ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’امن کا ایک اور موقع‘ دینے کا اعلان، تہران کی امریکی مذاکرات کے دعوؤں کی تردید

امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس امن کے لیے ایک اور موقع ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس سے قبل انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اور بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی رابطہ نہیں۔

خلاصہ

  • ایک بار پھر تہران پر فضائی حملوں کی اطلاعات
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ’مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے ایران سے تعمیری بات چیت ہوئی ہے‘
  • ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی
  • صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم پانچ دن کا وقفہ کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ کیسا جاتا ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہا تو ہم اس مسئلے کو طے کر لیں گے ورنہ بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا‘
  • صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے ذریعے 'جنگ کے اہداف حاصل' کیے جا سکتے ہیں: نیتن یاہو
  • اسرائیلی حملوں میں اب تک 1,039 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لبنانی وزارتِ صحت کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہو رہی: ایران کی وزارتِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔

    کچھ دیر پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے لیے ’ایک مکمل اور حتمی حل‘ کے حوالے سے ایران کے ساتھ ’تعمیری بات چیت کی ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر کے بیانات توانائی کی قیمتوں کو کم کرنے اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوششوں کے تناظر میں ہیں۔‘

    اس کے بعد جب امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی اہم تنصیبات پر حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں، تو تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی جبکہ مالیاتی منڈیوں میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    وزارتِ خارجہ نے ساتھ ہی ثالثی کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا گیا کہ ’جی ہاں، خطے کے ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور ہمارا ان سب کے لیے جواب واضح ہے کہ ہم وہ فریق نہیں ہیں جس نے یہ جنگ شروع کی اسی لیے یہ تمام درخواستیں واشنگٹن کو بھیجی جانی چاہئیں۔‘

  2. روس کا خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے ’سیاسی اور سفارتی حل‘ نکالنے پر زور

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے حوالے سے ’سیاسی اور سفارتی حل‘ نکالنے پر زور دیا ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے پیچیدہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل کی جانب بڑھنا چاہیے۔‘

    اسی دوران، روس جس نے ایران کے بوشہر میں واحد فعال جوہری بجلی گھر کی تعمیر میں مدد دی ہے نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے اس تنصیب کے قریب ہونے والے حملوں پر خبردار کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک میزائل اس بجلی گھر سے ٹکرایا، تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔

    پیسکوف نے کہا کہ روس بوشہر کے جوہری پلانٹ کے حوالے سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ ’مسلسل رابطے‘ میں ہے۔

    ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے فریقین سے احتیاط برتنے اور جنگ کا پرامن حل نکالنے کی اپیل کی ہے۔

  3. امریکی صدر کے ساتھ کوئی بات نہیں ہوئی، وہ ہمارے اہداف کا سُن کر پیچھے ہٹ گئے: خبر رساں ادارے فارس کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایران کے خبر رساں ادارے فارس نیوز نے ایک نامعلوم ایرانی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ ’ٹرمپ کے ساتھ ’کوئی بلاواسطہ یا بالواسطہ رابطہ نہیں‘ ہوا۔

    ذرائع کے مطابق ’جب انھوں نے سنا کہ ہمارے اہداف میں مغربی ایشیا کے تمام بجلی گھر شامل ہوں گے تو انھوں نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ’مکمل اور جامع حل‘ کے حوالے سے ایران کے ساتھ ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر، بلکہ ایران میں تمام حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔‘

  4. امریکی صدر کے ایران کے ساتھ تعمیری بات چیت کے بیان کے بعد اُٹھنے والے چند اہم سوال, امریکی وائٹ ہاؤس سے بی بی سی کے نامہ نگار برنڈ ڈیبسمان جونیئر کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چند لمحے قبل دیا گیا پیغام شاید ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے آغاز کے بعد سے ان کا سب سے زیادہ مفاہمتی بیان تھا، تاہم اس میں کئی اہم سوالات کے جواب نہیں ملتے۔

    اگرچہ انھوں نے ایران کے ساتھ ’تعمیری اور نتیجہ خیز‘ بات چیت کا ذکر کیا، لیکن اس کی ایرانی حکام نے تصدیق نہیں کی اور یہ بیان اس جارحانہ لہجے کے بالکل برعکس ہے جو فریقین نے ہفتے کے آخر میں اختیار کیا تھا۔

    مزید یہ کہ یہ واضح نہیں ہے کہ ان مذاکرات میں کن امور پر بات ہوئی۔ ممکن ہے کہ یہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، جوہری افزودگی، یا صرف جنگ بندی سے متعلق ہوں، جس امکان کو ٹرمپ نے جمعہ کے روز خاص طور پر کم اہمیت دی تھی۔

    یہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی ہو سکتا ہے، اگرچہ اسے بحری آمدورفت کے لیے کھولنا ایک ایسا معاملہ ہے جس کا ایران نے تاحال عوامی طور پر وعدہ نہیں کیا۔ اکثر ماہرین اسے غیر متوقع سمجھتے ہیں، کیونکہ ہرمز پر ایران کا کنٹرول اس جنگ میں اس کا سب سے بڑا دباؤ کا ذریعہ ہے۔

    تاہم دنیا کی نظریں ان مذاکرات سے متعلق کسی بھی نئی پیش رفت یا تفصیلات پر مرکوز ہیں اور اس بات پر کہ یہ آگے چل کر کیا رخ اختیار کر سکتے ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  5. لڑائی کے مکمل خاتمے پر ایران کے ساتھ ’تعمیری‘ بات چیت ہوئی، توانائی کی تنصیبات پر بمباری پانچ روز تک موخر: ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ’مکمل اور جامع حل‘ کے حوالے سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ’ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر، بلکہ ایران میں تمام حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔‘

    امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔‘

    اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’اس تفصیلی اور تعمیری بات چیت کے انداز اور لہجے کی بنیاد پر جو اس ہفتے بھر جاری رہیں گی، میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر تمام فوجی حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے، جو جاری ملاقاتوں اور مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے۔‘

  6. برطانوی وزیر اعظم کی اسرائیلی دعوے کی تردید: ’ایسے اشارے نہیں ملے کہ ایران برطانیہ کو نشانہ بنا سکتا ہے‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اب سے کُچھ دیر قبل میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیراعظم سٹارمر نے کہا کہ ایسے اشارے نہیں ملے کہ جس کے بعد یہ کہا جا سکے یا یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ ایران برطانیہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان اسرائیلی فوج کے ایک پر اُس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں اُن کی جانب سے سنیچر کے روز یہ کہا گیا تھا کہ ’ایران کے پاس اب ایسے ’میزائل موجود ہیں جو لندن، پیرس یا برلن تک پہنچ سکتے ہیں، اور لندن تک پہنچنے کے لیے ایرانی میزائل کو تقریباً 2700 میل کا فاصلہ طے کرنا ہوگا۔‘

    یہ دعویٰ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا گیا تھا، جس کے بعد ایسی رپورٹس سامنے آئیں کہ ایران نے امریکی اور برطانوی فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی ناکام کوشش کی جو ایران کے جنوبی ساحل سے تقریباً 2350 میل دور ہے۔

    ڈیاگو گارشیا حملے کی کوشش کے بعد جب سٹارمر سے پوچھا گیا کہ کیا برطانیہ ایرانی میزائلوں کی زد میں ہے تو انھوں نے کہا کہ حکومت ’ہماری حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر وقت حالات کا جائزہ لیتی رہتی ہے اور اس بات کے شواہد یا ثبوت نہیں ملے کہ جن کو دیکھنے کے بعد یہ کہا جا سکے کہ ایران ہمیں نشانہ بنا رہا ہے۔‘

    انھوں نے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ برطانوی مفادات اور جانوں کا دفاع ضروری تو ہے ’لیکن جنگ میں شامل ہوئے بغیر۔‘

  7. جزیروں پر حملہ ہوا تو تمام آبی راستوں میں بارودی سرنگیں بچھا دیں گے: ایران کی امریکہ کو دھمکی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے ساحلی علاقوں پر حملہ کیا گیا تو وہ خلیج میں بارودی سرنگیں بچھا کر جہاز رانی روک دے گا۔

    ریاستی میڈیا نے پیر کے روز ایران کی دفاعی کونسل کے حوالے سے بتایا کہ اگر ایران کے جنوبی ساحلوں اور جزیروں پر حملہ ہوا تو خلیج میں بحری راستوں کو بند کرنے کے لیے سمندری بارودی سرنگیں بچھائی جائیں گی۔

    ایکسیوس نیوم ویبسائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس کے مرکزی تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے یا اس کا محاصرہ کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے، تاکہ تہران کو آبنائے ہرمز تمام جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے پر مجبور کیا جا سکے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایران کے ساحلوں یا جزیروں پر حملے کی کسی بھی کوشش کے نتیجے میں خلیج کے تمام آبی راستوں میں مختلف اقسام کی سمندری بارودی سرنگیں بچھا دی جائیں گی۔۔۔ جن میں تیرتی ہوئی سرنگیں بھی شامل ہوں گی جنھیں ساحل سے چھوڑا جا سکتا ہے۔‘

