پاسدران انقلاب کا اسرائیل کے تین کروز میزائل، 10 ڈرونز اور درجنوں یو اے ویز تباہ کرنے کا دعویٰ، تہران کا آئل ڈپو اور اسرائیل میں حیفا ریفائنری حملوں کا نشانہ بنے
ایران کی پاسدران انقلاب فورس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو ایران کے حملوں میں بھی شدت آئے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’مستقبل قریب میں آپ اسرائیلی طیارے، اسرائیلی ایئر فورس، ہمارے پائلٹوں کو تہران کی فضا میں دیکھیں گے۔‘
خلاصہ
اسرائیل ایران میں ہر 'سائٹ' اور 'ہدف' کو نشانہ بنائے گا: نتن یاہو
'پاکستان ایران اور برادر عوام کے ساتھ یکجہتی میں کھڑا ہے': شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو
اسرائیل کا دفاع کیا تو پھر خطے میں فوجی اڈوں کا نشانہ بنائیں گے: ایران کی برطانیہ، فرانس اور امریکہ کو تنبیہ
ایران اور اسرائیل کے درمیان سنیچر کی صبح فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا جس دوران تل ابیب اور یروشلم میں ایئر ریڈ سائرن بجنے اور تہران میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں، اسرائیلی حکام نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ روز کے اسرائیلی حملوں کے جواب میں دشمن کو ’کاری ضربیں‘ لگانے کا اعلان کیا ہے
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایران نے اسرائیل کے حملوں کے بعد جوابی کارروائی کو آپریشن ’وعدہِ صادق 3‘ کا نام دیا ہے
ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل میں ایک خاتون ہلاک اور چالیس افراد زخمی ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے
ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 78 ایرانی شہری ہلاک ہوئے جن میں اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل ہیں جبکہ 320 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے
لائیو کوریج
بریکنگ, اسرائیل نے صوبہ بوشہر میں دو گیس فیلڈ پر حملہ کیا: ایران کا دعویٰ
ایران کی وزارت پیٹرولیم نے کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنوبی صوبے بوشہر میں گیس کی دو بڑی فیلڈز پر حملہ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جنوبی پارس گیس فیلڈ کو یو اے ویز کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ بوشہر میں ہی ایک اور گیس کمپنی ’فجر جام گیس ریفائننگ‘ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب ہم اسرائیل کی جانب سے ایران میں گیس فیلڈز پر حملے کی رپورٹس دیکھ رہے ہیں۔
بی بی سی ویریفائی کی ٹیم فی الحال اس علاقے سے فوٹیج کی تصدیق کر رہی ہے۔
اصفہان میں جوہری سائٹ پر ’چار اہم عمارتوں‘ کو نقصان پہنچا: انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی
جوہری توانائی اور یورینیم افزودگی کے عالمی نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے جمعے کے روز اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی ایران کی اصفہان میں جوہری سائٹ سے متعلق اپ ڈیٹ جاری کی ہے۔
آئی اے ای اے نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ اصفہان میں جوہری سائٹ پر ’چار اہم عمارتوں‘ کو نقصان پہنچا۔
یاد رہے کہ اصفہان میں ایران کی متعدد جوہری تنصیبات ہیں، جن کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ یہ پرامن مقاصد کے لیے ہیں تاہم اسرائیل اور مغربی طاقتیں طویل عرصے سے تہران پر خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے پر مذاکرات منسوخ
عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر مذاکرات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی کا کہنا ہے کہ اتوار کو امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات نہیں ہوں گے۔
وہ ایکس پر لکھتے ہیں کہ ’سفارت کاری اور بات چیت ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔"
اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا بلاجواز ہو گا۔
