اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع میں ایران کی فوجی حکمت عملی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ روایتی معنوں میں فتح کے لیے نہیں بلکہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور وہ بھی اپنی شرائط پر۔
ایران کے رہنما اور فوج برسوں سے اس لمحے کی تیاری کر رہے تھے۔ غالباً انھیں اندازہ تھا کہ خطے کے حوالے سے ان کی خواہشات بالآخر اسرائیل یا امریکہ کے ساتھ براہِ راست تصادم کو جنم دے سکتی ہیں اور کسی ایک کے ساتھ جنگ لازمی طور پر دوسرے کو بھی شامل کر لے گی۔
یہ صورتحال گزشتہ سال موسمِ گرما کی 12 روزہ جنگ میں واضح ہو گئی تھی جب اسرائیل نےحملے میں پہل کی اور چند دن بعد امریکہ بھی اس میں شامل ہو گیا۔
موجودہ لڑائی میں اسرائیل اور امریکہ نے بیک وقت ایران پر حملے کیے۔ امریکہ اور اسرائیل کی تکنیکی برتری، انٹیلیجنس صلاحیتوں اور جدید فوجی سازوسامان کو دیکھتے ہوئے یہ سوچنا سادہ لوحی ہوگی کہ ایرانی منصوبہ ساز براہِ راست میدانِ جنگ میں فتح حاصل کرنے کی حکمتِ عملی بنا رہے تھے۔
حالیہ لڑائی میں اسرائیل اور امریکہ نے بیک وقت ایران پر حملے کیے۔ امریکہ اور اسرائیل کی تکنیکی برتری، انٹیلیجنس صلاحیتوں اور جدید فوجی سازوسامان کو دیکھتے ہوئے یہ سوچنا کم عقلی ہو گی کہ ہ ایرانی منصوبہ ساز براہِ راست میدانِ جنگ میں فتح حاصل کرنے کی حکمتِ عملی بنا رہے تھے۔
اس کے بجائے ایران نے اپنی حکمتِ عملی میں روک تھام اور برداشت کو فوقیت دی۔ گزشتہ دہائی میں اس نے بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو بڑھایا اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور خطے میں اتحادی مسلح گروہوں کے نیٹ ورک میں بھاری سرمایہ کاری کی۔
ایران اپنی حدود کو سمجھتا ہے، امریکی سرزمین اس کی پہنچ سے دور ہے لیکن خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے، خاص طور پر پڑوسی عرب ممالک میں ایران کے نشانے پر ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل بھی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے نشانے پر ہے اور حالیہ حملوں نے ظاہر کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام کو توڑا جا سکتا ہے۔ ایران کا ہر میزائل یا ڈرون جو ان نظاموں کو عبور کرتا ہے، محض فوجی نہیں بلکہ نفسیاتی اثر بھی رکھتا ہے۔
ایران کی حکمتِ عملی جزوی طور پر جنگی معیشت پر مبنی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے تباہ کن ہتھیار ایران کے ڈرونز اور میزائلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگے ہیں۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والا تنازع امریکہ اور اسرائیل کو نسبتاً ارزاں خطرات کو روکنے کے لیے اپنے قیمتی اثاثے استعمال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے دنیا کے سب سے اہم راستوں میں سے ایک ہے اور اس جنگ میں توانائی بھی جنگی معیشت کا ایک اہم ہتھیار ہے۔
ایران کو اس تنگ آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ محض سخت دھمکیاں اور محدود رکاوٹیں ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر چکی ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس میں کمی لانے کا بین الاقوامی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اس تناظر میں، کشیدگی کو بڑھانا ایران کے مخالفین کو فوجی طور پر شکست دینے کا ذریعہ نہیں بلکہ جنگ جاری رکھنے کی قیمت بڑھانے کا ایک طریقہ بن جاتا ہے۔
یہ ہمیں پڑوسی ممالک پر حملوں کی طرف لے جاتا ہے۔
قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان اور عراق جیسے ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ امریکی افواج کے اڈوں کی میزبانی خطرات سے خالی نہیں ہے۔
تہران کو امید ہو سکتی ہے کہ یہ حکومتیں واشنگٹن پر کارروائیاں محدود یا بند کر نے کا دباؤ ڈال سکتی ہیں لیکن یہ ایک خطرناک جوا ہے۔ حملوں کو مزید وسعت دینا ان ممالک کی دشمنی کو مزید سخت کر سکتا ہے اور انہیں زیادہ مضبوطی سے امریکہ-اسرائیل کیمپ میں دھکیل سکتا ہے۔
طویل المدتی نتائج جنگ کے بعد بھی باقی رہ سکتے ہیں، اور خطے میں اتحاد و تعلقات کو اس طرح بدل سکتے ہیں کہ ایران مزید تنہا ہو جائے۔
اگر بقا ہی اصل مقصد ہے تو دشمنوں کا دائرہ بڑھانا ا ایک نہایت خطرناک قدم ہے۔ لیکن تہران کے نقطۂ نظر سے ضبط و تحمل ب اگر وہ کمزوری کا تاثر دے تو بھی اتنا ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ اطلاعات کہ مقامی کمانڈر نسبتاً خودمختاری کے ساتھ اہداف منتخب کر رہے ہیں یا میزائل داغ رہے ہیں، مزید سوالات کو جنم دیتی ہیں۔
ایران کی فوجی حکمتِ عملی، خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے اندر، طویل عرصے سے غیرمرکزی عناصر کو شامل کرتی رہی ہے تاکہ شدید حملوں کے دوران تسلسل برقرار رہے۔
رابطے کے نیٹ ورک روکنے اور جام کرنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ سینیئر کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی فضائی برتری مرکزی نگرانی کو محدود کرتی ہے۔ ایسے حالات میں پہلے سے منظور شدہ اہداف اور حملے کا اختیار تفویض کرنا قیادت کے خاتمے کے خلاف ایک سوچا سمجھا حفاظتی اقدام ہو سکتا ہے۔
یہ ڈھانچہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ایرانی فورسز کس طرح سینیئر آئی آر جی سی شخصیات اور ایران کے سپریم لیڈر اور کمانڈر ان چیف علی خامنہ ای کے قتل کے بعد بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم غیرمرکزی نظام خطرات بھی رکھتا ہے۔ مقامی کمانڈر نامکمل معلومات کے ساتھ غیر ارادی اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جن میں وہ پڑوسی ریاستیں بھی شامل ہیں جو غیرجانبدار رہنا چاہتی تھیں۔
ایک متحدہ آپریشنل تصویر کی عدم موجودگی غلط اندازوں کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔ اگر یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا تو کمانڈ اور کنٹرول کے نقصان کا بھی خدشہ ہے۔
بالآخر ایران کا طریقۂ کار اس یقین پر مبنی دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک نقصان برداشت کر سکتا ہے تاہم اس کی بھی حدود ہیں۔ میزائل ذخائر محدود ہیں اور پیداواری لائنیں مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ موبائل لانچرز کو حرکت کے دوران نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی جگہ لینا وقت لیتا ہے۔
یہی منطق ایران کے مخالفین پر بھی لاگو ہوتی ہے۔اسرائیل اپنی فضائی دفاعی نظام پر مکمل انحصار نہیں کر سکا۔ ہر خلاف ورزی اضطراب کو بڑھاوا دیتی ہے۔ امریکہ کو خطے میں کشیدگی، توانائی کی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور مسلسل کارروائیوں کا بوجھ دیکھنا پڑتا ہے۔
دونوں فریق یہ فرض کیے ہوئے ہیں کہ وقت ان کے حق میں ہے۔ تاہم دونوں درست نہیں ہو سکتے۔ اس جنگ میں ایران کو فتح کی ضرورت نہیں بلکہ اسے صرف قائم رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ مقصد حاصل ہو پائے گا یا نہیں، اور وہ بھی پڑوسی ممالک کو مستقل طور پر بدظن کیے بغیر، یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ابھی تک نہیں ملا۔