ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’امن کا ایک اور موقع‘ دینے کا اعلان، تہران کی امریکی مذاکرات کے دعوؤں کی تردید

امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس امن کے لیے ایک اور موقع ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس سے قبل انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اور بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی رابطہ نہیں۔

خلاصہ

  • ایک بار پھر تہران پر فضائی حملوں کی اطلاعات
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ’مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے ایران سے تعمیری بات چیت ہوئی ہے‘
  • ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی
  • صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم پانچ دن کا وقفہ کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ کیسا جاتا ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہا تو ہم اس مسئلے کو طے کر لیں گے ورنہ بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا‘
  • صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے ذریعے 'جنگ کے اہداف حاصل' کیے جا سکتے ہیں: نیتن یاہو
  • اسرائیلی حملوں میں اب تک 1,039 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لبنانی وزارتِ صحت کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. قطر میں ہیلی کاپٹر گِر کر تباہ ہونے سے چھ افراد ہلاک: وزارتِ دفاع

    قطر کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک ہیلی کاپٹر کے گِر کر تباہ ہونے سے چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اس سے قبل قطر نے کہا تھا کہ اس کا ایک ہیلی کاپٹر ’تکنیکی خرابی‘ کے باعث قطر کی سمندری حدود میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

    وزارتِ دفاع کا اب اپنے تازہ بیان میں کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد میں دو ترک شہری اور ایک ترک فوجی اہلکار شامل ہے۔

  2. اسرائیلی جوہری تنصیب کے قریب ایرانی حملوں میں 160 افراد زخمی: حکام

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل میں ایمرجنسی سروسز کے حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ملک میں ایک جوہری تنصیب کے قریب ہونے والے ایرانی میزائل حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 160 سے زیادہ ہے۔

    حکام نے بتایا کہ ایرانی میزائل حملے اسرائیل کے علاقے عراد اور دیمونا میں ہوئے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ بیلسٹک میزائل حملوں میں 84 افراد عراد اور 78 افراد دیمونا میں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دونوں قصبے ایک اسرائیلی جوہری تنصیب کے قریب واقع ہیں۔

    عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق اسے جوہری تحقیق کے اس مرکز کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    یاد رہے کہ حملے کا نشانہ بننے والا دیمونا نامی قصبہ اسرائیلی جوہری تنصیب سے لگ بھگ 13 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملہ سنیچر کے روز ایران کی نظنز جوہری تنصیب پر مبینہ اسرائیلی حملے کے بعد ردعمل میں کیا گیا ہے۔

  3. ایران ٹرمپ کی 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کی دھمکی کے جواب میں کیا کر سکتا ہے؟, آزادہ مشیری، بی بی سی

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایران کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امریکہ سے تعلق رکھنے والے توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔

    یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بغیر کسی خطرے کے نہ کھولا تو امریکہ ایران کے مختلف پاور پلانٹس کو تباہ کر دے گا اور اس کا آغاز سب سے بڑے پاور پلانٹ پر حملے سے کیا جائے گا۔

    بیرون ملک مقیم جن ایرانیوں سے میں رابطے میں ہوں وہ خلیج میں ہونے والے حملوں سے حیران نہیں اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی بندش سے۔

    ایک شخص، جنھیں اب بھی امید ہے کہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا، کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ وہ کر ہی کیا سکتے ہیں؟

    آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران اس جنگ میں حاصل بنیادی برتری چھوڑ دے۔

    اگر ڈونلڈ ٹرمپ پاور پلانٹس پر حملے کی اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو اس کے ایران کے لیے تباہ کن نتائج ثابت ہوں گے۔

    تاہم کئی دہائیوں سے، ایرانی حکومت اس بات کا مظاہرہ کر چکی ہے کہ وہ اپنی حکومت اور اس کی ’انقلابی اقدار‘ کو زندہ رکھنے کے لیے معاشی نقصانات اور اپنے عوام کو پہنچنے والے مصائب کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اس نے مغربی پابندیوں کو سہا اور جیسا کے رواں سال کے آغاز میں دیکھا گیا ایرانی حکومت اپنی ہی لوگوں پر کسی قسم کا پرتشدد کریک ڈاؤن کرنے سے نہیں کتراتی۔ جنوری میں ملک گیر احتجاج کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔

    رواں اس ہفتے، حکومت نے مظاہروں کے سلسلے میں پہلی پھانسی دی۔ پولیس افسران کو قتل کرنے کے الزام میں تین افراد کو پھانسی دی گئی۔

    انسانی حقوق کے گروپوں کا دعویٰ ہے کہ ان افراد نے تشدد کے تحت اعتراف کیا تھا اور ان کا منصفانہ ٹرائل نہیں ہوا۔

    ایرانی قیادت سمجھتی ہے کہ ٹرمپ اپنی دھمکی پر عملدرآمد نہیں کریں گے، اور انھین امید ہے کہ اس دوران خلیجی ممالک ایرانی دباؤ کے نتیجے میں امریکہ کو تحمل کا مظاہرہ کرنے پر مجبور کریں گے۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی ممالک نے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے ایران سے رابطہ کیا ہے۔ عمان سفارت کاری کے حوالے سے سب سے زیادہ آواز اٹھاتا رہا ہے۔

    کلیجی ممالک کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ان ملکوں کی معیشتیں توانائی کے وسائل کی بنیاد پر ارد گرد قائم ہیں۔ کچھ ممالک کے لیے سیاحت اور ان کے محفوظ ہونے کا تصور بہت اہم ہے۔

    اس کے باوجود اب وہ ایران کو اپنے طرزِ زندگی کے لیے ایک گہرے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اور وہ کس طرح جواب دیتے ہیں اس کا اثر اس بات پر پڑے گا کہ یہ جنگ کیا موڑ لیتی ہے۔

  4. ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کچھ جہازوں سے 20 لاکھ ڈالر فیس وصول کر رہا ہے، ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا دعویٰ, غنچے حبیبی آزاد، سینیئر نامہ نگار، بی بی سی فارسی

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو۔

    ایرانی رکن پارلیمنٹ علاؤالدین بروجردی نے آج سرکاری ٹی وی پر دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کچھ بحری جہازوں سے ایران کی جانب سے ’20 لاکھ ڈالر فیس‘ وصول کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ آبنائے میں ایک ’نئی انتظامیہ‘ مسلط کی جا رہی ہے اور ’جنگ کی کچھ قیمت ہوتی ہے‘۔

    ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ یہ ’ایران کے اختیار اور حق‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

    بی بی سی ایرانی رکن پارلیمنٹ کے آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کیے جانے کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  5. متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب کارگو جہاز کے نزدیک دھماکے کی اطلاع ہے، برانوی میری ٹائم ادارہ

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ سے 15 ناٹیکل میل شمال میں ایک کارگو جہاز کے قریب رات گئے ایک دھماکے کی اطلاع ملی ہے۔

    کارگو کے جہاز کے کپتان جہاز کے نزدیک کسی ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ کی وجہ سے دھماکے کی اطلاع دی ہے۔

    یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق جہاز کا تمام عملے محفوظ ہے۔

    اس سے قبل ایران کی نیم سرکاری خبر خبررساں ایجنسی مہر نے اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن میں ایران کے نمائندے کے حوالے سے بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز ’ایران کے دشمنوں‘ سے منسلک جہازوں کے علاوہ تمام جہازوں کے لیے کھلا ہے۔

    ایرانی نمائندے علی موسوی کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ حفاظتی انتظامات کے متعلق رابطہ قائم کر کے اس آبی گزرگاہ سے گزرنا ممکن ہے۔

  6. آبنائے ہرمز ’ایران کے دشمنوں‘ سے منسلک جہازوں کے علاوہ سب کے لیے کھلا ہے، ایرانی عہدیدار

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGallo Images/Orbital Horizon/Copernicus Sentinel Data 2025

