہم اس حوالے سے تاحال تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بدھ کے روز یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ ’تنازعات کا حل ہمیشہ مذاکرات سے نکلتا ہے اور بہترین طریقہ بھی یہی ہے۔ تشدد کے راستے سے کسی مقصد کا حصول ممکن نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry
عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کیا ہیں
جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات میں حکمران طبقات کی مراعات اور مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کا خاتمہ، علاج معالجہ کی مفت سہولیات، یکساں و مفت تعلیم کی فراہمی،انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا قیام شامل کیا ہے۔
اس کے علاوہ مطالبات میں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، عدالتی نظام میں اصلاحات بھی مطالبات کا حصہ ہیں۔
حکومت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے دوران مذاکرات کئی مطالبات تسلیم کر لیے تھے مگر کچھ مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے مزاکرات ناکام ہوئے تھے۔
پاکستان کے وزیر امور کشمیر امیر مقام نے جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی سے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دعویٰ کیا کہ ’ایکشن کمیٹی کے ساتھ دوران مذاکرات تمام عوامی مطالبات مان لیے گئے تھے مگر کشمیر کے اندر آئینی معاملات کو ہم ایک کمرے میں بیٹھے کر کیسے تسلیم کر سکتے تھے۔‘
ان کے مطابق ’وہ اختیار ہمارے پاس نہیں بلکہ اسمبلی کے پاس ہے۔ ان کے بیشتر مطالبات، جو آئین و قانون کے دائرہ کار میں آتے تھے اور جن کا تعلق کشمیری عوام کی بہتری سے تھا، خواہ وہ مرکزی حکومت سے متعلق تھے یا کشمیر حکومت سے، مان لیے گئے۔ آخر میں ایکشن کمیٹی نے کچھ غیر قانونی مطالبات رکھ دیے، جن میں کشمیر اسمبلی سے مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ بھی شامل تھا۔‘
امیر مقام نے کہا کہ ’کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ آئینی اور قانونی معاملہ ہے، آپ عوام کا مینڈیٹ لے کر الیکشن جیتیں اور اسمبلی میں آئیں، پھرترامیم کرائیں، اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر تیسرے روز بھی ہڑتال جاری ہے۔ اسی دوران مختلف مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بدھ کے روز بھی مکمل ہڑتال رہی اور کشمیر کو پاکستان سے ملانے والے انٹری پوائنٹس کو مکمل بند رکھا گیا۔
تاہم ہڑتال کی وجہ سے پورے علاقے میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر سے موصول ہونے والے چند تصاویر:

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry

،تصویر کا ذریعہNaseer Chaudhry
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل بینچ نے ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو میجسٹریٹ کے اختیارات دینے کے بلوچستان کابینہ کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔
بلوچستان ہائیکوٹ کی جانب سے یہ حکم ایک آئینی درخواست پر جاری کیا گیا ہے کہ جس میں کابینہ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ بلوچستان کابینہ نے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی ایک سمری کو منظور کیا تھا جس میں برطانوی دورِ حکومت میں منظور کیے جانے والے سنہ 1898 کے ایکٹ کے تحت بلوچستان بھر میں ڈپٹی کمشنروں، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے گئے تھے۔
کابینہ کے فیصلے کے تحت انتظامی آفیسروں کو اشیا خردونوش، جنگلات، ملاوٹ، معدنیات اور تجاوزات سمیت بعض دیگر شعبوں میں جرائم کے حوالے سے سرسری سماعت کا اختیار دیا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ کی 24 تاریخ کو اس سلسلے میں جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کو افتخار احمد لانگو ایڈووکیٹ نے بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
ہائیکورٹ کے فاضل بینچ نے بدھ کو درخواست کی سماعت کی جس میں درخواست گزار کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’ایگزیکٹو افسران کو عدالتی اختیارات دینے کا اقدام آئین کے منافی ہے۔‘
ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’صوبائی کابینہ کو مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے اختیارات دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔‘ جس کے بعد انھوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کابینہ کے فیصلے کو آئین کے خلاف قرار دیا جائے۔
جس کے بعد بلوچستان ہائیکورٹ کے بینچ نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کر دیے جبکہ تاحکم ثانی کابینہ کے فیصلے کو معطل کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے غزہ کی جانب امدادی سامان لے کر جانے والی فلوٹیلا کولیشن کو آگے بڑھنے سے رکنے کا کہا ہے، اس بارے میں اُن کا کہنا ہے کہ غزہ تک امداد پہنچانے کی کوشش اُس امریکی منصوبے کو نقصان پہنچا سکتی ہے جو جنگ کے خاتمے کے لیے بنایا گیا ہے۔
