ایران کی نئی حکومت ماضی کی قیادت سے کیسے مختلف ہے؟

 تہران کی ایک سڑک پر بل بورڈ جس پرآیت اللہ روح اللہ خمینی (بائیں)، سپریم لیڈر علی خامنہ ای (درمیان) اور اُن کے بیٹے، موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ہیں
    • مصنف, پال ایڈمز
    • عہدہ, عالمی امور کے نامہ نگار
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

جب گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں ایک عشائیے کے دوران ایران کے ساتھ جنگ بندی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تو بہت سے لوگوں نے اسے ایک ستم ظریفی قرار دیا۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں ان کے میزبان تھے جو شاید یہ یقینی بنانا چاہتے تھے کہ مفاہمتی یادداشت پر ٹرمپ کے دستخط ہو جائیں اس سے پہلے کہ ٹرمپ کا خیال بدل جائے۔

لیکن اس مقام کے انتخاب نے اس ڈیڑھ صفحے کے معاہدے کا موازنہ اس معاہدۂ ورسائی سے کرا دیا جس پر پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر 1919 میں دستخط کیے گئے تھے۔

1919 کے معاہدے نے یورپ کی ازسرِنو تشکیل کی تھی، لیکن بھاری ہرجانوں کے مطالبات نے جرمنی میں غصے اور تلخی کو جنم دیا اور صرف 20 برس بعد ایک اور عالمی جنگ کی راہ ہموار کرنے میں مدد دی۔

کیا ایران کے ساتھ ہونے والا امریکی معاہدہ کئی پہلوؤں سے مختلف ہونے کے باوجود پھر بھی اسی طرح اہم نتائج کا حامل ثابت ہو سکتا ہے؟

تقریباً تین ہفتے بعد، جنگ بندی برقرار ہے۔ لیکن آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس کئی جھڑپوں کے بعد، اور جنگ کی وجوہات اب بھی حل نہ ہونے کے باعث، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پہلے کی طرح غیر یقینی ہے۔

ایرانی پرچم میں لپٹے تابوت اور تصاویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسری جانب ایران ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔

پورا ملک اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو الوداع کہہ رہا ہے۔ خامنہ ای چار ماہ سے زائد عرصہ پہلے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ تباہ کن فضائی حملوں کے پہلے روز مارے گئے تھے۔ ان حملوں میں ایرانی حکومت کی قیادت کا بڑا حصہ ختم ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی جنگ کا آغاز ہوا تھا۔

یہ ایک اہم لمحہ ہے۔ یہ اس بات کی واضح نشانی ہے کہ پرانی قیادت کی جگہ نئی قیادت آ گئی ہے اور نئے چہروں کے ساتھ ایک نیا انداز بھی سامنے آیا ہے جس کے اپنے اثرات ہوں گے۔

امریکہ اور اسرائیل نے ملک کے بہت سے سابق رہنماؤں کو ہلاک کر دیا لیکن کیا ان کی جگہ لینے والے لوگ اس سے بھی زیادہ مضبوط حریف ثابت ہوں گے؟

بساط کی نئی ترتیب

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے سکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں بین الاقوامی امور اور مشرقِ وسطیٰ کے پروفیسر ولی نصر نے مجھ سے بات کرتے دعویٰ کیا کہ ’یہ جنگ اس سے کہیں زیادہ اہم اور بڑی ہے جتنا ہم اب تک اسے سمجھتے رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’اس نوعیت کی بڑی جنگیں بالآخر شطرنج کی بساط کی ترتیب بدل دیتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بھی یہی ہونے والا ہے۔‘

اس سال جنوری میں ایران عوامی احتجاج کی لپیٹ میں تھا جس کے بارے میں ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے پیش گوئی کی تھی کہ شاید یہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خاتمے کی ابتدا ثابت ہو۔