نتن یاہو: ’اسرائیلی طیارے تہران کی فضا میں اُڑیں گے‘، ایرانی صدر کی ’مزید سخت‘ جوابی حملوں کی تنبیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنتہران میں اسرائیلی حملوں کے بعد کا منظر
اسرائیلی
وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج ایران میں مزید اہداف کو
نشانہ بنائے گی۔
ایک بیان
میں ان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک تہران میں ’جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کا دہرا
خطرہ‘ ختم کرنا چاہتا ہے۔ ان کے بقول اسرائیل نے اس مقصد میں کامیابی حاصل کی ہے۔
وہ
کہتے ہیں کہ ’ہم اس بات کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ وہ 20 ہزار میزائل تیار کرنے کی
صلاحیت رکھیں۔ اس لیے ہم نے ان کی پیداواری صلاحیت کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ آئی
ڈی ایف اسی کام پر مامور ہے۔‘
نتن
یاہو نے مزید کہا کہ ’ہم نے تہران تک کا راستہ بنایا ہے۔ مستقبل قریب میں آپ
اسرائیلی طیارے، اسرائیلی ایئر فورس، ہمارے پائلٹوں کو تہران کی فضا میں دیکھیں
گے۔‘
دوسری
طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے متنبہ کیا کہ اسرائیلی حملے جاری رہے تو ’مزید سخت‘
ردعمل دیا جائے گا۔
سرکاری
میڈیا کے مطابق انھوں نے کہا کہ تسلسل سے جاری اسرائیلی جارحیت پر ’ایرانی مسلح
افواج مزید سخت اور طاقتور جواب دے گی۔‘
ایرانی میڈیا کے مطابق
انھوں نے یہ بات پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے
دوران کہی ہے۔
اسرائیل ایران میں ہر ’سائٹ‘ اور ’ہدف‘ کو نشانہ بنائے گا: نتن یاہو
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی ہر ’سائٹ‘ اور ہر ’ہدف‘ کو نشانہ بنائیں گے۔
ایک نئے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایران کی افزودگی کی اہم ’سائٹ‘ کو بہت سخت نقصان پہنچایا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ہم اسے دوبارہ نشانہ بنائیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’بیلسٹک میزائلوں سے بہت بڑا خطرہ ہے، ہم نے ایران کی بیلسٹک میزائل کی پیداواری صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے لیے کارروائی کی ہے۔‘
کیا اسرائیل کے پاس ایران کے زیر زمین جوہری مقامات پر حملے کی صلاحیت ہے؟, جو اِنوڈ، بی بی سی نیوز
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو ایک مدت سے ایران کے جوہری کی صلاحیت کو تباہ کرنے کے خواہشنمند ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایران بھی طویل عرصے سے اس طرح کے حملوں کے لیے تیار تھا۔
آغاز سے ہی اسرائیل نے ایران کے ایئر ڈیفنس کو ہدف بنایا۔ اسرائیلی افواج نے ایسی متعدد ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں میزائل کی بیٹریاں تباہ کی جا رہی ہیں۔
آج سہ پہر کو اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے کہا ہے کہ ’اسرائیل کو تہران تک مکمل فضائی آزادی (برتری) حاصل ہے۔‘
تاہم یہ بات اہم ہے کہ صرف ایئر ڈیفنسز ہی ایران کے بڑے پیمانے پر جاری جوہری آپریشنز کا تحفظ نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایران کی بہت اہم ’فیسلٹیز‘ زیر زمین ہیں جن پر مٹی کی کئی تہیں ہیں اور کنکریٹ کا ڈھانچہ ہے۔
مثلاً ’فوردو‘ میں جو ’فیول‘ افزودگی کا پلانٹ ہے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سطح زمین سے تقریباً 80 میٹر نیچے ہے جبکہ تجزیہ کاروں کی رائے میں ’ماؤنٹ کولانگ‘ میں نئی فیسلٹی اس سے بھی گہری یعنی زیادہ زیر زمین ہے۔
اس طرح کے مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے خصوصی بموں کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے GBU-57/B یا ایم او پی یعنی میسو آرڈننس پینیٹریٹر کی ضرورت ہوتی ہے جنھیں عام بول چال میں ’بنکر بسٹرز‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
یہ 30,000 پونڈ وزنی بم تقریباً 60 میٹر مضبوط کنکریٹ کے نیچے دبے اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن امریکہ فی الحال حملوں میں حصہ نہیں لے رہا ہے، اور اسرائیل کے پاس یہ ایم او پی بم ہیں نہیں۔
