عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کیے، وزیر خارجہ پیر کو پوتن سے ملاقات کریں گے: ایرانی میڈیا

ایرانی میڈیا کے مطابق عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو گی اور ہم فتح حاصل کریں گے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر ایرانی بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘

خلاصہ

  • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔
  • ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے 'امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات' پاکستانی حکام کے حوالے کیے ہیں جبکہ وہ پیر کو پوتن سے ملاقات کریں گے۔
  • واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے لیے عشائیے کی تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
  • صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ بھی موقع پر موجود تھے، جنھیں بحفاظت تقریب سے نکال لیا گیا۔
  • صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی ریپبلکن رکن پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی ہو۔

لائیو کوریج

  1. امریکی وفد کے دورۂ اسلام آباد کی منسوخی کے بعد امن مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار, پیٹر بوز - شمالی امریکہ کے نامہ نگار

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہمیشہ کی طرح دو ٹوک انداز میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وفد کا دورۂ پاکستان منسوخ کر دیا ہے جو ممکنہ طور پر ایران سے براہِ راست بات چیت کے لیے جا رہا تھا۔

    اس فیصلے کے بعد اب یہ واضح نہیں کہ آگے کیا ہوگا، اور صورتحال ایک طرح کی غیر یقینی کیفیت میں ہے۔

    گذشتہ چند دنوں میں ہمیں یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ پسِ پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں۔

    لیکن مستقبل میں براہِ راست مذاکرات، جیسا کہ ہمیں دو ہفتے قبل دیکھنے کو ملے تھے، فی الحال ممکن ہوتے نظر نہیں آتے۔

    گذشتہ چند دنوں میں وائٹ ہاؤس سے جو اشارے ملے ہیں، ان سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی جلد بازی میں معاہدہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

    جمعے کے روز وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا: ’ہمارے پاس بہت وقت ہے‘، اور ایسا ہو بھی سکتا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ٹرمپ کے بہت سے روایتی حامی اس رائے سے اتفاق نہیں کریں گے۔

  2. بریکنگ, ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دوبارہ پاکستان آنے کا امکان: سرکاری میڈیا

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے ارنا کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دورے کے بعد روس جانے سے پہلے ایک بار پھر پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے اعلان کردہ منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے ارنا نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کا ایک حصہ جنگ کے خاتمے سے متعلق ضروری امور پر مشاورت کے لیے تہران واپس لوٹ گیا ہے۔

    ارنا کے مطابق وفد کے ارکان اتوار کی شب دوبارہ اسلام آباد میں عباس عراقچی کے ساتھ شامل ہوں گے۔ تاہم رپورٹ میں واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کن امور پر بات چیت کریں گے یا کن شخصیات سے ملاقات متوقع ہے۔

    یاد رہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی چند گھنٹے قبل ہی پاکستان سے روانہ ہوئے تھے۔ انھوں نے پاکستانی حکام سے بات چیت کو ’انتہائی مفید‘ قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں ابھی یہ دیکھنا ہے کہ آیا امریکہ واقعی سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔

  3. ایرانی وزیرِ خارجہ کا دورۂ عمان، خطے میں کشیدگی کے بعد پہلا علاقائی دورہ

    @PressTV

    ،تصویر کا ذریعہ@PressTV

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا عمان کا دورہ ایک باضابطہ سرکاری دورے کا حصہ ہے، اور حالیہ امریکی-اسرائیلی جارحیت، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوئے، کے بعد خلیجی خطے کا ان کا پہلا دورہ بھی ہے۔

    بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور باہمی اعتماد اور تعمیری تعاون کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، تاکہ خطے کے استحکام اور عوام کے مفادات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    انھوں نے ایران اور عمان کے تعلقات کو باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ایرانی پالیسی کی عملی مثال قرار دیا۔

  4. بریکنگ, ایران میں ’جو بھی معاملات چلا رہا ہے‘ امریکہ اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہے: ٹرمپ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے پاکستان میں مذاکرات کے لیے طے شدہ دورے کو منسوخ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران میں ’جو بھی معاملات چلا رہا ہے‘ اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہے، انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ جب چاہیں ہمیں فون کر سکتے ہیں‘۔