ایران کی معیشت کئی دہائیوں سے بین الاقوامی پابندیوں کے باعث پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار تھی۔ اس کے علاوہ ملک چھ ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کے اثرات سے بھی پوری طرح نہیں سنبھل سکا تھا۔

طویل عرصے سے سفارتی دباؤ کا ایک اہم ذریعہ رہنے والا ایران کا جوہری پروگرام ٹرمپ کے دعوے کے برعکس مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا تھا تاہم اسے اچھا خاصا نقصان پہنچا تھا۔

ایران کے یورینیم کے ذخیرے کا مقام بھی مبہم تھا۔ خیال کیا جاتا تھا کہ اگر اسے مزید افزودہ کیا جائے تو یہ 10 یا 11 ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے تاہم اس کا بڑا حصہ اصفہان کے جوہری کمپلیکس کے قریب ملبے تلے دب جانے کا امکان تھا۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اتحادیوں اور حمایت یافتہ گروہوں پر مشتمل ’مزاحمت کے محورِ‘ کو بھی کئی بڑے دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

شام میں ایران کے قریبی اتحادی بشار الاسد کی حکومت ختم ہو گئی تھی اور 2024 کے آخر میں وہ چند ہی ہفتوں میں اقتدار سے ہٹ گئے تھے۔

لبنان میں اسرائیل نے ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کے اہم رہنماؤں کو ہلاک کر دیا تھا اور دھماکہ خیز پیجرز اور واکی ٹاکیز کے ذریعے اس کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

غزہ کی پٹی میں ایران کے ایک اور اتحادی حماس کو بھی اسی طرح کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں کے جواب میں مسلسل فوجی کارروائیاں کیں جن سے غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا اور دسیوں ہزار شہری ہلاک ہوگئے۔

اور جب غزہ جنگ کے جواب میں یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے اور بحیرۂ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا، تو اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ نے جوابی حملے کیے، جن میں حوثی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

جنگ شروع ہونے سے پہلے ایرانی سڑکوں پر نکل آئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجنگ شروع ہونے سے پہلے ایرانی سڑکوں پر نکل آئے تھے

ملک کے اندر اور باہر پے در پے دھچکوں کے بعد عام رائے یہ تھی کہ ایران بہت کمزور حالت میں ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ کو کئی انٹیلیجنس رپورٹس موصول ہوئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔

ایسے میں یہ خیال کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں ڈٹا رہ سکے گا، حقیقت سے دور لگتا تھا۔

لیکن ایران اب بھی قائم ہے، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایران دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز، کو بند کرنے اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تہران کو کیا اب برتری حاصل ہے؟

ٹرمپ اکثر ایران میں نظام کی تبدیلی (رجیم چینج) کا مقصد حاصل کرنے سے متعلق دعویٰ کرتے ہیں۔ ولی نصر اس سے اختلاف نہیں کرتے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس سے دراصل تہران کو فائدہ ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایک بالکل نئی نسل اقتدار میں آ گئی ہے۔ اس نسل کا ایک واضح ایجنڈا ہے۔ اس نے جنگ کو سنبھالا اور اب وہ امن کے دور کو بھی سنبھالے گی۔‘

ولی نصر کے مطابق نئی قیادت ایسے لوگوں پر مشتمل نہیں جنھیں واشنگٹن عموماً ’انتہا پسند نظریاتی رہنما‘ کہتا ہے بلکہ یہ زیادہ تر بعد از انقلاب دور کے رہنما ہیں جن کی توجہ ریاست کو برقرار رکھنے پر ہے اور جو اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں زیادہ فیصلہ کن انداز میں کام کرنے کو تیار ہیں۔

56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد علی خامنہ ای سے 30 سال چھوٹے ہیں۔ جنگ کے آغاز میں جب علی خامنہ ای مارے گئے تو خیال کیا جاتا تھا کہ وہ جسمانی طور پر خاصے کمزور ہو چکے تھے۔

صدر مسعود پزشکیان 71 برس کے ہیں لیکن 1979 کا انقلاب برپا کرنے والی نسل اب اقتدار میں نہیں رہی۔

دو اہم شخصیات، پارلیمان کے سپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف، اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ احمد وحیدی، دونوں کی عمریں 60 برس سے زیادہ ہیں۔

نئے سپریم لیڈر کی طرح ان دونوں کے بھی ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے قریبی تعلقات ہیں۔

لندن کے تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پروگرام کی ڈائریکٹر صنم وکیل کا خیال ہے کہ ’اب ایران کی باگ ڈور کوئی 86 سالہ شخص نہیں چلا رہا۔ نظام میں تبدیلی کی رفتار کو سست رکھنے والی بڑی رکاوٹ علی خامنہ ای تھے۔‘

کئی دہائیوں تک محتاط مزاج رکھنے والے خامنہ ای نے ایک ایسی حکمتِ عملی اپنائے رکھی جسے بعض اوقات ’نہ جنگ، نہ امن‘ کہا جاتا تھا۔

ان کے جانشین زیادہ جرات مندانہ انداز اختیار کر چکے ہیں۔ انھوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے اور پھر چند ہی ہفتوں بعد جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر بھی آمادہ ہو گئے۔ ایسی شرائط پر جو بظاہر تہران کے لیے ذلت آمیز نہیں تھیں۔

نصر کہتے ہیں کہ ’انھوں نے دکھایا ہے کہ وہ پچھلی نسل کے مقابلے میں جنگ میں زیادہ جارحانہ انداز اپنانے کے لیے تیار ہیں۔‘

جب 2020 میں ٹرمپ نے پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے والے فضائی حملے کا حکم دیا تھا تو ایران نے عراق میں امریکی اڈوں پر 12 بیلسٹک میزائل داغنے سے پہلے جان بوجھ کر اپنے جواب کا اشارہ دے دیا تھا۔ اس حملے میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا تھا۔

آیت اللہ کی موت کے بعد ملک کے اندر اور عالمی سطح پر تبدیلیاں آئی ہیں

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا کیپشنآیت اللہ کی موت کے بعد ملک کے اندر اور عالمی سطح پر تبدیلیاں آئی ہیں

اس سال، امریکہ اور اسرائیل کے بڑے حملوں کے جواب میں ایران نے خطے میں کئی امریکی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جن میں بحرین میں پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈ کوارٹر اور قطر کا العدید فضائی اڈہ بھی شامل تھا۔

کویت میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔

امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کو نشانہ بنانے، جہازوں پر حملے کرنے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے ایران کی آمادگی نے وائٹ ہاؤس کو بظاہرحیران کر دیا۔

کئی دہائیوں سے واشنگٹن اپنے فوجی اڈوں اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کے ذریعے ایران کو محدود رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے جواب میں ایران کے سخت ردِعمل سے ظاہر ہوا کہ یہ حکمتِ عملی اب پہلے جیسی مؤثر نہیں رہی۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ایران پراجیکٹ کے ڈائریکٹر علی واعظ کا کہنا ہے کہ ’ان میں سے بہت سے ممالک کو امید تھی کہ ان کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈے انھیں تحفظ دیں گے نہ کہ انھیں ہدف بنایا جائے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’خلیجی ممالک اب امریکی سکیورٹی تحفظ اور اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔‘

رپورٹس کے مطابق بیشتر خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک نامعلوم سفارت کار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ 2023 میں کئی دہائیوں کی دشمنی کے بعد تہران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے والا سعودی عرب ایک ’مفاہمتی سربراہی اجلاس‘ کی تیاری کر رہا ہے جس میں ایران اور خلیجی ممالک کو اکٹھا کیا جائے گا۔

