ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’امن کا ایک اور موقع‘ دینے کا اعلان، تہران کی امریکی مذاکرات کے دعوؤں کی تردید
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس امن کے لیے ایک اور موقع ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس سے قبل انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اور بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی رابطہ نہیں۔
خلاصہ
ایک بار پھر تہران پر فضائی حملوں کی اطلاعات
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ’مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے ایران سے تعمیری بات چیت ہوئی ہے‘
ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم پانچ دن کا وقفہ کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ کیسا جاتا ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہا تو ہم اس مسئلے کو طے کر لیں گے ورنہ بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا‘
صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے ذریعے 'جنگ کے اہداف حاصل' کیے جا سکتے ہیں: نیتن یاہو
اسرائیلی حملوں میں اب تک 1,039 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لبنانی وزارتِ صحت کا دعویٰ
لائیو کوریج
بغداد میں عراقی انٹیلیجنس ہیڈ کوارٹر پر ڈرون حملے میں ایک اہلکار ہلاک: حکام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بغداد میں انٹیلیجنس ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے والے حملے میں ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔
عراقی انٹیلیجنس نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ سنیچر کے روز بغداد میں انٹیلیجنس ہیڈ کوارٹر کے قریب ’کالعدم تنظیموں‘ کی طرف سے کیے گئے ڈرون کے حملے میں ان کا ایک افسر ہلاک ہو گیا ہے۔
بیان میں میجر جنرل سعد مان نے کہا کہ دارالحکومت کے ضلع منصور میں واقع اس مقام کو مقامی وقت کے مطابق 10:15 پر نشانہ بنایا گیا تھا۔
تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔
نطنز جوہری تنصیب کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، ایران
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنسات مارچ 2026 کو نطنز جوہری تنصیب کی لی گئی تصویر
ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم (اے ای او آئی) کا کہنا ہے کہ وسطی ایران میں
واقع نطنز کی جوہری تنصیب کو آج صبح ایک بار پھر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والے ایک بیان میں تنظیم نے کہا
ہے کہ تابکار آلودگی سے متعلق ’تکنیکی اور ماہرین کی جانچ‘ مکمل کر لی گئی ہے اور
نتائج کے مطابق ’اس تنصیب سے تابکار مواد کے کسی بھی اخراج کی اطلاع نہیں ملی، اور
آس پاس کے رہائشی علاقوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘
تنظیم نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’این پی ٹی
(جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے) اور جوہری سلامتی و تحفظ سے متعلق دیگر
ضابطوں کی خلاف ورزی‘ ہے۔
یاد رہے کہ اے ای او آئی اس سے قبل بھی نطنز پر حملے کی تصدیق
کر چکی ہے اور اس کی جانب سے تین مارچ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ دو
روز قبل (یکم مارچ) تنصیب پر ہونے والے حملوں کے بعد بھی تابکار مواد کے اخراج کا
کوئی ریکارڈ نہیں ملا تھا۔
گذشتہ سال جون میں امریکہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات—نطنز،
فردو اور اصفہان—پر بمباری کی تھی، اور بعدازاں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان
حملوں نے ’ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا‘ ہے۔
ایران کسی بھی ایسے اقدام کا خیرمقدم کرے گا جس سے جنگ مکمل طور پر ختم کرنے میں مدد ملے: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’کسی بھی ایسے اقدام کا خیرمقدم کرے گا جس سے اس جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے میں مدد ملے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تنازع ان کے ملک پر ’مسلط‘ کیا گیا ہے۔