    انھوں نے کہا: ’میں جس سے بھی بات کرنی پڑے، کروں گا، لیکن دو دن انتظار کرنے، لوگوں کو 16 یا 17 گھنٹے کا سفر کروانے کی کوئی ضرورت نہیں، اور ہم اس طریقے سے کام نہیں کر رہے۔‘

  5. ٹرمپ: امریکی وفد کسی واضح منصوبے کے بغیر اسلام آباد کا سفر نہیں کرنے والا تھا

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کی ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے نمائندوں کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ ’زیادہ سفر‘ کی وجہ سے کیا گیا، اور انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے پاس ’تمام پتے‘ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا اور امریکی وفد اتنا طویل سفر ’کسی منصوبے کے بغیر‘ نہیں کرنے والا تھا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اتنا طویل سفر وقت طلب اور مہنگا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ’میں اخراجات کے معاملے میں محتاط شخص ہوں۔‘

  6. بریکنگ, نیتن یاہو کا لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر ’شدید‘ حملوں کا حکم

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کو لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر ’شدید حملے‘ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    ان کے دفتر سے جاری بیان میں یہ کہا گیا ہے۔

    سنیچر کے روز آئی ڈی ایف نے ٹیلیگرام پر متعدد بیانات جاری کیے، جن میں حزب اللہ پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔

    اسرائیل اور حزب اللہ دونوں ہی بار بار ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔

  7. اسرائیل جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کر رہا ہے: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ڈھانچوں کو نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے ہے۔

    ایک بیان میں اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا: ’یہ مقامات اس لیے نشانہ بنائے گئے تاکہ آئی ڈی ایف کے فوجیوں اور اسرائیلی شہریوں کے لیے لاحق خطرے کو ختم کیا جا سکے، کیونکہ حزب اللہ ان ڈھانچوں کو آئی ڈی ایف کے فوجیوں اور ریاستِ اسرائیل کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کر رہی تھی۔‘

    اس ہفتے کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کی جائے گی۔

    اسرائیل اور حزب اللہ دونوں ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

  8. شہباز شریف اور مسعود پیزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال اور امن کے فروغ پر تبادلۂ خیال

    Anadolu via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ’آج شام اپنے بھائی، صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر ایک خوشگوار اور تعمیری ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔‘

    ایکس پر پوسٹ می وزیرِ اعظم نے ایران کے مسلسل رابطوں اور اعلیٰ سطحی سفارتی کوششوں کو سراہا جس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد کا اسلام آباد کا دورہ بھی شامل ہے۔ شہباز شریف نے لکھ کہ ان سے آج ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔‘

    وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، دوست ممالک اور شراکت داروں کی حمایت سے خطے میں امن کے فروغ کے لیے ایک غیر جانبدار اور مخلص سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا، اور پائیدار امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا رہے گا۔

  9. عراقچی اسلام آباد سے روانگی کے بعد عمان پہنچ گئے

    fars

    ،تصویر کا ذریعہfars

    ایرانی خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچ گئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق، عراقچی کی سینئر عمانی حکام سے ملاقات کا شیڈول ]طے ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ ان کے معمول کے دوروں کا حصہ تھا، اور یہ کہ انھیں اسلام آباد سے مسقط اور ماسکو کا سفر کرنا تھا۔

    عراقچی کے اسلام آباد سے روانہ ہونے کے بعد، پاکستانی حکام نے اعلان کیا کہ توقع ہے کہ وہ اتوار یا پیر کو دوبارہ اسلام آباد واپس آئیں گے۔

  10. بات چیت کے لیے دونوں فریقین کو دوبارہ ایک میز پر لانا مشکل ہو چکا ہے, کیر ی ڈیویس - بی بی سی، اسلام آباد

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    اسلام آباد میں آج مسلسل سرگرمیوں سے بھرپور دن رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے روانہ ہو جانے اور امریکی وفد کی منسوخی کے بعد اب آگے کیا ہو گا؟

