عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کیے، وزیر خارجہ پیر کو پوتن سے ملاقات کریں گے: ایرانی میڈیا

ایرانی میڈیا کے مطابق عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو گی اور ہم فتح حاصل کریں گے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر ایرانی بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘

خلاصہ

  • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔
  • ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے 'امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات' پاکستانی حکام کے حوالے کیے ہیں جبکہ وہ پیر کو پوتن سے ملاقات کریں گے۔
  • واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے لیے عشائیے کی تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
  • صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ بھی موقع پر موجود تھے، جنھیں بحفاظت تقریب سے نکال لیا گیا۔
  • صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی ریپبلکن رکن پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی ہو۔

لائیو کوریج

  1. ملزم کے پاس شاٹ گن اور متعدد چاقو موجود تھے، پولیس چیف

    میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے قائم مقام سربراہ جیف کیرول کے مطابق مشتبہ حملہ آور کے پاس کئی ہتھیار موجود تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’مبینہ حملہ آور کے پاس ایک شاٹ گن، ایک ہینڈ گن اور متعدد چاقو تھے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’زخمی ہونے والے سیکرٹ سروس کے اہلکار کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور اب اُن کی حالت خطرے سے باہر اور بہتر ہے۔

    جیف کیرول کے مطابق ملزم گولی لگنے سے محفوظ رہا اور ابتدائی طور پر یہ ایک اکیلا حملہ آور معلوم ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’فی الحال عوام کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔‘

  2. ’میں تصور نہیں کر سکتا کہ صدر کے عہدے سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ بھی ہو سکتا ہے‘

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں صرف سیاسی محرکات کے تحت ہونے والے حملوں پر نہیں بلکہ ’ہر قسم کے تشدد‘ پر تشویش ہے۔

    انھوں نے صدارت کے پیشے کو لاحق خطرات کا موازنہ ریسنگ کار ڈرائیونگ اور بیل سواری جیسے خطرناک شعبوں سے کیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک تقریباً 5.8 فیصد امریکی صدور پر فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا: ’میں تصور نہیں کر سکتا کہ صدر کے عہدے سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ بھی ہو سکتا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ بطور کمانڈر ان چیف آپ کو ’خطرات مول لینے پڑتے ہیں‘۔

    وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’اگر مارکو نے مجھے یہ سب پہلے بتا دیا ہوتا تو شاید میں صدر کے لیے انتخاب ہی نہ لڑتا۔‘

    واضح رہے کہ مارکو روبیو 2016 کے صدارتی انتخاب میں ریپبلکن پرائمری کے امیدوار تھے، تاہم ٹرمپ کے جماعت کا ٹکٹ حاصل کرنے کے بعد وہ دوڑ سے دستبردار ہو گئے تھے۔

    صدر ٹرمنپ کا مزید کہنا تھا کہ تمام خطرات کے باوجود وہ ایک نارمل زندگی گزارتے ہیں اور وہ ایسے واقعات کے بارے میں زیادہ سوچنا نہیں چاہتے۔

    ان کے مطابق خاتونِ اول کو بھی اس شعبے سے لاحق خطرات کا اعادہ ہے اور یہ ان کے لیے بھی خطرناک ہے۔

  3. ٹرمپ نے مشتبہ شخص کی تصاویر اور سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کر دی

    Truth Social

    ،تصویر کا ذریعہTruth Social

    میڈیا سے پریس بریفنگ روم میں خطاب سے چند لمحے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے فائرنگ کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اپنی سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری کی جس میں مبینہ طور پر ایک شخص کو ہوٹل کے بال روم کی جانب دوڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    فوٹیج میں یہ شخص فائرنگ کرتا ہوا سکیورٹی میٹل ڈیٹیکٹرز کے قریب سے گزرتا ہے جبکہ سکیورٹی اہلکار اپنے ہتھیار نکالتے نظر آتے ہیں۔

