پاسدران انقلاب کا اسرائیل کے تین کروز میزائل، 10 ڈرونز اور درجنوں یو اے ویز تباہ کرنے کا دعویٰ، تہران کا آئل ڈپو اور اسرائیل میں حیفا ریفائنری حملوں کا نشانہ بنے

ایران کی پاسدران انقلاب فورس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو ایران کے حملوں میں بھی شدت آئے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’مستقبل قریب میں آپ اسرائیلی طیارے، اسرائیلی ایئر فورس، ہمارے پائلٹوں کو تہران کی فضا میں دیکھیں گے۔‘

خلاصہ

  • اسرائیل ایران میں ہر 'سائٹ' اور 'ہدف' کو نشانہ بنائے گا: نتن یاہو
  • 'پاکستان ایران اور برادر عوام کے ساتھ یکجہتی میں کھڑا ہے': شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو
  • اسرائیل کا دفاع کیا تو پھر خطے میں فوجی اڈوں کا نشانہ بنائیں گے: ایران کی برطانیہ، فرانس اور امریکہ کو تنبیہ
  • ایران اور اسرائیل کے درمیان سنیچر کی صبح فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا جس دوران تل ابیب اور یروشلم میں ایئر ریڈ سائرن بجنے اور تہران میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
  • ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں، اسرائیلی حکام نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے
  • ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ روز کے اسرائیلی حملوں کے جواب میں دشمن کو ’کاری ضربیں‘ لگانے کا اعلان کیا ہے
  • ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایران نے اسرائیل کے حملوں کے بعد جوابی کارروائی کو آپریشن ’وعدہِ صادق 3‘ کا نام دیا ہے
  • ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل میں ایک خاتون ہلاک اور چالیس افراد زخمی ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے
  • ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 78 ایرانی شہری ہلاک ہوئے جن میں اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل ہیں جبکہ 320 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے

لائیو کوریج

  1. ایران نے دکھا دیا ہے کہ وہ اب بھی اسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے, سیباسچن اُشر، مشرقِ وسطیٰ کے ایڈیٹر

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جمعے کے روز اسرائیل نے ایران پر یکے بعد دیگرے کئی حملے کیے جن میں جوہری تنصیبات اور میزائل اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    نطنز میں یورینیم افزودگی کے مرکز اور اصفہان کی جوہری تنصیب سمیت کئی اہم مقامات پر حملے کیے گئے جبکہ اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور جوہری سائنسدانوں کو بھی مارا گیا۔

    یہ کارروائیاں ایران اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں ایک بڑا اور خطرناک موڑ ثابت ہوئی ہیں۔

    اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کئی برسوں سے اس طرح کے حملے کی وکالت کرتے آئے ہیں۔ ان کے نزدیک ایران نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرہ ہے۔

    جمعے کے روز اپنے ایک بیان میں نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

    اس کے جواب میں ایران نے کئی مرتبہ اسرائیل پر ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے کیے۔ صبح کے وقت پہلا حملہ ناکام بنا دیا گیا تھا لیکن شام ہوتے ہی سائرن بجنے لگے اور یروشلم سمیت کئی علاقوں کے آسمان دھماکوں اور روشنیوں سے بھر گئے۔

    تل ابیب میں دھوئیں کے بادل چھا گئے اور زور دار دھماکے ہوئے جس کے بعد شہری پناہ گاہوں میں چلے گئے جیسا کہ انھیں ہدایت دی گئی تھی۔

    ایران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگرچہ وہ آج سے ایک یا دو سال پہلے کے مقابلے میں کمزور ہو سکتا ہے مگر اسرائیل کے غیر معمولی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت اب بھی رکھتا ہے۔

  2. چین کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت: ’ایران کو پرامن جوہری توانائی کے استعمال کا پورا حق حاصل ہے‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے۔ یہ بیان اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کونگ نے چند گھنٹے قبل دیا۔

    انھوں نے کہا کہ بیجنگ کو اس وقت ایران کے جوہری مذاکرات پر ہونے والے منفی اثرات پر شدید تشویش ہے۔ چین نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ فوراً اپنی تمام فوجی کارروائیاں بند کرے تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ روکا جا سکے۔