جہاں تک ان کے پاس موجود سب سے موثر ہتھیار ہیں وہ راکس (آر او سی کے ایس) یا ایئر لورا (ایل او آر اے) ہیں۔ ہوا سے لانچ کیے جانے یہ والے بیلسٹک میزائل جو چھ میٹر تک مضبوط کنکریٹ کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (آر یو ایس آئی) کے جسٹن برونک کے مطابق ان کے ساتھ کسی بہت زیادہ زیر زمین فیسلٹی پر حملہ کرنے کے لیے ایک ہی مقام پر بہت درست نشانے والے متعدد حملوں کی ضرورت ہوگی۔
ہر سٹرائیک کے ساتھ تقریباً چھ میٹر کنکریٹ تباہ ہو جاتی ہے۔ فردو یا ماؤنٹ کولانگ جیسی اہداف کو نشانہ بنانا ناممکن لگتا ہے۔
ایلون پنکاس، جو دو اسرائیلی وزرائے اعظم کے مشیر رہے نے کہا ہے کہ سادہ سی بات یہ ہے کہ اسرائیل کے پاس اس ہدف تک کامیابی سے پہنچنے کے لیے مطلوبہ اسلحہ نہیں ہے۔
زیادہ حقیقت پسندانہ آپشن یہ ہوگا کہ داخلے اور خارجی سرنگوں کو نشانہ بنایا جائے، جس سے یہ ’فسیلٹیز‘ ناقابل استعمال رہیں۔
آر یو ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق اس حکمت عملی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی سہولیات کو کھودنے اور رسائی کو دوبارہ قائم کرنے کی کوششیں ’ممکنہ طور پر تقریباً فوری طور پر شروع ہو جائیں گی‘۔
یہ سب اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کیوں برونک اور دیگر تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کو فوجی ذرائع سے تباہ کرنا ’ممکن نہیں‘۔
بلاشبہ ایران کو اس پروگرام سے پیچھے ہٹایا جا سکتا ہے خاص طور پر نمایاں سائنس دانوں کے بڑے پیمانے پر قتل کے ذریعے لیکن جب تک حکومت رہے گی وہ دوبارہ اس پروگرام کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتی رہے گی۔
’پاکستان ایران اور برادر عوام کے ساتھ یکجہتی میں کھڑا ہے‘: شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو
،تصویر کا ذریعہAPP
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیر اعظم شہباز نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حملوں کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حملوں کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کے اس دوران اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے یکجہتی ظاہر کی ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان، اسرائیل کی بلا اشتعال اور بلاجواز جارحیت پر، حکومت ایران اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔‘
انھوں نے ایران کے خلاف ’اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی، جو اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں، اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘
پاکستانی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘
حملوں میں جانی نقصان پر صدر پزشکیان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے شہباز شریف نے ذکر کیا کہ پاکستان نے گذشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایران کے لیے حمایت ظاہر کی تھی۔
پاکستانی وزیر اعظم نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ’اسرائیل کے جارحانہ رویے اور اس کے غیر قانونی اقدامات کے خاتمے کے لیے فوری اور قابل اعتبار اقدامات کریں۔ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور اس تناظر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق صدر پزشکیان نے ’اس مشکل وقت بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے ساتھ پاکستان کی حمایت اور یکجہتی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔‘
انھوں نے وزیراعظم کو اسرائیل کے ساتھ بحران پر ایران کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا اور عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مل جل کر کام کریں۔‘
وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایران اور امریکہ میں کیا مذاکرات ہو رہے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہReuters
اتوار کو عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہونے تھے مگر اس سے قبل ہی اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کر دیے۔ ایران نے اب اتوار کو عمان میں مذاکرات کے اگلے دور کی منسوخی کا اعلان ہے۔ تہران کے مطابق اسرائیلی حملے واشنگٹن کی منظوری سے کیے گئے ہیں اور ایسے میں اسرائیلی جارحیت کے ساتھ یہ مذاکرات بے معنی اور بے سود ہیں۔
یہ کس بات پر مذاکرات ہو رہے ہیں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران امریکہ نے ایران سے کیے گئے جوہری معاہدے سے باہر نکلنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس معاہدے میں دیگر ممالک بھی تھے مگر امریکہ کی طرف سے اس اعلان کے بعد یہ معاہدہ ختم ہو گیا۔
یہ ڈیل سنہ 2015 ممیں ہوئی تھی جس کے تحت ایران پر کچھ پابندیاں تھیں کہ وہ ایک حد سے زیادہ اپنے جوہری پروگرام کو آگے نہیں بڑھا سکتا۔
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے سے سنہ 2018 میں نکلے تھے اور ایران پر انھوں نے معاشی پابندیاں بھی عائد کرنے کا اعلان کیا۔
امریکہ کے اس معاہدے سے علحیدگی اختیار کرنے کے بعد ایران نے بھی اپنی مرضی کرنا شروع کر دی اور یورونیم کی افزودگی کے لیے ہزاروں ’سینٹری فیوجز‘ نصب کر دیے۔
ایران کا یہ کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا۔ تاہم ایران کے اس مؤقف سے دیگر کچھ ممالک متفق نہیں ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات کا مقصد اس حوالے سے ایک نئے معاہدے تک پہنچنا تھا۔
گذشتہ ہفتے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے 20 برس میں پہلی دفعہ یہ کہا ہے کہ ایران اپنے وعدوں سے مکر گیا ہے اور وہ جوہری پروگرام پر حد سے زیادہ کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیل نے اب ایران پر حملے شروع کر دیے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ ایران کے عسکری اہداف اور جوہری مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اسرائیل ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے: فوج
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے مختلف حصوں میں ’اب بھی حملے‘ کیے جا رہے ہیں۔
ایفی ڈیفرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک سلسلہ وار حملوں میں 150 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تہران میں میزائل اور فضائی دفاعی نظام اہداف میں شامل تھے، جبکہ اصفہان میں ایک جوہری سائٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
برطانوی وزیراعظم کا محمد بن سلمان سے رابطہ، دونوں رہنماؤں کا کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور
،تصویر کا ذریعہGetty Images/PA Media
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس سہ پہر کو برطانیہ کے وزیراعظم نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے فون پر بات کی ہے۔
ترجمان کے مطابق انھوں نے مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر بات کی ہے اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت سے دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ اس مسئلے کا سفارتی حل نکانے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایران کا جوہری پروگرام پر امریکہ سے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان، ’اسرائیلی حملے واشنگٹن کی منظوری کے بعد ہوئے، اب بات چیت بے معنی ہے‘
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران کی وزارت خارجہ نے اتوار کو امریکہ سے عمان میں ہونے والے مذاکرات کو ’بے معنی‘ قرار دے کر منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کایا کالس کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے حالات میں جب صیہونی حکومت کی بربریت جاری ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا جاری رہنا بلا جواز ہے۔‘
انھوں نے ایران کے ’پرامن‘ ایٹمی پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی حالیہ قرارداد پر بھی تنقید کی جو کہ تین یورپی ممالک اور امریکہ کی شمولیت سے پیش کی گئی تھی اور اسے ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف ’صیہونی حکومت‘ کے معاندانہ اقدامات کا بہانہ اور بنیاد قرار دیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغی نے بھی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور منسوخ کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق ’موجودہ صورتحال میں ہماری بنیادی توجہ دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اصولی طور پر ایک ایسی جماعت کے ساتھ بات چیت میں حصہ لینا بے معنی ہو گا جو حملہ آور کی سب سے بڑی حمایتی اور ساتھی ہو۔‘
ایران اس تنازع کو اپنی بقا کی جنگ کے طور پر دیکھے گا, لز ڈوسٹ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے جنگ میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ انھوں نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن ’جتنا وقت بھی لگے گا‘ جاری رہے گا اور یہ واضح کیا ہے کہ ان کا مقصد نہ صرف ایران کی جوہری صلاحیت کو تباہ کرنا ہے بلکہ ایران کی اسلامی حکومت کا تختہ الٹنا بھی ہے۔
ایرانی حکام کے لیے اس تنازع کا مطلب بقا کی جنگ ہے اور ایک ایسی جنگ جس کی وہ برسوں سے تیاری کر رہے ہیں۔ اب وہ اپنی اپنے پورے وسائل اس جنگ میں جھونک دیں گے۔
اگرچہ ایران کے حملے ابھی تک محدود پیمانے پر ہو رہے ہیں مگر اسرائیلی انٹیلیجنس کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ گذشتہ 20 ماہ کے علاقائی تنازعات میں اس کے ہتھیاروں کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود ایران کے پاس اب بھی تقریباً 2,000 بیلسٹک میزائل موجود ہیں اور وہ بہت زیادہ مزید بھی تیاری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران اب ان میزائلوں کو آبادی والے علاقوں کے قریب سٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
مثال کے طور پر تل ابیب میں ایسا لگتا ہے کہ میزائلوں کا مقصد وزارت دفاع اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے، لیکن یہ میزائل کچھ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، چاہے جان بوجھ کر ہو یا حادثاتی طور پر مگر یہ دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایران امریکہ کو براہ راست جنگ میں نہیں گھسیٹنا چاہتا کیونکہ ایرانی رہنما جانتے ہیں کہ ایران نہ تو عسکری طور پر اور نہ ہی سیاسی طور پر ایسی جنگ جیتنے کا اہل ہے۔ تاہم تنازع بڑھنے کے بعد ایرانی فوجی کمانڈروں نے اب خطے میں امریکی اڈوں پر حملے کی دھمکی دی ہے۔
گذشتہ سالوں میں ایران نے امید ظاہر کی تھی کہ یکے بعد دیگرے امریکی صدور ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کو روکیں گے اور سفارتی آپشن کو ترجیح دیں گے کیونکہ اس طرح کے حملوں کو بہت خطرناک سمجھا جاتا تھا۔
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کو گرین لائٹ یعنی حملوں کی اجازت نہیں دی ہے جو بھی معاملہ ہے مگر اب یہ جنگ اب شروع ہو چکی ہے اور اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
ایران اور اسرائیل کے حملوں کے بارے میں ابھی تک ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آج ایران اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کا دوسرا دن ہے۔ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات اور فوجی اہداف پر حملے کے بعد ایران نے رات بھر اسرائیل پر جوابی حملے کیے۔
اب تک ہم اس تنازع کے بارے میں کیا جانتے ہیں:
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے تہران میں رات کو درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا بنیادی انفراسٹرکچر بھی شامل ہے
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے میں 20 بچوں سمیت ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے
حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں ایران کے جوابی حملوں میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں جن میں سات اسرائیلی فوجی بھی شامل ہیں
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے میزائل داغے تو تہران آگ کے شعلوں میں ہوگا‘
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے نو ایرانی جوہری سائنسدانوں اور ماہرین کو ہلاک کیا ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ خطے میں برطانیہ، امریکہ اور فرانس کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا اگر ان ممالک نے تہران کے حملوں کو روکنے کے لیے اسرائیل کی مدد کی
حملوں میں ایران کے نو ایٹمی سائنسدان ہلاک ہوئے ہیں: اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں میں نو ایرانی ایٹمی سائنسدان اور ماہرین مارے گئے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ اس نے چھ ایرانی نیوکلیئر سائنسدان مارے ہیں۔
اب اسرائیل نے کہا کہ جمعرات کو جو حملے کیے گئے ان میں چھ نہیں بلکہ نو سائنسدان مارے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے کہا ہے کہ حملوں میں اصفہان اور نطنز کے جوہری مقامات کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی اہلکار نے اسے بتایا ہے کہ ایران میں 150 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے گئے ہیں۔ اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف داغے جانے والے زیادہ تر ڈرونز اور میزائلوں کو روک دیا گیا ہے۔
رات گئے ایرانی میزائل حملے میں سات اسرائیلی فوجی زخمی
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی جوابی حملوں میں اس کے سات فوجی ہلکے سے زخمی ہوئے۔
ایک ترجمان نے کہا کہ ’گذشہ رات وسطی اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے میں سات فوجی ہلکے سے زخمی ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وہ ہسپتال میں علاج کروانے کے بعد گھر واپس لوٹنے میں کامیاب ہو گئے۔
وسطی اسرائیل کے علاقے میں تل ابیب کا شہر شامل ہے جہاں وزارت دفاع اور فوج کا ہیڈکوارٹر واقع ہے۔
اسرائیلی حملوں میں 60 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے: ایرانی میڈیا
ایران کے سرکاری میڈیا نے یہ خبر نشر کی ہے کہ جمعے کو رہائشی عمارتوں پر کیے جانے والے اسرائیلی حملوں میں 20 بچوں سمیت 60 افراد مارے گئے ہیں۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ ’نیوکلیئر فیسلٹیز‘ سمیت وہ ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔‘
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ایران کے نمائندے نے جمعے کو اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 78 بتائی تھی۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جن 60 لوگوں کی ہلاکت کی آج خبر دی گئی ہے کیا یہ پہلے مرنے والے 78 افراد میں شامل ہیں یا نہیں۔
بی بی سی آزادانہ طور پر ابھی ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
اسرائیل کا دفاع کیا تو پھر خطے میں فوجی اڈوں کا نشانہ بنائیں گے: ایران کی برطانیہ، فرانس اور امریکہ کو تنبیہ
ایران نے برطانیہ، فرانس اور امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان ممالک نے جاری جنگ میں اسرائیل کے کا دفاع کیا تو ایسی صورت میں پھر تہران ان ممالک کے خطے میں موجود فوجی اڈوں کو ہدف بنائے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی میڈیا سے متعلق یہ خبر دی ہے کہ ایران نے ان تینوں ممالک سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل پر ایرانی جوابی حملوں کو روکنے میں نتن یاہو کی کسی بھی قسم کی مدد کرنے سے باز رہیں۔
اطلاعات کے مطابق اگر ان ممالک نے اسرائیل کی مدد کی تو پھر اس کے جواب میں اس خطے میں موجود ان ممالک کے فوجی اڈوں کا ہدف بنائے گا۔
ایرانی حملوں کے جواب میں برطانیہ نے ابھی تک اسرائیل کی کوئی مدد نہیں کی
ڈاؤننگ سٹریٹ یعنی وزیراعظم ہاؤس ک طرف سے ان تبصروں کا جواب نہیں دیا مگر آج صبح تک یہی صورتحال تھی کہبرطانیہ نے ان حملوں کے خلاف اسرائیل کے دفاع کی کوششوں سمیت کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیا ہے۔