40 سے زائد کشتیاں ’گلوبل صمود فلوٹیلا یعنی جی ایس ایف‘ کے تحت سفر کر رہی ہیں، جن کے ساتھ ایک اطالوی بحری جنگی جہاز بھی ہے۔ اطالوی حکام نے کہا کہ یہ فریگیٹ یا بحری جنگی جہاز اس وقت رُک جائے گا جب فلوٹیلا غزہ کے ساحل سے 150 بحری میل کے فاصلے پر پہنچ جائے گی۔
بدھ کو اُس مقام پر پہنچنے کے فوراً بعد، جی ایس ایف نے کہا کہ وہ ’ہائی الرٹ‘ پر ہے اور ڈرونز کی سرگرمی بیڑے کے اوپر اور اس کے ارد گرد بڑھ رہی ہیں ’بڑھ رہی ہے۔‘
اطالوی وزیراعظم میلونی نے کہا کہ ’امریکی تجویز نے اسرائیل حماس جنگ کے خاتمے کی ’امید‘ پیدا کی ہے اور یہ ایک ’نازک وقت‘ ہے جسے بہت سے لوگ تباہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے فلوٹیلا کو ہدایت کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی امداد غزہ لے جانے کے بجائے کسی اسرائیلی بندرگاہ پر پہنچائے۔
یہ فلوٹیلا 500 سے زائد افراد پر مشتمل ہے جن میں اطالوی سیاستدان اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کے علاوہ ایک پاکستانی سابق سینٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔
گزشتہ ہفتے اطالوی وزیرِ دفاع گوئیڈو کروزیٹو نے اس بات کی مذمت کی تھی کہ نامعلوم حملہ آوروں نے رات کے وقت فلوٹیلا پر ڈرون حملہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پوپ لیو چہار دہم نے بھی فلوٹیلا کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہر طرف سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ دعا ہے کوئی تشدد نہ ہو اور انسانی جانوں کا احترام کیا جائے اور یہی بات سب سے اہم ہے یہ بہت اہم ہے۔‘
اتوار کو بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے اس تنقید کو رد کیا کہ فلوٹیلا محض ایک تشہیری حربہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اپنی جان کو خطرے میں صرف تشہیر کے لیے نکلے گا۔‘
تاہم اسی فلوٹیلا پر سوار سابق پاکستانی سینٹر مشتاق احمد خان نے 30 ستمبر کو ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم غزہ کے قریب ہیں اور اب ہمیں دور سے اسرائیلی جہاز اپنی جانب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آپ سب سے یہی اپیل ہے جو میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے کرتا آیا ہوں کہ اگر آپ غزہ نہیں آ سکتے تو کم از کم تمام دینی و سیاسی جماعتیں اور تمام پاکستانی امریکی سفارت خانے پر امن دھرنا دیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@SenatorMushtaq/X.com

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے کہا ہے کہ انھوں (ٹرمپ) نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رُکوا کر لاکھوں افراد کی زندگیاں بچائی ہیں۔
منگل کے روز امریکی افواج کے 800 سینیئر افسران سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر رواں سال مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے جنگ رکوانے کا دعویٰ کیا اور اسی تناظر میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ امریکہ کا بھی ذکر کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل، جو کہ پاکستان میں بہت اہم شخصیت ہیں، وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ امریکہ آئے تھے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور عاصم منیر سے ہونے والی اس ملاقات کے دوران (انھوں نے) وہاں موجود گروپ، جس میں دو جنرلز بھی شامل تھے، سے کہا امریکی صدر نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔۔۔ مجھے بہت فخر محسوس ہوا، جس انداز میں انھوں نے یہ بات کی وہ انداز مجھے بہت اچھا لگا۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی چیف آف سٹاف بھی وہاں موجود تھیں اور انھوں نے کہا کہ انھوں نے بہت خوبصورت بات کی ہے۔
واضح رہے کہ اس حوالے سے موجود صدر ٹرمپ کی تقریر میں یہ واضح نہیں ہے کہ زندگیاں بچانے والی بات شہباز شریف نے کی تھی یا عاصم منیر نے۔
اس موقع پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’حال ہی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ ہو رہی تھی اور میں نے دونوں ملکوں کو فون کیا، اس بار میں نے [جنگ رکوانے کے لیے] تجارت کو استعمال کیا۔ میں نے کہا میں آپ کے ساتھ تجارت نہیں کروں گا۔‘
صدر ٹرمپ ننے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں بہت سے طیارے مار گرائے جا چکے تھے۔ ’میں نے کہا کہ اگر آپ یہ [جنگ] جاری رکھتے ہیں تو میں آپ کے ساتھ کوئی تجارت نہیں کروں گا۔ میں نے وہ جنگ بند کروا دی جو چار روز سے جاری تھی۔ لیکن وہ تو صرف آغاز تھا لیکن ہم نے اسے روک دیا جو کہ بہت زبردست بات ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلپائن میں حکام کا کہنا ہے کہ منگل کے روز آنے والے 6.9 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 69 تک پہنچ گئی۔