عباس عراقچی نے جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کو بتایا کہ ایران ’اس طرح کی کسی بھی تجویز کو سننے اور ان پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ ممالک مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا حل تلاش کر رہے ہیں، لیکن ’ایسا نہیں لگتا کہ امریکہ اپنی جارحیت روکنے کے لیے تیار ہے۔‘
عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران محض جنگ بندی نہیں بلکہ ’جنگ کے مکمل، جامع اور دیرپا خاتمے‘ کا خواہاں ہے۔
جاپانی میڈیا کو دیا گیا انٹرویو انھوں اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیا اور اس انٹرویو کا ایک ٹرانسکرپٹ مہر نیوز ایجنسی نے بھی شائع کیا ہے۔
ایران کا بیلسٹک میزائلوں سے 3,800 کلومیٹر دور امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے پر حملہ: رپورٹ
امریکی میڈیا کے مطابق
ایران نے امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر درمیانی فاصلے تک
مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ
جرنل نے متعدد ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ دونوں میزائل بحر ہند میں واقع
فوجی اڈے کو نہیں لگے۔
سی این این نے ایک امریکی
اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ میزائل مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی صبح داغے گئے۔
ایران سے ڈیاگو گارشیا
کا فاصلہ تقریباً 3,800 کلومیٹر ہے۔ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ نے حکم دیا تھا کہ ایرانی
میزائلوں کی رینج 2,000 کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
بی بی سی نے پینٹاگون
اور برطانیہ کی وزارت دفاع سے رابطہ کیا ہے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ’فی
الحال فراہم کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘
جنوبی کوریا بھی آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی بین الاقوامی کوششوں میں حصہ لینے کو تیار
بین الاقوامی خبر
رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی آبنائے ہرمز کو
محفوظ بنانے کی بین الاقوامی کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
جنوبی کوریا بھی ان
ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنھوں نے جمعرات کے روز جاری ہونے والے اس اعلامیے
پر دستخط کیے تھے جس میں مختلف ممالک نے آبنائے کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات
میں حصہ لینے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس اعلامیے پر سب
سے پہلے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز اور جاپان کے رہنماؤں کے دستخط کیے
تھے۔ بعد ازاں کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، لیٹویا، سلووینیا، ایسٹونیا،
ناروے، سویڈن، فن لینڈ، چیک ریپبلک، رومانیہ، بحرین اور لتھوانیا بھی اس میں شامل ہو
گئے۔
تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ ممالک آبنائے ہرمز
کو محفوظ بنانے کے لیے کیا اقدامات لیں گے۔
’ٹرمپ کے لہجے میں تبدیلی اس احساس کی جانب اشارہ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ اکیلے حل نہیں کر سکتے‘, سمی جولاسو، شمالی امریکہ سے بی بی سی کی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
آبنائے ہرمز امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سٹریٹجک دلدل ثابت ہو رہا ہے۔
یہ ان کے اور اس تنازع
میں فتح کے اعلان کے درمیان حائل رکاوٹ دکھائی دیتی ہے۔
ٹرمپ اب آبنائے
ہرمز کی بندش کو صرف امریکہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مسئلہ بنا کر پیش کر رہے
ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وہ اصرار کرتے تھے کہ امریکہ اسے کسی نہ کسی طرح محفوظ بنا
لے گا اور انھوں نے نیٹو اتحادیوں اور جاپان اور جنوبی کوریا جیسے اہم شراکت داروں
کی حمایت کی ضرورت کو مسترد کر دیا تھا۔
اب، وہ ایک بار پھر
ان ممالک سے آگے بڑھ کر اس تنازع میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ
کچھ ریاستوں کی جانب سے ہچکچاہٹ کو ’بزدلی‘ قرار دے رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہرمز
کی بندش سے واشنگٹن کا ایک ایک پیٹرول پمپ اتنا ہی متاثر ہوتا ہے جتنا فرق ٹوکیو کے
