عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کیے، وزیر خارجہ پیر کو پوتن سے ملاقات کریں گے: ایرانی میڈیا

ایرانی میڈیا کے مطابق عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو گی اور ہم فتح حاصل کریں گے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر ایرانی بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘

خلاصہ

  • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔
  • ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے 'امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات' پاکستانی حکام کے حوالے کیے ہیں جبکہ وہ پیر کو پوتن سے ملاقات کریں گے۔
  • واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے لیے عشائیے کی تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
  • صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ بھی موقع پر موجود تھے، جنھیں بحفاظت تقریب سے نکال لیا گیا۔
  • صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی ریپبلکن رکن پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی ہو۔

لائیو کوریج

  1. ایرانی صدر نے عوام سے بجلی کا استعمال محدود کرنے کی اپیل کر دی

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عوام سے اپیل کہ ہے بجلی کا ’استعمال محدود‘ کر دیں۔ یہ اپیل ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

    صدر پزشکیان کا کہنا تھا: ’دشمن ہماری تنصیبات کو تباہ کر رہے ہیں اور ہمارا محاصرہ کر رکھا ہے تاکہ لوگ عدم اطمینان کا شکار ہو جائیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’گھر میں اگر 10 بتیوں کے بجائے دو بتیاں جلائی جائیں تو اس میں کیا حرج ہے؟‘

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے ٹیلیگرام پر شیئر کردہ ایک ویڈیو میں ایرانی بجلی کمپنی توانیر کے چیف ایگزیکٹو افسر نے بھی ایرانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بجلی کے استعمال پر نظر رکھیں۔

  2. امریکہ نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو جواب دیا جائے گا: ایرانی فوج کی دھمکی

    ایرانی فوج

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایران کی مسلح افواج نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھی تو جواب دیا جائے گا۔

    یہ بیان فوج کے کمانڈ سینٹر کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اور سرکاری میڈیا کے متعدد اداروں نے اسے شائع کیا، جن میں پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارہ تسنیم بھی شامل ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکی فوج ’سمندر میں محاصرہ، غنڈہ گردی اور قزاقی‘ جاری رکھتی ہے تو اسے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے ’جواب کا سامنا‘ کرنا پڑے گا۔

    یاد رہے کہ امریکہ نے 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں میں آنے اور جانے والی بحری آمد و رفت پر ناکہ بندی عائد کرنے کے بعد متعدد جہازوں کو روک رکھا ہے۔

  3. ایران میں جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کی جلدی نہیں: امریکہ

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور امریکی فوج کے سربراہ ڈین کین

    ،تصویر کا ذریعہAnna Moneymaker/Getty Images

    گذشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکہ نے بار بار اس تاثر کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس پر جنگ کو جلد سمیٹنے کا دباؤ ہے۔

    جمعے کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے فون پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایران ’ایک پیشکش کر رہا ہے اور ہمیں دیکھنا ہو گا،‘ تاہم اُس وقت تک انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ پیشکش ہے کیا۔

    اس سے پہلے ٹرمپ کہہ چکے تھے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ان پر ’وقت کا کوئی دباؤ‘ نہیں ہے اور وہ ’اچھے معاہدے‘ کا انتظار کریں گے۔ ٹرمپ کا یہ تبصرہ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے رپورٹ کیا تھا۔

    یہی مؤقف امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی دہرایا۔ جمعے کے روز انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس بہت وقت ہے اور ہم کسی معاہدے کے لیے بے چین نہیں۔‘

    دوسری جانب امریکی فوج کے سربراہ ڈین کین نے کہا کہ اگر جنگ بندی ختم ہوتی ہے تو فوج ایران میں کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے ’تیار اور متحرک‘ ہے۔

    اسی دوران اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’امریکا کے گرین سگنل‘ کا انتظار کر رہا ہے تاکہ ’خمینی خاندان کا مکمل خاتمہ‘ کیا جا سکے۔ (امریکی اور اسرائیلی حملوں کے پہلے ہی روز ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے)

  4. ایران نے جنگ کے ’مکمل خاتمے‘ سے متعلق اپنا ’اصولی مؤقف‘ پاکستان کے ساتھ شیئر کر دیا

    پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہPrime Minister's Office

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے جاری بیانات میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوں کی تفصیل بتائی گئی ہے۔

    بیانات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’جنگ بندی سے متعلق تازہ ترین پیش رفت‘ اور جنگ کے ’مکمل خاتمے‘ پر ’اپنے ملک کا اصولی مؤقف وضاحت کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔‘

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد عباس عراقچی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ انھوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان ’جنگ بندی سے متعلق تازہ ترین پیش رفت‘ پر تبادلۂ خیال کیا اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ’اپنی سوچ اور مؤقف‘ بیان کیا۔

    ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر

    ،تصویر کا ذریعہAFP PHOTO / Iranian Foreign Ministry

    اس کے بعد ایران کے وزیر خارجہ نے ایک الگ بیان میں بتایا کہ انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی ہے۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ملاقات میں انھوں نے جنگ بندی سے متعلق حالیہ صورتحال اور جنگ کے ’مکمل خاتمے‘ کے بارے میں ایران کے ’اصولی مؤقف کی وضاحت کی۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات پر ’اعتماد کا اظہار کیا‘ کہ مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔

  5. اسلام آباد کو اب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ملاقات کی امید, بی بی سی فارسی کے نامہ نگار ژیار گل کا اسلام آباد سے تجزیہ

    امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات اور سکیورٹی کی تیاریاں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسلام آباد میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی بدستور برقرار ہے، ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو اب بھی امید ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ملاقات ہو جائے گی۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بظاہر ایک جامع تجویز کے ساتھ آئے ہیں، جسے پاکستان کے حوالے کیا جانا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر یہ تجویز امریکہ کو پہنچائیں گے۔

    ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر واشنگٹن سے روانہ ہوئے ہیں یا نہیں۔

    ایرانی حکام سے سننے میں آ رہا ہے کہ امریکہ سے ملاقات عباس عراقچی کے دورے کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایران یہاں خاص طور پر ایک نئی تجویز پیش کرنے کے لیے آیا ہے۔

    اس تجویز کی تفصیلات تا حال واضح نہیں۔ تہران سے جو معلومات مل رہی ہیں ان کے مطابق کئی سخت گیر علما کا کہنا ہے کہ جوہری معاملہ زیر بحث نہیں، اور مذاکرات کے گذشتہ دور میں یہی ایک اہم اختلافی نکتہ رہا تھا۔

  6. وزیر اعظم شہباز شریف سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وفد کی ملاقات

    وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی حکام سے ایرانی وفد کی ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہPrime Minister's Office

    وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لیے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی وفد کے ہمراہ وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد پہنچے ہیں۔

    ایرانی وفد سے ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر بھی شریک ہیں۔

  7. ایران کے ساتھ مذاکرات اور ٹرمپ انتظامیہ کا محتاط رویہ, شمالی امریکہ سے مرکزی نامہ نگار گیری اوڈونوہیو کا تجزیہ

    ایران کے ساتھ مذاکرات کے اس مرحلہ پر ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ محتاط ہے۔ دو ہفتے قبل کے برعکس اس بار نائب صدر جے ڈی وینس کو اسلام آباد نہیں بھیجا گیا اور جیسا کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا، اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ’ایرانی مؤقف کو سنا جائے۔‘

    یہ پیش رفت اسی ہفتے امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس کی درخواست پاکستان کی جانب سے کی گئی تاکہ تہران ایک متفقہ تجویز پیش کر سکے۔

    اس کے بعد آبنائے ہرمز پر تعطل کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے اقدامات کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

    تاہم آبنائے ہرمز ہی واحد نکتۂ اختلاف نہیں، ایران کی جوہری صلاحیتوں اور خطے میں پراکسی گروپوں کی حمایت کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران اب بھی آمنے سامنے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر پیش رفت ہوتی ہے تو جے ڈی وینس اسلام آباد جانے کے لیے تیار رہیں گے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایران کن مطالبات پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

  8. ایران سے مذاکرات کے لیے ٹرمپ کے اعلان کردہ امریکی ایلچی: جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    جیسا کہ ہم رپورٹ کر رہے ہیں، وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ تنازع پر مزید بات چیت کے لیے پاکستان روانہ ہوں گے۔