منگل کے روز آنے والے زلزلے کا مرکز فلپائن کے جزیرے سیبو کے ساحل کے نزدیک تھا۔
فلپائن کے سول ڈیفنس کے ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر برناڈو الیہانڈرو کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں سیبو کے ساحلی شہر بوگو میں ہوئیں جہاں سے اب تک 30 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بوگو شہر زلزلے کے مرکز سے سب سے زیادہ قریب تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ تاحال لاپتہ ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ امدادی کارکن ملبے تلے پھنسے افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔
سیبو کی صوبائی حکومت نے جزیرے کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد سے 600 سے زائد آفٹرشاکس آ چکے ہیں۔
زلزلے سے متاثرہ علاقے میں لوگوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آفٹرشاکس کی وجہ سے انھوں نے رات سڑکوں پر گزاری ہے۔
یاد رہے کہ اس زلزلے سے کچھ روز قبل ہی فلپائن میں یکے بعد دیگرے دو سمندری طوفان آئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے منگل کے روز پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کو تقسیم کرنے میں علیمہ خان کا بنیادی کردار ہے۔
منگل کے روز جاری ہونے والی ویڈیو میں علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ان کی عمران خان سے کافی عرصہ بعد ملاقات ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے پہلے کابینہ میں تبدیلیوں سے متعلق اسد قیصر اور شہرام ترکئی سے مشاورت ہوئی تھی اور گذشتہ روز عمران خان سے یہ معاملہ زیر بحث آیا اور اہم فیصلے کیے گئے جس کے بعد صوبائی وزرا عاقب اللہ خان اور فیصل ترکئی کو ان فیصلوں سے آگاہ کیا۔ ’دونوں وزراء نے فیصلوں سے اتفاق کرتے ہوئے استعفے دے دیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ معمول کی باتیں ہیں اور کابینہ میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ گذشتہ کچھ عرصے سے عمران خان کی ان کی بہنوں کی ملاقاتیں ہو رہی تھیں اور ان ہی کے ذریعے ہدایات آرہی تھیں۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ انھوں نے عمران خان کو آگاہ کیا کہ پچھلے چند ماہ میں کیا ہوتا رہا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی میں بہت تقسیم آچکی ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بجٹ کے معاملہ پر انھیں، صوبائی کابینہ اور ایم پی ایز کو غدار قرار دے کر مہم چلائی گئی۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ انھوں نے عمران خان کو بتایا کہ ’مائنس عمران خان مہم کی بنیاد پر پارٹی میں تقسیم پیدا کرنے میں علیمہ خان کا بنیادی کردار ہے اور اسی وجہ سے پارٹی میں مایوسی پھیل رہی ہے۔‘
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا انھوں نے عمران خان کو آگاہ کیا ہے کہ کچھ وی لاگرز پارٹی کو نشانہ کر کے اس میں تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ علیمہ خان کے ان وی لاگرز سے رابطے ہیں اور وہ انھیں روکنے کے بجائے شہ دے رہی ہیں۔
ویڈیو میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ انھوں نے عمران خان کو بتایا کہ صحافی اور ان کے قریبی رشتہ دار حفیظ اللہ نیازی وزیر اعظم علیمہ خان کے عنوان سے مضمون لکھ رہے ہیں۔
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پارٹی کا چیئرپرسن بنانے سے متعلق مہم بھی چلائی جارہی ہے۔
’میں نے خان صاحب کو بتایا کہ ان کا ہرفیصلہ ہمیں قبول تھا، ہے اور رہے گا۔ لیکن اس طرح کی مہم اور تقسیم سے تحریک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان صاحب فیملی میں سے کسی کو چیئرپرسن بناتے ہیں تو ہمیں اعتراض نہیں۔ ’فیملی کا فرد ہمیں کسی اور سے زیادہ قابل قبول ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کو معلوم ہے کہ 26 نومبر کو کیا ہوا، انھیں ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے تمام تفصیلات سے آگاہ کر رکھا ہے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ انھوں نے عمران خان سے کہا کہ ایسے احکامات دیں جس سے پارٹی متحد ہو۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو نو مئی کے واقعات پر سزائیں ہوئیں وہ ان مقامات پر موجود نہیں تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ علیمہ خان کا بیٹا وہاں موقع پر موجود تھا لیکن اس کی تین دن میں ضمانت ہو گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے سابق وزیرِ اعظم کو بتایا ہے کہ جو بھی اداروں سے رابطے میں ہے وہ ان کے