عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کیے، وزیر خارجہ پیر کو پوتن سے ملاقات کریں گے: ایرانی میڈیا

ایرانی میڈیا کے مطابق عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو گی اور ہم فتح حاصل کریں گے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر ایرانی بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘

خلاصہ

  • ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔
  • ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے 'امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات' پاکستانی حکام کے حوالے کیے ہیں جبکہ وہ پیر کو پوتن سے ملاقات کریں گے۔
  • واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے لیے عشائیے کی تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
  • صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ بھی موقع پر موجود تھے، جنھیں بحفاظت تقریب سے نکال لیا گیا۔
  • صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی ریپبلکن رکن پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی ہو۔

لائیو کوریج

  1. ایران کے ’شیڈو فلیٹ‘ میں شامل ایک بحری جہاز کو روک کر واپس بھیج دیا گیا: امریکی سینٹرل کمانڈ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہX/CENTCOMArabic

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے ہفتے کے روز ایک تجارتی جہاز کو روکا جو ایران پر عائد کی گئی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    سینٹکام کے مطابق ’سیوان‘ نامی یہ جہاز 19 جہازوں کے اس ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ ہے جس پر ایرانی تیل اور گیس غیر ملکی منڈیوں میں لے جانے کا شبہ ہے۔

    سینٹکام کے مطابق بحیرہ عرب میں امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے اس جہاز کو روکا۔ اس ہیلی کاپٹر نے امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس پنکنی سے پرواز بھری۔

    سینٹکام کے مطابق اس جہاز کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امریکی افواج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایران واپس جائے۔

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’شیڈو فلیٹ‘ جہازوں پر امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے پروپین اور بیوٹین سمیت اربوں ڈالر مالیت کی ایرانی توانائی کی مصنوعات کی نقل و حمل میں کردار ادا کرنے پر پابندیاں عائد ہیں۔

    سینٹکام کے مطابق ناکہ بندی کے بعد سے لے کر اب تک 37 جہازوں کو ’ری ڈائریکٹ‘ کیا گیا ہے۔

  2. ’فائرنگ کے واقعے پر دُکھ ہوا، میرے خیالات اور دعائیں صدر ٹرمپ کے ساتھ ہیں:‘ شہباز شریف

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ عشائیے میں فائرنگ کے واقعے پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے بھی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک پیغام میں کہا کہ ’فائرنگ کے اس واقعے پر گہرا دُکھ ہوا ہے اور میری دعائیں اور نیک خواہشات صدر ٹرمپ کے ساتھ ہیں۔‘

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’وہ صدر، خاتون اول اور نائب صدر کی حفاظت کے لیے دعا گو ہیں اور اُن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔‘

    میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے کہا کہ تشدد کا راستہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔

    کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر ’تسلی‘ محسوس کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ اور خاتون اوّل سمیت حاضرین محفوظ ہیں۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیالات ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو اس پریشان کن واقعہ سے ہل گئے ہیں۔‘

    آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز کا کہنا ہے کہ اںھیں یہ سن کر خوشی ہوئی کہ جائے وقوعہ پر موجود تمام افراد محفوظ ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم سیکرٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کو سراہتے ہیں۔

  3. اس سے پہلے کب ٹرمپ کی موجودگی میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے؟

    سابق صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سنیچر کی شب وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں امریکی صدر سے ایک صحافی نے پوچھا کہ ’آپ کے خیال میں آپ کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا رہتا ہے؟‘

    پچھلے کچھ سالوں میں ٹرمپ کے ساتھ مختلف سکیورٹی واقعات ہوئے ہیں۔

    جولائی 2024 میں بٹلر، پینسلووینیا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ان کے دائیں کان میں گولی لگی تھی۔ لیکن جب اُنھیں سکیورٹی اہلکاروں نے سٹیج سے اُتارا تو اس دوران اُنھوں نے نعرہ لگایا ’فائت۔ فائٹ فائٹ۔‘

    اس واقعے میں بھیڑ میں موجود ایک شخص کی ہلاکت بھی ہوئی تھی۔

    مہینوں بعد ستمبر 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو حفاظتی کے لیے لے جایا گیا جب ایک مشتبہ بندوق بردار شخص کو فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں اُن کے گالف کلب کی جھاڑیوں میں چھپے ہوئے دیکھا گیا۔