    ایرانی اور پاکستانی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے دوران ممکنہ طور پر کیا پیغامات دیے گئے ہوں گے، اس بارے میں قیاس آرائیاں جا رہی ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کی تھی تاکہ ایران ایک ‘متحدہ تجویز’ تیار کر سکے۔ کیا ایران نے اس دورے کے دوران اپنے مطالبات پاکستان کو منتقل کیے ہوں گے؟ ہمیں معلوم نہیں۔

    جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو آمنے سامنے مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوشش کا عمل اب کتنا کشیدہ اور مشکل ہو چکا ہے۔

    مذاکرات جاری رکھنے کے لیے پاکستان نے اپنے آپ ایک پل کے طور پر پیش کیا ہے۔

    یہ کردار اب زیادہ مشکل نظر آ رہا ہے۔

  11. دیکھنا ہے کہ امریکہ سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے یا نہیں: عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    پاکستان آنے والے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے دورے کو ’انتہائی مفید‘ قرار دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’خطے میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کی برادرانہ کوششوں کو ہم بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ نے مزید لکھا: ’ہم نے ایران پر جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے قابلِ عمل فریم ورک سے متعلق ایران کا مؤقف شیئر کیا۔ تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ واقعی سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔‘

  12. پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو اسلام آباد داخلے کی اجازت، فیض آباد بس ٹرمینل بدستور بند

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تمام اقسام کی پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق فیض آباد کے علاوہ شہر بھر میں تمام بس اڈے بھی کھول دیے گئے ہیں۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد بس ٹرمینل کو تا حکمِ ثانی بند رکھا جائے گا۔

  13. اگر ایرانی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں فون کر لیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAlex Wong/Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے والے اپنے وفد کو روک دیا ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام میں انھوں نے لکھا: ’میں نے ایرانیوں سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے والے اپنے نمائندوں کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ سفر میں بہت زیادہ وقت ضائع ہو جاتا ہے اور کام بہت ہے!‘

    ٹرمپ نے لکھا کہ ایران کی قیادت میں بھی شدید باہمی اختلاف اور ابہام پایا جاتا ہے، ’کسی کو نہیں معلوم کہ اصل میں ذمہ داری کس کے پاس ہے۔‘

    ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا: ’تمام پتے ہمارے پاس ہیں۔ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمیں فون کرنا ہو گا۔‘

  14. ٹرمپ نے اپنے وفد کو اسلام آباد جانے سے روک دیا

    سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اب مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جائیں گے۔

    نشریاتی ادارے کے مطابق فاکس نیوز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا: ’تمام پتے ہمارے پاس ہیں، وہ جب چاہیں ہمیں فون کر سکتے ہیں، لیکن اب ایسا نہیں ہو گا کہ آپ زبانی جمع خرچ کے لیے 18 گھنٹے کی پرواز کریں۔‘

    فاکس نیوز کے مطابق امریکی صدر نے اس کے وائٹ ہاؤس کے نامہ نگار کو بتایا: ’کچھ دیر پہلے میرے لوگ روانگی کی تیاری کر رہے تھے جب میں نے ان سے کہا کہ نہیں! آپ وہاں کے لیے 18 گھنٹے کی پرواز نہیں لیں گے۔‘

  15. ایرانی وزیر خارجہ متوقع طور پر چند دن میں دوبارہ اسلام آباد آ سکتے ہیں: سی بی ایس

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق پاکستانی حکام کو توقع ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اتوار یا پیر کو دوبارہ اسلام آباد آئیں گے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی اسلام آباد سے روانہ ہونے کے بعد اس وقت عمان کے دارالحکومت مسقط کی جانب سفر کر رہے ہیں۔

  16. پاکستان اور ایران کے درمیان خوشگوار تبادلہ خیال ہوا: وزیر اعظم شہباز شریف

    پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہx.com/CMShehbaz

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کیا۔

    انھوں نے لکھا: ’موجودہ علاقائی صورتحال پر نہایت گرمجوشی سے اور خوشگوار انداز میں تبادلہ خیال ہوا۔ ہم نے باہمی دلچسپی کے امور پر بھی گفتگو کی، جن میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا بھی شامل تھا۔‘

    اس سے پہلے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور عباس عراقچی کے درمیان ملاقات ’تقریباً دو گھنٹے‘ جاری رہی۔