مشن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی معلومات کے مطابق ایم آئی علیمہ خان کو مدد فراہم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے لیڈر کو سب سچ بتا کر ان سے وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل منگل کے روز اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان نے دعویِ کیا تھا کہ علی امین گنڈاپور نے عمران خان سے ملاقات کے دوران ان کی شکایت لگائی تھی کہ ان کے ملٹری انٹیلی جنس سے رابطے ہیں، وہ پارٹی چیئرپرسن بننا چاہتی ہیں اور سوشل میڈیا بھی وہ کنٹرول کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان انھیں ہنس کر بتا رہے تھے کہ علی امین گنڈاپور نے یہ سب کہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی سینیٹ میں بجٹ سے متعلق قانون سازی میں ناکامی پر حکومت شٹ ڈاؤن ہو گئی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ شٹ ڈاؤن کی صورت میں وہ حکومتی محکموں میں مزید ملازمتوں کو ختم کر دیں گے۔
یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی مالی سال کی فنڈنگ میں توسیع کے لیے مطلوبہ ووٹ نے ملنے کے سبب امریکی حکومت شٹ ڈاؤن ہوئی ہے۔
سینیٹ میں قانون سازی کے لیے 60 ووٹ درکار ہیں۔ حکمران جماعت ریپلیکن پارٹی کے پاس سینیٹ میں 55 نشستیں ہیں اور 45 نشستیں ڈیموکریٹ پارٹی کی ہیں۔
قانون سازی نہ ہونے کے سبب امریکہ حکومت کے زیر انتظام محکمے یا وزارتیں جنھیں امریکہ میں ایجنسی کہا جاتا ہے، وہاں کام ٹھپ ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سوائے چند ضروری محکموں کے تمام حکومتی محکموں میں کام متاثر ہوتا ہے۔
شٹ ڈاؤن کیا ہوتا ہے؟
امریکہ میں مالی سال کا آغاز یکم اکتوبر سے ہوتا ہے اور امریکی سینیٹ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دیتی ہے۔ اب جبکہ یکم اکتوبر ہو گئی ہے اور امریکی سینیٹ سے بجٹ پاس نہیں ہو سکا ہے تو حکومت کے پاس اُمور چلانے کے لیے فنڈنگ موجود نہیں ہے۔
امریکہ میں شٹ ڈاؤن کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام حکومتی ملازمین جن کی خدمات کے بغیر بھی حکومت کے بنیادی اُمور چل سکتے ہیں انھیں رخصت پر بھیج دیا جاتا ہے جبکہ انتہائی ضروری شعبوں کے ملازمین کام کرتے رہتے ہیں۔
عموماً شٹ ڈاؤن کے دوران کچھ پارکس، لائبیریری سمیت مختلف شعبوں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین میں سے صرف چند ایک کو کام پر بلایا جاتا اور باقی ملازمین فورلو یعنی رخصت پر بھیج دیے جاتے ہیں۔
اس بار شٹ ڈاؤن کیوں ہوا ہے؟
امریکی سینیٹ میں ریپبلکن سینیٹر جان ٹیون کا کہنا ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے ہاتھوں مغوی نہیں بنیں گے۔ جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر کا کہنا ہے کہ ریپبلکنز جھوٹ بول رہے ہیں۔
امریکہ میں حکمران جماعت ریپبلکن پارٹی نے یکم اکتوبر کو شروع ہونے والے مالی سال کا بجٹ سینیٹ سے منظور کروانے کے لیے بل پیش کیا۔ اس بل کو کلین سی آر یا جاری قرارداد کہا جاتا ہے اور اس کی منظوری کے لیے 60 ووٹ درکار ہوتے ہیں لیکن سینٹ میں ریپبلکن جماعت کے پاس 55 نشستیں ہیں اور وہ مطلوبہ ووٹ لینے میں ناکام رہے۔
بجٹ کی منظوری کے لیے انھیں ڈیموکریٹس پارٹی کی حمایت درکار ہے اور ڈیموکریٹس اس بل کی حمایت کو دیگر شرائط سے مشروط کر رہے ہیں۔
ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ صحت عامہ اور دیگر محکموں میں جو کٹوتیاں کی گئی ہیں انھیں واپس لیا جائے۔ ڈیموکریٹس کی چند شرائط میں سے ایک کم آمدن والے طبقوں کے لیے ہیلتھ انشورنس میں سبسڈی برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب ریپبلکن اور ٹرمپ انتظامیہ کوئی بھی ٹھوس رعایت دینے کو تیار نہیں۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ریپبلکن سمجھتے ہیں کہ حکومت کو فعال رکھنے کے عوض ڈیموکریٹس اپنے مطالبات منوا رہے ہیں اور اگر ماضی کی طرح شٹ ڈاؤن ہوتا ہے تو اس سے عوام پریشان ہو گی اور اس کا الزام بھی ڈیموکریٹس پر عائد کیا جائے گا۔
اس دوران ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ وہ ہیلتھ انشورنس کی سبسڈی جاری رکھنے کے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
کوئی بھی کچھ لینے یا دینے کو تیار نہیں ہے اور یہ تعطل اُس وقت تک برقرار رہ سکتا ہے جب تک شدید عوامی دباؤ انھیں جھکنے پر مجبور نہ کرے۔
سنہ 2018-2019 کے بعد یہ پہلا شٹ ڈؤان ہے جس کے تحت حکومتی محکموں میں کام بند ہو جائے گا۔
امریکہ میں گذشتہ ایک دہائی کے دوان چار بار شٹ ڈاؤن ہوا ہے اور اکثر یہ شٹ ڈاون صرف ایک یا دو دن تک جاری رہتا ہے اور عموماً قانون ساز حکومتی کارروائیوں کو مکمل طور پر دوبارہ شروع کرنے کے لیے کسی نہ کسی سمجھوتے پر پہنچ جاتے ہیں۔
گذشتہ دہائی کا طویل ترین شٹ ڈاؤن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کے دوران ہوا جو 35 دن تک جاری رہا۔