    فروری 2026 میں ایک مسلح شخص کو فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ صدر اُس وقت واشنگٹن ڈی سی میں تھے۔

  4. ترک وزیرِ خارجہ کا امریکہ سمیت پاکستان اور ایرانی ہم منصب سے رابطہ، مذاکرات سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے امریکی مذاکرات کاروں اور اپنے ایرانی اور پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    ترک وزارت خارجہ کے ایک ذرائع کے مطابق ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی جس میں انھوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    دو الگ الگ فون کالز میں فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی اور اپنے پاکستانی ہم منصب محمد اسحاق ڈار کے ساتھ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

    ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق جیسا کہ ترک خبر رساں ادارے انادولو نے سنیچر کی شام کو اطلاع دی تھی کہ ان رابطوں میں ایران اور امریکی فریقوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر بات ہوئی ہے۔

  5. ایران میں ایک شخص کو مسلح گروپ سے تعلق رکھنے اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے جرم میں پھانسی دے دی گئی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران میں ایک شخص کو مسلح گروپ سے تعلق رکھنے اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کا جرم ثابت ہونے پر پھانسی دے دی گئی ہے۔

    ایرانی عدلیہ سے منسلک خبر رساں ادارے میزان کی جانب سے یہ خبر سامنے آرہی ہے کہ ایران میں اتوار کے روز جس شخص کو پھانسی دی گئی ہے اُن کا تعلق سنی عسکریت پسند گروپ جیش العدل سے تھا اور وہ ملک کے جنوب مشرق میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے حملوں میں ملوث تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’عامر رمیش کو صوبہ سیستان بلوچستان کے ضلع چابہار کے علاقے پیرسحراب میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، تاہم خبر رساں ادارے نے ان کی گرفتاری کی تاریخ یا ان کے خلاف جاری ہونے والے فیصلے کی وضاحت نہیں کی۔

    رمیش کو کالعدم جیش العدل گروپ میں رکنیت کے علاوہ ’بم دھماکوں اور فوجی دستوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کا مجرم قرار دیا گیا تھا جسے امریکہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

    ایران میں ایک عدالت نے انھیں سزائے موت سنائی اور بعد میں ان کے وکیل کی طرف سے دائر کی گئی اپیل کے بعد سپریم کورٹ نے ان کی سزا کو برقرار رکھا۔

    تاہم عدلیہ کے مطابق آج صبح انھیں بھانسی دے دی گئی۔

  6. نہیں لگتا اس حملے کا تعلق ایران جنگ سے ہے لیکن ابھی یقین سے کُچھ نہیں کہہ سکتے: صدر ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس کی جس میں انھوں نے اس واقعے کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی اور اُن کے سوالوں کے جواب بھی دیے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے پر حملہ کرنے والا اور فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص ’لون ولف‘ تھا۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ اسے اکیلا حملہ آور سمجھ رہے ہیں، اور میں بھی ایسا ہی محسوس کرتا ہوں۔‘

    ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا وہ اپنی سلامتی کے حوالے سے فکرمند ہیں اور کیا اس واقعے کا تعلق ایران میں جنگ سے ہو سکتا ہے؟ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’مجھے نہیں لگتا، لیکن آپ کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ ہم بہت جلد مزید معلومات حاصل کر لیں گے۔ ہمارے پاس دنیا کے بہترین لوگ اس پر کام کر رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہمیں ایران کے حوالے سے اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو وہ جوہری ہتھیار حاصل کر لیں گے۔ ہم نے بی 2 بمبار طیاروں کے ذریعے کارروائی کی۔ میں نے اپنی پہلی مدت میں اوباما دور کا ایران جوہری معاہدہ ختم کر دیا تھا، جو ایک تباہ کن معاہدہ تھا اور جوہری ہتھیار کے حصول کی راہ ہموار کر رہا تھا۔ وہ یقیناً اسے استعمال کرتے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب آپ ایسے اقدامات کرتے ہیں تو آپ خود نشانہ بن جاتے ہیں۔ اگر میں یہ سب نہ کر رہا ہوتا تو شاید میں کم ہدف بنتا لیکن میں جو کر رہا ہوں مجھے اس پر فخر ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ اکثر ایسی کہانیاں سنتے ہیں کہ لوگ ایسے حالات میں ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ میں ایسا نہیں ہوں۔ یہ واقعہ مجھے ایران کے خلاف جنگ جیتنے سے نہیں روک سکتا۔‘

    امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’جہاں تک اس واقعے کے تعلق کا سوال ہے میرے خیال میں جو معلومات ہمارے پاس ہیں ان کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔‘

    (’لون ولف‘ کی اصطلاح عموماً اس فرد کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اکیلے ہی کسی پرتشدد یا مجرمانہ کارروائی کی منصوبہ بندی کرے یا کسی انتہا پسند تنظیم سے براہِ راست وابستہ نہ ہو۔)

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالات بدستور کشیدہ ہیں تاہم دونوں مُمالک کے درمیان جانگ بندی ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ دو مشیر بھی پاکستان بھیجے جائیں گے، تاہم عراقچی کے عمان روانہ ہونے کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کا ایران جنگ سے متعلق مذاکرات کے لیے پاکستان کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا: ’ہمارے پاس تمام کارڈز ہیں، ان کے پاس کچھ نہیں! اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمیں کال کر لیں!!!‘

    واضح رہے کہ واضح رہے کہ 11 اور 12 اپریل کو 21 گھنٹے تک امریکی اور ایرانی وفد کے درمیان جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود فریقین کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔ جہاں ایرانی نمائندوں نے واشنگٹن کی جانب سے وعدوں کی پاسداری پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

  7. عباس عراقچی کا مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ سے رابطہ، جنگ بندی اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کی جانب سے یہ خبر سامنے آرہی ہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران جنگ بندی اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ہونے والے اس ٹیلیفونک رابطے میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ان کے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی نے سفارتی امور، امریکہ اسرائیل جنگ میں جنگ بندی اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    تاہم دوسری جانب عباس عراقچی نے ترک وزیرِ خارجہ حقان فیدان سے بھی ٹیلی فون پر بات کی اور انھیں بھی جنگ بندی سے متعلق تازہ پیش رفت اور خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔

    یادہ رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تھا، جس کے دوران رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی عہدیدار ہلاک ہو گئے تھے۔

    ایرانی مسلح افواج نے اس کے جواب میں کئی ہفتوں تک میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں خلیج فارس میں امریکی و اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور 40 دنوں کے دوران 100 جوابی کارروائیوں میں بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

    تاہم آٹھ اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی جس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ ان مذاکرات کے دوران ایران نے دس نکاتی تجویز پیش کی جس میں امریکی افواج کے انخلا اور پابندیوں کے خاتمے کو شامل کیا گیا تھا۔

    تاہم 11 اور 12 اپریل کو 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود فریقین کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔ جہاں ایرانی نمائندوں نے واشنگٹن کی جانب سے وعدوں کی پاسداری پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

    ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی مذاکرات کی بحالی امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط ہے جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کا جاری رہنا جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔

  8. فائرنگ کے بعد وہ لمحہ جب نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کو سٹیج سے لے جایا گیا

    ،ویڈیو کیپشنفائرنگ کے بعد وہ لمحہ جب نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کو سٹیج سے لے جایا گیا

    سنیچر کی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔

    فائرنگ کے وقت تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سمیت متعدد امریکی اعلیٰ حکام موجود تھے۔

    فائرنگ کے فوراً بعد صدر اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی حفاظت پر مامور سیکرٹ سروس نے انھیں وہاں سے بحفاظت نکال لیا۔

    ویڈیو میں آپ وہ لمحہ دیکھ سکتے ہیں کہ جب سیکرٹ سروس کے اہلکار نائب صدر جے ڈی وینس کو سٹیج سے محفوظ مقام کی جانب لے جاتے ہیں۔

  9. بریکنگ, مشتبہ حملہ آور کا ہدف ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے دار تھے، سی بی ایس

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق مبینہ حملہ آور نے حکام کو بتایا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

    دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے سی بی ایس نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ اس واقعے کے دوران کم از کم پانچ سے آٹھ گولیاں چلائی گئیں۔

  10. عمان ایران تعلقات ہمسایوں کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلقات کی مثال ہیں، اسماعیل بقائی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’عمان اور ایران کے تعلقات خطے کے جنوبی ممالک کے ساتھ ایران کی جانب سے باہمی احترام اور مفاد پر مبنی تعلقات کے حقیقی عزم کی مثال ہیں۔‘

    ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے یہ بات سنیچر کے روز ایرانی وزیر خارجہ کے ہمراہ دورے پر عمان پہنچنے پر کہی۔