کسی فیول سٹیشن کو پڑتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے لہجے میں
تبدیلی اس جانب اشارہ ہے کہ انھیں احساس ہوگیا ہے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا انھیں سامنا
کرنا ہے، ایک ایسا مسئلہ جسے وہ اکیلے حل نہیں کر سکتے۔
امریکہ ایران کا جوہری مواد قبضے میں لینے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے، سی بی ایس نیوز
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
،تصویر کا کیپشنیکم نومبر 2025 کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں جوہری تنصیبات کا دورہ کیا تھا۔
بی بی سی کے امریکہ
میں پارٹنر سی بی ایس نیوز کو متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری
مواد کو محفوظ بنانے یا اسے قبضے لینے کے مختلف طریقوں پر کام کر رہی ہے۔
دو ذرائع نے سی بی ایس
نیوز کو بتایا کہ اس کام کے لیے جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ کو استعمال کرنے پر غور
کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایلیٹ ملٹری یونٹ ہے جسے اکثر انتہائی حساس آپریشنز کا کام سونپا
جاتا ہے۔
ایک اور ذریعے نے بتایا
کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک ایسی کسی کارروائی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں
کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان
نے سی بی ایس کو بتایا کہ تیاریاں کرنا پینٹاگون کا کام ہے۔
خیال رہے کہ 28 فروری
کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے آغاز کے بعد سے بارہا ایران کے جوہری پروگرام
سے منسلک اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری
پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
امریکہ اور اسرائیل
ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایران جوہری بم
تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی ایران سختی سے تردید کرتا ہے۔
امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں سے اب تک 80 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، رپورٹ, ڈینیئل بش، پال براؤن اور ایلکس مرے، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہPlanet labs PBC and Airbus
،تصویر کا کیپشنمتحدہ عرب امارات کے الصدر اور الرویس میں ریڈار سائٹس کو ہونے والا نقصان۔
ایک نئی تجزیاتی رپورٹ
کے مطابق دو ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے زیرِ استعمال فوجی اڈوں پر ایرانی
حملوں سے تقریباً 80 کروڑ ڈالر (60 کروڑ پاؤنڈ) کا نقصان ہوا ہے۔
سینٹر برائے سٹریٹجک
اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کی رپورٹ اور بی بی سی کے تجزیے کے مطابق اس
نقصان کا بڑا حصہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ کے آغاز کے بعد پہلے ہفتے میں
ایران کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارروائی میں ہوا تھا۔
امریکی اثاثوں کو پہنچنے
والے نقصانات کی مکمل تفصیلات تو واضح نہیں تاہم امریکی فوجی ڈھانچے کو ہونے والے 80
کروڑ ڈالر کے تخمینے — جو پہلے سامنے آنے والے اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں — جنگ کے
طول پکڑنے کے ساتھ امریکہ کو پڑنے والی بھاری قیمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سی ایس آئی ایس کے سینیئر
مشیر اور رپورٹ کے شریک مصنف مارک کانسین کہتے ہیں، ’خطے میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو
پہنچنے والا نقصان کم رپورٹ ہوا ہے۔ نقصان کافی زیادہ دکھائی دیتا ہے، لیکن صحیح اعداد
و شمار مزید معلومات آنے پر ہی سامنے آئیں گے۔‘
بی بی سی نے امریکی
وزارتِ دفاع کو اس بارے میں تبصرے کی درخواست کی تھی تاہم انھوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ
سے رجوع کرنے کا کہا جو کہ اس جنگ کی قیادت کر رہی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تاحال
اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ایران نے اپنی جوابی
کارروائیوں میں اردن، متحدہ عرب امارات اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں موجود امریکی