    ایران کی نیم سرکاری خبر خبررساں ایجنسی مہر کے مطابق اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن میں ایران کے نمائندے کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ’ایران کے دشمنوں‘ سے منسلک جہازوں کے علاوہ تمام جہازوں کے لیے کھلا ہے۔

    ایرانی نمائندے علی موسوی کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ حفاظتی انتظامات کے متعلق رابطہ قائم کر کے اس آبی گزرگاہ سے گزرنا ممکن ہے۔

    موسوی کا کہنا ہے کہ ’سفارت کاری ایران کی ترجیح ہے۔ تاہم، جارحیت کا مکمل خاتمہ نیز باہمی اعتماد کی بحالی زیادہ اہم ہے۔‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی حملے ’آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کی جڑ‘ ہے۔

    یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اسرائیل کے نتیجے میں میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے ایران وقتاً فوقتاً حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔

  7. شمالی اسرائیل میں ایک شخص کی ہلاکت، ایران کے اسرائیل پر نئے میزائل حملے

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل میں دو گاڑیوں میں آگ لگنے سے ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    اسرائیل کے مطابق لبنان کی جانب سے ملک کے شمال کی طرف ہونے والے حملوں کے بعد یہ واقعہ گیلیلی کے علاقے میں پیش آیا۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’لبنان سے شمالی سرحد کے ساتھ ایک علاقے میں حملہ ہوا، وہاں نقصان ہوا ہے اور کچھ لوگ زخمی ہیں۔‘

    دوسری جانب ایران کے سرکاری براڈ کاسٹر کے مطابق ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل برسانے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔

    دریں اثنا اسرائیل کی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ وہ خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور متعلقہ علاقوں میں موبائل فونز پر احتیاطی پیغام بھیج دیا گیا ہے۔

  8. سعودی عرب کا ملٹری اثاشی سمیت ایرانی سفارتی عملے کے پانچ اراکین کو ’ناپسندیدہ شخصیات‘ قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑے کا حکم

    سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے ایرانی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی، اُن کے معاون اور سفارتی عملے کے تین دیگر اراکین کو ’ناپسندیدہ شخصیات‘ قرار دیتے ہوئے انھیں اگلے 24 گھنٹوں میں سعودی عرب چھوڑنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں وزارت نے اُن حالیہ اور مسلسل ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی ہے جن میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    وزارت نے زور دیا کہ یہ حملے بین الاقوامی معاہدوں، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستی خودمختاری کے احترام کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اسلامی اقدار و اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔

    سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے سعودی عرب، اس کی خودمختاری، شہری تنصیبات اور شہریوں، اقتصادی مفادات اور سفارتی دفاتر کو مسلسل نشانہ بنانا تمام متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں، ریاستی خودمختاری کے احترام، چین کی ثالثی میں طے پانے والے مصالحتی معاہدے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی واضح خلاف ورزی ہے۔

    وزارت نے مزید کہا کہ یہ اقدامات ان اسلامی اقدار و اصولوں کے منافی ہیں جنھیں ایران مسلسل بیان کرتا ہے مگر ان پر عمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

  9. عراد: اسرائیلی شہر پر ایرانی میزائل حملے کے بعد تباہی کے مناظر

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سنیچر کے روز جنوبی اسرائیل کا چھوٹا سا قصبہ ’عراد‘ ایرانی میزائل کا نشانہ بنا جس کے نتیجے میں کم از کم 88 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ایران کا فضائی دفاعی نظام اس میزائل کو روکنے میں ناکام رہا تھا۔

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز نے بتایا کہ حملے کے بعد 88 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے 10 کی حالت تشویشناک ہے۔

    خبررساں اداروں کی جانب سے فراہم کردہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزائل حملے کے نتیجے میں عمارتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

    اس حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ںے اسے ’اسرائیلی کے لیے مشکل شام‘ قرار دیا ہے۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  10. تباہ حال عمارتیں اور ملبے کے ڈھیر، تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد تہران میں تباہی کی تصاویر

