میں اس وقت وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں موجود ہوں
جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انٹر میامی ٹیم سے ملاقات کر رہے ہیں، جو میجر لیگ
سوکر کی چیمپیئن ہے اور اس کے مالکان میں سابق برطانوی فٹبالر ڈیوڈ بیکہم بھی شامل
ہیں۔
ٹرمپ اس وقت پوڈیم پر موجود ہیں، ان چند فٹ کے فاصلے پر ایک گلابی رنگ
کی نمبر ’47‘ جرسی اور فٹبال رکھی ہے، جس پر ان کے دستخط کے ساتھ انٹر میامی کے
کھلاڑیوں کے دستخط بھی موجود ہیں، جن میں لیونل میسی بھی شامل ہیں۔ مارکو رو بیو
اور ان کی اہلیہ تقریب شروع ہونے سے چند منٹ پہلے ہی ہال میں داخل ہوئے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے ابھی رپورٹ کیا ہے، امریکی صدر نے ایران کے بارے میں
تازہ ترین صورتحال بتانے میں بالکل وقت ضائع نہیں کیا اور فوراً اس موضوع پر بات
شروع کر دی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکہ ایرانی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں پر ’ہر
گھنٹے‘ میں حملے کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ: ’نہ تو ان کے
پاس کوئی فضائیہ رہ گئی ہے، نہ فضائی دفاع۔ ان کے تمام طیارے ختم ہو چکے ہیں، ان
کا مواصلاتی نظام ختم ہو چکا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے انٹر میامی کے کھلاڑیوں اور سٹاف سے ملاقات کے دوران اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ ایرانی حکام ’فون کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم کوئی معاہدہ کیسے کر سکتے ہیں؟‘
’میں نے ان سے کہہ رہا ہوں کہ آپ نے دیر کر دی
ہے۔ ہم اب لڑنا چاہتے ہیں۔‘
خیال رہے اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ
کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر چکے ہیں۔
انھوں نے این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ہمارا امریکہ کے ساتھ مذاکرات
کا تجربہ مثبت نہیں رہا ہے، خاص طور پر اس انتظامیہ کے ساتھ۔ ہمیں نے گذشتہ برس
اور اس برس دو مرتبہ مذاکرات کیے ہیں اور پھر مذاکرات کے درمیان انھوں نے ہم پر
حملہ کر دیا۔‘