آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹرمپ کا ایران سے ’غیر مشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ، ایرانی صدر کا روسی حمایت پر پوتن کا شکریہ

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی جبکہ ’ایک قابل قبول رہنما کے انتخاب کے بعد ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لائیں گے۔‘ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روس کی حمایت پر پوتن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں جبکہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں تین ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کے مطابق گذشتہ سنیچر سے اب تک اسرائیلی و امریکی حملوں میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پوتن سے گفتگو کرتے ہوئے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے
  • فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے
  • اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں لڑائی بے قابو ہو سکتی ہے

لائیو کوریج

  1. مشرقِ وسطیٰ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کی طرف سے معلومات کی آمد کا سلسلہ جاری

    بی بی سی کے نمائندے مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں موجود ہیں اور اس تنازع سے متعلق معلومات قارئین تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    لبنان

    ایلس کڈی اس وقت بیروت میں موجود ہیں، جہاں سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں موجود ہیں کیونکہ اسرائیل نے لوگوں کو اپنے گھر فوراً چھوڑنے کو کہا ہے۔

    لبنان کے دارالحکومت میں لوگ حملوں میں تباہ ہونے والی رہائشی عمارتوں کے ملبے میں اپنی چیزیں ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اس ملبے کے قریب موجود ایک رہائشی نے ایلس کو بتایا کہ ’ہم پیر کو یہاں سے نکل گئے تھے، ہمیں ڈر تھا کہ یہاں کچھ ہو جائے گا۔ ہمیں آج یہاں نہانے اور کچھ سامان لینے آنا تھا۔‘

    وہ ملبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’خدا کا شکر ہے یہاں صرف ہماری چیزیں تھیں اور ہم نہیں تھے۔‘

    قطر

    باربرا پلیٹ اُشر نے آج دوحہ میں اینٹی کرافٹ گن کی آوازیں اور دھماکے سنے تھے۔ موبائل فون پر الرٹس آ رہے تھے کیونکہ خطرہ بڑھ گیا تھا۔

    باربرا کہتی ہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ قطر کے لوگ اس خطے میں جاری حملوں کے دوران کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔

    اسرائیل

    یولانڈے نیل نے ہمیں بتایا ہے کہ پانچ دن بعد آج بن گوریون ایئر پورٹ کھل گیا ہے۔ آج صبح ایتھنز سے وہاں پہلی فلائٹ پہنچی تھی، جس میں وہ لوگ سوار تھے جو دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے تھے۔

    شمالی عراق

    اورلا گیورن کا کہنا ہے کہ ایران کی کُرد اپوزیشن جماعتوں نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی کچھ فورسز ایران کی سرحدی حدود میں داخل ہو چکی ہیں۔

    کردستان فریڈم پارٹی کی رہنما حنا حسین یزدان پنا نے اورلا کو بتایا کہ ’یہ بات درست نہیں ہے، اس پر یقین نہ کریں۔ کوئی بھی جنگجو وہاں نہیں گیا ہے۔‘

    انھوں نے ایران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ حکومت بہت ظالم ہے اور ہمارے پاس سے جدید ہتھیار صرف کلاشنکوف ہے۔‘

  2. ’حملوں سے بچنے کے لیے گھر میں رہتا ہوں تاکہ زندگی محفوظ رہ سکے‘:تہران کے رہائشیوں کی بی بی سی سے گفتگو, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے سبب لوگوں سے رابطہ کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے لیکن بی بی سی ملک میں مزید کچھ لوگوں سے بات کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

    ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’انٹرنیٹ کی صورتحال کے سبب لوگ مزید غصے میں آ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی چھتوں سے حملے دیکھتے ہیں۔ یہ شہر بہت خاموش اور خالی نظر آتا ہے۔‘

    کچھ لوگ حملوں کے ڈر سے شہر چھوڑ بھی گئے ہیں۔ تہران سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ اس شہر سے نکل چکے ہیں۔

    ’میں نے آج سے پہلے کبھی کوئی دھماکا اتنی قریب سے نہیں دیکھا۔ میں نے یہ مناظر اپنی آنکھوں سے اپنے گھر کے اندر بیٹھ کر دیکھے ہیں۔‘

    ’میں نے اچانک آسمان پر روشنی کو نمودار ہوتے ہوئے دیکھا۔ گھر کی ساری کھڑکیاں تھرتھرانے لگی تھیں، آپ کو یقین نہیں آئے گا لیکن میرا خاندان بہت خوفزدہ ہو گیا تھا۔‘

    لیکن دارالحکومت میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ شہر چھوڑنے میں ناکام رہے ہیں۔

    تہران میں ایک شخص کا کہنا ہے کہ ’میں بہت تھکا ہوا ہوں، ایسا لگتا ہے کہ میں پھنس چکا ہوں اور ایسا اس لیے محسوس ہوتا ہے کیونکہ میں حملوں سے بچنے کے لیے گھر میں رہتا ہوں تاکہ میری زندگی محفوظ رہ سکے۔‘

  3. ’گھر کی چھتوں پر بیٹھ کر حملوں کا انتظار کرتے ہیں‘: تہران کے لوگوں نے بی بی سی کو کیا بتایا؟

    ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے سبب لوگوں سے رابطہ کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے لیکن بی بی سی فارسی کی ٹیم تہران میں کچھ لوگوں سے بات کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

    حفاظتی خدشات کے باعث ان لوگوں کے نام نہیں لکھے جا سکتے۔

    مشرقی تہران میں مقیم ایک شخص کا موجودہ صورتحال پر کہنا ہے کہ ’ہم حالیہ احتجاجی مظاہروں سے اس کا موازنہ نہیں کر سکتے۔ لیکن جب بم گرتا ہے تو پورا گھر ہِل جاتا ہے، یہ بہت خوفناک احساس ہوتا ہے۔‘

    مشرقی تہران میں ہی مقیم ایک خاتون نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح 9 بجے لوگ اپنے گھر کی چھتوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور ’حملے ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جب لڑاکا طیارے اوپر سے گزرتے ہیں تو لوگ انھیں دیکھ کر ہاتھ ہلاتے ہیں، سیٹیاں بجاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وہ اس نظامِ حکومت کو برداشت نہیں کر سکتے۔‘

    ایک اور خاتون کا کہنا ہے کہ وہ تہران میں دیکھ رہی ہیں کہ ’ہر کوئی خوش‘ ہے لیکن وہ حملوں کی ’آواز سے ضرور پریشان ہوتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ تمام حکام حملوں کا نشانہ بن جائیں تاکہ ان سب سے چھٹکارا حاصل ہو۔ شاید پھر ایسی صورتحال بن جائے کہ لوگ سڑکوں پر آ جائیں۔‘

  4. انڈیا کا ایس یو 30 لڑاکا طیارہ ’لاپتہ‘ ہو گیا: فضائیہ

    انڈین فضائیہ کا کہنا ہے اس کا لڑاکا طیارہ سخوئی ایس یو 30 لاپتہ ہو گیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انڈین فضائیہ کا کہنا تھ کہ ایس یو 30 طیارے نے آسام کے شہر جورہٹ سے اڑان بھری تھی اور اس سے آخری رابطہ مقامی وقت کے مطابق 7 بجکر 42 منٹ پر ہوا تھا۔

    انڈین فضائیہ کا کہنا تھا کہ مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں، جبکہ سرچ اور ریسکیو مشن شروع کر دیا گیا ہے۔

  5. مجتبیٰ خامنہ ای بطور ایران کے نئے سربراہ ’ناقابلِ قبول‘ ہیں: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای انھیں بطور ایران کے نئے رہنما ’ناقابلِ قبول‘ ہیں۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ان کا کہنا تھا کہ ’مُجھے ایران کے اگلے سربراہ کے انتخاب کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔‘

    ٹرمپ نے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ کو بطور ایران کے نیا سربراہ ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایسا شخص چاہتے ہیں جو ایران میں ہم آہنگی اور سکون لانے میں اہم کردار ادا کر سکے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’مجھے اس تقرری میں شامل ہونا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے ڈیلسی روڈریگز کے معاملے میں وینزویلا میں شامل کیا گیا تھا۔‘

    خیال رہے امریکہ کے وینزویلا پر حملے اور نیکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ان کی نائب ڈیلسی روڈریگز عارضی صدر کے طور پر اقتدار میں آئی تھیں۔

  6. متحدہ عرب امارات نے مُلک بھر میں ایمرجنسی الرٹ جاری کر دیا ہے

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ داخلہ نے پورے ملک میں ایمرجنسی الرٹ جاری جاری کر دیا ہے، جس میں ممکنہ میزائل حملوں کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوراً قریب ترین محفوظ عمارت میں پناہ لیں۔

    رہائشیوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کھڑکیوں، دروازوں اور کھلی جگہوں سے دور رہیں۔

    یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب تقریباً ایک گھنٹہ قبل متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے آنے والے میزائل اور ڈرون خطرات کا مقابلہ کر رہی ہے۔

    اس سے پہلے یو اے ای نے کہا تھا کہ ان کی افواج نے جمعرات کو چھ ایرانی میزائل اور 131 ڈرونز کو فضا میں تباہ کر دیا۔ تاہم اس کے مطابق ایک میزائل اور چھ ڈرونز ملک کے اندر مختفل مقامات پر گرے۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نہ دعویٰ کیا تھا کہ جمعرات کی صبح چھ بیلسٹک میزائلوں اور 131 ڈرونز کو اپنے اہداف کی جانب بڑھنے سے قبل فضا میں ہی تباہ کر دیا تاہم ایک بیلسٹک میزائل اور چھ ڈرونز ملک کے اندر مختلف مقامات پر گرے۔

    وزارت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کہ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری لڑائی کے دوران اب تک 196 بیلسٹک میزائلوں اور آٹھ کروز میزائلوں کے حوالے سے برقوت اطلاع ملنے پر انھیں فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

  7. خلیجی مُمالک دفاع کا حقِ رکھتے ہیں: ایرانی حملوں پر خلیجی اور یورپی مُمالک کے اجلاس کا اعلامیہ جاری

    خلیج تعاون کونسل اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کے روز مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے کے ممالک پر ایران کے حملوں کے حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔

    اس اجلاس کے اختتامی بیان میں جو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد ہوا وزرائے خارجہ نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک پر ایران کے حملوں کی مذمت کی اور انھیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

    بیان کے ایک اور حصے میں وزرائے خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو اپنی سلامتی اور استحکام کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

    بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا چاہیے اور خطے اور یورپ میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے باز آنا چاہیے اور اپنے عوام کے خلاف تشدد کو بھی روکنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

  8. برطانوی وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کے اہم نکات

    برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران قطر میں چار اضافی جیٹ ٹائیفون طیارے اور قبرص میں ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا۔

    سر کیئر سٹامر نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے لیے برطانیہ کے فوجی اڈے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس پر پریس کانفرنس کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ’خصوصی تعلق‘ کو تباہ کر دیا؟ برطانوی وزیر اعظم کا جواب تھا کہ خصوصی تعلقات اب بھی فعال ہیں۔

    کشیدگی میں کمی کی اپیل کرتے ہوئے سر کیئر سٹامر کا کہنا تھا ک برطانوی حکومت خلیجی ممالک میں پھنسے شہریوں کو نکالنے پر کام کر رہی ہے۔

  9. مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد آذربائیجان کی جنوبی فضائی حدود بند

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آذربائیجان نے اپنے جنوبی حصے کی فضائی حدود کے ایک حصہ بند کر دیا ہے، انتظامیہ کے مطبق ایسا چار ایرانی ڈرون کے اس کی سرحد عبور کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فضائی حدود کو 12 گھنٹوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل آذربائیجان نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے نخچیوان کے علاقے پر ڈرون حملہ کیا۔ نخچیوان آذربائیجان کا ایک خود مختار علاقہ ہے جو ایران اور آرمینیا کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔

    تاہم ایران نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہو سکتا ہے جو مسلم ممالک کے درمیان تعلقات میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  10. ایران پر حملوں میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ قومی مفاد میں کیا: برطانوی وزیر اعظم

    برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر نے لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ترجیح اپنے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔

    سر کیئر سٹامر کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا موقف ہے ایران سے مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے کیا جائے، جس کے نتیجے میں ایران اپنے جوہری عزائم سے دستبردار ہو جائے۔ اسی وجہ سے انھوں نے ایران پر ابتدائی حملوں میں حصہ نہیں لیا، لیکن جب ایران نے دوسرے ممالک پر حملے شروع کیے تو صورتحال تبدیل ہو گئی۔

    پریس کانفرنس کے دوران برطانوی وزیر اعظم نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حملوں میں شامل نہ ہونے اور حملوں کے لیے امریکی طیاروں کو برطانوی اڈے نہ دینے کے فیصلے کا دفاع کیا۔