    اسحاق ڈار کے مطابق ’وزیر اعظم نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔‘

  17. ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو گئے: سرکاری میڈیا

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد سے روانہ ہو گئے ہیں۔

    اب سے کچھ دیر قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے موٹروں کے ایک قافلے کی تصاویر بھی شیئر کیں، جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ قافلہ ممکنہ طور پر پاکستانی دارالحکومت سے روانہ ہونے والے عباس عراقچی کا تھا۔

    روئٹرز نے موٹروں کے ایک قافلے کی تصاویر شیئر کیں، جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ قافلہ ممکنہ طور پر پاکستانی دارالحکومت سے روانہ ہونے والے عباس عراقچی کا تھا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  18. اعتماد کی کمی برقرار، امریکہ اور ایران اپنے اپنے مؤقف پر قائم, پاکستان سے بی بی سی کی نامہ نگار کیری ڈیویز کا تجزیہ

    اب یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ اسلام آباد کے دورے پر آئے ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ سے ملاقاتیں کی ہیں۔

    ایران نے ان ملاقاتوں کو دو طرفہ بات چیت قرار دیا ہے، تاہم توقع یہی کی جا رہی ہے کہ ان کا تعلق جنگ سے ہے، جس میں پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    کیا اس میں کسی قسم کی پیش رفت ہو گی؟ اس حوالے سے اب تک کچھ واضح نہیں۔

    اگر امریکی وفد آئندہ چند گھنٹوں میں واشنگٹن سے روانہ ہوتا بھی ہے تو وہ اتوار سے پہلے اسلام آباد نہیں پہنچ سکے گا۔ ایرانی وفد نے پاکستان کے بعد عمان اور روس جانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا وہ امریکی ایلچیوں کا انتظار کریں گے؟

    امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران بالمشافہ بات چیت چاہتا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ براہ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔ اس وقت دونوں کے درمیان اعتماد اور اتفاق کی اس قدر کمی ہے کہ وہ اس نکتے پر بھی یکساں رائے نہیں رکھتے۔

    دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم نظر آتے ہیں۔ بظاہر اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے معاملے پر اپنے مؤقف میں نرمی لانے کو تیار ہے، یا ایران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مؤقف تبدیل کرنے پر آمادہ ہے۔

    ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرانے والے پاکستان کو کسی متفقہ نکتے کی تلاش میں دباؤ کا سامنا ہے۔

  19. جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، چار افراد ہلاک

    لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    لبنان کی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ضلع نبطیہ میں دو اسرائیلی حملے کیے گئے، ایک ٹرک پر اور دوسرا موٹر سائیکل پر، جن کے نتیجے میں چار افراد جان سے گئے۔

    بی بی سی کی جانب سے تبصرے کے لیے رابطہ کیے جانے پر اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’کچھ دیر پہلے‘ چار افراد کو ہلاک کیا ہے، جنھیں اس نے حزب اللہ کے ارکان قرار دیا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق ان حزب اللہ ارکان کو نشانہ بنایا گیا جو ’اسلحے سے لدی ایک گاڑی میں سفر کر رہے تھے،‘ جبکہ چوتھا شخص ’جنوبی لبنان میں فارورڈ ڈیفنس لائن کے جنوب میں موٹر سائیکل پر سوار تھا۔‘

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’جن دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا وہ جنوبی لبنان میں کارروائیاں کرنے والے اسرائیلی فوجیوں کے لیے خطرہ تھے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا: ’اسرائیلی فوج اپنے شہریوں اور فوجیوں کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

  20. حزب اللہ نے اسرائیلی علاقے میں نئے حملے کیے: اسرائیلی فوج کا الزام

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ لبنان سے اسرائیلی علاقے کی جانب دو راکٹ داغے گئے۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق: ’یہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘

    فوج کا کہنا ہے کہ ایک راکٹ کو راستے میں ہی روک لیا گیا جبکہ دوسرا ایک کھلے علاقے میں آ گرا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    اسرائیل اور حزب اللہ دونوں ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ اس جنگ بندی میں حال ہی میں تین ہفتوں کی توسیع کی گئی تھی۔

    حزب اللہ نے تا حال ان حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