    ٹرمپ نے دو تصاویر بھی جاری کیں جن میں ایک نیم برہنہ شخص کو زمین پر ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے دکھایا گیا ہے جسے مبینہ حملہ آور قرار دیا جا رہا ہے۔

  4. ’یہ پاگل لوگ ہیں جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے‘: حملہ آور نے ’پچاس گز کے فاصلے‘ سے دوڑ کر حملے کے کوشش کی، صدر ٹرمپ

    ایک سوال کے جواب میں صدر کا کہنا ہے کہ تقریب سے قبل ان کی ٹیم کو کسی بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔

    ان کا کہنا ہے کہ وہ حملے کی وجہ سے آگاہ نہیں، تاہم انھوں نے مشتبہ شخص کے بارے میں کہا کہ وہ ’کافی خطرناک‘ دکھائی دیتا ہے۔

    صدر کے مطابق مشتبہ شخص نے تقریباً ’پچاس گز کے فاصلے‘ سے دوڑ کر حملہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اپنے ہتھیار تان لیے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کیلی فورنیا میں مشتبہ شخص کے اپارٹمنٹ پر بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے پہنچ چکے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ ان کے خیال میں حملہ آور اکیلا تھا۔

    ’یہ پاگل لوگ ہیں اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔‘

  5. ’اس واقعے سے خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ شدید صدمے میں ہیں‘

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ شدید صدمے میں ہیں۔

    صدر کا کہنا تھا کہ وہ ابتدا میں وہ تقریب چھوڑ کر جانا نہیں چاہتے تھے۔ ’میں نے وہاں رکنے کی بھرپور کوشش کی۔‘ تاہم انھیں بتایا گیا کہ حفاظتی ضابطوں کے تحت وہاں سے جانا ضروری ہے، کیونکہ یہ واضح نہیں تھا کہ آیا حملہ آور اکیلا تھا یا اس کے ساتھ کوئی اور بھی شامل تھا۔

  6. زیرِ حراست ملزم ’انتہائی بیمار انسان ہے‘: صدر ٹرمپ

    ملزم

    ،تصویر کا ذریعہTruth Social

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حراست میں لیا گیا ملزم ’انتہائی بیمار شخص‘ ہے۔

    انھوں نے کہا: ’ہم نہیں چاہتے کہ اس طرح کے واقعات پیش آئیں۔‘

    ٹرمپ نے تقریب کے منتظمین کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ تقریب 30 دن کے اندر دوبارہ منعقد کی جائے گی۔ ان مزید کہنا ہے کہ اب کی بار تقریب ’پہلے سے بڑی، بہتر اور مزید شاندار‘ ہو گی۔

  7. گذشتہ دو سالوں میں پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی ریپبلکن رکن کو قتل کی کوشش کی گئی ہو: ٹرمپ

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی ریپبلکن رکن پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی ہو۔

    صدر نے ان کی جان لینے کی دو کوششوں کا تذکرہ کیا۔ ایک مرتبہ جب دوسری مرتبہ صدر بننے سے قبل پینسلوینیا میں ایک ریلی کے دوران ان پر فائرنگ کی گئی تھی اور دوسری مرتبہ جب فلوریڈا کے پام بیچ پر گالف کھیلتے وقت ان پر حملی کی کوشش کی گئی تھی۔

  8. ابتدائی تصاویر میں ہوٹل کے بال روم کے اندر افراتفری کے مناظر

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیے کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی چند ابتدائی تصاویر میں ہوٹل کے بال روم کے اندر افراتفری کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    واشنگٹن ہلٹن ہوٹل سے سامنے آنے والی ابتدائی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گولیوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد تقریب میں شامل افراد اپنے ٹیبل کے نیچے بیٹھے نظر آ رہے ہیں۔

    سکیورٹی اہلکاروں نے کچھ مہمانوں کو عمارت سے باہر منتقل کرنے میں مدد فراہم کی۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  9. حملہ آور کے پاس متعدد ہتھیار تھے، صدر ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران سیکرٹ سروس کے ایک اہلکار کو گولی لگی ہے تاہم انھوں نے بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔

    صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور کے پاس متعدد ہتھیار تھے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ہوٹل محفوظ جگہ نہیں تھی اور اس ہی وجہ سے ہم وائٹ ہاؤس میں تعمیر کر رہے ہین۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ تقریب دوبارہ منعقد کی جائے گی۔

    صدر ترمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملہ آور کی تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد شفافیت برقرار رکھنا ہے۔

  10. ایف بی آئی کی حملہ آور کو حراست میں لینے کی تصدیق

    ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو ہلٹن ہوٹل میں تقریب کے دوران گولیاں چلانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

  11. ’یہ واشنگٹن کی محفوظ ترین تقریبات میں سے ایک ہونی چاہیے‘, ڈینیئل بش، واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار

    اس فائرنگ کے واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر کے سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    واشنگٹن ہلٹن میں ہونے والی اس تقریب میں تقریباً ہر برس صدر، کابینہ کے متعدد ارکان اور انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ سینکڑوں صحافی شریک ہوتے ہیں۔

    شرکا کو بال روم تک رسائی کے لیے ہوائی اڈوں جیسی سکیورٹی جانچ سے گزرنا پڑتا ہے، جبکہ ہوٹل کے باہر بھی سکیورٹی تعینات ہوتی ہے۔

    دیکھا جائے تو یہ واشنگٹن کی محفوظ ترین تقریبات میں سے ایک ہونی چاہیے۔ ماضی میں وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنرز کے دوران اس نوعیت کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ تاہم آج رات پیش آنے والے اس واقعے کے بعد مستقبل میں اس تقریب کے سکیورٹی انتظامات یقینی طور پر توجہ کا مرکز ہوں گے۔

  12. صحافیوں کو وائٹ ہاؤس پہنچا دیا گیا، صدر ٹرمپ کا خطاب متوقع

    ہلٹن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنہلٹن ہوٹل میں تقریب کے شرکا واقعے کے بعد اپنے موبائل فونز چیک کر رہے ہیں۔

    اس بات کی تصدیق کے بعد کہ ہلٹن ہوٹل میں تقریب آگے نہیں بڑھائی جائے گی، صحافیوں کو وائٹ ہاؤس پہنچا دیا گیا ہے۔

    صحافی اب وائٹ ہاؤس کے پریس بریفنگ روم میں انتظار کر رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ صدر جلد ہی میڈیا سے بات کریں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل ہلٹن ہوٹل میں تقریب کے میزبان کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ تقریب جاری رہے گی۔

    وائٹ ہاؤس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  13. ’یہ اب ایک کرائم سین ہے، آپ کو فوراً یہاں سے نکلنا ہوگا‘, ٹام بیٹمین، نامہ نگار برائے امریکی محکمہ خارجہ

    ہلٹن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جب کچھ دیر قبل واشنگٹن ہلٹن کے بال روم میں شدید ہلچل مچی تو میں نے وہاں پیش آنے والے واقعات کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی۔

    میں ایک ساتھی کے ساتھ کمرے کے پچھلے حصے میں گیا تاکہ ویڈیو بھیجی جا سکے اور اسی دوران میں اُن لوگوں کے ایک گروہ میں شامل ہو گیا جنھیں وہاں سے باہر لے جایا جا رہا تھا۔ باہر نکلتے وقت میں نے ایک سیکرٹ سروس کے اہلکار کو یہ کہتے سنا کہ ’یہ اب ایک کرائم سین ہے، آپ کو فوراً یہاں سے نکلنا ہوگا‘۔

    ہم عقبی جانب سء نکلے، جہاں ہوٹل کی ایک سائیڈ سٹریٹ پر گاڑیوں کے باہر نکلنے کا راستہ ہے۔