اس وقت ٹرمپ نے امریکہ کی میکسیکو سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈنگ منظور کروانے کوشش کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
کامن ویلتھ آبزرور گروپ نے پاکستان میں 2024 میں ہونے والے عام انتخابات سے متعلق اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کے موقع پر پیدا ہونے والے حالات نے ’بنیادی سیاسی حقوق کو محدود کیا اور ایک پارٹی کی آزادانہ طور پر انتخابات میں حصہ لینے کی صلاحیت کو متاثر کیا۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران پاکستان کے اہم اداروں کی طرف سے لیے گئے متعدد اہم فیصلوں نے انتخابات میں شامل تمام افراد کے برابری کی بنیاد پر اس عمل میں حصہ لینے کے حق کو متاثر کیا اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کی جانب سے بلے کے نشان کے حوالے سے لیے گئے فیصلے اور سپریم کورٹ کی جانب سے تاحیات پابندی کے فیصلے پر نظرِ ثانی سب سے زیادہ اہم تھے۔
رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ دیگر اہم ادارہ جاتی فیصلوں میں اپوزیشن ارکان کی گرفتاریاں، الیکشن کے روز موبائل فون سروسز کی بندش اور میڈیا ریگولیٹرز کی جانب سے کچھ مخصوص مواد کو نشر کرنے کی ممانعت نے بھی الیکشن پر اثر ڈالا۔
کامن ویلتھ آبزرور گروپ کی جانب سے جاری کی گئی مفصل رپورٹ 121 صفحات پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں 2024 میں ہونے والے عام انتخابات کی نگرانی کرنے والے مبصرین کے اس گروپ میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ، سری لنکا سمیت متعدد ممالک کے 13 ممبران شامل تھے اور اس گروپ کی سربراہی نائیجیریا کے سابق صدر گڈلک جاناتھن کر رہے تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ان تمام اقدامات کو علیحدہ علیحدہ دیکھا جائے تو حکام کی جانب سے ان میں سے کچھ اقدامات کی حمایت میں پیش کیے جانے والے دلائل جائز دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ان سب اقدامات کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ ایک ایسے انتخابی ماحول کی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں اہم اداروں کے فیصلوں نے ایک مخصوص جماعت کی انتخابات لڑنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کی رات موبائل فون سروسز کی بندش نے انتخابات کی شفافیت اور انتخابی نتائج کی وصولی کی صلاحیت کو بھی متاثر کیا۔
کامن ویلتھ کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان تمام حالات کے پیشِ نظر ’انتخابی عمل کی ساکھ، شفافیت اور جامعیت کو متاثر ہوئی ہو۔‘
رپورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے صنفی اور سماجی شمولیت کے ونگ (جینڈر اینڈ سوشل ونگ) کی توسیع کو ایک قابل قدر کوشش قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں خواتین اور مردوں کے درمیان ووٹر رجسٹریشن کا فرق کم ہوا۔ 2013 میں یہ فرق 12 فیصد تھا جو کم ہو کر 2024 کے انتخابات میں 7.7 فیصد رہ گیا۔
کامن ویلتھ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ہراسانی کے متعلق صنفی ہاٹ لائن کے قیام کو بھی سراہا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2024 کے انتخابات کے دوران نوجوان ووٹرز کے ٹرن آؤٹ میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام تر چیلنجوں کے باوجود ’مستقبل کے انتخابات میں بہتری کے امکانات حوصلہ افزا تھے۔‘
کامن ویلتھ نے اپنی رپورٹ میں مستبل میں انتخابی عمل کو بہتر بنانے کے لیے جن اصلاحات کی تجویز دی ہے ان میں قانونی ڈھانچے اور اس کی بہتر تشریح، انتخابی عمل کا بہتر انتظام، انتخابات سے پہلے چلائی جانے والی مہمات اور میڈیا کے کردار کے علاوہ ان قوانین کے حوالے سے بھی اصلاحات کا کہا گیا ہے جو سیاسی حقوق اور خواتین کی شرکت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ میڈیا میں شائع ہونے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کامن ویلتھ نے فروری 2024 کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کے انکشاف کے بعد اپنی رپورٹ دبا دی ہے جس کے بعد گذشتہ ماہ پاکستان تحریکِ انصاف نے کامن ویلتھ پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی رپورٹ جلد از جلد جاری کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں لگ بھگ چار روپے فی لیٹر بڑھا دی ہیں۔
منگل کی رات فنانس ڈویژن سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4.07 روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4.04 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 268.68 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 276.81 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
