ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’امن کا ایک اور موقع‘ دینے کا اعلان، تہران کی امریکی مذاکرات کے دعوؤں کی تردید
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس امن کے لیے ایک اور موقع ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس سے قبل انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اور بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی رابطہ نہیں۔
خلاصہ
ایک بار پھر تہران پر فضائی حملوں کی اطلاعات
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ’مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے ایران سے تعمیری بات چیت ہوئی ہے‘
ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم پانچ دن کا وقفہ کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ کیسا جاتا ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہا تو ہم اس مسئلے کو طے کر لیں گے ورنہ بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا‘
صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے ذریعے 'جنگ کے اہداف حاصل' کیے جا سکتے ہیں: نیتن یاہو
اسرائیلی حملوں میں اب تک 1,039 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لبنانی وزارتِ صحت کا دعویٰ
لائیو کوریج
برطانوی سیکریٹری خارجہ کی عباس عراقچی سے گفتگو: ’دفاعی آپریشنز خلیجی ممالک پر ایرانی جارحیت کے ردِعمل میں شروع کیے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانوی محکمہ خارجہ کا
کہنا ہے کہ ملک کی سیکریٹری خارجہ یویت کوپر نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی
سے فون پر گفتگو کی ہے اور انھیں برطانوی اڈوں پر حملوں کے حوالے سے خبردار کیا
ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزارتِ
خارجہ نے بھی فون پر ہونے والی گفتگو کی تفصیلات جاری کی تھیں اور کہا تھا کہ عباس
عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کو برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینا ’جارحیت میں
شامل‘ ہونے کے مترادف سمجھا جائے گا۔
برطانوی محکمہ خارجہ کا
کہنا ہے کہ ایرانی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کے دوران سیکریٹری خارجہ نے ایران کے
حملوں اور خصوصاً تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی مذمت کی ہے۔
یویت کوپر نے آبنائے ہرمز
میں ’آمد و رفت کی فوری بحالی‘ کا مطالبہ کیا اور ’واضح کیا‘ کہ برطانیہ نے اپنے دفاعی
آپریشنز خلیجی ممالک پر ’ایرانی جارحیت کے ردِعمل‘ میں شروع کیے ہیں۔
’ہم ایران سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن بات کرنے کے لیے کوئی موجود نہیں‘: صدر ٹرمپ, برنڈ ڈیبسمین جونیئر، واشنگٹن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب سے کچھ دیر پہلے صدر ٹرمپ
نے وائٹ ہاؤس میں ایران سے متعلق مختصر بات کی ہے لیکن یہ گفتگو اس بات پر روشنی
ڈالنے کے لیے ناکافی ہے کہ امریکی صدر آگے چاہتے کیا ہیں۔
ٹرمپ کی گفتگو میں جو بات
مجھے اہم لگی وہ یہ تھی کہ ’ہم ایران سے بات کرنا چاہتے ہیں‘ مگر بات کرنے کے لیے
’کوئی موجود نہیں‘ ہے۔
امریکی صدر بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کی
قیادت سے جُڑی متعدد شخصیات کو ختم کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے
کہ مجتبیٰ خامنہای جنگ کے آغاز میں زخمی ہونے کے بعد شاید جسمانی طور پر ملک کی
قیادت کرنے کے قابل نہ رہیں۔
یہ بات بھی واضح نہیں کہ ٹرمپ کس کو ایران میں روزمرہ کے معاملات چلانے
کا ذمہ دار سمجھتے ہیں یا ان کے خیال میں آگے کون ملک کی قیادت سنبھال سکتا ہے۔
ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انھیں لگتا ہے کہ امریکہ کو ایران کے نئے
رہنما کے انتخاب میں کردار دیا جانا چاہیے۔
ٹرمپ نے نیٹو کو ’بزدل‘ قرار دے دیا: ’ان کے لیے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانا آسان ہے‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
نیٹو اتحادیوں کو ’بزدل‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے لیے آبنائے ہرمز میں
جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانا ’آسان‘ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
ٹروتھ سوشل پر نیٹو پر تنقید کی اور تنظیم سے متعلق اُن کا خیال تھا کہ اس کی
اہمیت اور طیقت بس صرف کاغذوں کی حد تک ہے انھوں نے لکھا کہ ’امریکہ کے بغیر، نیٹو
ایک کاغذی شیر ہے! اور نیٹو میں شامل مُمالک جوہری طاقت رکھنے والی ریاست ایران کو
روکنے اور عالمی قوانین کا پابند بنانے والی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔‘
"اُن
کا ٹرتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’اب جبکہ یہ جنگ فوجی طور پر جیت لی گئی ہے اور ان کے لیے
بہت کم خطرہ ہے وہ تیل کی بلند قیمتوں کی شکایت کرتے ہیں جو انھیں ادا کرنی پڑتی
ہیں لیکن اس سب کے باوجود وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد نہیں کرنا چاہتے۔‘
انھوں نے اپنی پوسٹ کے آخر پر لکھا کہ ’ان کے لیے یہ کرنا بہت آسان ہے اور خطرہ بھی بہت کم ہے۔
بزدل! اور ہم یہ سب یاد رکھیں گے۔‘
برطانوی بحری اڈے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے پر ایرانی شخص گرفتار
،تصویر کا ذریعہPA Media
سکاٹ لینڈ میں برطانوی بحری اڈے فاسلین میں داخل ہونے کی کوشش کرنے پر
ایک ایرانی شخص اور ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس بحری اڈے میں برطانوی جوہری
آبدوزیں بھی موجود ہیں۔
سکاٹ لینڈ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک 34 سالہ مرد اور 31 سالہ خاتون کو
ایچ ایم بحری اڈے کلائڈ میں جمعرات کو شام پانچ بجے گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حوالے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
برطانوی رائل نیوی کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد نے بحری اڈے میں داخل
ہونے کی ’ناکام کوشش‘
کی۔
نیوی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے کی
تحقیقات کی جا رہی ہیں، اس لیے اس پر فی الحال مزید تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔‘
گرفتار کی جانے والی خاتون کی شہریت یا شناخت کے
حوالے سے کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔
فاسلین بیس برطانوی رائل نیوی کی تمام جوہری آبدوزوں
کا مرکز ہے، جن میں وینگارڈ کلاس بیلسٹک میزائل آبدوزیں بھی شامل ہیں جو کہ ٹرائڈنٹ
نیوکلیئر میزائلوں سے لیس ہیں۔
نوروز کے موقع پر ایرانی رہبر اعلیٰ کا پیغام: ’پاکستان میرے والد کا پسندیدہ ملک تھا‘
،تصویر کا ذریعہTasnim News Agency
ایران کے تیسرے رہبر اعلی مجتبیٰ خامنہ ای نے نوروز کے تہوار کے موقع پر ایک تحریری پیغام جاری کیا ہے جسے آج سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا۔ ان کا یہ پیغام نو صفحات پر مشتمل ہے۔
اس پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ایران اس سال اب تک تین جنگوں سے گزر چکا ہے، ایک جون میں اسرائیل کے خلاف، دوسری موجودہ جنگ اور تیسری جنگ پچھلے سال دسمبر میں اسٹیبلشمنٹ مخالف مظاہرے۔
انھوں نے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت میں ریلیوں میں شرکت کرنے والوں کی تعریف کی اور کہا کہ عوام نوروز مناتے ہوئے ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کو یاد رکھیں۔
ایرانی رہبر اعلیٰ نے اپنے والد کی ہلاکت کو ’شہادت‘ قرار دیا۔ مجتبی خامنہ ای نے اس سال کا نعرہ بھی پیش کیا ہے: ’قومی یکجہتی اور قومی سلامتی کے سائے میں مزاحمتی معیشت‘۔
ایران کے پڑوسی ممالک کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران اپنے مشرقی پڑوسیوں کو ’بہت قریب سے‘ سمجھتا ہے۔ انھوں نے پاکستان کا نام لے کر کہا کہ یہ ملک ان کے والد کا ’خاص پسندیدہ‘ تھا۔
خامنہ ای نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طرف سے ’ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان تقسیم کو ختم کرنا ہے۔
جنگ کے دوران پڑوسی ممالک پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مسلح افواج نے ترکی اور عمان پر حملے نہیں کیے۔
انھوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس نے ایران اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے لیے ’چال چلی ہے۔‘
یہ انداز ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے روایتی نوروز پیغامات سے واضح طور پر مختلف ہے جو ہمیشہ کیمرے کے سامنے پیغام دیا کرتے تھے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کو اس ماہ کے آغاز میں اپنے والد کا جانشین منتخب کیا گیا تھا۔ وہ اب تک نہ تو عوام کے سامنے آئے ہیں اور نہ ہی انھیں فلمایا یا فوٹوگراف کیا گیا ہے۔
اب تک ان کے کئی تحریری پیغامات ایرانی میڈیا میں شائع کیے جا چکے ہیں۔
غیر تصدیق شدہ اور سنسنی خیز خبر شائع کرنے کے الزام میں صحافی نادر خان پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ایران سے ایل پی جی گیس لانے اور بحری جہاز کا مالک
سابق وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اور سابق وفاقی وزیر عاصم حسین کو بتانے کے الزام میں
ایف آئی اے کی جانب سے صحافی نادر خان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا
ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صحافی نے غیر تصدیق شدہ اور سنسنی خیز خبر شائع
کی ہے۔
سید علی مردان ڈپٹی ڈائریکٹر، اینٹی کرپشن سرکل، ایف
آئی اے کراچی کی جانب سے دائر کی گئی اس ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نادر خان
ایک ویب سائٹ چلاتے ہیں، جس پر غیر تصدیق شدہ اور سنسنی خیز مواد موجود ہے۔ جہاں
پر انھوں نے ایک جھوٹا اور گمراہ کن مضمون شائع کیا ہے جس میں یہ الزام عائد کیا گیا
ہے کہ ’ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے مبینہ طور پر سابق وزیراعظم انوار الحق کاکڑ
اور سابق وزیر توانائی عاصم حسین کے ایل پی جی بحری جہاز کو روک دیا ہے۔‘
مدعی کے مطابق مذکورہ اشاعت کے مندرجات حقیقت کے برعکس،
بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں کیونکہ مذکورہ بالا افراد میں سے کوئی بھی ایف آئی اے اینٹی
کرپشن سرکل کراچی کے پاس زیرِ انکوائری نہیں ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’اس انکوائری کے سلسلے
میں ایف آئی اے کی طرف سے جس جہاز کا دورہ کیا گیا تھا وہ دراصل تنزانیہ کا بحری جہاز
ہے جس کا ہوم پورٹ پاناما میں ہے اور اس پر موجود ایل پی جی کارگو ایک نجی ادارے ساحل
گیس پرائیویٹ لمیٹڈ نے درآمد کیا تھا لہٰذا نادر خان کا مضمون غلط بیانی پر مبنی ہے،
جس کا مقصد معاملے کو سنسنی خیز بنانا، عوام کو گمراہ کرنا اور اور وفاقی ایجنسی کی
طرف سے کی جانے والی قانونی انکوائری کو متنازعہ بنانے کے مترادف ہے۔‘
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارم
کے ذریعے جان بوجھ کر جھوٹی اور من گھڑت معلومات پھیلائی گئی ہیں یہ اقدام براہِ راست
پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعات، خاص طور پر جھوٹی معلومات پھیلانے
سے متعلق دفعہ 26A اور افراد کی عزت اور ساکھ کو نقصان پہنچانے سے متعلق دفعہ 20 کے زمرے میں آتا ہے۔
تاہم صحافی نادر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا
کہ ’ایف آئی اے نے اس ایف آئی آر میں خود تصدیق کی ہے کہ انھوں نے بحری جہاز کو روکا
ہے اور انکوائری کی جارہی ہے، اگر مقدمہ کرنا ہوتا تو انوار الحق کاکڑ اور عاصم حسین
کرتے ایف آئی اے نے کس بنیاد پر یہ کیا ہے جبکہ وہ تسلیم بھی کر رہے ہیں کہ انکوائری
کی جاری ہے۔‘
نادر خان کے مطابق ’کاٹن ایکسچینج کی عمارت کے حوالے
سے ان کی خبر پر ایف آئی اے حکام ناراض تھے اور انھیں یہ خبر ہٹانے کے لیے بھی کہا
گیا تھا لیکن وہ انھوں نے نہیں ہٹائی۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’کاٹن ایکسچیینج کی عمارت کو
اویکیو پرپراٹی ٹرسٹ قرار دیکر ایف آئی اے نے مقدمہ درج کیا جس کے بعد معاملہ ہائیکورٹ
میں چلا گیا، ڈیڑھ سو سے زائد کمروں پر شمتمل عمارت میں ایف آئی اے اپنا دفتر قائم
کرنا چاہتی تھی ان کی خبر سے یہ سلسلہ رک گیا جس وجہ سے ایف آئی اے حکام ان سے خفا
تھے۔‘