بی بی سی نامہ نگار برائے سیاسی امور جیک فین وک نے کہا کہ ’مجھے کل بتایا گیا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے برطانیہ سے اس قسم کی مدد کی کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی۔
سرکاری ذرائع آج صبح اس بات کی تصدیق نہیں کر رہے ہیں کہ آیا اب بھی سب ایسا ہی ہے۔‘
واضح رہے کہ ماضی میں جب ایران نے اسرائیل کو ڈرونز سے نشانہ بنایا تو برطانیہ نے قبرص سے آر اے ایف ٹائفون طیارے بھیجے تاکہ انھیں مار گرایا جا سکے۔‘
اگر ایران نے حملے نہ روکے تو تہران شعلوں کی نظر ہو جائے گا: اسرائیلی وزیر دفاع
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے میزائل حملے جاری رکھے تو پھر تہران ’آگ کے شعلوں کی نظر ہو جائے گا‘۔
فوجی حکام کے ساتھ ایک جائزہ سیشن کے دوران وزیر دفاع نے یہ تبصرہ کیا کہ ایرانی آمر عوام کو یرغمال بنا رہا ہے اور ایک ایسی صورتحال کی طرف جا رہا ہے کہ جس میں وہ خاص طور پر تہران کے رہائشی، اسرائیلی شہریوں پر مجرمانہ حملے کی بھاری قیمت ادا کریں گے۔‘
ایران اور اسرائیل کی جنگ نہ رکی تو پھر یہ کتنی سنگینی اختیار کر سکتی ہے؟, جیمز لینڈیل، نامہ نگار برائے سفارتی امور، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہEPA
اس وقت تو یہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک جنگ لگ رہی ہے۔ کشیدگی میں کمی کے مطالبات پر عمل نہ ہوا تو پھر کیا ہوگا؟
اگر اس لڑائی میں مزید شدت آتی ہے اور یہ بڑھ جاتی ہے تو پھر کیا ہوگا؟
امریکہ بھی اس جنگ کا حصہ بن جائے گا
امریکہ کے تمام تر انکار کے باوجود ایران ایران کو یہ لگتا ہے کہ امریکی فورسز نے اسرائیل کو شہ دی ہے یا کم از کم اسرائیلی حملوں کی کھل کر حمایت کی ہے۔
ایران مشرق وسطی میں امریکی اہداف، جیسے عراق میں سپیشل فورسز کے کیمپس، خلیج میں فوجی اڈے اور اس خطے میں سفارت مشنز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ گروہ حماس اور حزب اللہ ہو سکتا ہے کہ بہت کمزور ہو گئے ہوں مگر ایران کی عراق میں حمایت یافتہ ملیشیا ابھی بھی مسلح ہے اور کارروائیاں کر رہی ہے۔
اس تنازع کی زد میں خلیجی ممالک بھی آئیں گی
اگر ایران اسرائیل کی محفوظ فوج اور دیگر اہداف کو تباہ نہ کر سکا تو پھر ایرانی میزائلوں کا ہدف خلیجی مماک میں عوامی مقامات ہوں گے خاص طور پر وہ ممالک نشانے پر ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں ایران یہ سمجھتا ہے کہ وہ سالہا سال سے اس کے دشمنوں کی حمایت کر رہے ہیں۔
اب ان ممالک میں امریکہ کے فوجی اڈے بھی ہیں۔ اگر خلیج پر حملہ ہوتا ہے تو پھر یہ ممالک اپنے اور اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکہ طیاروں کو متحرک کرنے کا مطالبہ کریں گے۔
ایران میں حکومت کا خاتمہ اور ایک خلا
اگر اسرائیل ایران میں پاسداران انقلاب والی اسلامی حکومت گرانے کے پنے طویل المدتی پروگرام میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟
گذشتہ روز اسرائیل نے یہ واضح کیا ہے کہ اس کا بڑا ہدف تو ایران سے اس اسلامی حکومت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ایران کی حکومت کو گرانے کا منصوبہ اسرائیلیوں سمیت خطے میں کچھ اور ممالک بھی شاید اچھا لگے۔ مگر پھر یہ منصوبہ کس قسم کا خلا چھوڑے گا؟
ایران کے جوابی حملوں میں تین اسرائیلی ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے اسرائیل پر جوابی حملوں میں تین اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس سے قبل بی بی سی نے دو ہلاکتوں کی خبر دی تھی مگر اسرائیلی میڈیا اور سیاسی رہنماؤں نے یہ تصدیق کی ہے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہو چکی ہے۔
اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر نے تین ہلاک ہونے والے شہریوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
یائر لیپڈ نے لکھا کہ ’یہ ریاست اسرائیل کے لیے ایک مشکل رات تھی۔‘ انھوں نے عوام سے ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے ان الفاظ میں ان کا حوصلہ بڑھایا: ’ہم مضبوط فوج کے ساتھ مضبوط لوگ ہیں۔‘