حکومت کے مطابق قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور متعلقہ وزارتوں کی سفارشات پر کیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر دارالحکومت مظفر آباد میں دوسرے روز بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔ تین روز سے موبائل و انٹرنٹ سروس بند ہے جبکہ کشمیر کو پاکستان سے ملانے والے داخلی راستوں پر بھی رکاوٹیں ہیں۔
خیال رہے کہ حکام کے مطابق پہلے روز عوامی ایکشن کمیٹی اور مسلم کانفرنس کے تصادم کے دوران ایک شخص ہلاک جبکہ پولیس اہلکار سمیت 20 افراد زخمی ہوئے تھے۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے پُرامن احتجاج پر فائرنگ کیے جانے کا الزام لگایا تھا۔ خیال رہے کہ کشمیر کی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس نے عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی تحریک کے ہی روز امن مارچ کا اعلان کیا تھا۔
ایس ایس پی مظفرآباد کے مطابق یہ معاملہ دو گروہوں کے درمیان تصادم کا ہے۔ ’ہسپتال سے ہمیں ریکارڈ وصول ہوا اس کے مطابق 12 سے پندرہ افراد زخمی تھے جن میں سے ایک کی ہلاکت ہوئی جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ قانونی عمل جاری ہے اور ملزمان کے خلاف ایف آئی درج ہو چکی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق مسلم کانفرنس کے امن مارچ کی ریلی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین جب آمنے سامنے آئے تو ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی گئی جس کے بعد حلات کشیدہ ہوئے اور فائرنگ ہوئی۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبر شوکت نواز میر نے بتایا کہ ’ہم صبح سے پُرامن احتجاج کر رہے تھے مگر ہم پر فائرنگ کی گئی جس کی وجہ سے ہمارے 20 افراد زخمی جبکہ ایک نوجوان ہلاک ہوا۔‘
انھوں نے متنبہ کیا کہ جب تک انصاف نہیں ہو گا تب تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے آج دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھا جبکہ بدھ کو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
حماس کی ایک سینیئر شخصیت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امکان ہے کہ ان کی تنظیم ڈونلڈ ٹرمپ کا مجوزہ غزہ امن منصوبہ مسترد کر دے گی کیونکہ یہ ’اسرائیل کے مفاد میں ہے‘ اور اس منصوبے میں ’فلسطین کے لوگوں کے مفادات کو نظر انداز‘ کیا گیا ہے۔
حماس سے منسلک شخصیت کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کا ہتھیار پھینکنے پر راضی ہونے کا امکان بھی نہیں ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ حماس کو غزہ میں انٹرنیشنل سٹیبلآئزیشن فورس (آئی ایس ایف) کی تعیناتی پر بھی اعتراض ہے اور وہ اسے ایک نئے قابض کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے ٹرمپ کا منصوبہ قبول کر لیا ہے، جبکہ حماس نے باضابطہ طور پر اس پر کوئی مؤقف نہیں دیا ہے۔
دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ حماس ’ذمہ داری‘ کے ساتھ امریکی منصوبے کا مطالعہ کر رہی ہے۔
حماس کے اندر جاری مذاکرات سے آگاہ ایک فلسطینی افسر کا کہنا ہے کہ غزہ کے اندر اور غزہ کے باہر موجود تنظیمی رہنما اس منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔
میں غزہ میں لوگوں سے رابطے کر رہی ہوں تاکہ ان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے پر رائے لے سکوں۔
23 سالہ اسریٰ کہتی ہیں کہ گذشتہ رات خبریں دیکھ کر وہ سو نہیں پائی تھیں۔
انھوں نے فون پر مجھے بتایا کہ: ’میں نے سوچا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں فوری طور پر جنگ بندی ہونے والی ہے لیکن پھر مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو صرف ایک مجوزہ منصوبہ ہے۔‘
اسریٰ کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ ’اسرائیل کے مفاد‘ میں ہے لیکن غزہ میں لوگوں کی رائے ’جنگ جاری رکھنے اور کسی بھی صورت میں اس کے خاتمے‘ کے معاملے پر منقسم ہے۔
جنوبی غزہ میں چار بچوں کی والدہ دعا نے مجھے بتایا کہ ان کے پاس اس امن منصوبے کی حمایت کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔
انھوں نے واٹس ایپ پر مجھے بتایا کہ: ’ہمارے لوگوں کے ساتھ ناانصافی کے باوجود بس ہم چاہتے ہیں کہ جنگ رُک جائے۔‘
’ہم شدید تکلیف میں ہیں اور اس منصوبے سے اتفاق کرنے کے علاوہ ہمارے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ معلوم نہیں کہ صورتحال آگے کیسی رہتی ہے کیونکہ ہمارا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔‘

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر دھماکے کے بعد ایک نجی ٹریول آفس کے ٹوٹنے والے شیشوں کو صاف کرنے والے اس کے ملازمین نے بتایا کہ دھماکے نے ہمیں ہلاکر رکھ دیا۔