فضائی دفاعی نظام اور سیٹیلائیٹ کمیونی کیشن سسٹمز کو نشانہ بنایا ہے۔
سب سے بڑا نقصان اردن
میں ایک امریکی اڈے پر تھاد (THAAD) میزائل دفاعی نظام کے
ریڈار کو نشانہ بنائے جانے سے ہوا ہے۔
سی ایس آئی ایس کے مطابق اے این/ٹی پی وائی-2 (AN/TPY-2) ریڈار سسٹم کی قیمت تقریباً 48 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ نظام بیلسٹک
میزائلوں کو دور سے مار گرانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ایرانی حملوں سے خطے
میں امریکی فوجی اڈوں کی عمارتوں، تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 31 کروڑ ڈالر
کا اضافی نقصان بھی پہنچا ہے۔
بی بی سی ویری فائی
کے سیٹیلائیٹ تجزیے کے مطابق ایران نے کم از کم تین فضائی اڈوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ
نشانہ بنایا۔ یہ حملے اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ایران مخصوص امریکی اثاثوں کو بار
بار ٹارگٹ کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس
نے خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے بارے میں ایران کو انٹیلی جنس بھی فراہم کی ہے۔
سیٹیلائیٹ تصاویر سے
کویت کے علی السالم اڈے، قطر کے العدید اڈے اور سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس
پر مختلف مواقع پر ہونے والے تازہ نقصان کی نشاندہی ہوتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی
جانب سے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائی کے آغاز سے لے
کر اب تک اس جنگ میں امریکہ کے 13 فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکہ میں قائم ہیومن
رائٹس ایکٹویسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اس جنگ میں
اب تک مجموعی طور پر 1400 شہریوں سمیت تقریباً 3,200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے
کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے قریب ہے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کی تباہی،
اس کی روایتی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا، اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی
معاونت کا خاتمہ شامل ہے۔
انھوں نے کہا ’ہم ایران
میں بہت اچھا کر رہے ہیں۔‘
تاہم اس جنگ سے عالمی
معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش اور اس غیر یقینی صورتحال
کے باعث کہ جنگ کب تک چلے گی اور آیا صدر ٹرمپ زمینی فوج بھیجیں گے یا نہیں۔
سیٹیلائیٹ تصاویر کے
حصول پر امریکی کمپنیوں کی جانب سے عائد پابندیوں سے نقصانات کا درست اندازہ لگانے میں مشکلات
پیش آ رہی ہیں۔
اس کے باوجود ایران
کی جوابی کارروائیوں میں امریکی فوجی مفادات کو نشانہ بنائے جانے کے کچھ واضح رجحانات سامنے
آئے ہیں۔
جنگ کے ابتدا میں بحرین
میں امریکی بحری اڈے پر ایرانی حملے سے ہی واضح ہو گیا تھا کہ ایران کا نشانہ ریڈار
اور سیٹیلائیٹ سسٹمز ہیں۔ یہ تنصیبات جدید فوجی کارروائیوں کے لیے آنکھ اور کان کی
حیثیت رکھتے ہیں۔
سیٹیلائیٹ تصاویر میں
حساس آلات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے دو ریڈار ڈومز کی تباہی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
غالب امکان ہے کہ اندر موجود سسٹمز کو بھی شدید نقصان پہنچا ہو، تاہم اس بارے میں
مزید تفصیلات دستیاب نہیں۔
کویت کے کیمپ عریفجان
اور سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس میں بھی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا
ہے۔ شہزادہ سلطان ایئر بیس کی تصاویر میں تھاد سسٹم کے ایک حصے سے دھواں اٹھتا دیکھا
جا سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور
اردن میں موجود امریکی اڈوں پر نصب تھاد سسٹمز کو زیادہ نقصان پہنچا۔ نقصان کی درست
لاگت معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ ان سسٹمز کو پہنچنے والے نقصان کے باعث امریکہ کو جنوبی
کوریا سے تھاد کے پرزے مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے پڑے۔
ایرانی حملوں سے ہونے
والا یہ نقصان امریکہ کے مجموعی جنگی اخراجات کا صرف ایک حصہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی
محکمہ دفاع نے کانگریس کے ارکان کو بریفنگ میں بتایا کہ جنگ کے ابتدائی چھ دنوں میں