    اسماعیل بقائی نے لکھا کہ کہ یہ دورہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ امریکہ اسرائیل کشیدگی کے بعد خطے کا پہلا دورہ ہے جس نے وسیع تر خطے کو ایک اہم پیغام دیا ہے۔

    بقائی کے مطابق ایران خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور باہمی اعتماد اور تعمیری تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ایک سفارتی وفد کے ہمراہ سنیچر کی شب پاکستان کے دورے کے بعد رات مسقط پہنچے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق وہ عمانی اعلیٰ حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ عراقچی عمان کے دورے کے بعد اور روس جانے سے قبل دوبارہ پاکستان کا بھی دورہ کریں گے۔

    یاد رہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی چند گھنٹے قبل ہی پاکستان سے روانہ ہوئے تھے۔ انھوں نے پاکستانی حکام سے بات چیت کو ’انتہائی مفید‘ قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں ابھی یہ دیکھنا ہے کہ آیا امریکہ واقعی سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے پاکستان میں مذاکرات کے لیے طے شدہ دورے کو منسوخ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران میں ’جو بھی معاملات چلا رہا ہے‘ اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہے، انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ جب چاہیں ہمیں فون کر سکتے ہیں۔‘

  11. برطانیہ کے امریکہ میں سفیر کرسچن ٹرنر کا سیکرٹ سروس کا شکریہ, بی بی سی نیوز کے نانہ نگار برائے وائٹ ہاؤس، برنڈ ڈیبسمین جونیئر

    PA

    ،تصویر کا ذریعہPA

    برطانیہ کے امریکہ میں سفیر کرسچن ٹرنر نے اب سے کُچھ دیر قبل اپنے ایک پیغام میں امریکی سیکرٹ سروس کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    برطانوی سفارت خانے کے دیگر اہلکاروں کے ساتھ ٹرنر خود بھی عشائیے میں شریک تھے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’آج رات وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے میں شریک سفارت خانے کی ٹیم سیکرٹ سروس کے فوری اور پیشہ ورانہ ردعمل پر شکر گزار ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اس بات پر شکر گزار ہیں کہ صدر اور تقریب میں موجود دیگر افراد محفوظ رہے اور زخمی اہلکار کی مکمل صحت یابی کے لیے بھی ہم دعا گوہ ہیں۔‘

    واضح رہے کہ اس عشائیے میں شرکت کے لیے متعدد سیاستدان، سفارتکار اور دیگر اہم اور مشہور شخصیات موجود تھیں۔

  12. امریکی قانون سازوں کا جانی نقصان نہ ہونے پر اطمینان کا اظہار

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنفائرنگ کے واقعے کے بعد ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن کو سکیورٹی اہلکار ہال سے نکال کر اپنی حفاظت میں لے جاتے ہوئے

    سوشل میڈیا پر کانگریس کے متعدد اراکین نے دونوں جماعتوں سے تعلق کے باوجود اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ صدر اور خاتونِ اوّل محفوظ ہیں۔ انھوں نے سیکرٹ سروس اہلکاروں کی فوری کارروائی کو سراہا اور تشدد کی مذمت کی ہے۔

    ایوانِ نمائندگان میں اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے لکھا کہ ’وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے میں فائرنگ کے واقعے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائی پر شکر گزار ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ میں تشدد اور افراتفری کا خاتمہ ہونا چاہیے۔‘

    ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ بھی اس عشائیے میں موجود تھے اور وہ اس بات پر شکر گزار ہیں کہ کسی بے گناہ کو نقصان نہیں پہنچا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ کی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فرسٹ ریسپانڈرز کے شکر گزار ہیں جنھوں نے فوری طور پر صورتحال پر قابو پایا۔‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  13. آج کی فائرنگ اسی مقام پر ہوئی جہاں سنہ 1981 میں صدر ریگن پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج کا فائرنگ کا واقعہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل (کنیکٹیکٹ ایونیو) میں پیش آیا، وہی ہوٹل کہ جہاں سنہ 1981 میں رونالڈ ریگن کو گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا۔

    یہ واقعہ 30 مارچ 1981 کو پیش آیا تھا کہ جب حملہ آور جان ہنکلی جونیئر نے اس وقت کے صدر ریگن پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ ہوٹل کے اندر ایک خطاب کے بعد اپنی لیموزین کی طرف واپس جا رہے تھے۔