دھماکے میں ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب نادرا کے دفتر میں زخمی ہونے والے ایک شہری جمشید احمد نے بتایا کہ دھماکے کی شدت کے باعث دفترمیں اندھیرا چھا گیا اوراس میں متعدد لوگ زخمی ہوئے۔
بلوچستان میں 2000 کے بعد امن و امان کی خرابی کے باعث ایف سی ہیڈکوارٹر پرپہلے بھی راکٹوں سے حملے ہوتے رہے ہیں لیکن منگل کے روز اس کے ساتھ ہونے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا حملہ تھا۔
سرکاری حکام کے مطابق پہلے ایک گاڑی میں ایک خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو ایف سی ہیڈکوارٹرکے قریب اڑایا جس کے بعد دوسرے حملہ آوروں نے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ان سب کو ماردیا گیا۔
بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ دھماکے میں کم ازکم دس افراد ہلاک اور30 سے زائد زخمی ہوگئے۔
گورنر بلوچستان شیخ جعفرخان مندوخیل،وزیراعلیٰ میرسرفراز بگٹی اور دیگر حکام نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔
دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی آواز شہر میں دور دور تک سنائی دی جبکہ اس کے قرب وجوار کے پوش علاقوں جناح ٹاؤن، شہباز ٹاؤن اورماڈل ٹاؤن میں اس کی شدت بہت زیادہ محسوس کی گئی۔
شہباز ٹاؤن کے ایک رہائشی حمید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جیسے یہ میرے گھر کے اندر ہوا ہو۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کی آواز یں بھی سنائی دیں۔
حمید خان کا کہنا تھا کہ وہ جب اپنے گھر سے باہر نکلے تو انھوں نے روڈ پر دیکھا کہ ایک گاڑی کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’میرے پوچھنے پر گاڑی کے ڈرائیور نے بتایا کہ دھماکہ ایک سوزوکی گاڑی میں ایف سی کے ہیڈکوارٹرکے ساتھ ہوا‘۔
’چونکہ میری گاڑی جائے وقوعہ کے قریب تھی جس کی وجہ سے میں محفوظ رہا لیکن میرے گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے‘۔
ایف سی ہیڈکوارٹر کے ساتھ نادرا کے دفتر کے علاوہ متعدد دیگر نجی دفاتر کو بھی نقصان پہنچا اور ان کے شیشے ٹوٹ گئے۔
زخمی ہونے والے ایک اورشہری سید انعام اللہ نے بتایا کہ ان کا دفتر ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زوردار دھماکے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جو کہ اندازاً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔
انھوں نے کہا کہ ’کندھے میں کوئی چیز لگنے کی وجہ سے وہ زخمی ہوئے۔ دھماکہ بہت زیادہ شدید تھا،بس ہمیں اللہ نے بچایا‘۔
دھماکے کی وجہ سے پشین سٹاپ پر بھی متعدد دکانوں اور دفاتر کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔
پشین سٹاپ پر ایک نجی ٹریول ایجنٹ کے دفتر کے باہر اس کے ملازمین سہ پہر کو ششیے صاف کر رہے تھے۔انھوں نے بتایا کہ شدید ہونے کی وجہ سے دھماکے نے ہمیں دفترمیں ہلاکر رکھ دیا۔
ان میں سے ایک ملازم نے بتایا کہ دھماکے کی وجہ سے میرے کان بند ہیں۔ دھماکے اور فائرنگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ جس کی وجہ سے ہمیں لگا کہ آج بچنے کے مواقع کم ہیں۔
دھماکے کی وجہ سے روڈ سے گزرنےوالی متعدد گاڑیوں اور رکشوں کو بھی نقصان پہنچا۔

’پہلے ایک خودکش حملہ آور نے ایف سی ہیڈ کوارٹر کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی کو اڑایا‘
سرکاری حکام نے بتایا کہ پہلے ایک خودکش حملہ آور نے کوئلہ پھاٹک کی جانب جانے والی روڈ پرایف سی کے ہیڈکوارٹر کے ساتھ بارود سے بھرے ایک سوزوکی گاڑی کو اُڑا دیا۔
اس کے بعد دوسرے حملہ آووروں نے ہیڈکوارٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ان کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔
بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے سول ہسپتال کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ابتدائی نشانہ ان کا ایف سی ہیڈکوارٹر تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد دیگر حملہ آووروں کو ایف سی اہلکاروں نے ماردیا جن کی تعداد چھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف سی اہلکاروں نے شہر کو ایک بڑی تباہی سے بچھا دیا جس پر وہ ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
وزیر صحت نے بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی اکثریت عام شہریوں کی ہے اور ان ’دہشت گردوں‘ کا ہدف عام شہری ہوتے ہیں۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ دھماکے کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے ایف سی ہیڈکوارٹر کے اندربھی شیشے ٹوٹنے کی وجہ سے اہلکار اوران کے رشتہ دار زخمی ہوئے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
گورنر بلوچستان شیخ جعفرخان مندوخیل، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں کسی صورت عوام اور ملک کے حوصلے کو پست نہیں کرسکتیں۔

فرنٹئیرکور کا ہیڈکوارٹر کہاں واقع ہے؟