    جیسے ہی ہم باہر آئے، میں نے دیکھا کہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کو عمارت سے باہر لے جایا جا رہا ہے۔ وہ کچھ دیر باہر رہے، پھر ایک موقع پر واپس اندر بھی گئے۔ مجموعی طور پر خاصی ہلچل تھی۔

    گزشتہ چند منٹوں میں ہم نے صدارتی موٹرکیڈ کو ہوٹل سے روانہ ہوتے دیکھا ہے۔

    اب باہر کا ماحول نسبتاً پرسکون ہے، جس سے لگتا ہے کہ بظاہر صدر روانہ ہو چکے ہیں۔ اس وقت ہوٹل کے گرد کڑا حصار قائم ہے، پولیس کی بڑی تعداد موجود ہے اور لوگوں کو علاقے سے دور کر دیا گیا ہے۔

  14. وہ لمحہ جب سیکرٹ سروس صدر ٹرمپ کو عشائیے کی تقریب سے باہر لے گئی

    وہ لمحہ جب واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے صحافیوں کے لیے دیے گئے عشائیے کے دوران مبینہ فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حفاظت پر مامور سیکرٹ سروس انھیں وہاں سے نکال کر لے گئی۔

  15. ہمیں تاحال نہیں پتا کہ عشائیے کے دوران ہوا کیا, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، نامہ نگار برائے وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس دنرر

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    تاحال ہمیں سرکاری سطح پر کسی طرح کی تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے صحافیوں کے لیے دیے گئے عشائیے کے دوران کیا ہوا ہے۔

    تاہم فاکس نیوز کی رپورٹر جیکی ہینریچ، جو وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کے بورڈ کی رکن ہیں، نے ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص نے بندوق کے ساتھ میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنے کی کوشش کی تھی۔

    ہینرک کے مطابق صدر ٹرمپ کو قریبی کمرے میں لے جایا گیا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ عشائیہ جاری رہے۔ انھوں نے ابھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں وہاں سے جانے کو کہا ہے۔

  16. خاتون اول اور کابینہ کے تمام ممبران محفوظ ہیں، تقریب 30 منٹ کے لیے مؤخر کی گئی ہے: صدر ٹرمپ

    واشنگٹن کے ہلٹن بینکوئٹ ہال میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے لیے عشائیہ کی تقریب کے دوران مبینہ فائرنگ کے بعد امریکی سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ صدر، خاتونِ اول اور وہ دیگر تمام افراد جن کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے، وہ سب محفوظ ہیں۔

    دوسری جانب تقریب کے میزبان کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ تقریب جاری رکھی جائے گی تاہم صدر ٹرمپ موقع سے چلے گئے ہیں۔

    انھوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ خاتونِ اول، نائب صدر اور کابینہ کے تمام ممبران محفوظ ہیں۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ تقریب کو 30 منٹ کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

  17. وائٹ ہاؤس کی جانب سے عشائیے کے دوران فائرنگ، صدر ٹرمپ کو سکیورٹی اہلکاروں نے فوری باہر نکال لیا

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    عشایئے کے دوران فائرنگ کی آواز سنی گئی جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے صدر ٹرمپ کو فوری طور پر باہر نکال لیا گیا۔

    تقریب میں موجود ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق سات سے آٹھ گولیاں چلنے کی اطلاعات ہیں۔

    مشتبہ حملہ آور کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئیں کہ آیا اسے ہلاک کر دیا گیا یا حراست میں لے لیا گیا۔

    تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند لمحے قبل سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کو ’گرفتار‘ کر لیا گیا۔

    بھاری اسلحہ سے لیس سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے صدر کو مقام سے منتقل کیے جانے کے بعد اب پہلی بار ان کا بیان سامنے آیا ہے۔

    ٹرمپ کے مطابق ’میں نے کہا ہے کہ تقریب جاری رکھی جائے تاہم حتمی فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رہنمائی میں کیا جائے گا۔‘

  18. آج کی خبروں کا خلاصہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کا ایران جنگ سے متعلق مذاکرات کے لیے پاکستان کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

    ذیل میں آج کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش ہے:

    امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی سفارتی پیش رفت نہیں ہوئی

    • گذشتہ شام ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی پاکستان کا دورہ مکمل کر کے روانہ ہو گئے۔ انھوں نے پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کو ’انتہائی مفید‘ قرار دیا تاہم کہا کہ انھیں ابھی یہ دیکھنا ہے کہ آیا امریکہ واقعی سفارت کاری میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔
    • وائٹ ہاؤس نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ دو مشیر بھی پاکستان بھیجے جائیں گے، تاہم عراقچی کے عمان روانہ ہونے کے فوراً بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ منصوبہ منسوخ کر دیا۔
    • ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا: ’ہمارے پاس تمام کارڈز ہیں، ان کے پاس کچھ نہیں! اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمیں کال کر لیں!!!‘
    • پاکستان کے وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ ملک ایک ’پرعزم‘ ثالث کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی اتوار کو دوبارہ اسلام آباد واپس آئیں گے۔
    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    اسرائیل کا لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر حملوں کا حکم

    • دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے فوج کو لبنان میں حزب اللہ کے مبینہ اہداف پر ’شدید حملوں‘ کی ہدایت دی ہے۔
    • لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہفتے کی شام جنوبی لبنان میں متعدد حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔
    • اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے پر بارہا جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے ہیں، جسے ٹرمپ نے چند روز قبل توسیع دی تھی۔
    • صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ جنگ بندی برقرار رہے، اس لیے ممکن ہے کہ یہ صورتحال مکمل جنگ کی طرف واپسی کا عندیہ نہ ہو، تاہم ہمارے نامہ نگار کے مطابق یہ اس بات کی نشاندہی ضرور کرتی ہے کہ حالات کتنے نازک ہیں۔
  19. امریکی فوج نے بحیرۂ عرب میں مبینہ ایرانی ’شیڈو فلیٹ‘ کا جہاز روک لیا

    Centcom

    ،تصویر کا ذریعہCentcom

    امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ’شیڈو فلیٹ‘ سے تعلق رکھنے والے ایک جہاز کو روکا ہے، جو غیر ملکی منڈیوں کے لیے ایرانی توانائی، تیل اور گیس کی ’اربوں ڈالر مالیت‘ کی مصنوعات لے جا رہا تھا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں سینٹ کام نے کہا ہے کہ ایم/وی سیون کو آج کے اوائل میں امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے بحیرۂ عرب میں روکا، اور یہ جہاز اب ’امریکی فوجی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے نگرانی میں ایران واپس جا رہا ہے‘۔

    سینٹ کام کے مطابق یہ جہاز ان 19 ’شیڈو فلیٹ‘ جہازوں میں شامل ہے جن پر امریکی محکمہ خزانہ نے گذشتہ روز پابندیاں عائد کی ہیں۔

    اس ماہ کے اوائل میں امریکی افواج نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے ساحل کی طرف یا وہاں سے جانے والے جہازوں کو روکیں گی یا واپس موڑ دیں گی۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج ایرانی بندرگاہوں کی ’ناکابندی پر مکمل عمل درآمد‘ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  20. نیتن یاہو کے حکم کے بعد جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں شدت، گذشتہ ایک گھنٹے کے دوران متعدد مقامات پر حملے

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) نے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ ایک گھنٹے کے دوران جنوبی لبنان میں اسرائیل نے متعدد مقامات پر حملے کیے ہیں۔

    این این اے کے مطابق یہ حملے بنت جبیل، صور اور نبطیہ کے اضلاع پر ہوئے ہیں۔

    یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب کچھ دیر قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فوج کو لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر ’شدید حملے‘ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے آج جنوبی لبنان بھر میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جنھیں وہ ’حزب اللہ کا دہشت گردی کا ڈھانچہ‘ قرار دیتی ہے اور جو فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