    ریگن اس حملے میں زندہ بچ گئے تھے تاہم انھیں اس وقت شدید چوٹیں آئیں جب ایک گولی صدر کی لیموزین کے پہلو سے ٹکرا کر ان کے جسم میں لگی۔ جس سے ان کی ایک پسلی ٹوٹ گئی اور پھیپھڑوں میں سے ایک کو نقصان پہنچا تھا۔

    انھیں اس واقعے کے فوری بعد قریبی جارج واشنگٹن یونیورسٹی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں سے وہ 11 اپریل کو ڈسچارج ہوئے تھے۔

    اس وقت کے وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری جیمز بریڈی بھی اسی واقعے میں زخمی ہوئے تھے جبکہ ایک سیکرٹ سروس اہلکار اور میٹروپولیٹن پولیس کا ایک مقامی افسر بھی زخمیوں میں شامل تھے۔

    بریڈی کو اس واقعے میں دماغی چوٹ آئی جس کے باعث وہ زندگی بھر معذوری کا شکار رہے اور ان کی یہ حالت بعد ازاں سنہ 2014 میں ان کی وفات تک برقرار رہی۔

    بعد ازاں اگلے سال جان ہنکلی جونیئر کو ذہنی بیماری کی بنا پر مجرم قرار نہیں دیا گیا، تاہم انھیں واشنگٹن کے سینٹ الزبتھ ہسپتال کے انتہائی سکیورٹی والے حصے میں رکھا گیا جہاں سے انھیں سنہ 2016 میں رہا کیا گیا۔

    آج بھی اس فائرنگ کے مقام پر ہوٹل کی دیوار پر ایک تختی نصب ہے جو اس واقعے کی یاد دلاتی ہے۔

  14. میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ ہو، ٹرمپ, بی بی سی نیوز کے ہاؤس سے نامہ نگار برنڈ ڈیبسمین جونیئر کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ گزشتہ چند سالوں میں تیسرا موقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اردگرد فائرنگ یا مبینہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے اور یہ ایک طرح کے تسلسل کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

    میں خود بھی 13 جولائی سنہ 2024 کو پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں موجود تھا کہ جب 20 سالہ تھامس کروکس نے ٹرمپ پر فائرنگ کی تھی اور واشنگٹن میں آج کا ماحول اس دن کے میرے تجربے سے کافی حد تک قریب ہے۔

    ایک اور فائرنگ کے واقعے سے گزرنے کے باوجود صدر ٹرمپ کا موڈ نسبتاً پُرسکون اور خوشگوار دکھائی دیا۔

    تاہم یہ امکان کہ وہ کسی خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں ایسا موضوع ہے جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود بھی بارہا بات کی ہے۔

    انھوں نے پریس بریفنگ روم میں کہا کہ ’میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ ہو۔‘

    ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقوں کا اس سے قبل بھی یہ ماننا ہے کہ بٹلر میں ہونے والا حملہ شاید امریکی صدر کے لیے سب سے زیادہ اہم تھا۔

    اگرچہ اس واقعے کے محرکات اب بھی واضح نہیں لیکن آج کی رات کے واقعات بھی بظاہر ایک اور اہم واقعے کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

    صدر ٹرمپ کے اس مؤقف کہ یہ عہدہ اپنی نوعیت میں انتہائی خطرناک ہے کو آج کے حالات میں مناسب قرار دیا جا رہا ہے۔

    آج کا یہ واقعہ اسی ہوٹل کے اندر پیش آیا جہاں 1981 میں اُس وقت کے صدر رونالڈ ریگن کو گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا۔

  15. کیا وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کا عشائیہ دوبارہ منعقد ہو سکے گا؟

    صدر ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ ’وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کی تقریب آئندہ 30 دن کے اندر دوبارہ منعقد کی جائے گی اور مبینہ فائرنگ کے واقعے سے معمول کی طے شدہ تقریبات متاثر نہیں ہوں گی۔‘

    واشنگٹن ہلٹن کے بال روم کے باہر گولیاں چلنے کی آوازیں اس وقت سنائی دیں کہ جب مہمان گپ شپ میں مصروف تھے۔

    جب تقریب فائرنگ کے واقعے کے بعد اس کے دوبارہ انعقاد کے امکان کے بارے میں سوال کیا گیا تو امریکی سکیورٹی سروس کے ڈائریکٹر شان کیرن نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم ہر روز یہی کرتے ہیں‘ جب صدر اور کابینہ کے ارکان کی شرکت والی تقریبات میں سکیورٹی خطرات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔‘

  16. حکام ویڈیوز کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مشتبہ شخص اندر تک کیسے پہنچا

    واشنگٹن ڈی سی کے پولیس چیف جیفری سی کارول سے سوال کیا گیا کہ ایک بھاری ہتھیار کے ساتھ مشتبہ شخص اتنی آسانی سے اندر کیسے داخل ہو گیا۔

    اس پر کیرول نے کہا کہ ’تفتیش کے دوران ہوٹل کے مختلف حصوں کی ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملہ آور ہتھیار کے ساتھ اندر کیسے داخل ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس وقت ہمارے پاس مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں۔‘

  17. مشتبہ شخص ہوٹل میں بطور مہمان رہائش پذیر تھا، ڈی سی پولیس چیف

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت 31 سالہ کول تھامس ایلن کے طور پر ہوئی ہے جو کیلیفورنیا کے شہر ٹورنز کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی کے پولیس چیف جیفری سی کارول نے بتایا کہ وہ اسی ہوٹل میں بطور مہمان رہائش پذیر تھا جہاں یہ تقریب جاری تھی اور تفتیش کے سلسلے میں اس کے کمرے کو سیل کر دیا گیا ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کے عشائیے کے بعد امریکی دارالحکومت میں ہونے والی دیگر تقریبات کے لیے سکیورٹی میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے تو انھوں نے کہا کہ اس وقت ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ اس واقعے کے بعد کسی اور کو خطرہ ہے تاہم بعد از تقریب ہونے والی پارٹیوں سمیت دیگر تقریبات کے لیے اضافی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

  18. مبینہ حملہ آور کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    واشنٹن کے ہلٹن ہوٹل میں پیش آنے والے واقعے میں ملوث مبینہ مسلح مشتبہ شخص کے بارے میں ابتدائی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق 31 سالہ مشتبہ شخص کا تعلق کیلیفورنیا کے شہر ٹورنز سے بتایا جا رہا ہے جو لاس اینجلس کے جنوب مغربی مضافاتی علاقے میں واقع ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی کی میئر نے بتایا کہ مشتبہ شخص کو قریبی ہسپتال میں علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور وہ پولیس کی حراست میں ہے۔

    صدر ٹرمپ کے اٹارنی جنرل ٹوڈ بلینش کا کہنا ہے کہ حملہ آور پر پر ’جلد ہی‘ فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشتبہ شخص نے تقریباً ’پچاس گز کے فاصلے‘ سے دوڑ کر حملہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اپنے ہتھیار تان لیے۔

    صدر ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ ان کے خیال میں حملہ آور اکیلا تھا۔

    ’یہ پاگل لوگ ہیں اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔‘

  19. تاحال یہ معلوم نہیں کہ مشتبہ شخص نے حملہ کیوں کیا، پولیس

    میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے قائم مقام سربراہ جیفری کیرول سے جب مشتبہ شخص کے حملے کے نیت اور محرک کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ بات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی کہ مشتبہ شخص نے حملہ کیوں کیا۔

    انھوں نے کہا کہ گولیاں چلنے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سکیورٹی کی ناکامی تھی یا سکیورٹی انتظامات مکمل اور مناسب نہیں تھے۔

    کیرول کے مطابق وہ چیک پوائنٹ، جہاں مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا اسی مقصد کے لیے موجود تھا اور اس نے اپنا کام درست طریقے سے انجام دیا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ یہ مشتبہ شخص اس سے قبل میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کو مطلوب نہیں تھا۔

  20. سیکرٹ سروس کے سربراہ کا اپنے اہلکاروں کی کارروائی پر اطمینان کا اظہار

    سیکرٹ سروس کے ڈائریکٹر شان کیرن نے آج رات اپنے اہلکاروں کی کارروائی کو سراہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے بالکل وہی دیکھا جو ہمارے بہادر مرد و خواتین ہر روز اپنے زیرِ حفاظت شخصیات کی حفاظت کے لیے کرتے ہیں۔ یہ آسان نہیں ہوتا اور میں کہوں گا کہ انھوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے فائرنگ سے زخمی ہونے والا سیکرٹ سروس کا اہلکار زندہ ہے اور انھیں زیرِ نگرانی رکھا جا رہا ہے۔

    شان کیرن نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کا رابطہ کرنے اور اہلکار کے حوالے سے خیریت معلوم کرنے پر پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سیکرٹ سروس اپنا مشن جاری رکھے گی۔