11.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے جو 12ویں دن تک 16.5 ارب ڈالر ہو گئے۔
پینٹاگون نے جنگ کے
لیے مزید 200 ارب ڈالر کی درخواست کی ہے۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ
کے مطابق اس رقم میں ’مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’برے
لوگوں کو مارنے کے لیے پیسے کی ضرورت تو پڑتی ہے۔‘
جاپانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں: عباس عراقچی
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جاپان کے نشریاتی ادارے ’کیوڈو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جاپان اور اس سے متعلقہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔
کیوڈو نیوز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جاپانی حکام کے ساتھ بات چیت پہلے ہی شروع ہو چکی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں موجود رکاوٹوں میں عارضی نرمی لانا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کے پس منظر میں جاپانی حکومت کے ایک اہلکار نے کیوڈو نیوز کو بتایا کہ ’ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات ہی (آبنائے ہرمز کا) محاصرہ ختم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔‘
اہلکار نے مزید کہا کہ اگرچہ جاپانی جہازوں کو گزرنے کی عارضی اجازت مل بھی جائے، تب بھی عالمی سطح پر جاری توانائی بحران کو حل کرنے میں کوئی خاص مدد نہیں ملے گی۔
جاپان کی وزارتِ خارجہ کے ایک اور اہلکار نے کیوڈو نیوز کو بتایا کہ عباس عراقچی کے بیان کے ’اصل مقاصد‘ کا ’احتیاط سے جائزہ لینا‘ ضروری ہے۔
خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں اب بھی بہت خطرہ ہے، برطانوی میری ٹائم ادارہ
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ
آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں
سمندری خطرے کی سطح بدستور بہت زیادہ ہے۔
اگرچہ گذشتہ 24 گھنٹوں
کے دوران سمندر کسی قسم کے واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے، تاہم یکم مارچ سے تجارتی جہازوں
اور سمندر کے کنارے موجود تنصیبات پر 21 حملوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں صرف مغربی
ملکوں کی ملکیت والے جہازوں ہی نشانہ نہیں بنے ہیں۔ ادارے کے مطابق ان حملوں سے وسیع
پیمانے پر سمندری تجارت میں خلل ڈالنے کی مہم کی عکاسی ہوتی ہے۔
امریکہ ایران میں زمینی دستے بھیجنے کے متعلق منصوبہ بندی کر رہا ہے، سی بی ایس کی رپورٹ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکہ میں بی بی سی
کے پارٹنر سی بی ایس نے خبر دی ہے کہ امریکی فوجی حکام ایران میں زمینی دستوں کی تعیناتی
کے متعلق تفصیلی تیاریاں کر رہے ہیں۔ سی بی ایس کو یہ معلومات متعدد نامعلوم ذرائع
نے دی ہیں جو اس بارے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ ہیں۔
سی بی ایس کی رپورٹ
کے مطابق پینٹاگون کے سینیئر اہلکار اس طرح کی کارروائی کی منصوبہ بندی کے لیے درخواستیں
کر رہے ہیں۔
سی بی ایس نے دو عہدیداروں
کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ فوجی
ایران میں داخل ہوتے ہیں تو وہ ایرانی فوجیوں کو کیسے حراست میں رکھیں گے۔
جمعہ کے روز امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں ختم کرنے
پر غور کر رہا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ جنگ بندی نہیں چاہتے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قبل
ازیں صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ ’کہیں بھی زمینی دستے‘ بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر میرا ارادہ ہوتا بھی تو یقیناً آپ کو نہ بتاتا۔
محکمہ دفاع نے اس فوجی
نقل و حرکت کے بارے میں بی بی سی کی درخواست پر تاحال تبصرہ نہیں کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن
کی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار امریکی سینٹرل کمانڈ نے ممکنہ فوجی نقل و حرکت کے بارے
میں کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔
جزیروں کی ملکیت کا تنازع: ایران کا متحدہ عرب امارات کے شہر راس الخیمہ پر ’فیصلہ کن‘ حملے کی دھمکی