    تو یہ دونوں کون ہیں اور ان کا اس عمل میں کیا کردار ہے؟

    جیرڈ کشنر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد ہیں اور ان کی شادی ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ سے ہوئی ہے۔

    وہ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران صدر کے سینیئر مشیر رہے۔ اگرچہ اب ان کے پاس یہ عہدہ نہیں ہے، تاہم وہ اہم بین الاقوامی معاملات میں سرگرم رہے ہیں، جن میں گذشتہ سال اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات بھی شامل ہیں۔

    سٹیو وٹکوف ایک ریئل سٹیٹ ڈیولپر اور ٹرمپ کے قریبی دوست ہیں، جنھیں ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے آغاز میں مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا تھا۔

    وہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہم بین الاقوامی مذاکرات کار سمجھے جاتے ہیں اور اسرائیل، حماس اور روس، یوکرین تنازعات سے متعلق بات چیت میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

  9. پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کر رہا ہے: اسحاق ڈار

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہMOFA

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن اور استحکام کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کر رہا ہے اور اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

    پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اسحاق ڈار نے خطے کی تازہ صورتحال پر غور کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی۔

    انھوں نے واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان سہولت کاری کے عمل سے متعلق پاکستان کا سرکاری مؤقف صرف وہی ہے جو وزارت خارجہ یا دیگر سرکاری ذرائع سے جاری کیا جاتا ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ پرنٹ یا سوشل میڈیا میں بے نام پاکستانی حکام یا ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی خبریں پاکستان کے سرکاری مؤقف کی عکاسی نہیں کرتیں۔

  10. ابھی تک واضح نہیں کہ کیا امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت ہو گی، یا ہوئی تو کیسے ہو گی, نبیہہ احمد

    امریکہ، ایران مذاکرات کے موقع پر اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آج امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں بات چیت ہو گی یا نہیں ہو گی، اور ہوئی تو کیسے ہو گی۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کا وفد ہفتے کے روز اسلام آباد جائے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ پہلے ہی وہاں موجود ہیں، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ یہ دورہ خطے کے تین ممالک پر مشتمل ایک سفارتی دورے کا حصہ ہے۔

    تازہ ترین صورتحال یہ ہے:

    پاکستان میں:

    • تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں
    • امریکہ نے جمعے کو بتایا کہ اس کے ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جائیں گے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کو بھی تیار رکھا گیا ہے
    • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فیلڈ مارشل اور مسلح افواج کے سربراہ عاصم منیر سے ملاقات کی ہے اور کہا ہے کہ وہ آئندہ مرحلے میں عمان اور روس جائیں گے تاکہ ’علاقائی پیش رفت پر مشاورت‘ کی جا سکے

    لبنان اور اسرائیل میں:

    • اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) اور حزب اللہ نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں اور جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع کے باوجود دونوں جانب سے حملوں کا تبادلہ ہوا ہے
    • جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو آئی ڈی ایف کی جانب سے یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ نشان زدہ دیہات کی ایک حد سے ’جنوب کی جانب نہ جائیں‘

    ایران میں:

    • تقریباً دو ماہ کی معطلی کے بعد تہران کے امام خمینی ہوائی اڈے سے بعض بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں
    • ایران کا کہنا ہے کہ جنوری میں ہونے والے احتجاج میں شریک ایک شخص کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ اس پر اسرائیلی انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے کا الزام تھا
  11. امریکہ سے مذاکرات، ایران بدستور شکوک و شبہات کا شکار, ژیار گل، بی بی سی فارسی کے لیے، اسلام آباد سے

    جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    جون 2025 میں، جب امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک ایرانی وفد کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے، اس دوران امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔

    12 روزہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے لیے بنکر بسٹر گولہ بارود سے لیس بی ٹو بمبار طیارے استعمال کیے گئے۔ اس کے بعد سے ان دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے اور ایسے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

    اسی سال فروری میں، وٹکوف اور کشنر نے مسقط میں عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ ان سفارتی کوششوں کے دوران ہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مذاکرات کے انداز سے ’خوش نہیں‘ ہیں۔

    اب یہی امریکی ایلچی مذاکرات کے لیے پاکستان جا رہے ہیں۔

    ایرانی حکام بدستور گہرے شکوک کا اظہار کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے، ساتھ ہی وہ فوجی تیاری پر زور دیتے ہیں۔