    سنیچر کو لی گئی تصاویر میں 16 مارچ کو نشانہ بننے والی ایک رہائشی اور تجارتی عمارت کو دکھایا گیا ہے جو حملوں کی زد میں آئی تھی۔

    ایرانی دارالحکومت تین ہفتے قبل 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے مسلسل حملوں کی زد میں ہے۔

    اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سنیچر کی شب سے تہران پر نئے حملے شروع کیے ہیں۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہMajid Saeedi/Getty Images

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہMajid Saeedi/Getty Images

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہMajid Saeedi/Getty Images

  11. ’انتہائی مشکل شام‘، سنیچر کو اسرائیل میں ایرانی حملوں سے کتنا نقصان ہوا؟

    سنیچر کو ایک ایرانی میزائل نے جنوبی اسرائیل کے ایک چھوٹے سے قصبے آراد کو نشانہ بنایا۔ فضائی دفاعی نظام اس پروجیکٹائل کو روکنے میں ناکام رہا۔

    اسرائیل میں ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد 88 افراد کو ہسپتال لے جایا گیا اور ان میں سے 10 شدید زخمی ہیں۔

    جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا میں ایک جوہری تنصیب سے صرف 13 کلومیٹر دور درجنوں مزید افراد زخمی ہو گئے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نے اسے ملک کے لیے ’انتہائی مشکل شام‘ قرار دیا۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  12. ’ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ ایک دوراہے پر کھڑے ہیں اور امریکہ کے پاس مشکل آپشنز ہیں‘, تجزیہ: انتھونی زرچر

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ شروع ہونے کے تین ہفتے بعد تنازعہ متضاد بیانات اور غیر یقینی صورتحال کی نہج پر پہنچ گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ کے اکثر بیانات زمینی حقائق سے متصادم نظر آتے ہیں۔

    ٹرمپ کہتے ہیں کہ جنگ ’کافی حد تک مکمل‘ ہو چکی ہے، لیکن امریکی زمینی افواج بشمول میرین یونٹ خطے میں پہنچ رہی ہیں۔

    ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’وہ اس جنگ کو سمیٹ‘ رہے ہیں، لیکن ایرانی اہداف پر امریکی اور اسرائیلی بمباری اور میزائل حملے مسلسل جاری ہیں۔

    ایران کی فوج کو ’ختم‘ کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے ڈرون اور میزائل اب بھی خطے میں اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ اہداف ڈیاگو گارشیا میں امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ اڈے تک پھیل چکے ہیں۔

    ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    لیکن محض ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران میں اپنے اہداف مکمل کرنے کے بہت قریب ہے۔

    ایران سے متعلق اُن کے اہداف میں اس کی فوج اور دفاعی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور اس کی جوہری تنصیبات کو ناکارہ بنانا تھا۔ ساتھ ہی اس کا مقصد امریکہ کے خلیج میں اتحادیوں کا تحفظ بھی تھا۔

    اس میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کا ہدف شامل نہیں تھا، جس کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ذمے داری دیگر ممالک کی ہونی چاہیے جو خلیج سے تیل کی برآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کی حالیہ ٹروتھ سوشل کی پوسٹ میں ایرانی رجیم کی تبدیلی کی بھی بات نہیں کی جا رہی اور نہ ہی ہتھیار ڈالنے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں صدر ٹرمپ بار بار اس بات پر اصرار کر رہے تھے۔

    ٹرمپ کے جنگ سے متعلق تازہ اہداف میں یہ ممکن ہے کہ امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے بغیر ہی اس جنگ سے نکل سکتا ہے۔ ایران کی تیل کی برآمدات اب بھی جاری ہیں اور آبنائے ہرمز پر کسی حد تک اس کا کنٹرول بھی برقرار ہے۔