    ان کا کہنا تھا: ’میری توجہ ایسی پر سکون قیادت فراہم کرنے پر ہے جو قومی مفاد میں فیصلے کرے۔ اور دباؤ کے باوجود اپنی اقدار اور اصولوں پر کھڑی رہے۔‘

    کیئر سٹامر کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیح برطانوی عوام کی حفاظت ہے، اسی لیے امریکہ اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے سے بہت پہلے انھوں نے خطے کے دفاعی اثاثوں میں اضافہ شروع کر دیا تھا تاکہ ’اپنے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔‘

    جنوری اور فروری میں برطانیہ اپنے دفاعی اثاثے قطر اور قبرص منتقل کر رہا تھا۔ ان میں جنگی جہاز، ایئر ڈیفنس میزائل اور جدید راڈار سسٹم شامل تھے۔

    برطانوی وزیر اعظم کے مطابق یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تھے کہ کسی بھی تنازعے کی صورت میں برطانیہ مکمل طور پر تیار ہو۔

    انھوں نے کہا کہ جیسے ہی سنیچر کے روز حملے شروع ہوئے، برطانیہ نے فوراً ان طیاروں کو فضا میں اڑایا اور وہ کئی ڈرون تباہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان ڈرونز میں سے کم از کم ایک اس اڈے کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں برطانوی فوجی موجود تھے۔

    کیئر سٹامر کے مطابق برطانیہ اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں اور میزائلز کے ذخائر کم نہ ہوں اور وہ خطے میں موجود اتحادیوں کی جانب سے مزید مدد کی درخواستوں کا جواب بھی دے رہا ہے۔

    پریس کانفرنس میں برطانوی وزیر اعظم نے قطر میں چار اضافی طیارے اور قبرص میں ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے اپنے فوجی اڈے ’دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے‘ کی اجازت دے دی ہے۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ برطانوی حکومت خلیجی ممالک میں پھنسے شہریوں کو نکالنے پر کام کر رہی ہے۔ ابھی تک ایک لاکھ 40 ہزار افراد نے برطانوی حکومت کو اپنی خطے میں موجودگی سے آگاہ کیا ہے۔

  11. ایئرپورٹ پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد آذربائیجان کے صدر کی جوابی کارروائی کی دھمکی

    آذربائیجان کے ایران کے سرحد کے قریب واقع خودمختار علاقے نخچیوان کے ہوائی اڈے پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے ایران کو جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

    آذربائیجان کے صدر نے کہا ہے کہ ’ایران کی جانب سے ان کے ملک کے علاقے پر آج ایک دہشت گردانہ حملہ کیا گیا۔‘

    تاہم ایرانی فوج کے جنرل سٹاف نے آذربائیجان کی جانب ڈرون حملے کی تردید کی اور کہا کہ ’یہ اقدامات اسرائیل کی جانب سے مسلم ممالک کے تعلقات میں خلل ڈالنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔‘

    الهام علی یف نے کہا ہے کہ ’آذربائیجان کی مسلح افواج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جوابی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔‘

    اس حملے کے جواب میں آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ نے ایران کے سفیر کو طلب کیا اور وزیرِ خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کا ملک اس حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘

  12. ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کے بعد آذربائیجان کا ایران پر الزام، ایرانی فوج کی تردید

    آذربائیجان کے سیکرٹری پراسیکیوٹر جنرل نے جمعرات کی صبح نخچیوان کے علاقے پر ڈرون حملے کے سلسلے میں فوجداری تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ نخچیوان ایران اور آرمینیا کی سرحد کے ساتھ واقع ایک خود مختار علاقہ ہے۔

    سیکرٹری پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس حملے نے نخچیوان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بعض حصوں کو شدید نقصان پہنچایا اور اس کی کارروائیوں کو جان بوجھ کر اور غیر قانونی طور پر متاثر کیا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ڈرونز کہاں سے آئے اس بارے میں بھی تحقیقات شروع کی گئی ہیں، تاہم یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اس خود مختار علاقے کو ایران کی سرزمین سے نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے اس حملے کو اپنے ملک کے خلاف ’دہشت گردی کا عمل‘ قرار دیا اور ایران کو ’جوابدہ ٹھہرانے‘ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے اس واقعے میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے انکار کیا اور کہا ہے کہ ’یہ کارروائیاں اسرائیل کی جانب سے کی جا رہی ہیں تاکہ مسلم ممالک کے درمیان تعلقات میں خلل ڈالا جا سکے۔‘