    کچھ سخت گیر حلقوں کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام زیر بحث نہیں آ سکتا، حالانکہ صدر ٹرمپ نے جوہری افزودگی کو ایران پر حملے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا تھا۔

    جو مذاکرات تعطل کا شکار تھے، وہ اب آگے بڑھتے تو دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان کی سمت واضح نہیں۔

  12. اسرائیلی انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے کا الزام، ایران میں مظاہرہ کرنے والے ایک شخص کو پھانسی

    پاسداران انقلاب سے منسلک ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم کے مطابق، ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایک ’مشن‘ پر کام کرنے کا الزام لگا کر ایک شخص کو پھانسی دے دی ہے۔

    تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، اس شخص کا نام عرفان کیانی تھا اور ان پر جنوری 2026 میں ہونے والے احتجاج کے دوران ’تباہی اور آتش زنی‘ اور ’دہشت پھیلانے‘ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

    دونوں خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سزا کی توثیق کے بعد آج عرفان کیانی کو پھانسی دی گئی۔

    اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

    ایران میں احتجاج دسمبر میں شروع ہوئے اور جنوری میں اس وقت شدت اختیار کر گئے تھے جب ایرانی کرنسی کی قدر میں شدید کمی آئی اور مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

    ایرانی حکام نے پر تشدد کارروائیوں کے ذریعے احتجاج کی اس لہر پر قابو پایا تھا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کے خلاف ایرانی حکومت کی کارروائیوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔

  13. عراقچی ’جوہری مذاکرات‘ کے لیے پاکستان نہیں آئے: ابراہیم عزیزی کا دعویٰ

    ایرانی عہدےدار

    ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ پاکستان دورے کے دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاس جوہری مذاکرات کی ذمہ داری نہیں۔‘

    گزشتہ شب تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ابراہیم عزیزی نے کہا کہ وزیر خارجہ اسلام آباد میں ’صرف دوطرفہ تعلقات پر بات چیت‘ کے لیے موجود ہیں۔

    ابراہیم عزیزی ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق بات چیت ایران کی ریڈ لائن میں شامل ہے۔‘

    یاد رہے کہ امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام ختم کیا جانا حتمی امن معاہدے کا حصہ ہونا چاہیے۔

  14. عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، ایرانی سفارت خانے نے ویڈیو جاری کر دی

    ایرانی وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، ایرانی سفارت خانہ

    ،تصویر کا ذریعہIranian Ministry of Foreign Affairs

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وفد کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔

    پاکستان میں موجود ایرانی سفارت خانے کے ایکس اکاؤنٹ پر اس ملاقات کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے تاہم اس ملاقات کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    ایرانی وفد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی وفد کے ہمراہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچے تھے جہاں عاصم منیر اور اسحاق ڈار سمیت دیگر حکام نے ان کا استقبال کیا تھا۔

    اسلام آباد آمد کے بعد بھی اسحاق ڈار اور عاصم منیر کی ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ایک باضابطہ ملاقات ہوئی تھی۔

    عاصم منیر کے ساتھ ایرانی وفد کی ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنعاصم منیر کے ساتھ ایرانی وفد کی ملاقات کی ویڈیو ایرانی سفارت خانے نے جاری کی

    یاد رہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کہہ چکے ہیں کہ عباس عراقچی اس سفر کے دوران صرف اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقات کریں گے اور ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔

    پاکستان آمد سے قبل خود ایرانی وزیر خارجہ عباس راقچی نے بھی ایکس پر پیغام میں کہا تھا کہ ’ان کے دوروں کا مقصد دو طرفہ معاملات پر شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کرنا اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔‘

  15. امریکہ ایران مذاکرات میں کتنی پیش رفت ہو سکتی ہے, ڈیوڈ ولز، بی بی سی نیوز

    باس عراقچی کے پاکستانی دارالحکومت پہنچنے پر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    منگل کو پاکستان میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب ایران نے اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی پر برہم ہو کر یہ عندیہ دیا کہ وہ اب مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار نہیں۔