ایران نے متحدہ عرب
امارات کے ساتھ دو جزیروں کی ملکیت کے تنازع کو لے کر امارات کے شہر راس الخیمہ پر
’فیصلہ کن‘ حملے کی دھمکی دی ہے۔
متحدہ عرب امارات
ایک طویل عرصے سے ان دونوں جزیروں کی ملکیت کا دعویدار ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی
ادارے کی طرف سے ٹیلی گرام پر جاری کردہ ایک پیغام میں، ایران کی مسلح افواج کے ترجمان
نے خبردار کیا ہے کہ ابو مسا اور گریٹر تنب کے جزائر پر مزید کسی بھی ’مزید جارحیت‘
کا جواب اماراتی شہر پر حملہ کر کے دیا جائے گا۔
پیغام میں یہ واضح
نہیں کیا گیا کہ جارحیت سے کیا مراد ہے۔ یہ دونوں جزائر کئی دہائیوں سے ایران کے زیر
قبضہ ہے تاہم متحدہ عرب امارات بھی ان پر دعویٰ کرتا آیا ہے۔
امریکہ کا سمندر میں پھنسے ایرانی تیل پر سے پابندی عارضی طور پر ہٹانے کا اعلان
امریکی محکمہ خزانہ اس وقت سمندر میں موجود ایرانی تیل پر سے پابندیاں عارضی طور پر ہٹا رہا ہے، جس سے تیل کی قیمتوں کو کم رکھنے کے لیے اسے بیشتر ممالک کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے جمعے کو ایکس پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا کہ ’مختصر مدت کی اجازت‘ سے تقریباً 14 کروڑ بیرل تیل عالمی منڈیوں کے لیے دستیاب ہو سکے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ ایران کو فروخت سے حاصل ہونے والے کسی بھی مالی منافع تک رسائی حاصل کرنے میں دُشواری ہو گی۔
بیسنٹ نے کہا کہ اجازت ’سختی سے تیل تک محدود ہے جو پہلے سے ہی ٹرانزٹ میں ہے اور نئی خریداری یا پیداوار کی اجازت نہیں دیتا ہے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’اصل میں ہم قیمت کم رکھنے کے لیے تہران کے خلاف ایرانی تیل ہی استعمال کریں گے۔‘
جنگ شروع ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر ہونے سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 112 ڈالر فی بیرل برقرار ہے، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 53 فیصد زیادہ ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہTruthSocial/@realDonaldTrump
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہیں کیونکہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی دہشت گرد حکومت کے حوالے سے جاری بڑی عسکری کارروائیوں کے خاتمے پر غور کر رہے ہیں۔‘
آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسے ’ان دیگر ممالک کی جانب سے محفوظ اور نگرانی میں رکھا جانا ہوگا جو اسے استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ اسے استعمال نہیں کرتا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ہم سے کہا گیا تو ہم ان ممالک کی آبنائے ہرمز سے متعلق کوششوں میں مدد کریں گے۔ لیکن ایران کا خطرہ ختم ہونے کے بعد یہ ضروری نہیں ہونا چاہیے۔‘
آخر میں انھوں نے کہا کہ ’اہم بات یہ ہے کہ یہ اُن کے لیے ایک آسان عسکری کارروائی ہوگی۔‘
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت میں حملوں کی اطلاعات
خلیج کے مختلف ممالک میں ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات دوبارہ سامنے آ رہی ہیں۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری تازہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ ملک کے مشرقی حصے میں چھ ڈرونز کو مار گرایا گیا۔
دبئی حکام کا کہنا ہے کہ ’شہر کے بعض حصوں میں سنے جانے والے دھماکے کامیاب فضائی دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ تھے۔‘
اس سے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے بتایا تھا کہ وہ ’ایران کی جانب سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔‘
کویت کی وزارتِ دفاع نے بھی کہا ہے کہ وہ ’دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں سے نمٹ رہی ہے۔‘
ایرانی میزائل کا ملبہ مسجد اقصیٰ کے قریب گِرا, سباسچن اُشر، عالمی امور کے نامہ نگار/بی بی سی
ہم ابھی اس مقام کا دورہ کر کے آئے ہیں جہاں مشرقی یروشلم کے پرانے شہر کے کنارے میزائل کا ملبہ گرا تھا۔
آج عید کا پہلا دن ہے اور عام طور پر یہاں مسجد اقصیٰ میں بہت بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔
اس سال سکیورٹی وجوہات کے باعث لوگوں کو آنے سے روکا گیا ہے لیکن میزائل کے ملبے کے گرانے کی جگہ مسجد اقصیٰ، دیوارِ گریہ اور چرچ آف دی ہولی سیپلکر سے صرف تقریباً 300 میٹر کے فاصلے پر ہے۔
میری رائے میں یہ ایران کی جانب سے اپنے خلاف کیا گیا اون گول ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک اس کا تصور نہیں تھا کہ ایران اپنے میزائلوں سے اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
مشرقی یروشلم کے لوگ اس تنازعے کے دوران خود کو نسبتاً محفوظ سمجھتے تھے کیونکہ مقدس مقامات بالکل قریب تھے۔
یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایران اتنا خطرہ مول نہیں لے گا۔
سٹامر نے برطانوی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا: عراقچی
،تصویر کا ذریعہReuters
برطانیہ نے آبنائے ہرمز کو نشانہ بنانے والی ایرانی تنصیبات پر حملوں کے لیے امریکہ کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس پر ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے وزیرِاعظم کیئر سٹامر نے ’برطانوی جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ ایران اپنے ’حقِ دفاع‘ کا استعمال کرے گا۔
ایکس پر پیغام میں عراقچی نے لکھا کہ ’برطانوی عوام کی بھاری اکثریت اسرائیل۔امریکہ کی ایران کے خلاف اس مرضی کی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سٹامر اپنے عوام کی رائے کو نظرانداز کر رہے ہیں اور ایران کے خلاف جارحیت کے لیے برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے کر برطانوی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘
جنگ بندی نہیں چاہتا، برطانیہ نے اڈے دینے میں تاخیر کی: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران جنگ بندی نہیں چاہتے۔
وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جنگ بندی نہیں چاہتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب آپ عملی طور پر دوسرے فریق کو صفحۂ ہستی سے مٹا رہے ہوں تو جنگ بندی نہیں کی جاتی۔‘
اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کو ’انتہائی شدت سے‘ نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ آپ اس سے زیادہ سختی سے کسی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘
انھوں نے ایرانی قیادت کو ’خوفناک لوگ‘ قرار دیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ کے ساتھ اسرائیل بھی ایران میں جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا تو ٹرمپ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے، ایسا ہی ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ’بہت اچھے‘ ہیں اور یہ کہ ’ہم کم و بیش ایک جیسی چیزیں چاہتے ہیں، اور وہ ہے فتح۔‘
آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’ہم اسے استعمال نہیں کرتے لیکن دوسرے ممالک اسے استعمال کرتے ہیں۔‘
ٹرمپ کے مطابق مغربی اتحاد نیٹو نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
آبنائے ہرمز کے تحفظ سے متعلق کارروائیوں کے بارے میں ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک سادہ سا عسکری آپریشن ہے لیکن اس کے لیے بہت مدد درکار ہوتی ہے، یعنی آپ کو بحری جہاز چاہییں۔ اور نیٹو ہماری مدد کر سکتا ہے، لیکن اب تک انھوں نے ایسا کرنے کی ہمت نہیں دکھائی۔‘
انھوں نے جاپان اور چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو بھی آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے اپنے اڈوں کے استعمال سے متعلق قدم ’بہت تاخیر سے‘ اٹھایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’سچ یہ ہے کہ میں برطانیہ سے کچھ حیران ہوا۔ انھیں بہت تیزی سے کارروائی کرنی چاہیے تھی۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’تعلقات تو بہت اچھے ہیں لیکن ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ وہ عملی طور پر ہمارے پہلے اتحادی تھے۔۔۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم اُس جزیرے، اس نام نہاد جزیرے، کو استعمال کریں، جس کے حقوق انھوں نے کسی وجہ سے چھوڑ دیے تھے۔‘
انھوں نے دوبارہ کہا کہ ’سچ کہوں تو میں برطانیہ سے کچھ حیران ہوا۔ انھیں بہت تیزی سے کارروائی کرنی چاہیے تھی۔‘