  13. ایران نے آذربائیجان کو ڈرون حملوں کا نشانہ کیوں بنایا؟, رافی برگ، مڈل ایسٹ ڈیجیٹل ایڈیٹر

    خلیجی ممالک اور عراق کے کردستان علاقے کے برعکس، آذربائیجان میں کسی بھی امریکی فوجی اڈے کی تصدیق شدہ اطلاعات موجود نہیں ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران نے پھر اسے کیوں نشانہ بنایا؟

    ایران نے خود مختار علاقے نخچیوان میں ایک ہوائی اڈے پر ڈرون حملوں کی کوئی وجہ بیان نہیں کی، لیکن ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آذربائیجان، جو ایران کی شمال مغربی سرحد پر واقع ہے، اسرائیل اور امریکہ کا قریبی سٹریٹجک پارٹنر ہے۔

    آذربائیجان، جو ایک سیکولر لیکن اکثریتی شیعہ مسلم ملک ہے اور اس کے اسرائیل سے تعلقات 2000 کی دہائی کے بعد مزید گہرے اور مستحکم ہوئے ہیں یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ:

    • آذربائیجان اسرائیلی ہتھیاروں کا بڑا خریدار ہے۔
    • اسرائیل آذربائیجانی تیل کی بڑی مقدار درآمد کرتا ہے۔
    • دونوں ممالک کے درمیان خفیہ معلومات اور نگرانی میں قریبی تعاون خیال کیا جاتا ہے، خاص طور پر ایران کی نگرانی کے حوالے سے۔

    ایران کی جانب سے طویل عرصے سے آذربائیجان پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اس نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کو اپنے علاقے میں کام کرنے کی اجازت دی، جس میں موساد ایجنٹس کے ذریعے ایرانی جوہری سائنسدانوں کو قتل کرنے میں مدد بھی شامل رہی ہے تاہم آذربائیجان ایران کے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔

  14. اسرائیلی دفاعی افواج کی بیروت کے جنوبی مضافات کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت

    اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات میں مقیم لوگوں کے لیے ایک انتبہ جاری کیا ہے جس میں انھیں فوری طور پر اپنے گھر خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    آئی ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان آویچھے آدرائی نے کہا ہے کہ ’خبردار، آپ کو جنوب کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہے۔ جنوب کی جانب کوئی بھی حرکت آپ کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔‘

    اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی علاقوں برج البراجنہ اور حدتھ کے رہائشیوں کو کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے مشرق کی جانب منتقل ہو جائیں۔

    اس کے علاوہ، حارات حریک اور شیحہ کے رہائشیوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ شمال یا مشرق کی طرف منتقل ہو جائیں۔

    آئی ڈی ایف کے عربی زبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ہم مناسب وقت پر آپ کو اطلاع دیں گے کہ کب آپ اپنے گھروں میں واپس جا سکتے ہیں۔‘

  15. متعدد یورپی ممالک کا قبرص کی حفاظت کے لیے اپنے بحری اثاثے بھیجنے کا اعلان, نیکوس پاپانیکولاؤ

    اتوار کو قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کے بعد یورپی ممالک نے قبرص کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنے بحری اثاثے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اطالوی وزیر دفاع گوئیدو کروسیٹو نے کہا ہے کہ اٹلی قبرص کے تحفظ کے لیے اپنے ’بحری اثاثے‘ قبرص کی جانب روانہ کرے گا۔ تاہم سپین، فرانس اور نیدرلینڈز کی جانب سے بھی اس میں شامل ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    کروسیٹو کے مطابق بحری اثاثوں کی تعیناتی آئندہ چند دنوں میں کر دی جائے گی۔

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ صدر نے اطالوی اور یونانی رہنماؤں سے بات کی ہے اور انھوں نے قبرص میں بحری اثاثے بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔

    اس سے پہلے بی بی سی نامہ نگار نیکوس پاپانیکولاؤ نے رپورٹ کیا تھا کہ ممکنہ خطرے کے پیش نظر قبرص میں سائرن بج اٹھے تھے۔

    مقامی وقت کے مطابق ساڑھے 12 بجے کے قریب اکروٹیری میں سکیورٹی الرٹ جاری ہوا، جس کے بعد علاقے میں سائرن بجنے لگے اور قریبی رہائیشیوں کو انتباہی پیغامات بھیجے گئے۔

    اس علاقے میں برطانیہ کا وہ فوجی اڈہ ہے جسے اتوار کے روز ڈرونز کی مدد سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    کوریون علاقے میں موجود لوگوں کو اپنے فون پر یہ پیغام موصول ہوا ’خطرہ ہے۔ مزید سرکاری ہدایات آنے تک اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ کھڑکیوں سے دور ہو جائیں اور فرنیچر کے نیچے پناہ لیں۔ برائے مہربانی مزید ہدایات کا انتظار کریں۔‘

    یہ الارم تقریباً 10 منٹ تک بجتا رہا۔

    قبرص حکومت کے ترجمان نے بعد میں بتایا کہ حکام نے ایک ممکنہ شے کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاع کی تحقیقات کی تھیں، لیکن کوئی ایسا اشارہ نہیں ملا کہ وہ برطانوی اڈوں کی طرف بڑھ رہی تھی۔

    برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی قبرص کے دورے پر ہیں۔ انھوں نے اپنے ہم منصب سے ملاقات کی ایک تصویر بھی شیئر کی ہے۔

  16. ایران میں امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے بعد تباہی کے مناظر

    آج یعنی جمعرات کے روز ایران کے دارالحکومت تہران کے مختلف مقامات کی لی گئی تصاویر میں اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کی وجہ سے تباہ ہونے والی عمارتوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    ان تصاویر میں کُچھ مقامات پر سے اُٹھنے والے گہرے دھوئیں کے بادل، منہدم عمارتیں اُن کا ملبہ اور بمباری سے ہونے والی تباہی کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    ان تصاویر کو دیکھنے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی حد اور بمباری کی شدت کا اندازہ بھی باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔

  17. بریکنگ, ایران کی اسرائیل پر میزائل حملوں کی نئی لہر، آئی ڈی ایف کی شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت

    اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی جانب بڑی تعداد میں میزائل داغے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے ملک کی طرف داغے گئے مزید میزائلوں کی ایک نئی لہر کی نشاندہی کی ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک پوسٹ میں اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ ’مُلک کا دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہے اور متعلقہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو اُن کے فونز پر وارننگ بھیجی جا چکی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں اور بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

  18. بریکنگ, متحدہ عرب امارات کو بیلسٹک میزائل اور چھ ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے: وزارتِ دفاع کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نہ دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے جمعرات کی صبح چھ بیلسٹک میزائلوں اور 131 ڈرونز کو اپنے اہداف کی جانب بڑھنے سے قبل فضا میں ہی تباہ کر دیا تاہم ایک بیلسٹک میزائل اور چھ ڈرونز ملک کے اندر مختلف مقامات پر گرے۔

    وزارت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری لڑائی کے دوران اب تک 196 بیلسٹک میزائلوں اور آٹھ کروز میزائلوں کے حوالے سے برقوت اطلاع ملنے پر انھیں فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

    وزارت کے مطابق اس کشیدگی میں اب تک تین عیر مُلکی ہلاک ہوئے ہیں، جن کا تعلق پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک94 افراد مختلف واقعات میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

  19. متحدہ عرب امارات میں برطانوی شہریوں کو گھروں سے نہ نکلنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت

    برطانیہ کے سفارت خانے نے متحدہ عرب امارات میں مقیم برطانوی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں نے باہر نہ نکلیں۔‘

    برطانوی سفارت خانے کی جانب سے جمعرات کی صبح ایکس پر جاری ایک پیغام میں برطانوی شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’آپ کو چاہیے کہ آپ گھروں کے اندر رہیں یا کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قریب ترین محفوظ عمارت میں پناہ لیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آپ اپنے گھروں میں رہیں اور خاص طور پر کھڑکیوں سے دور رہیں اور کوشش کریں کے ایسے کمرے میں رہیں کہ جہاں کھڑکیاں کم ہوں۔‘

    سفارت خانے نے برطانوی شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔

  20. اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھٹے روز میں داخل: مشرق وسطیٰ میں حملے جاری

    مشرق وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ اب چھٹے روز میں داخل ہو گئی ہے اور مختلف علاقوں میں حملے اور جوابی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

    اس دوران تہران، دوحہ اور بیروت جیسے شہروں سے ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں بڑے پیمانے پر نقصان اور آسمان کی جانب گہرے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں، خطے سے سامنے آنے والے یہ مناظر موجودہ کشیدگی اور جاری لڑائی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