    اس کے بعد پاکستان کی درخواست پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں دو ہفتوں کی توسیع کر دی تاکہ ایران کو تنازع کے خاتمے کے لیے اپنا منصوبہ پیش کرنے کے لیے مزید وقت دیا جا سکے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صحافیوں سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ اس کے بعد ایران کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں مذاکرات کی جانب ’کچھ پیش رفت‘ ہو رہی ہے۔

    سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آج واشنگٹن سے پاکستان روانہ ہونے والے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ وہاں سے کیا حاصل کر سکیں گے اور کیا نہیں۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستانی دارالحکومت پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ان کی حکومت نے واضح کر دیا کہ وہ صرف پاکستان کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے لیے آئے ہیں اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت میں حصہ نہیں لیں گے۔

    لہٰذا یہ لگ رہا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی بات چیت پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ہی پہنچائی جائے گی جس کے باعث کسی فوری پیش رفت کا امکان انتہائی کم ہے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنے کی کوئی جلدی نہیں تاہم پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور ان کی منظوری کی شرح میں کمی کے ساتھ،کسی معاہدے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

  16. اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات، ریڈ زون اور توسیعی ریڈ زون ٹریفک کے لیے مکمل بند، میٹرو سروس بھی معطل: اسلام آباد پولیس

    ریڈزون اور توسیعی ریڈزون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنریڈزون اور توسیعی ریڈزون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز بھی ریڈزون اور توسیعی ریڈزون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا۔

    اعلامیے میں دی گئی تفصیل کے مطابق اسلام آباد میں ہر قسم کی میٹرو سروس معطل ہے جبکہ سکیورٹی اقدامات کے تحت تمام ٹریلز بھی بدستور بند ہیں۔

    اسلام آباد کی جانب بند ہے جبکہ دیگر تمام موٹر ویز کھلی ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں گزشتہ کئی روز سے امن مذاکرات کے لیے سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

    سڑکوں کی بندش

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    سری نگر ہائی وے کشمیر چوک، کلب روڈ سے زیرو پوائنٹ تک بند

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اعلامیے کے مطابق مارگلہ روڈ فیصل چوک سے ٹریل تھری تک ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔

    • اسلام آباد کی سری نگر ہائی وے کشمیر چوک، کلب روڈ سے زیرو پوائنٹ تک بند ہے۔

    ایکسپریس وے کورال سے زیرو پوائنٹ تک وی آئی پی موومنٹس کے دوران ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گا۔

    • مختلف اوقات میں سری نگر ہائی وے پر بھی ٹریفک روکی جا سکتی ہے۔ کسی بھی سمت یا کسی بھی ہائی وے سے اسلام آباد میں داخل ہونے والی ہر قسم کی بھاری ٹریفک کا داخلہ بند رہے گا۔
    • G5، G6 اور G7، F6، F7 کے رہائشی مارگلہ روڈ سے راولپنڈی جانے کے لیے 9th ایونیو استعمال کریں۔ فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ آنے والی ٹریفک کو 9th ایونیو کی طرف موڑ دیا جائے گا۔
    • ۔ پارک روڈ اور کلب روڈ کی بندش کی صورت میں ٹریفک کو ترنمی چوک کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

    اعلامیے کے مطابق جڑواں شہروں میں ہیوی ٹریفک کے داخلے کی اجازت نہیں۔ جی ٹی روڈ سے اسلام آباد میں داخلے پر ون لین ٹریفک کے باعث ٹریفک جام کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ ایرانی حکام پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں تاہم تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت کا کوئی منصوبہزیر غور نہیں ہے۔

    دوسری جانب امریکی مذاکرات کار بھی دارالحکومت اسلام آباد آنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

  17. بلوچستان: پولیس تھانوں پر حملے،ایک پولیس اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی

    بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں پولیس تھانوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم ایک پولیس اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔

    سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کو ناکام بنایا گیا اور پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا۔

    ان میں سے ایک حملہ جمعہ کی شب ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں پولیس تھانے پر کیا گیا۔

    ڈھاڈر میں ایک پولیس اہلکار سہیل احمد نے فون پر بتایا کہ مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے پولیس تھانے پر حملہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملے میں کم از کم ایک پولیس اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے جبکہ پولیس اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوا۔

    پولیس اہلکار کے مطابق حملے کے باعث تھانے کے باہر کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    اس سے قبل بھی ضلع کے مختلف علاقوں میں پولیس تھانوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔

    ادھر ضلع نوشکی کے علاقے مل میں بھی جمعہ کی شب پولیس تھانے پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا۔

    نوشکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تیس کے قریب مسلح افراد نے تھانے پر حملہ کیا جس میں ایک پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوا۔

    انھوں نے بتایا کہ جوابی کارروائی کے باعث حملہ آور تھانے میں داخل نہیں ہوسکے۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ترجمان بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ’ڈھاڈر میں کیے گئے حملے کو ہماری سیکورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کامیابی سے ناکام بنا دیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وار کرنے کی کوشش کی، ’تاہم ہمارے سکیورٹی اور پولیس کے جوان پہلے سے الرٹ تھے اور انھوں نے فوری اور بھرپور رسپانس دیتے ہوئے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔‘

  18. امریکہ اور ایران کے درمیان کس حد تک پیشرفت ممکن ہے؟, ڈینیئل بش، واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسِتھ کا اصرار ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ پر کوئی دباؤ نہیں۔

    تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی خبروں سے ایک بار پھر اس جانب اشارہ ملتا ہے کہ انتظامیہ کے عوامی سطح پر دیے گئے بیانات اور جنگ کو سمیٹنے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کی اندرونِ خانہ کوششیں دو الگ چیزیں ہی٘ں۔

    تازہ ترین اشارہ جمعے کو اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جارڈ کُشنر ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ایک بار پھر اسلام آباد جا رہے ہیں۔

    اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ملے جلے پیغامات اور تہران کی سخت گیر حکمتِ عملی کے باوجود دونوں فریق آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نکالنے کے خواہاں ہیں۔

    اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں یہ ممالک کتنی پیش رفت کر پائیں گے۔ مذاکرات کے پہلے دور میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی تھی تاہم اب تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا وہ اس ہفتے کے آخر میں ہونے والے مذاکرات میں شریک ہوں گے یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق جے ڈی وینس ’سٹینڈ بائی‘ پر ہیں اور ضرورت پڑنے پر روانہ ہو سکتے ہیں۔

    اگر جے ڈی وینس مذاکرات میں شریک نہیں ہوتے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ایران اور امریکہ کو کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں۔ تاہم مذاکرات کا جاری رہنا اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں کسی معاہدے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

  19. ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان میں، امریکی وفد کی بھی اسلام آباد آمد کا اعلان تاہم مذاکرات پر ابہام برقرار

    ایرانی وفد کی پاکستانی حکام سے ملاقاتیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنپاکستان پہنچنے کے بعد ایرانی حکام نے اسحاق ڈار اور آرمی چیف عاصم منیر سے باقاعدہ ملاقات

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جب جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے وفد کے ہمراہ پہنچے تو کئی حلقوں میں یہ امید بندھ گئی کہ شاید امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی پاکستان آمد پر فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے نور خان ایئر بیس پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔

    پاکستان پہنچنے کے بعد ایرانی حکام نے اسحاق ڈار اور آرمی چیف عاصم منیر سے باقاعدہ ملاقات کی تصاویر بھی سامنے آئیں۔

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے پاکستانی حکومت گزشتہ ایک ہفتے سے تیاریاں جاری رکھے ہوئے تھی تاہم ایرانی حکام کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور میں ’اب تک‘ شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے بارہا اعلانات کے بعد یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوتے دکھائی دیے۔

    تاہم پھر جمعے کی سہہ پہر ایران اور پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے عباس عراقچی کے دورہ پاکستان کی خبر بریکنگ نیوز کے طور پر نشر ہوئی تاہم ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا سمیت دیگر مقامی میڈیا نے کہا کہ عراقچی جمعے کی رات سے اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کا سفر کریں گے تاکہ ’امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے معاملے پر پاکستانی، عمانی اور روسی حکام سے مشاورت کریں۔‘

    دوسری جانب اس پیش رفت کے بعد وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر ایرانی موقف کو ’براہِ راست سننے‘ کے لیے ہفتے کے روز اسلام آباد جائیں گے۔

    ایک جانب امریکی حکام کا پاکستان آمد کا اعلان اور دوسری جانب ایران کے اعلیٰ عہدیداروں کی پاکستان میں موجودگی، مگر ان سب کے بیچ نہ پاکستان، نہ ہی امریکہ کی جانب سے ملاقات یا مذاکرات کا کوئی شیڈول جاری کیا گیا۔

    اسی کے سبب یہ ابہام ابھی تک موجود ہے کہ کیا جنگ کے فریقین کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہونے جا رہا ہے یا نہیں اور یہ بھی کہ کیا پاکستان صرف دونوں کے درمیان پیغام رسانی کے کردار تک ہی محدود رہے گا۔!

    عباس عراقچی پاکستان میں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کا ’اب تک‘ کیا کہنا ہے

    ایرانی وزارت خارجہ کا اصرار ہے کہ عراقچی کی امریکی وفد سے کوئی ملاقات متوقع نہیں بلکہ اس دورے کا مقصد باہمی امور ہیں اور قیام امن سے متعلق ’ایرانی مشاہدات پاکستان کو بتائے جائیں گے۔‘

    خود عراقچی نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ ’ان کے دوروں کا مقصد دو طرفہ معاملات پر شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کرنا اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔‘

    ایکس پر ایک پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ایک سرکاری دورے پر پاکستان کے شہر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی خطے میں امن کی بحالی اور امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی جارحانہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی اور معاون کردار کے تناظر میں پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔‘

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ’اب تک‘ ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد دورے کے ایجنڈے میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات شامل نہیں۔

    امریکی حکام کے دورے پر وائٹ ہاؤس کا اعلان

    امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر

    وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وفد پاکستان آمد پر ایران سے مذاکرات کرے گا۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر سنیچر کو ایران سے مزید بات چیت کے لیے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے تاہم اس دورے سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں نہ یہ بتایا گیا کہ وہ کس کس سے ملاقات کریں گے۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر کسی قسم کی پیش رفت ہوتی ہے تو نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد جانے کے لیے تیار رہیں گے۔ لیکن اس مرحلے پر اس حوالے سے کوئی تفصیل موجود نہیں کہ ایران ممکنہ طور پر کیا پیشکش کر سکتا ہے۔

    پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر کیا بتایا گیا

    دفتر خارجہ کی جانب سے جمعے کی سہ پہر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسحاق ڈار اور عاصم منیر کو ٹیلیفون کیا اور جنگ بندی سے متعلق امور پر گفتگو کی۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس گفتگو کے دوران اسلام آباد کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین رابطوں اور سفارتی عمل کے تناظر میں کی جانے والی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

    اسی دوران ر وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی خبر سامنے آئی۔ بیان کے مطابق گفتگو میں دوطرفہ تعلقات، عالمی سطح پر تعاون اور خطے میں امن و استحکام کے امور زیرِ بحث آئے۔

    اس کے بعد جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ایرانی وفد کی آمد پر پاکستانی حکام کی جانب سے استقبال اور پھر اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ایک نشست کی خبریں جاری کی گئیں۔

    یہ بتایا گیا ہے کہ ایرانی وفد کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی متوقع ہے لیکن اس کا شیڈول یا ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا۔

    پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریوں کے پیش نظر کئی روز سے ریڈ زون جانے والے راستوں سمیت کئی دیگر راستے بھی بند ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے جمعے کو جاری کی گئی ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ ریڈزون اور توسیعی ریڈزون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا۔

    ایسے میں عام شہری بھی یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ مذاکرات کب ہوں گے اور راستوں کی بندش کب تک جاری رہے گی۔

  20. جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک، دو زخمی: لبنانی وزارتِ صحت کا دعویٰ

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔

    وزارت کے مطابق یہ حملے جمعہ کو کیے گئے جبکہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ان مقامات کو نشانہ بنایا جو (ان کے مطابق) حزب اللہ سرحد پار راکٹ فائر کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔

    اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اس کی افواج کو کئی دھماکہ خیز ڈرونز کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم فوج کی جانب سے ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جمعرات کی شب جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع کا اعلان کیا گیا تھا۔

    تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کو نشانہ بنانے کا حق بدستور محفوظ رکھتا ہے، جس پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو امن مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہیں۔