    فو کونگ نے کہا کہ چونکہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، اس لیے اسے پرامن جوہری توانائی استعمال کرنے کا پورا حق دیا جانا چاہیے۔

    خیال رہے چین ایران کا ایک اہم شراکت دار ہے، خاص طور پر توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں۔ مارچ میں چین نے بیجنگ میں ایران اور روس کے نائب وزرائے خارجہ کی میزبانی کی تھی جہاں ایران کے جوہری معاملے پر گفتگو ہوئی اور ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے پر زور دیا گیا۔

  3. تہران پر اسرائیلی حملے جاری رہنے کی اطلاعات ہیں

    Jamaran

    ،تصویر کا ذریعہJamaran

    تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں اب بھی دھماکوں اور فضائی دفاعی سرگرمیوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔

    ویڈیوز اور رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وردآورد کے علاقے میں ایک ریڈار سائٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    جنوبی ایران کے علاقے عبدانان سمیت بعض دیگر مقامات پر بھی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی تہران کے علاقوں حکیمیہ اور تہران‌ پارس میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    ایرانی خبررساں ادارے اسنا کے مطابق حکیمیہ میں امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔

    سرکاری ذرائع نے مہرآباد کے علاقے میں ایک بڑے دھماکے کی تصدیق کی ہے۔

    جاری کردہ ویڈیوز میں علاقے میں آگ اور دھویں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔

    تاہم کچھ ذرائع نے مہرآباد کے قریب واقع آزادی ٹاور کو نقصان پہنچنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

  4. آئی ڈی ایف کا شہریوں کو ایران سے میزائلوں کی نئی لہر کے متعلق انتباہ

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ایک حالیہ پوسٹ میں بتایا ہے کہ ایران سے داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کے بعد اسرائیل کے متعدد علاقوں میں الرٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

    پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ ’جہاں ضرورت ہو، وہاں خطرے کو روکنے اور جوابی کارروائی کرنے‘ میں مصروف ہے۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر عمل کریں کیونکہ ’دفاعی نظام مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں ہے۔‘

    تھوڑی دیر بعد کی گئی ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ لوگ محفوظ مقامات سے باہر آ سکتے ہیں لیکن قریبی علاقوں میں ہی موجود رہیں۔

  5. ایرانی حملے میں ایک اسرائیلی شہری ہلاک اور تقریباً 40 زخمی

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل میں ایک خاتون ہلاک ہو گئی ہیں۔

    اسرائیل کے امریکہ میں سفیر نے سی این این کو بتایا کہ ایک خاتون ہلاک ہوئیں اور ’تقریباً 40 افراد‘ زخمی ہوئے۔

    نیویارک ٹائمز نے ایک اسرائیلی پولیس ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ خاتون کی موت ایک مضافاتی علاقے میں ہوئی۔ جمعے کی رات ایرانی میزائل حملے میں اس علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران میں 78 افراد ہلاک ہوئے جن میں اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل ہیں جبکہ 320 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

  6. ایران کا اسرائیل پر جوابی بیلسٹک میزائل حملہ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جو لوگ ابھی ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں، ان کے لیے گذشتہ چند گھنٹوں میں پیش آنے والے واقعات کا خلاصہ پیش ہے:

    • ایران اور اسرائیل کے درمیان سنیچر کی صبح فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا جس کے دوران تل ابیب اور یروشلم میں ایئر ریڈ سائرن بجنے اور تہران میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
    • ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا کہ ان میں سے کچھ میزائلوں کو روک دیا گیا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ روز کے اسرائیلی حملوں کے جواب میں دشمن کو ’کاری ضربیں‘ لگانے کا اعلان کیا۔
    • ایران کے جوابی حملے کے بعد اسرائیل میں چالیس افراد کو ہسپتالوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے جن میں دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
    • ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران میں 78 افراد ہلاک ہوئے جن میں اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل ہیں جبکہ 320 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کوئی معاہدہ کر لے اور خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حملے ’مزید وحشیانہ‘ ہو سکتے ہیں۔
    • اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایران اور اسرائیل دونوں سے ’کشیدگی میں اضافہ بند‘ کرنے کی اپیل کی ہے۔
  7. اسرائیلی حملوں کے جواب میں تحمل کا مطالبہ غیر منصفانہ ہے: ایرانی وزیر خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے تحمل سے کام لینے کے مطالبات ’غیر منصفانہ‘ ہیں۔

    ٹیلی گرام پر ایک بیان میں سید عباس عراقچی نے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں بیان کیا۔

    پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے برطانوی وزیر خارجہ کو بتایا کہ اسرائیل کے اقدامات سے ایران کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور انھوں نے اسرائیلی حکومت کی یورپی حمایت پر تنقید کی۔

    انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کا جواب ’طاقتور‘ ہوگا۔

  8. ایرانی میزائل حملوں میں تل ابیب میں ہونے والے نقصان کے مناظر

    ،ویڈیو کیپشنایرانی میزائل حملوں میں تل ابیب میں ہونے والے نقصان کے مناظر

    ایران کے اسرائیل پر جوابی حملے میں متعدد بیلسٹک میزائل اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر گرے ہیں جس سے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    ایران کی پاسداران انقلاب فورس کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل پر 100 سے زائد میزائل داغے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کی تعداد 100 سے کم تھی۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے متعدد ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا ہے۔

  9. اگر ایران نے امریکہ کو نشانہ بنایا تو اس کے نتائج ’سنگین‘ ہوں گے: امریکی اہلکار

    Mccoy

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی بیورو کے اہلکار میک کوئے پٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ایران پر اسرائیلی حملے سے قبل ’آگاہ‘ کیا گیا تھا اور اسرائیل نے کہا تھا کہ یہ ’اس کے دفاع کے لیے ضروری ہے۔‘

    انھوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’امریکہ کو حملوں کے بارے میں وقت سے پہلے مطلع کر دیا گیا تھا لیکن وہ (امریکہ) ان حملوں میں عسکری طور پر شامل نہیں تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہماری پہلی اور اولین ترجیح خطے میں امریکی شہریوں، اہلکاروں اور افواج کا تحفظ ہے۔‘

    پٹ کہتے ہیں کہ اگر ایران نے امریکی شہریوں، اڈوں یا انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو ’ایران کے لیے اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا موقف ہے کہ ایران کو معاہدہ کرنا چاہیے اور وہ ’سفارتی حل‘ کی کوشش کریں گے۔

    ’ایران کی قیادت کے لیے اس وقت مذاکرات کرنا دانشمندی ہوگی۔‘

  10. اسرائیلی حملوں کی حمایت سے ٹرمپ نے خطرہ مول لیا ہے, گیری او ڈونوگہو، چیف نامہ نگار شمالی امریکہ

    Trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل اور ایران کے بڑھتے تنازعے کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کے موقف میں مسلسل تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    جب جمعے کی صبح اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فوری طور پر اس کارروائی کو یکطرفہ قرار دیا اور ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے دوری اختیار کی۔

    لیکن اب صدر اس آپریشن کو مزید کھلے دل سے قبول کرنے لگے ہیں۔ وہ اسے ’بہترین‘ کے طور پر بیان کر رہے اور ان حملوں میں استعمال ہونے والے ’امریکی عسکری سازوسامان‘ کی تعریف کر رہے ہیں۔

    ہم نے وائٹ ہاؤس سے یہ بھی سنا ہے کہ امریکی اہلکار ایرانی میزائلوں کو روکنے میں مدد کرتے رہے ہیں۔

    داخلی طور پر یہ صدر ٹرمپ کو ایک خطرناک پوزیشن میں لا کھڑا کرتا ہے۔ ریپبلکن اور اس کی بنیاد میں اسرائیل کے لیے حمایت مضبوط ہے۔ لیکن غیر ملکی جنگوں میں امریکہ کی شمولیت کے بارے میں گہرے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

    ٹرمپ بہت عرصے سے نئی جنگوں کو شروع کرنے کی جاری جنگوں کو ختم کرنے کا وعدہ کرتے آئے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 24 گھنٹوں میں یوکرین میں لڑائی رکوا سکتے ہے اور غزہ میں قید تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

    حتیٰ کہ آج بھی انھوں نے اتوار کو ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کو بحال کرنے کا خیال پیش کیا، لیکن تہران اس سے دستبردار ہو گیا ہے۔

    سیاست کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا نام ہے اور صدر ٹرمپ ان اہم وعدوں میں سے کچھ کو پورا نہ کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

  11. اسرائیل کے خلاف حملوں کے بعد تہران میں جشن کی تصویری جھلکیاں

    Tehran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    tehran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    Tehran

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  12. بریکنگ, کشیدگی کو روکنے کا وقت آ گیا ہے: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

    Antonio

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر بڑھتے حملوں کے درمیان عالمی رہنماؤں نے تحمل اور کشیدگی کو کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے ایران اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی کو روکیں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی بمباری. تل ابیب میں ایرانی میزائل حملے، یہ کافی کشیدگی ہے۔ اب اسے روکنے کا وقت ہے، امن اور سفارت کاری کو غالب ہونا چاہیے۔‘

    یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے جاری صورتحال کے بارے میں بات کی ہے۔

    انھوں نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’میں نے اسرائیل کے اپنے دفاع اور اپنے لوگوں کی حفاظت کے حق کو دہرایا۔ ساتھ ہی ساتھ، علاقائی استحکام کا تحفظ بھی ضروری ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ تمام فریقوں پر زور دیتی ہیں کہ وہ ’زیادہ سے زیادہ تحمل سے کام لیں‘ اور کشیدگی کو کم کریں۔

  13. بریکنگ, تہران میں ایئرپورٹ پر آگ اور دھوئیں کی اطلاعات

    ،ویڈیو کیپشنشہر کے مہر آباد ہوائی اڈے سے آگ اور گہرا دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا

    اب ہمیں ایران کے دارالحکومت تہران کے ایک ہوائی اڈے پر آگ لگنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہے۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے یف پی نے اپنے ایک رپورٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے مہر آباد ہوائی اڈے سے آگ اور گہرا دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔

    ایران کی نیم سرکاری مہر خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے کے علاقے میں ایک ’دھماکہ‘ ہوا ہے اور اس نے ایک تصویر شیئر کی جس میں علاقے سے شدید دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

  14. اسرائیل ’اپنی تباہی کو روکنے‘ کے لیے کام کر رہا ہے: اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر

    اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایران کے خلاف ’اپنے ملک کی تباہی کو روکنے‘ کے لیے کام کر رہا ہے۔

    نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کر کے ’اپنی تباہی کو بچانا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے دشمن کا علم ہے، ان کی سوچ و نظریے کا پتا ہے، اور جب کوئی حکومت بیلیسٹک میزائل تیار کرے، ہتھیار بنانے والی یورینم کی افزودگی کرے اور کھلے عام ہمیں تباہ کرنے کا ارادہ ظاہر کرے۔۔۔ تو ہم اس پر یقین رکھتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی اور جوہری سائنسدانوں کی خدمات حاصل کرنے کی وجہ سے اسرائیل اس اقدام پر مجبور ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنے لوگوں کی زندگی کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا۔ ہم نے یہ کام اس لیے کیا تاکہ یروشلم میں یہودی بچے جوہری حملے کی وجہ سے بجائے گئے ہنگامی سائزن کی آواز سے بیدار نہ ہوں۔‘

    قبل ازیں ایران کے سفیر نے اپنے خطاب میں اسرائیلی حملوں کو ’وحشیانہ اور مجرمانہ‘ قرار دیا تھا۔

  15. ’ایرانی حملوں میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی لیکن کافی تباہی ہوئی‘

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کے ہیریٹز اخبار کے صحافی اور تل ابیب کے رہنے والے گیڈون لیوی نے اسرائیل پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کے بارے میں بی بی سی سے بات کی ہے۔

    بی بی سی کے پروگرام نیوز آور کے لیے ایک انٹرویو میں لیوی جو تل ابیب میں ایک محفوظ مقام پر پناہ لیے ہوئے تھے نے بتایا کہ ’ہم نے دھماکوں کی بہت زور دار آواز سنی۔ یہ کوئی بہت خوشگوار احساس نہیں تھا۔‘

    اس سوال پر کہ آیا ایرانی میزائلوں کو روکا گیا یا وہ شہر میں گرنے میں کامیاب رہے پر انھوں نے بتایا کہ ’کچھ کو دفاعی نظام نے روک لیا گیا، لیکن کچھ گرے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’کم از کم دو واقعات ایسے تھے جہاں وہ براہ راست عمارتوں پر گرے اور انھیں جزوی طور پر تباہ کر دیا۔‘ انھوں نے کہا ان حملوں میں ’کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن لوگ زخمی ہوئے ہیں اور کافی تباہی ہوئی ہے۔‘

  16. اسرائیل کے شہر ایلات میں ہنگامی سائرن بجائے جا رہے ہیں

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے شہر جنوبی ساحلی شہر ایلات میں ’دشمن طیارے کی دراندازی‘ کی وجہ سے شہر میں ہنگامی سائرن بجائے جا رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں مزید تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہے۔

  17. بریکنگ, ایران نے سلامتی کونسل اجلاس میں اسرائیلی حملوں کو ’وحشیانہ اور مجرمانہ‘ قرار دیا

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیلی حملوں کو ’وحشیانہ اور مجرمانہ‘ قرار دیا ہے۔

    نیویارک میں ایران اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے مندوب، امیر سعید ایراونی نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر ’وحشیانہ اور مجرمانہ‘ حملوں میں ملک کے جوہری تنصیبات، شہری انفراسٹرکچر اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ جمعے کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس ایران کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں میں اب تک 78 افراد ہلاک اور 320 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں - ان میں سے ’اکثریت‘ عام شہریوں کی ہے۔

    ایراونی کا کہنا ہے کہ ’دانستہ اور منظم‘ ہلاکتیں ’محتاط جارحیت کا مظاہرہ‘ ہے۔

    انھوں نے امریکہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ان جرائم کے لیے ’امداد اور تعاون " فراہم کرنے کے بعد ’مشکل‘ میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ نہیں بھولیں گے کہ امریکی ہتھیاروں سے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہمارے لوگوں کی جانیں گئیں۔‘

    انھوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کرے اور اس کا احتساب کرے۔

  18. اسرائیلی فوج کی اسرائیلی پائلٹ پکڑے جانے کی تردید

    اسرائیلی فوج نے ایرانی میڈیا کی جانب سے اسرائیلی پائلٹ کے پکڑے جانے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

    ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ملک کے فضائی دفاع نے دو اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا ہے اور ’ان لڑاکا طیاروں میں سے ایک کی پائلٹ، جو کہ ایک خاتون ہے، کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘

    اسرائیل ڈیفنس فورسز کے عربی میں ترجمان، ایواچی ایدرے کا کہنا ہے کہ ’جعلی ایرانی کی طرف سے پھیلائی جانے والی یہ خبر مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔‘

    بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  19. بریکنگ, ایران نے شہری علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے ’ریڈ لائن‘ عبور کی: اسرائیلی وزیر دفاع

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے حملوں کے جواب میں بیلسٹک میزائلوں سے شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر ’ریڈ لائن ‘ عبور کی ہے۔

    انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایران نے اسرائیل میں شہری آبادی کے مراکز پر میزائل فائر کرنے کی جرات کرکے ریڈ لائن عبور کی ہے۔‘

    انھوں نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’ہم اسرائیل کے شہریوں کا دفاع جاری رکھیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آیت اللہ حکومت کو اپنے گھناؤنے اقدامات کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے۔‘

    اس سے قبل ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل میں ’درجنوں اہداف، فوجی مراکز اور فضائی اڈوں‘ پر حملے کر رہا ہے۔

  20. بریکنگ, اصفہان اور فردو کے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، آئی اے ای اے

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے فردو اور اصفہان میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے انھیں آگاہ کیا لیکن ان کے پاس اس حوالے سے مزید معلومات نہیں ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جمعہ کی صبح سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں نطنز کے جوہری پلانٹ کے زمین کے اوپر والے حصے سمیت کچھ حصے ’تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘

    آئی اے ای اے کے سربراہ گروسی کا کہنا ہے کہ ان جوہری تنصیبات کے اندر ریڈیائی اور کیمیائی آلودگی ہے لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