ہم خطے میں جاری تنازع سے دور رہنے کی کوشش کر رہے ہیں: شامی صدر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرکاری خبر رساں ادارے سانا
کے مطابق شامی صدر احمد الشرع کا کہنا ہے کہ وہ خطے کی اس ناذک صورتحال میں انتہائی
حد تک احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور وہ شام کو کسی بھی تنازع سے دور رکھنے کے لیے
کام کر رہے ہیں۔‘
عید کی نماز کے بعد صدارتی
محل سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شام ’عرب ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جو کچھ
اس وقت ہو رہا ہے وہ ظرناک اور تشویشناک ہے کیونکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ایسا
کُچھ نہیں دیکھا۔‘
اس سے قبل، اسرائیلی دفاعی
افواج نے کہا تھا کہ اس نے رات کے دوران جنوبی شام میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
آئی ڈی ایف کے مطابق یہ حملے ’السویدا
میں دروز آبادی کے حملوں‘ کے جواب میں کیے گئے، جو کہ جنوبی شام کا ایک شہر ہے۔
دروز ایک عربی بولنے والی نسلی و مذہبی اقلیت ہیں جو شام، لبنان، اسرائیل اور
اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی پہاڑیوں میں آباد ہیں۔
خلیجی ممالک کا میزائل اور ڈرون حملے روکنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب اور بحرین نے
رات بھر اور آج صبح ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاع دی ہے۔
متحدہ عرب امارات
کی وزارتِ دفاع کے مطابق انھوں نے ایران سے آنے والے چار بیلسٹک میزائل اور 26
ڈرون تباہ کیے ہیں۔
سعودی عرب
کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً نو بجے کے بعد سے اس کے مشرقی علاقے میں 26 ڈرون
اور الجوف کے علاقے میں ایک ڈرون مار گرایا گیا۔
کویت کی مسلح
افواج نے بھی جمعہ کی صبح تصدیق کی کہ سنے جانے والے دھماکے دراصل فضائی دفاعی
نظام کی جانب سے مُلاًک کی جانب بڑھنے والے میزائلوں کو تباہ کرنے کا نتیجہ تھے۔
بحرین
میں حکام نے بتایا کہ ’ایرانی جارحیت‘ کے نتیجے میں دفاعی نظام کی جانب سے فضا میں
تباہ کیے جانے والے میزائلوں کا ملبہ گرنے سے ایک کمپنی کے گودام میں لگنے والی آگ
پر قابو پا لیا گیا ہے۔
ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی آئل ریفائنری اب کافی حد تک فعال ہو چُکی ہے: آئل ریفائنری آپریٹر کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہReuters
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حیفہ میں واقع ایک
اسرائیلی آئل ریفائنری کے آپریٹر کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز ایرانی میزائل حملے
میں اسے نقصان پہنچا تاہم اس کی زیادہ تر پیداواری تنصیبات بدستور کام کر رہی ہیں۔
آئل ریفائنریز لمیٹڈ کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے
نتیجے میں اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا لیکن کسی جانی نقصان یا کسی کے زخمی
ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ جو پیداواری تنصیبات بند
ہو گئی تھیں انھیں دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔
یہ ریفائنری شمالی اسرائیل کے حیفہ بے میں واقع ہے
اور ملک کی سب سے بڑی آئل پراسیسنگ یونٹ ہے۔
ایس اینڈ پی گلوبل کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک کی
صرف دو ریفائنریوں میں سے ایک ہونے کے باعث حیفہ ایک نہایت اہم تنصیب ہے کیونکہ یہ
اسرائیل کی تقریباً 60 فیصد ڈیزل اور 50 فیصد پیٹرول کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔
فوج ایرانی ساحلی علاقے ’نور‘ پر بمباری کر رہی ہے: آئی ڈی ایف
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساحلی علاقے
نور پر حملے کر رہی ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق انھوں نے ایرانی
دارالحکومت تہران کے قریب واقع ساحلی علاقے نور میں اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر
دیا ہے۔
جمعہ کے روز دونوں اطراف سے حملے کیے گئے جبکہ رات
کے دوران یروشلم میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور تہران میں بھی حالات کشیدہ
رہے