    صرف ایک ہفتہ قبل امریکی میڈیا نے بتایا تھا کہ تقریباً 2500 امریکی فوجی اور بحری اور جنگی جہاز جاپان سے مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیے گئے ہیں، اسی حجم کی ایک اور میرین فورس حال ہی میں کیلیفورنیا میں اپنے اڈے سے روانہ ہوئی ہے اور اپریل کے وسط میں اس کی آمد متوقع ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ ایران کے خارگ جزیرے پر قبضہ کر سکتا ہے۔ یہ ایران کی تیل برآمدات کا سب سے بڑا ٹرمینل ہے۔ ایسا کرنے سے ایرانی تیل کی ترسیل کو منقطع کیا جا سکتا ہے اوریہ انتہائی ضروری محصولات سے محروم ہو سکتا ہے۔

    بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے اور امریکہ اپنے مطالبات منوا سکتا ہے۔

    ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ وہ ایران میں زمینی افواج نہیں بھیج رہے۔ لیکن اُنھوں نے مزید کہا کہ اگر میں نے بھیجنی بھی ہوتی تو کسی کو نہ بتایا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں ہے۔

    اس طرح کے اقدام کی دھمکی کے بعد سنیچر کو ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اگر جزیرہ خارگ پر کوئی بھی حملہ ہوا تو بحیرہ احمر بھی عدم تحفظ کا شکار ہو گا۔ یہ سمندری راستہ بھی عالمی جہاز رانی کے لیے اہم ہے۔ ایران نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ وہ پورے خطے میں توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے گا۔

    امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ہنگامی فنڈنگ کے لیے کانگریس سے 200 ارب ڈالرز مانگنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ’یہ جنگ کو سمیٹنے‘ کی نہیں بلکہ اس مزید طول دینے کی بات ہو رہی ہے۔

  13. قطر کا ہیلی کاپٹر ’تکنیکی خرابی‘ کے باعث قطر کی سمندری حدود میں گر کر تباہ

    قطر کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کا ایک ہیلی کاپٹر ’تکنیکی خرابی‘ کے باعث قطر کی سمندری حدود میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

    قطر کی وزارتِِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ حکام نے ہیلی کاپٹر کے عملے اور مسافروں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    حکام کے مطابق جب ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا تو یہ ’معمول کی ڈیوٹی‘ سرانجام دے رہا تھا۔

  14. ایرانی حملے سے اسرائیلی شہر آراد میں تباہی

    اب ہمیں جنوبی اسرائیل کے شہر آراد پر ایرانی حملے کی کچھ تصاویر موصول ہوئی ہیں۔ ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ حملے میں 10 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  15. آراد میں ایرانی حملے میں 88 زخمی افراد میں سے 10 شدید زخمی ہیں: اسرائیلی حکام

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل شہر آراد میں ایرانی حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 88 ہو گئی ہے جن میں سے 10 شدید زخمی ہیں۔

    اسرائیل کی میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی سروس نے آراد میں سنیچر کی شام کے میزائل حملے کے بارے میں مزید تفصیلات جاری کی ہیں۔

    اس کے مطابق ہسپتالوں میں 88 افراد داخل ہیں، جن میں سے 19 کو درمیانے درجے کہ جب کہ 55 معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے آراد کے میئر سے بات کی ہے اور اسے شہر کے لیے انتہائی مشکل شام قرار دیا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے دُشمنوں پر ہر محاز پر حمہ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

  16. اگلے 48 گھنٹے میں آبنائے ہرمز نہ کھولی تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گا: ٹرمپ کی دھمکی

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت دی ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بغیر کسی خطرے کے نہ کھولا تو امریکہ ایران کے مختلف پاور پلانٹس کو تباہ کر دے گا اور اس کا آغاز سب سے بڑے سے ہو گا۔

    امریکی صدر نے یہ ڈیڈ لائن ایرانی وقت کے مطابق 22 مارچ کی صبح تین بج کر 14 منٹ پر دی اور یہ 24 مارچ کو اسی وقت پر ختم ہو گی۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی ایندھن اور توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا تو ملک کی فوج خلیجی خطے میں امریکہ سے منسلک توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گی۔

  17. بریکنگ, ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، میں نہیں: امریکی صدر کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چند لمحے پہلے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر نئے بیانات شیئر کیے ہیں۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز پر چھپنے والے ایک تجزیے پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ’ایران کو نقشے سے مٹا دیا ہے۔‘

    انھوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ وہ ایران میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور کہا کہ ’جی ہاں، میں نے اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں اور مقررہ وقت سے کئی ہفتے پہلے۔‘

    ’ان کی قیادت ختم ہو چکی ہے، ان کی بحریہ اور فضائیہ تباہ ہو چکی ہیں، ان کے پاس اب دفاع کے لیے کُچھ نہیں بچا اور وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ میں نہیں۔‘

  18. ’ایرانی میزائل صلاحیتوں پر بات کرتے وقت چند اہم پہلوؤں کو نظر میں رکھنا ضروری ہے‘, بی بی سی نیوز کے جُو ان-ووڈ کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ خیال کہ آیا ایرانی میزائل یورپی دارالحکومتوں تک پہنچ سکتے ہیں؟ یقیناً یورپ کے لیے تشویش کا باعث بنے گا۔

    انٹیلیجنس کمپنی ’سبیلائین‘ کے جسٹن کرمپ کہتے ہیں کہ ’یہ اس پورے خطے میں میزائل دفاع کے کام کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ یہ یقیناً یورپی دارالحکومتوں کی سوچ کو مرکوز کرتا ہے۔‘

    تاہم، کچھ اہم احتیاطی نکات بھی ہیں جن کے بارے میں بات ہونا ضروری ہے۔

    ایران کے پاس اس نوعیت کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا ذخیرہ بہت محدود ہو گا۔ ایسے میزائلوں کو لانچ کرنے میں کافی وقت لگتا ہے، اور اسی وجہ سے یہ امریکہ اور اسرائیل کے جوابی ردعمل (یعنی ان میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنا) کا باآسانی شکار بن سکتے ہیں۔

    کرمپ کے مطابق اس کے علاوہ یورپ کو نشانہ بنانے کے لیے درکار فاصلے تک پہنچنے کے دوران یہ میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں بھی مُشکلات کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔

    کرمپ کے نزدیک ڈیاگو گارشیا پر ممکنہ حملے سے حاصل ہونے والا اہم سبق میزائلوں کی صلاحیت نہیں بلکہ انھیں داغنے والی قوتوں کے بارے میں ہے۔

    ’ایران تین ہفتوں کی بمباری کے بعد بھی امریکا اور اسرائیل کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی افواج کمزور ضرور ہوئی ہیں، لیکن وہ مکمل طور پر شکست کے قریب نہیں ہیں۔‘

  19. اسرائیل کی فضائیں اب محفوظ نہیں، تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا: محمد باقر قالیباف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگ کے حوالے سے پہلے سے طے شدہ مگر نئی حکمتِ عملیوں پر عمل درآمد کا وقت آ گیا ہے۔‘

    قالیباف نے ایکس پر اپنے بیان میں مزید لکھا کہ ’اگر اسرائیل انتہائی محفوظ دیمونا کے علاقے میں میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے تو یہ عملی طور پر اس بات کی علامت ہے کہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اسرائیل کی فضائیں غیر محفوظ ہیں۔‘

    دوسری جانب ٹیلیگرام پر ایک تازہ بیان میں میگن ڈیوڈ آدوم ایمرجنسی سروس نے کہا ہے کہ اس نے اراڈ پر ایرانی حملے کے بعد 64 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا ہے۔

    اور اسرائیلی حکام کے مطابق جنوبی شہر دیمونا میں ایرانی میزائل حملے میں کم از کم 47 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  20. تہران کے میزائل حملے کے بعد دیمونا میں تباہ شدہ مقام کی تصاویر

    ہمیں اسرائیل کے علاقے دیمونا میں ایرانی میزائل حملے کے مقام کی کچھ تصاویر موصول ہو رہی ہیں۔

    تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عملہ رہائشی علاقے میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ تباہ ہونے وای عمارتوں میں ایک گھر اور ایک اپارٹمنٹ کی بلڈنگ بھی نقصان زدہ دکھائی دے رہی ہے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters