پاسدران انقلاب کا اسرائیل کے تین کروز میزائل، 10 ڈرونز اور درجنوں یو اے ویز تباہ کرنے کا دعویٰ، تہران کا آئل ڈپو اور اسرائیل میں حیفا ریفائنری حملوں کا نشانہ بنے
ایران کی پاسدران انقلاب فورس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو ایران کے حملوں میں بھی شدت آئے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’مستقبل قریب میں آپ اسرائیلی طیارے، اسرائیلی ایئر فورس، ہمارے پائلٹوں کو تہران کی فضا میں دیکھیں گے۔‘
خلاصہ
اسرائیل ایران میں ہر 'سائٹ' اور 'ہدف' کو نشانہ بنائے گا: نتن یاہو
'پاکستان ایران اور برادر عوام کے ساتھ یکجہتی میں کھڑا ہے': شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو
اسرائیل کا دفاع کیا تو پھر خطے میں فوجی اڈوں کا نشانہ بنائیں گے: ایران کی برطانیہ، فرانس اور امریکہ کو تنبیہ
ایران اور اسرائیل کے درمیان سنیچر کی صبح فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا جس دوران تل ابیب اور یروشلم میں ایئر ریڈ سائرن بجنے اور تہران میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں، اسرائیلی حکام نے تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ روز کے اسرائیلی حملوں کے جواب میں دشمن کو ’کاری ضربیں‘ لگانے کا اعلان کیا ہے
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایران نے اسرائیل کے حملوں کے بعد جوابی کارروائی کو آپریشن ’وعدہِ صادق 3‘ کا نام دیا ہے
ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل میں ایک خاتون ہلاک اور چالیس افراد زخمی ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے
ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 78 ایرانی شہری ہلاک ہوئے جن میں اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل ہیں جبکہ 320 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے
لائیو کوریج
تہران کی سڑکیں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے سائنسدانوں اور کمانڈروں کے پوسٹروں سے بھر گئیں
،تصویر کا ذریعہgettyimages
تہران کی سڑکوں پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایرانی جوہری سائنسدانوں محمد مہدی تہرانچی اور فریدون عباسی دوانی کے ساتھ ساتھ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز میجر جنرل حسین سلامی، میجر جنرل غلام علی رشید، ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ، اور میجر جنرل محمد باقری کی تصاویر والے پوسٹرز آویزاں کیے گئے۔
یہ پوسٹرز عوامی غم و غصے اور قومی یکجہتی کی علامت کے طور پر نمایاں مقامات پر لگائے گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہgettyimages
،تصویر کا ذریعہgettyimages
،تصویر کا ذریعہgettyimages
،تصویر کا ذریعہgettyimages
،تصویر کا ذریعہgettyimages
ایران پر اسرائیلی حملے عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں: پاکستان کا سلامتی کونسل کو انتباہ
،تصویر کا ذریعہPakistanUN_NY
پاکستان نے جمعہ کو بلائے گئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہا ہے کہ ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات پر اسرائیلی حملے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ’سنگین خطرہ‘ ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق 15 رکنی سلامتی کونسل نے اپنی معمول کی کارروائی معطل کرتے ہوئے اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کیا۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے بھی شرکت کی اور علاقائی استحکام اور جوہری سلامتی کو لاحق شدید خطرات سے خبردار کیا۔
پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنی تقریر میں ایران پر اسرائیلی جارحیت کو ’غیر ضروری اور غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی اور ایران کی حکومت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
یہ ہنگامی اجلاس ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی درخواست پر بلایا گیا جنھوں نے کہا کہ اسرائیل ’تمام حدیں پار کر چکا ہے اور عالمی برادری کو اس کے جرائم کی سزا دیے بغیر نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘
پاکستان، چین اور روس نے اس اجلاس کی درخواست کی حمایت کی۔
اکستانی مندوب نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے فوری طور پر اسرائیلی جارحیت کو روکے اور اس بحران کا حل بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جائے۔
ایران تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو چکا، مزید اہداف پر حملے کریں گے: اسرائیلی فوج
،تصویر کا ذریعہgettyimages
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ رات بھر کی کارروائی میں فضائیہ نے تہران میں ’درجنوں‘ اہداف کو نشانہ بنایا جن میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کی تنصیبات بھی شامل تھیں۔
میجر جنرل ٹومر بار کے مطابق ان حملوں میں کئی سٹریٹیجک مقامات کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
آئی ڈی ایف کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ ایران میں اہداف پر دوبارہ حملے کے لیے تیار ہے۔
اس سے قبل آئی ڈی ایف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر اور فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل ٹومر بار نے ایک مشترکہ جائزہ اجلاس کے بعد کہا: ’ایران تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو چکا ہے۔‘
ان کے مطابق منصوبے کے تحت اسرائیلی جنگی طیارے تہران میں مزید اہداف پر حملے کریں گے۔
اگر مسلم دنیا متحد نہ ہوئی اور اپنے ایجنڈے کے تحت اپنے مفادات کا تحفظ کرتی رہی تو سب کی باری آئے گی: پاکستانی وزیرِ دفاع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسلم دنیا متحد نہ ہوئی اور اپنے ایجنڈے کے تحت اپنے مفادات کا تحفظ کرتی رہی تو سب کی باری آئے گی۔
انھوں نے آج قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل فلسطینی بچوں پر ظلم ڈھا رہا ہے، اسرائیل کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون میں رنگے ہیں۔
وزیرِ دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران ہمارا ہمسایہ برادر ملک ہے، ہمارے ایران کے ساتھ ایسے رشتے ہیں جس کی تاریخ میں کم مثال ملتی ہے، اسرائیل نے ایران، فلسطین، یمن کو ٹارگٹ بنایا ہوا ہے، مسلم دنیا متحد نہ ہوئی اور اپنے ایجنڈے کے تحت اپنے مفادات کا تحفظ کرتی رہی تو سب کی باری آئے گی۔‘
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’زیادہ تر مسلم ممالک فوجی اعتبار سے بہت کمزور ہیں۔‘ انھوں نے مطالبہ ’او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے، مسلمان ممالک مل کر ایسی سٹریٹیجی بنائیں جس سے اسرائیل کا مقابلہ کیا جا سکے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جس طرح فلسطین میں بچوں کو شہید کیا گیا، ظلم کیا گیا، اسلامی ممالک میں اس طرح آوازنہیں اٹھ رہی، غیر مسلموں کے ضمیر جاگ رہے ہیں لیکن مسلمانوں کے نہیں، مسلم دنیا کےکچھ ممالک کے اسرائیل سے تعلقات ہیں، وہ تعلقات منقطع کر دیں۔‘
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ’جب انڈیا نے ہم پر حملہ کیا تو ہم نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو مٹی میں رول دیا، کل ایران میں ان کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اس میں اسرائیل اکیلا نہیں ہے انھیں ہر قسم کا کور فراہم کیا گیا۔
’ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے عالم اسلام کا اتحاد نظر آئے۔‘
ایران کے اسرائیل پر میزائل حملوں کے بعد تباہی کے مناظر
’سعودی حکام ایرانی حجاج کی محفوظ وطن واپسی تک ہر ممکن معاونت کریں‘ بادشاہ سلمان کی ہدایت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد محمد بن سلمان کی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے وزارتِ حج و عمرہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مملکت میں پھنسے ہوئے ایرانی حجاج کرام کو ان کی وطن واپسی تک تمام ضروری امداد فراہم کریں۔
یہ سہولیات اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ایرانی زائرین کی محفوظ واپسی کے لیے حالات مکمل طور پر بہتر نہ ہو جائیں تاکہ وہ اپنے وطن اور خاندانوں کے پاس واپس جا سکیں۔
،تصویر کا ذریعہ@insharifain
گذشتہ روز تہران پر اسرائیلی فضائی حملے میں انٹیلیجنس اور آپریشنز کے سربراہان ہلاک
،تصویر کا ذریعہpresstv
ایران کے پریس ٹی وی نے گذشتہ روز تہران پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں جنرل سٹاف میں انٹیلی جنس امور کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل غلام رضا محرابی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ آپریشنز کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل مہدی ربانی کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
ایران کا اسرائیل پر حملے جاری رکھنے کا اعلان
ایران کے سرکاری خبررساں ادارے فارس کے مطابق ایران کے اسرائیل پر حملے جمعے کی رات والے حملوں پر ختم نہیں ہوں گے بلکہ یہ جاری رہیں گے۔
ادارے نے ایک نامعلوم اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ سینئر فوجی کمانڈروں کے بیانات کی روشنی میں ایران آئندہ دنوں میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔
شاید اسرائیلی حملوں کا ہدف صرف جوہری پروگرام نہیں بلکہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا ہو, ہوگو بچیگا، یروشلم میں مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنایران کے اسرائیل پر حملوں کے بعد اریانی شہری تہران کے انقلاب چوک میں جمع ہوئے اور اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغنے کا جشن منایا۔ ایرانی شہری ایران کے علاوہ فلسطینی اور حزب اللہ کے پرچم لہرا رہے تھے۔
جب ایران نے صبح سے پہلے ایک اور حملے کی لہر شروع کی تو یروشلم میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضائی دفاعی نظام فعال ہو گئے۔
گذشتہ روز جب اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف آپریشن کو ’کامیاب‘ قرار دیا تو ساتھ ہی یہ بھی اشارہ دیا کہ یہ حملے ایک طویل مہم کا آغاز ہو سکتے ہیں اور عوام کو خبردار کیا کہ ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر جوابی حملے متوقع ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا ہے۔ اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ ایران اس وقت ایک کمزور پوزیشن میں ہے۔ اس کا فضائی دفاع پچھلے سال کے فضائی حملوں میں متاثر ہوا ہے اور خطے میں اس کے حمایتی گروہ، خاص طور پر لبنان میں حزب اللہ، شدید نقصان اٹھا چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس وقت کارروائی کرنے کا ایک ’موقع‘ موجود ہے۔
تاہم حملوں کی شدت کچھ اور بھی ظاہر کرتی ہے: شاید مقصد صرف جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ایرانی نظامِ حکومت کو گرانا ہو۔ گذشتہ رات اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں ایرانی عوام سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ اپنی قیادت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
انھوں نے کہا ’اسرائیلی فوجی آپریشن کا مقصد نہ صرف جوہری بلکہ بیلسٹک میزائل کے خطرے کو بھی ختم کرنا ہے۔ اور جب ہم اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں تو ہم آپ کے مقصد یعنی آزادی کی راہ بھی ہموار کر رہے ہیں۔‘
یہ بات ایرانی قیادت کے لیے شاید سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہو گی کیونکہ ان کی اولین ترجیح ہمیشہ نظامِ حکومت کی بقا کو یقینی بنانا رہی ہے۔ اب ان پر شدید دباؤ ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ حملے اندرونی عدم استحکام یا حکومت مخالف تحریک کو جنم دیں گے یا نہیں۔
ایران اور اسرائیل میں رات بھر جاری رہنے والی کشیدگی کا خلاصہ
،تصویر کا ذریعہReuters
ایران نے اسرائیل کی جانب سے اس کی جوہری تنصیبات اور میزائل سائٹس پر حملوں کے جواب میں جوابی کارروائی کے طور پر متعدد حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق ان حملوں میں دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
مزید تفصیلات یہ ہیں:
اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے مطابق ساحلی پٹی کے مرکزی علاقے پر راکٹ حملوں کے بعد درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں
ہمارے نمائندوں نے رات بھر وسطی اسرائیل میں دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں جبکہ لاکھوں افراد سائرن بجنے کے بعد پناہ کی تلاش میں تھے
ابتدائی فضائی حملوں میں ایرانی جوہری سائنسدانوں اور اعلیٰ کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں
اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے کا کہنا ہے کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں 78 ایرانی شہری ہلاک اور 320 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اکثریت عام شہریوں کی ہے‘
دونوں فریقین سے تحمل برتنے کی اپیلیں جاری ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے: ’بس بہت ہو گیا، اب جنگ رکنی چاہیے۔‘
آئی ڈی ایف کا یہودیہ اور بحیرہ مردار کے قریب ڈرونز روکنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) کا کہنا ہے کہ یہودیہ اور بحیرہ مردار کے علاقوں میں سائرن بجنے کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے متعدد ڈرونز کو روک لیا ہے۔
یہ سائرن مقامی وقت کے مطابق صبح 08:00 کے فوراً بعد بجے تھے۔
ہم اسرائیل اور ایران دونوں جانب کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی مزید معلومات ملتی ہیں، آپ کو آگاہ کرتے رہیں گے۔
اسرائیل کا بین گوریون ایئرپورٹ تاحکمِ ثانی بند رہے گا
،تصویر کا ذریعہEPA
ہم نے اب سے کچھ دیر قبل آپ کو اطلاع دی کہ اردن نے اپنی فضائی حدود دوبارہ کھول دی ہیں تاہم اسرائیل کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کی فضائی حدود ’تاحکمِ ثانی بند‘ رہیں گی۔
اس میں بین گوریون ایئرپورٹ بھی شامل ہے جہاں تمام آنے اور جانے والی پروازیں اگلے حکم تک معطل رہیں گی۔
ایئرپورٹ کی ویب سائٹ اس وقت کام نہیں کر رہی۔
وزارت نے کہا تھا کہ سفر کے خواہشمند مسافروں کو فضائی حدود کھلنے سے کم از کم چھ گھنٹے پہلے میڈیا کے ذریعے اطلاع فراہم کی جائے گی۔
ایران کے اسرائیل پر حملے میں کم سے کم دو افراد ہلاک: اسرائیلی ایمرجنسی سروس
اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے مطابق ایران کے اسرائیل پر جوابی
حملے کے نتیجے میں کم سے کم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سے قبل اسرائیلی ایمرجنسی سروس نجمہ داؤد الحمرا نے بتایا
تھا کہ اسرائیل کے ساحلی علاقے میں اب تک 21 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک
60 سالہ خاتون اور ایک 45 سالہ مرد شامل ہیں۔
اردن نے فضائی حدود دوبارہ کھول دی
،تصویر کا ذریعہReuters
خبررساں ادارے رؤئٹرز کے مطابق اردن کی سول ایوی ایشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حدود مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 پر دوبارہ کھول دی گئی ہے۔
یہ اقدام اسرائیل اور ایران کے بیچ کشیدگی بڑھنے کے ایک دن بعد لیا گیا ہے جس کے باعث اردن نے فضائی آپریشن معطل کر دیے تھے۔
ایران میں اہداف پر حملے جاری ہیں: آئی ڈی ایف
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران میں اپنے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ بیان اسرائیل کی جانب سے ایران کے فوجی اڈوں پر ابتدائی حملے کے 24 گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں آئی ڈی ایف کے مطابق تین ایرانی فوجی کمانڈر مارے گئے تھے۔
اس کے جواب میں ایران نے سنیچر کی صبح اسرائیل پر میزائل حملے کیے۔
ایران کے جوابی حملوں کے بعد اسرائیلی شہروں کی صورتحال تصاویر میں
اسرائیل میں سورج طلوع ہو چکا ہے اور ہمیں ایران کے رات بھر کے جوابی حملوں کے بعد کی تصاویر موصول ہو رہی ہیں۔
یہ تصاویر آج صبح ریشون لتزیون کی ہیں جو تل ابیب کے جنوب میں وسطی ساحلی پٹی پر واقع ایک شہر ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہREUTERS
،تصویر کا ذریعہEPA
تہران: حکیمیہ کے علاقے میں ’کئی دھماکے‘ سنے گئے
،تصویر کا ذریعہUGC
تہران سے اطلاعات ہیں کہ حکیمیہ کے علاقے میں ’کئی دھماکے‘ ہوئے ہیں اور وہاں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔
ایران کے اسرائیل پر تازہ میزائل حملوں میں زخمیوں کی تعداد 21 ہو گئی
،تصویر کا ذریعہ@Mdais via X
اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کے مطابق ایران کے راکٹ حملوں میں زخمی ہونے والے 21 افراد کو وسطی ساحلی پٹی کے علاقے سے منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایکس پر جاری ایک تازہ بیان میں ایمرجنسی سروس نے کہا ہے کہ زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے، کچھ افراد کو شدید چوٹیں آئی ہیں جبکہ باقی معمولی سے درمیانے درجے تک زخمی ہیں۔
وسطی اسرائیل میں دھماکے اور سائرن: ’اسرائیلی حکام میزائل حملوں کے مقامات ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دے رہے‘, جو فلوٹو، مشرقِ وسطیٰ کے بیورو چیف جو اس وقت وسطی اسرائیل میں موجود ہیں
،تصویر کا ذریعہEPA
سحر سے کچھ دیر قبل ایک بار پھر سائرن بجنے لگے جس کے بعد اسرائیل میں لاکھوں افراد نے پناہ گاہوں کا رخ کیا۔۔۔ ایران نے اسرائیل پر ایک اور میزائل حملہ کیا ہے۔
متعدد میزائلوں کو روکنے کی آوازیں سنی گئیں جبکہ کچھ زور دار دھماکوں سے لگ رہا تھا کہ میزائل براہِ راست ہدف پر گرے ہیں۔
سوشل میڈیا پر پہلے ہی ایسی تصاویر سامنے آ چکی ہیں جن میں اسرائیل کے وسطی علاقے کی ایک رہائشی سڑک دکھائی گئی ہے جو میزائل حملے سے تباہ ہو چکی ہے۔
سڑک پر ملبہ بکھرا ہوا ہے، کچھ گاڑیاں کچلی ہوئی ہیں اور ایک گھر جزوی طور پر منہدم نظر آ رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جانی نقصان بھی ہوا ہے۔
اسرائیلی حکام نے میزائل حملوں کے درست مقامات ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ معلومات ایرانی فوج کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
اسرائیل پر ایران کے تازہ میزائل حملے میں 10 افراد زخمی
اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کے مطابق ایران کے تازہ میزائل حملے میں تقریباً 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا: ’گذشتہ چند منٹوں کے دوران ریڈ الرٹ سائرن بجنے کے بعد ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز اور پیرامیڈکس کو راکٹ حملے کے مقامات پر روانہ کیا گیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ زخمی ہونے والوں کو معمولی سے درمیانے درجے تک چوٹیں آئی ہیں۔