خطے میں صورتحال بگڑتی رہی تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا: شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان
کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کا
بوجھ وفاقی حکومت خود اٹھا رہی ہے تاہم ’یہ کوئی دیرپا حل نہیں ہے۔‘
جمعے
کی شب قوم سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اپنے بجٹ میں کٹوتی اور اخراجات
میں کمی کی ہے تاکہ مجموعی طور پر پیٹرول کی قیمت میں 127 روپے فی لیٹر اور ڈیزل
کی قیمت میں 252 روپے فی لیٹر کا اضافہ نہ کیا جائے، جس کی انھیں رواں دو ہفتوں کے دوران سمریاں موصول ہوئی تھیں۔
ان کا
کہنا ہے کہ 13 مارچ کو پیٹرول کی قیمت میں 50 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 74 روپے
کی سمری موصول ہوئی تھی جسے مسترد کیا گیا اور حکومت نے 24 ارب روپے کا بوجھ کیا۔ جبکہ
ان کے مطابق آج (20 مارچ کو) پیٹرول کی قیمت میں 76 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 177 روپے اضافے
کی تجویز تھی جسے مسترد کیا گیا اور وفاقی حکومت نے اضافی اخراجات کی مد میں تقریباً
45 ارب روپے کا بوجھ برداشت کیا۔
شہباز
شریف کا کہنا ہے کہ برادر ممالک کی تنصیبات پر حملوں نے توانائی کے بحران کا خطرہ
بڑھا دیا ہے اور خلیجی تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ’72 ڈالر فی بیرل
تیل تین ہفتوں میں 158 ڈالر فی بیرل کی تاریخی حد عبور کر چکا ہے۔‘
پاکستانی
وزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ ’یہ کوئی دیرپا حل نہیں۔ جہاں تک ممکن ہوا، یہ بوجھ
خود برداشت کر رہے ہیں تاکہ عوام کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔‘
اس
پیغام میں انھوں نے کفایت شعاری اور حکومتی وسائل کے استعمال میں احتیاط پر
زور بھی دیا ہے۔
شہباز شریف نے خبردار کیا ہے کہ یہ خدشہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے کہ یہ بحران ’مزید شدت اور طوالت اختیار کر سکتا ہے۔‘
’اگر صورتحال یوں ہی بگڑتی رہی تو (تیل کی مصنوعات کی) قیمتوں میں مزید اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لے سکتا ہے۔
برطانیہ نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی
برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔
اس سے قبل ڈاؤننگ سٹریٹ نے امریکی فورسز کو صرف اُن کارروائیوں کے لیے برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی جن کا مقصد ایران کی جانب سے ایسے میزائل حملوں کو روکنا تھا جو برطانوی مفادات یا جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
تاہم آج ہونے والے ایک اجلاس میں وزرا نے اتفاق کیا ہے کہ برطانوی اڈوں کے استعمال کی یہ اجازت اب بڑھا کر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی امریکی کارروائیوں تک بھی دی جا سکتی ہے۔
برطانیہ خود ان حملوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا۔ ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ ’تنازع کے حوالے سے برطانیہ کے موقف کی بنیادی اصولی پالیسی بدستور برقرار ہے۔‘
ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان نے کہا کہ وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اڈے اب ’امریکی دفاعی کارروائیوں‘ کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں جن کا ہدف ’وہ صلاحیتیں ہوں گی جنھیں آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ’وزرا نے فوری طور پر کشیدگی میں کمی اور جنگ کے جلد حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنیو ایس ایس باکس
دریں اثنا امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں اضافی میرینز اور ملاح تعینات کر رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں موجود یو ایس ایس باکسر اور 11ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے تقریباً 2,500 میرینز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجا جائے گا۔
ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ مغربی ساحل سے کی جانے والی یہ تعیناتی اپنے مقررہ شیڈول سے تین ہفتے پہلے ہو رہی ہے۔