  8. امریکہ ایران کشیدہ حالات کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش جاری ہے: برطانوی وزیرِ اعظم

    BBC

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ آج ہونے والے ہنگامی کوبرا اجلاس میں مہنگائی سے نمٹنے کے لیے ’ہر ممکن اقدامات‘ پر غور کیا جائے گا۔

    کوبرا اجلاس جس کا یہ نام وائٹ ہال میں واقع ’کیبنٹ آفس بریفنگ روم اے‘ پر رکھا گیا ہے۔ یہ وہ کمرہ ہے جہاں سینئر وزراء اور حکام لندن کے مرکز میں جمع ہو کر کسی بحران کے دوران ہنگامی اقدامات پر بات چیت کرتے اور پھر اہم فیصلے کرتے ہیں۔

    ایران میں جاری جنگ کے بارے میں سٹارمر نے کہا کہ ’زیادہ تر لوگ‘ خود اس تنازع پر تو فکرمند ہیں ہی، لیکن اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ یہ ان پر اور ان کے خاندانوں پر کیسے اثر انداز ہوگا۔

    انھوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسی لیے آج ہم اس کے معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور میں نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس مہنگائی سے نمٹنے کے لیے جتنے بھی ممکنہ وسائل ہیں ان سب پر کوبرا اجلاس میں غور کیا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ بینک آف انگلینڈ اور دیگر ادارے بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے، اور وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ’ہر ممکن اقدام‘ کر رہی ہے۔

  9. ’غیر دشمن ممالک کے لیے‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا واحد طریقہ ’ایران کے ساتھ ہم آہنگی‘ ہے: دفاعی کونسل, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    آبنائے ہرمز اور بحری جہاز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی دفاعی کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’غیر دشمن ممالک کے لیے‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا واحد طریقہ ’ایران کے ساتھ ہم آہنگی‘ ہے۔

    ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’دشمن کی جانب سے ایرانی ساحل یا جزائر پر حملے کی کوئی بھی کوشش‘ کی گئی تو خلیج (ایرانی حکام کے مطابق خلیج فارس) کے ’تمام راستوں‘ اور ساحلی علاقوں میں مختلف اقسام کی بحری بارودی سرنگیں نصب کر دی جائیں گی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران پر ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے ’تو صرف آبنائے ہرمز ہی نہیں بلکہ مکمل خلیج فارس عملی طور پر بند ہو جائے گی اور اس کی ذمہ داری جارحیت کرنے والے پر عائد ہو گی۔‘

  10. توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کا خطرہ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ, نک ایڈسر، بزنس رپورٹر

    توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کا خطرہ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    توانائی کے انفراسٹرکچر پر ممکنہ حملوں کی امریکی اور ایرانی دھمکیوں کے بعد بین الاقوامی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ پیر کو ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں نمایاں گراوٹ دیکھنے میں آئی جبکہ تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

    برینٹ کروڈ آئل کی قیمت ایک فیصد سے زیادہ بڑھ کر 113.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 3.5 فیصد پر بند ہوا اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 6.5 فیصد گر گیا۔

    سنیچر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو وہ ایران کے بجلی گھر ’تباہ‘ کر دیں گے۔ اس کے جواب میں ایران نے کہا تھا کہ اگر اس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں اہم تنصیبات پر جوابی حملے کرے گا۔

    توانائی کے حوالے سے کنسلٹنسی فراہم کرنے والی کمپنی ووڈ میکنزی کے چیئرمین اور چیف اینالسٹ سائمن فلاورز کے مطابق منڈیاں اس بات کا انتظار کر رہی ہیں کہ کیا دونوں جانب سے دی گئی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا یا نہیں۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’اگر امریکہ واقعی ایرانی انفراسٹرکچر پر حملہ کرتا ہے تو جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ جواب میں ایران بھی انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتا ہے یا نہیں۔‘

  11. ایران کے شہر تبریز پر فضائی حملے، چھ افراد ہلاک، چھ زخمی

    ایران کے شہر تبریز پر فضائی حملے

    ،تصویر کا ذریعہsnntv

    ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان کے ڈائریکٹر جنرل آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے کہا ہے کہ تبریز پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ’چھ افراد ہلاک اور چھ زخمی‘ ہوئے۔

    مجید فرشی نے کہا کہ آج صبح کے حملوں میں ’نصر ٹاؤن کی رہائشی عمارت میں چار افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔‘

    ان کے مطابق، رشیدی کوارٹر کے ایک پارک پر ایک اور حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

    آج صبح تبریز میں کئی شدید دھماکوں کی رپورٹس سوشل میڈیا پر شائع ہوئیں، اور بسیج سے منسلک دانشجو نیوز ایجنسی نے ایک تباہ شدہ رہائشی عمارت کی تصاویر شائع کیں۔

  12. ’امن طاقت کے ذریعے‘: آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ختم ہوتی مہلت اور ٹرمپ کا پیغام

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی 48 گھنٹے کی مہلت ختم ہونے میں چند ہی گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔

    انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا ہے: ’امن طاقت کے ذریعے، نرم انداز میں بیان کیا جائے تو۔‘

    ٹرمپ نے پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح چار بج کر 44 منٹ پر کہا تھا کہ 48 گھنٹے کے اندر اندر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس کو ’تباہ‘ کر دے گا۔

    48 گھنٹے کی یہ مہلت پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی صبح چار بج کر 44 منٹ پر ختم ہونے جا رہی ہے۔

    جبکہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلی ہے، سوائے ان کے جو ہماری سر زمین کی خلاف ورزی کریں۔

  13. 20 منٹ تک جاری رہنے والی ٹرمپ سٹامر فون کال میں ’تعمیری‘ گفتگو ہوئی

    امریکی صدر ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم سٹامر

    ،تصویر کا ذریعہChristopher Furlong/Getty Images

    جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا جا چکا ہے، برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ شام ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

    برطانوی خبر رساں ادارے پریس ایسوسی ایشن (پی اے) کے مطابق یہ فون کال 20 منٹ تک جاری رہی اور ’تعمیری‘ گفتگو ہوئی۔

    ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کی اور ’خصوصی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ عالمی تجارت بحال کی جا سکے۔‘

    ترجمان کے مطابق: ’دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔‘

    ترجمان کے مطابق برطانوی وزیر اعظم اور امریکی صدر نے ’جلد دوبارہ بات کرنے پر اتفاق کیا۔‘

  14. ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک انڈین شہری زخمی، حکام

    خلیجی ممالک نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے میزائلوں اور ڈرونز کو روکا

    ،تصویر کا ذریعہJACK GUEZ / AFP via Getty Images

    متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک انڈین شہری کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ابوظہبی کے سرکاری میڈیا نے حکام کے حوالے سے کہا کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب فضائی دفاعی نظام نے ایک بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے روکا۔ اس واقعے میں ایک انڈین شہری کو معمولی چوٹیں آئیں۔

    انڈیا کے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک انڈین شہری زخمی ہوا۔

    پی ٹی آئی کے مطابق: ’حکام نے کہا کہ پیر کو ابوظہبی میں ایک بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے روکنے کے بعد اس کے ٹکڑے الشوامیخ علاقے میں گرے، جس سے ایک انڈین شہری کو معمولی چوٹیں آئیں۔‘

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں مصروف ہے اور جو آوازیں سنائی دے رہی ہیں وہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے (اور تباہ کرنے) کی ہیں۔

  15. ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں، آئی ڈی ایف کا دعویٰ

    تل ابیب پر ایرانی حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج (اسرائیل ڈیفنس فورسز، آئی ڈی ایف) نے اپنی تازہ ترین اپ ڈیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق فضائی دفاعی نظام ان حملوں کو روک رہا ہے۔

    اس سے پہلے یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ’وسیع پیمانے پر‘ فضائی حملے کیے ہیں۔

    تل ابیب پر رات کو ہونے والے ایرانی حملوں کی ایک اور لہر بھی روکی گئی، جس میں کلسٹر بم بھی شامل تھے۔

  16. اتوار کے روز اسرائیل کے خلاف 60 سے زیادہ آپریشن کیے، حزب اللہ کا دعویٰ

    لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کے روز اس نے 63 عسکری کارروائیاں کیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق حزب اللہ نے ٹیلی گرام چینل پر شائع کردہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کے اندر اور جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجیوں کے خلاف میزائل، ڈرونز اور توپخانے کا استعمال کیا۔

    حزب اللہ کی دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل نے جنوبی لبنان میں زمینی حملہ شروع کیا ہے۔

    یکم مارچ سے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1029 افراد ہلاک اور 2786 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

  17. کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی شہروں میں موبائل فون اور ٹرین سروس معطل, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت بعض دیگر شہروں میں موبائل فون اور ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔

    وزارت داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون بابر یوسف زئی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر چند شہروں میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ قدم ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے لیا گیا۔

    جبکہ کوئٹہ اور پاکستان کے دیگر شہروں کے درمیان ٹرین سروس بھی معطل کی گئی ہے۔

    ریلوے کے مقامی ترجمان کے مطابق تکنیکی وجوہات اور ضروری مرمت کے لیے 23 مارچ کو کوئٹہ ڈویژن، خصوصاً کوئٹہ سبی سیکشن پر تمام ٹرین آپریشنز معطل رہیں گے۔

    آج کے روز سفر کرنے کے لیے ٹکٹ خریدنے والے تمام مسافروں کو مکمل رقم واپس کی جائے گی۔

  18. کئی دہائیوں کے بدترین ممکنہ توانائی بحران سے کوئی ملک ’محفوظ‘ نہیں رہے گا: بین الاقوامی توانائی ایجنسی

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائیریکٹر فاتح بیرول

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے توانائی کا ایسا بحران پیدا ہو سکتا ہے جو 1970 کی دہائی میں سامنے آنے والے بحرانوں سے شدید ہو گا اور اس کا موازنہ سنہ 2022 میں یوکرین کے روس پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے اثرات سے کیا جا سکے گا۔

    یہ انتباہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائیریکٹر فاتح بیرول کا ہے۔

    آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بیرول نے کہا: ’ہم میں سے بہت سوں کو 1970 کی دہائی میں آنے والے تیل کے دو مسلسل بحران یاد ہوں گے۔ ہر بحران کے دوران دنیا میں یومیہ 50 لاکھ بیرل تیل کی کمی پیدا ہوئی تھی اور مجوعی طور پر یہ کمی ایک کروڑ بیرل روزانہ تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’موجودہ صورت حال میں دنیا ایک کروڑ 10 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی سپلائی سے محروم ہو چکی ہے۔ یعنی گذشتہ دونوں بحرانوں کی مجموعی مقدار سے بھی زیادہ۔‘

    فاتح بیرول کے مطابق اس بحران کے اثرات سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہ سکے گا کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی عالمی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔

  19. اسرائیلی فوج کے حملوں کے بعد تہران میں دھماکے

    اسرائیلی فوج کے حملوں کے بعد تہران میں دھماکے

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ’وسیع پیمانے پر‘ فضائی حملے کیے ہیں۔

    پاسداران انقلاب کے حامی خبر رساں ادارے فارس سمیت ایران کے سرکاری میڈیا نے شہر کے کئی مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔

    فارس کے مطابق: ’دھماکوں کی خوفناک آوازوں کی اطلاعات ملی ہیں۔‘

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ تہران میں ’دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر‘ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

  20. لبنان کے لوگوں کو تشویش ہے کہ اسرائیل جنوبی حصے کو الگ کر کے ایک بفر زون قائم کرنا چاہتا ہے, ہیوگو باچیگا، بیروت میں موجود نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ

    لبنان پر اسرائیل کا حملہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ لبنانی مسلح گروہ حزب اللہ کے خلاف زمینی اور فضائی حملوں میں توسیع کے منصوبے منظور کر لیے گئے ہیں۔

    لبنان میں بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل ملکی سرحدوں میں وسیع پیمانے پر در اندازی کی تیاری کر رہا ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور سیاسی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔ اس کے بعد سے اسرائیل حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں میں بھی شدت لا چکا ہے۔

    لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں کم از کم 118 بچے اور 40 طبی کارکن شامل ہیں۔اس کے علاوہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جس کے باعث ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا کہ فوج کو دریائے لیٹانی پر اُن گزر گاہوں کو تباہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جن کے ذریعے حزب اللہ اپنے جنگجو بھیج رہی ہے۔

    یہ دریا لبنان اسرائیل سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور وہاں موجود پُلوں کو عام شہری بھی استعمال کرتے ہیں۔

    لبنان میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اسرائیل آپریشن سے پہلے جنوبی علاقے کو ملک کے باقی حصوں سے الگ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ کچھ علاقوں پر قبضہ کر کے ایک نام نہاد بفر زون قائم کر سکے۔

    حزب اللہ وہ تنظیم ہے جو 1980 کی دہائی میں 15 سالہ خانہ جنگی کے دوران اسرائیل کے لبنان پر قبضے کے رد عمل کے طور پر بنائی گئی تھی۔

    لبنانی حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا عزم ظاہر کر چکی ہے لیکن ابھی تک اس تنظیم نے اپنے ہتھیاروں کے مستقبل پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

    لبنان کے صدر، جو فوج کے سربراہ بھی رہے، حزب اللہ کے خلاف طاقت کے استعمال کو رد کرتے ہوئے خبردار کر چکے ہیں کہ ایسا کرنے سے ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم بڑھ سکتی ہے اور صورت حال تشدد کی طرف جا سکتی ہے۔