افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے اور اس دوران دونوں جانب سے شدید جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
بی بی سی پشتو کے مطابق گزشتہ شب بھی مشرقی اور جنوب مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار اور پکتیا جبکہ جنوبی قندھار اور زابل میں درۂ خیبر لائن کے قریب طالبان اور پاکستانی افواج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
جہاں سرحد کے دونوں اطراف رہنے والوں میں شدید بے یقینی اور خوف دیکھا جا رہا ہے وہیں روس، ترکی اور چین نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے گذشتہ ہفتے میں جمعے کو افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے تھے۔
حکام نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ان مقامات پر دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی کے دوران پہلی مرتبہ پاکستان نے کابل اور قندھار جیسے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب پاکستان میں ’جوابی کارروائیوں‘ سے متعلق افغان وزارت دفاع کے بیان میں ڈیورنڈ لائن کے اطراف پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کی فورسز کے درمیان جھڑپیں جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات شروع ہوئی تھیں اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
افغان وزارتِ دفاع وزارت نے دعویٰ کیا کہ لڑائی کے آغاز سے اب تک متعدد شہری ہلاک ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان انتہائی محتاط رہ کر صرف دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘
ماسکو میں افغان سفارتخانے کے مطابق روس کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے طالبان حکومت کے سفیر گل حسن سے ملاقات میں کہا کہ روس افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
روس نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازع کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ملاقات میں طالبان سفیر نے الزام عائد کیا کہ ’جھوٹی میڈیا رپورٹس افغانستان کی حقیقت سکے برعکس معلومات پھیلا رہی ہیں‘ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی۔
یاد رہے کہ روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہے۔
ترکی کی کابل اور اسلام آباد کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوشش کی پیشکش
دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوغان نے پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ ترکی افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی قائم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔
بی بی سی پشتو کے مطابق ترک وزیر اعظم نے زور دیا کہ سفارت کاری کی طرف واپسی اور جنگ بندی کا دوبارہ آغاز خطے میں تشدد کو کم کرنے اور استحکام قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ترکی اس سے قبل بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے لیے ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کر چکا ہے تاہم ترکی، قطر اور سعودی عرب کی کوششوں کے باوجود اب تک دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو مکمل ختم نہیں کیا جا سکا۔
چینی سفیر اور امیر متقی کی ملاقات
طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ کے مطابق کابل میں چین کے سفیر ژاؤ شِنگ نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی ہے جس میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازع پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
بیان کے مطابق امیر خان متقی نے زور دیا کہ افغانستان ایسے تعلقات چاہتا ہے جو باہمی احترام، داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور اچھے ہمسایہ تعلقات پر مبنی ہوں۔
چینی سفیر نے موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بیرونی عناصر خطے کے استحکام اور ترقی کے خلاف کام کر رہے ہیں تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ عناصر کون ہیں یا ان کا مقصد کیا ہے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ خطے کے ممالک زیادہ ہم آہنگی اور تعاون کے ذریعے ان منفی اثرات کو روک سکتے ہیں۔
’بہت مشکل حالات میں روزہ افطار کرتے ہیں‘
بی بی سی پشتو کے مطابق پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں رہائشیوں نے بتایا ہے کہ شام کے وقت گولہ باری اور دھماکوں کے باعث ان کے گھروں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔
درۂ خیبر لائن کے قریب رہنے والے کئی خاندانوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ وہ بھاری گولہ باری اور دھماکوں کے باعث اپنے گھروں کو چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سرحدی افواج کے درمیان جھڑپیں شام کے وقت شروع ہوتی ہیں، جس سے ان کے گھروں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ یہ جھڑپیں اکثر سورج غروب ہونے کے وقت ہوتی ہیں،جب خاندان رمضان میں روزہ افطار کر رہے ہوتے ہیں۔
لنڈی کوتل کے رہائشی فرید خان شنواری نے روئٹرز کو بتایا ’دن کے وقت مکمل خاموشی ہوتی ہے، لیکن جیسے ہی ہم افطار کے لیے بیٹھتے ہیں، دونوں جانب سے توپوں کی گولہ باری شروع ہو جاتی ہے۔ ہم بہت مشکل حالات میں روزہ افطار کرتے ہیں کیونکہ کبھی نہیں معلوم ہوتا کہ گولہ کب گھر پر آ گرے گا۔‘
سرحد کے دوسری جانب بھی اسی طرح کی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں، جہاں لڑائی کے باعث خاندان اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہیں۔ سینکڑوں افراد صحرائی علاقوں میں خیموں کے نیچے مقیم ہیں جبکہ بعض کے پاس کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق تقریباً 20 ہزار خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے ہیں جبکہ خوراک کی ہنگامی تقسیم معطل ہونے سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