فرنٹیئر کورنارتھ کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ شہر میں حالی روڈ پرواقع ہے جس کے بالمقابل پی ٹی وی کوئٹہ سینٹر واقع ہے۔اس کے قرب و جوار میں متعدد سرکاری اورنجی دفاتر کے علاوہ کوئٹہ کے پوش علاقے ماڈل ٹائون، جناح ٹاؤن اورشہباز ٹاؤن واقع ہیں جبکہ اس کے دائیں جانب کچھ فاصلے پر ایم پی ایز ہاسٹل، بلوچستان اسمبلی کی عمارت، بلوچستان ہائیکورٹ اورسرینا ہوٹل واقع ہیں۔
کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹرکوئٹہ، بلوچستان کے شمالی اورمشرقی علاقوں کے علاوہ بعض دیگر علاقوں میں تعینات نیم فوجی دستوں ،فرنٹیئرکورنارتھ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔
بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے ایف سی کے اس ہیڈ کوارٹر پرراکٹ حملے بھی ہوتے رہے ہیں جس کے بعد اس کے اردگرد سکیورٹی کے حصارکو نہ صرف مظبوط کیا گیا بلکہ اس کے سامنے اورکوئلہ پھاٹک جانے والے روڈ کی جانب ایک اور دیوار بھی بنایا گیا۔
سرکاری حکام کے مطابق سکیورٹی حصار مضبوط ہونے کی وجہ سے خود کش حملے کے بعد دیگر حملہ آور اندر داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
ایف سی ہیڈکوارٹر پر یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا حملہ تھا تاہم اس سے قبل 2013 میں اس نوعیت کا ایک بہت بڑا حملہ گورنرہاؤس کوئٹہ کے بالمقابل انسپیکٹر جنرل پولیس بلوچستان کی رہائش پرکیا گیا تھا۔
اس حملے کے بعد ریڈ زون میں سرکاری دفاتر کے علاوہ سکیورٹی کے ادارروں کے حصار کو سخت کردیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’حماس کے پاس غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ان کے 20 نکاتی منصوبے کا جواب دینے کے لئے ’تین سے چار دن‘ ہیں۔
گذشتہ روز نیتن یاہو کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر حماس نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا تو وہ اسرائیل کو ’جو کچھ کرنا پڑے گا وہ کرنے کے لیے مکمل حمایت کریں گے‘۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر حماس نے امن معاہدے کو مسترد کر دیا تو یہ بہت افسوسناک انجام ہو گا۔‘ وائٹ ہاؤس کے لان میں 20 نکاتی منصوبے کے بارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'ہم صرف حماس کا انتظار کر رہے ہیں‘۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’تمام عرب ممالک، مسلم ممالک سب نے (اس معاہدے پر) دستخط کیے ہیں۔ اسرائیل سب نے دستخط کیے ہیں۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر حماس نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے تو ’یہ ایک بہت ہی افسوسناک انجام ہو گا‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر حماس اس معاہدے کو مسترد کرتی ہے تو اسرائیل کا ردعمل کیسا ہو سکتا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسرائیل کو پھر نہیں روکیں گے اور جو انھیں کرنا ہے وہ کر دیں گے اور وہ یہ کام بہت آسانی سے کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ حماس نے ’ایک بڑی قیمت ادا کی ہے‘ اور انھوں نے مزید کہا کہ ان کی قیادت کو ’تین مختلف مواقع پر قتل کیا گیا ہے‘۔
حماس کے ساتھ ، یہ بہت آسان ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ یرغمالیوں کو فوری طور پر واپس لایا جائے اور ہم کچھ اچھا سلوک چاہتے ہیں۔"
ان کے مطابق حماس کے لیے ایک بہت آسان کام ہے۔ ہم یرغمالیوں کی فوری واپسی کے خواہاں ہیں اور ہم ان سسے اچھے رویے کی توقع رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
قطر کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے رواں ماہ کے اوائل میں دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے فضائی حملے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سہ فریقی ٹیلی فون پر بات چیت میں شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کو بتایا کہ وہ 9 ستمبر کے حملے میں قطری سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت اور قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسرائیل مستقبل میں دوبارہ اس طرح کا حملہ نہیں کرے گا۔ قطر کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ نتن یاہو نے دوحہ اور قطر کی خودمختاری پر حملے پر معافی مانگی ہے اور شیخ محمد نے امریکی صدر کے اقدام کے فریم ورک کے اندر غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے لیے ملک کی تیاری پر زور دیا ہے۔
قطر نے سنہ 2012 سے حماس کے ’پولیٹیکل بیورو‘ کی میزبانی کی ہے اور غزہ میں 23 ماہ کی جنگ کے دوران اس گروپ اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں امریکہ اور مصر کے ساتھ مل کر ثالث کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔
یہ خطے میں امریکہ کا ایک اہم اتحادی بھی ہے اور ایک بڑے امریکی فوجی اڈے کا میزبان بھی۔