اڈوں کے استعمال کی اجازت جارحیت تصور کی جائے گی: برطانیہ کے امریکہ کو فوجی اڈے دینے کے فیصلے پر ایران کا ردِعمل
،تصویر کا ذریعہReuters
جیسا کہ اب سے کُچھ دیر قبل ہم نے آپ تک یہ خبر پہنچائی تھی کہ ایرانی
وزیرِ خارجہ اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اگر برطانیہ امریکہ کو اپنے فوجی
اڈے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اسے ’جارحیت میں شرکت‘ تصور کیا جائے گا۔
تاہم اب برطانوی وزیرِاعظم کا اس پر ردز عمل سامنے
آیا ہے جس میں برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت تو دی ہے
لیکن صرف ایران کی میزائل سائٹس پر ’دفاعی‘ حملوں کے لیے۔
وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ نے ’عراق
میں ہونے والی غلطیوں‘ سے سبق سیکھا ہے اور اسی لیے وہ ایران پر ابتدائی حملوں میں
شامل نہیں تھے۔
امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کی صورتحال
اسرائیل ایران کے دارالحکومت تہران پر فضائی حملے جاری
رکھے ہوا ہے، جبکہ ایرانی عوام نئے سال نوروز منا رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی تازہ صورتحال یہ ہے:
ہمارے مشرقِ
وسطیٰ کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیل کے شہر یروشلم میں رات بھر وقفے وقفے سے
زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جو میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے
دوران پیدا ہوئیں۔
دوسری جانب کویت
میں ایک آئل ریفائنری پر متعدد ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جبکہ خلیجی خطے میں
توانائی کے انفراسٹرکچر کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات،
سعودی عرب اور بحرین نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاع دی ہے
تیل اور گیس کی
قیمتیں اب بھی بہت زیادہ ہیں، تاہم جمعرات کے شدید اتار چڑھاؤ کے بعد کچھ حد
تک مستحکم ہوتی دکھائی دے رہیں ہیں
قطر کے وزیرِ
توانائی کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس کے پلانٹ کو
پہنچنے والا نقصان ملک کو اربوں ڈالر کا پڑے گا
ایران کے وزیرِ
خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی
اجازت دیتا ہے تو اسے ’جارحیت میں شرکت‘ تصور کیا جائے گا
امریکہ کو فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینا ’جارحیت میں شرکت‘ تصور کیا جائے گا: ایران کی برطانیہ کو تنبیہ
ایران نے برطانیہ کو متنبہ کیا ہے کہ امریکہ کو
برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینا ’جارحیت میں شرکت‘ تصور کیا جائے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، ایران کا کہنا ہے کہ
وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے برطانوی ہم منصب یوویٹ کوپر سے ٹیلیفون پر بات کی
ہے جس میں انھوں نے کہا کہ اگر برطانیہ امریکہ کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرتا
ہے تو اس سے ’صورتحال میں مزید کشیدگی‘ پیدا ہوگی۔
عراقچی نے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک پر ’جانبدارانہ
رویہ‘ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے
ہونے والی ’کھلی جارحیت‘ کے بارے میں ایسا کر رہے ہیں۔
یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ عراقچی نے ایران کے
ساؤتھ پارس گیس فیلڈز پر اسرائیلی حملوں کی مذمت نہ کرنے پر برطانیہ کو تنقید کا
نشانہ بنایا۔
بی بی سی نے برطانیہ کے دفترِ خارجہ سے مؤقف کے لیے
رابطہ کیا تاہم ابھی تک برطانوی حکومت کی جانب سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے
نہیں آیا ہے۔
ایرانی میڈیا کی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کی ہلاکت کی تصدیق
ایرانی میڈیا کے مطابق، امریکی-اسرائیلی حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان ہلاک ہو گئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی کی خبر کے مطابق، علی محمد نینی نے چار دہائیوں تک پاسدارانِ انقلاب میں خدمات انجام دیں۔ وہ گذشتہ دو سالوں سے تنظیم کے ترجمان کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے جنوبی شام پر حملے: ’دروز آبادی کو نقصان پہنچانے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا‘
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے رات گئے جنوبی شام میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیل فوج کے مطابق اس نے یہ حملے جنوبی شام کے شہر السویدہ میں دروز آبادی کے خلاف حملوں کے جواب میں کیے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شام میں دروز آبادی کو نقصان پہنچانے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ان کے دفاع کے لیے کام جاری رکھا جائے گا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں ایک کمانڈ سینٹر اور شامی حکومت سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی کمپاؤنڈز میں رکھا گیا ہتھیاروں کا ذخیرہ شامل ہے۔
دروز شام، لبنان، اسرائیل اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں مقیم عربی بولنے والی ایک مذہبی اقلیت ہیں۔ دروز عقیدہ شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے جس کی اپنی منفرد شناخت اور عقائد ہیں۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں مہنگائی کی سطح 12 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے: رپورٹ, سارہ حسن، صحافی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
مشرقِ وسطیٰ میں جاری
جنگ، اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران
کی جانب سے قطر، کویت اور بحرین میں تیل و گیس کی تنصیابات کو نشانہ بنانے کے بعد بین
الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 110 سے 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
اس جنگ کے پاکستانی
معیشت پر اثرات کے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں آضافے سے
پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم سے کم چھ فیصد اور زیادہ سے زیادہ 12 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔
پاکستان کے اقتصادی
تھینک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈوپلمنٹ اکنامکس نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ
آبنائے ہزمز کی بندش نے پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ مہنگائی اور بیرونی
مالیاتی چیلنجز کو بھِ بڑھا دیا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم
شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ ایندھن کی ترسیل میں تاخیر کے اثرات سے بچنے کے لیے پاکستان
کو کفایت شعاری کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل
عاصم منیر کی موجودگی میں ہوے والے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے عوام سے اپیل
کی کہ وہ پیٹرول اور ڈیزل کو کفایت شعاری سے استعمال کریں تاکہ آئندہ دنوں میں پیٹرولیم
مصنوعات کی قلت سے بچا جا سکے۔
تجزیاتی رپورٹ میں کہا
گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے یومیہ 20 ملین بیرل خام تیل گزرتا تھا لیکن اس کی بندش نے
عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے اور جیو پولیٹکل حالات، لوجسیٹک
میں مسائل سے قیمتں بڑھ گئی ہیں۔
پاکستان کی 22 فیصد
درآمدات خام تیل اور پیٹرولیم منصوعات پر مشتمل ہے اور اس وقت عالمی سطح پر صرف خام تیل
کی قیمتیں نہیں بڑھیں بلکہ ٹرانسپورٹیشن کی لاگت، کرنسی کی قدر میں تبدیلی اور اس پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کے سبب عوام کو مہنگا پیٹرول خریدنا پڑھ رہا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق
صرف خام تیل کی قیمتیں ہی مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کا تعین نہیں کرتی ہیں بلکہ
ترسیل کے پیچیدہ نظام میں بحران کے دوران فریٹ اور شپنگ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا
ہے۔
اس کے علاوہ جنگ کے
دوارن انشورنس پریمیم بھی بڑھ جاتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے
کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان کو تین ممکنہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا
ہے جس ،ہ٘ ملکی معشت پر ہلکا اثر، درمیانہ دباؤ اور شدید جھٹکا پڑ سکتا ہے۔
سٹڈی کے مطابق قلیل
میں مدت میں خام تیل کے بحران کی وجہ سے کسی ہلکے جھٹکے کے سبب ملک میں آئندہ چھ ماہ
کے دوران مہنگائی کی شرح 8 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے اور دباؤ یا درمیانے درجے کے جھٹکے
کی صورت میں پاکستان میں افراطِ زر کی شرح 10.4 فیصد سے تجاوز کر جائے گی جبکہ شدید
بحران کی صورت میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 12 فیصد سے بڑھ سکتی ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف
ڈوپلمنٹ اکنامکس کی سٹڈی کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیوں میں اضافے کے اثرات
پاکستان کے لیے زیادہ گہرے اور پیچیدہ ہیں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کی
بندش محض ایک بیرونی واقعہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک جھٹکا ثابت ہو
سکتا ہے۔
ایندھن کی قیمتیں، مہنگائی،
اور بیرونی استحکام ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
تجزیاتی رپورٹ کے مطابق
جنگ کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند ہونے سے پاکستان کا مالیاتی خسارہ بڑھنے
کا امکان ہے کیونکہ موجودہ حالات میں پاکستان کو صرف ایک ماہ کے دوران خام تیل اور
پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری پر اضافی 38 کروڑ ڈالر ادا کرنے ہوں گے جس سے پاکستان کا بیرونی مالیاتی اکاؤنٹ جو اس وقت سرپلس
میں ہے خسارے میں چلا جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے
کہ اگر جنگ جاری رہتی ہے اور موجودہ حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو ایسی صورتحال
میں ایک سال کے دوران پاکستان کا بیرونی خسارہ چار ارب 60 کروڑ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس
عمل سے پاکستانی روپے کی قدر میں بھی کم ہو گی اور مہنگی درآمدات کے سبب پاکستان میں
مہنگائی کی شرح میں آضافہ ہو گا۔
رپورٹ میں واضح کیا
گیا ہے کہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بڑھتی ہے اور اس کا
اثر روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ اور خوارک کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درپیش خطرات اور چیلنجز
کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیوں کے تعین کو
شفاف بنائے، پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرے اور خاص کر ڈیزل کی ترسیل کی ترجیحی بنیاد پر
مانیٹرنگ کو یقینی بنائے۔
راس لفان توانائی کمپلیکس پر حملہ: قطر کی ایل این جی برآمدات میں 17 فیصد کمی، سالانہ 20 ارب ڈالر کا نقصان، قطری وزیر
قطر کے وزیرِ
توانائی کا کہنا ہے کہ راس لفان تنصیب پر حملے کے نتیجے میں قطر کی مائع قدرتی
گیس (ایل این جی) کی برآمدی صلاحیت اگلے پانچ سالوں میں 17 فیصد کم ہو جائے گی، جس
سے ملک کو سالانہ آمدنی میں 20 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔
صنعتی پروسیسنگ یونٹ
ٹرین کا استعمال کرتے ہوئے قدرتی گیس کو بہت کم درجہ حرارت پر ٹھنڈا کر کے ایل این
جی تیار کی جاتی ہے۔ قطری وزیر کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں سے پلانٹ کی 14 ٹرینوں میں
سے دو کو نقصان پہنچا ہے۔
ایران کے مطابق اس راس
لفان پر حملہ بدھ کو اس کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کا جواب تھا۔
سنگاپور میں مقیم کلین
فیول مارکیٹ انٹیلی جنس فراہم کرنے والی فرم ہائی سائٹ کے چیف کمرشل افسر سیاران رو
بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ پانچ سال کا عرصہ صرف مرمت کے لیے نہیں بلکہ یہ ’ایک مکمل
تعمیر نو ہے۔‘
ایشیائی ممالک خاص طور
پر جاپان، جنوبی کوریا، انڈیا اور چین قطری ایل این جی پر سب سے زیادہ انحصار کرتے
ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ میں، اٹلی اور بیلجیم
بھی اس کے بڑے بڑے گاہکوں میں شامل ہیں۔ یوکرین کی جنگ کے نتیجے میں روسی درآمدات سے
منہ موڑنے کے بعد یورپ کا مشرق وسطیٰ کی گیس پر تیزی سے انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔
قطر قدرتی گیس کی عالمی
منڈی کے سب سے بڑے کھلاڑیوں میں سے ایک ہے۔
رو کہتے ہیں کہ ’خوف
کئی سالوں نہیں تو کم از کم مہینوں تک مارکیٹ میں سرایت کر سکتا ہے۔‘
’اس سے ایل این جی کی
درآمد کے حوالے سے حکومتوں کی سوچ بدلے گی۔‘
ایل این جی توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے جو لوگوں کے گھروں
کو گرم کرنے، کھانا پکانے اور یہاں تک کہ جہازوں اور فیکٹریوں کو بجلی فراہم کرنے کے
بھی کام آتی ہے۔ یہ کھیتی باڑی کے کیے کھاد بنانے کے عمل میں استعمال ہوتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
کویت کی مینا الاحمدی ریفائنری پر ڈرون حملہ، متعدد پیداواری یونٹس بند
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
کویت پیٹرولیم کارپوریشن
کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح نیشنل پیٹرولیم کمپنی کی مینا الاحمدی ریفائنری کو ڈرونز
سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد ریفائنری کے متعدد پیداواری یونٹس میں آگ بھڑک اٹھی
ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے
کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
کویت پیٹرولیم کارپوریشن
کے مطابق فائر اور ایمرجنسی ٹیموں نے فوری طور پر آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر
دی ہیں۔
احتیاطی اقدام کے طور پر، ریفائنری کے متعدد یونٹس کو
بند کر دیا گیا ہے اور تمام کارکنوں اور سائٹ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات
کیے جا رہے ہیں۔
امریکہ کے اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے مدد کو تیار
برطانیہ، فرانس، جرمنی،
اٹلی، ہالینڈ، جاپان اور کینیڈا کے رہنماؤں نے چند گھنٹے قبل ایک بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں ایران پر زور
دیا گیا ہے کہ وہ ’اپنی دھمکیوں، بارودی سرنگیں بچھانے، ڈرون اور میزائل حملوں اور
آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دیگر کوششوں کو فوری طور پر بند کر دے۔‘ بیان میں’آبنائے
ہرمز سے جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والے کوششوں میں
حصہ ڈالنے پر آمادگی‘ کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
یہ مشترکہ بیان امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے نیٹو ممالک کی جانب سے
آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے میں واشنگٹن کی مدد سے انکار کو ’احمقانہ غلطی‘ قرار
دیا تھا۔
جاپان کے علاوہ اس مشترکہ
بیان کے تمام دستخط کنندگان نیٹو کے رکن ممالک ہیں۔
ان ممالک نے ’تیل اور
گیس کی تنصیبات سمیت تمام بنیادی شہری انفراسٹرکچر پر حملے فوری طور پر بند کرنے
کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے ہونے والی بین الاقوامی جہاز
رانی میں ایرانی مداخلت ’بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ‘ ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں
کہ آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کی کوششیں کیا ہوں گی۔
سوشل میڈیا ویب
سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں، اطالوی وزیر دفاع گیڈو کروسیٹو نے کہا کہ یہ ’جنگی
مشن نہیں ہے۔‘
تازہ اسرائیلی حملوں کے بعد تہران سے دھماکوں کی آوازیں
تہران سے تین ذرائع
نے بی بی سی فارسی کو بتایا ہے کہ انھوں نے ایک گھنٹہ قبل کئی دھماکوں کی آوازیں سنی
ہیں۔
یہ دھماکے اسرائیل کی
جانب سے ایرانی دارالحکومت پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کے اعلان کے فوراً بعد ہوئے
ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ’ایران میں سرکاری انفراسٹرکچر‘
کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے
مطابق تہران میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔
گذشتہ روز ایرانی دارالحکومت
کے کئی علاقوں پر ہونے والے حملوں کے بعد شہریوں کی ہلاکت اور رہائشی عمارتوں کو پہنچے
والے نقصانات میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