لیکن علی واعظ کا کہنا ہے کہ اس جنگ پر ناراضی کے باوجود ان ممالک میں سے کوئی بھی امریکہ کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وہ سکیورٹی کے معاملے میں امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں اس لیے وہ اس کے ساتھ اپنے سکیورٹی انتظامات مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔ وہ متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن آخر میں ان کے پاس اس سے بہتر کوئی اور آپشن نہیں ہے۔‘

علی واعظ موجودہ صورتحال کو ’اہم موقع‘ قرار دیتے ہیں جس میں پرانے حریف ایک دوسرے کے ساتھ نئے تعلقات پر غور کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے حقیقت پسندی کی ایک ایسی سطح نظر آ رہی ہے جو پہلے موجود نہیں تھی۔‘

تاہم ایران کے عوام کا کیا ہو گا؟

نئے رہنما

رواں سال کے آغاز میں ٹرمپ نے ایرانی شہریوں سے وعدہ کیا تھا کہ ’مدد راستے میں ہے۔‘

28 فروری کو جنگ شروع کرتے وقت وہ اس سے بھی زیادہ واضح تھے۔

انھوں نے ایرانیوں سے کہا کہ ’جب ہم اپنا کام مکمل کر لیں تو آپ اپنی حکومت کا کنٹرول سنبھال لیں۔ یہ آپ کے لیے ممکن ہو گا۔‘

لیکن اب تک ایسے وعدے حقیقت ثابت نہیں ہوئے۔ تہران میں ایک نئی نسل اقتدار میں آ گئی ہے، لیکن اس نے ابھی تک عوام کو زیادہ آزادی یا زیادہ خوشحال مستقبل کی امید نہیں دی۔

ابوظہبی میں قائم چیتھم ہاؤس کی تجزیہ کار انیسہ بصیری تبریزی کا کہنا ہے کہ حکومت کی پوری توجہ اپنی بقا پر ہے، اس لیے وہ اختلافِ رائے کے بارے میں کسی مختلف رویے کی توقع نہیں کرتیں۔

ان کے مطابق ’وہ سڑکوں پر ہونے والے عوامی ردِعمل پر بہت، بہت گہری نظر رکھیں گے،‘

Donald Trump wearing a dark blue suit and a light blue tie standing behind a podium

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرواں سال کے آغاز میں ٹرمپ نے ایرانی شہریوں سے وعدہ کیا تھا کہ 'مدد راستے میں ہے۔'

لیکن جنگ سے پہلے ہی ریاستی اداروں کے باہر حجاب کی پابندی پر سختی سے عمل نہیں کروایا جا رہا تھا اور تہران کے ریستورانوں میں چوری چھپے شراب بھی دستیاب تھی۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ حکومت شاید آہستہ آہستہ کچھ پرانی پابندیوں سے دستبردار ہو رہی ہے۔

ولی نصر کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے ضرورت کارفرما ہے یعنی ریاست پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت موجود ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے عملی بنیادوں پر یہ فیصلہ کیا کہ ریاست کے مفاد کے لیے ان معاملات میں نرمی ضروری ہے۔‘

جنوری میں بڑے پیمانے پر خونریزی کے بعد حکومت نے یہ دکھایا ہے کہ وہ کم از کم ملک کی خودمختاری کا دفاع کر سکتی ہے۔

ایرانی عوام کے لیے یہ جنگ بہت الجھا دینے والی رہی ہے۔ حکومت کی سختیوں پر غصہ آہستہ آہستہ ایک مختلف قسم کے خوف میں بدل گیا جب امریکی اور اسرائیلی بم ان کے ملک پر برسنے لگےاس میں متعدد شہری ہلاک ہوئے اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

جنگ کے پہلے دن میناب کے ایک پرائمری سکول میں درجنوں بچوں کی ہلاکت کے بعد بعض لوگوں نے یہ سوال اٹھانا شروع کر دیا کہ اصل دشمن کون ہے۔

انھیں آزادی دلانے کے وعدے کرنے والے اسرائیل اور امریکہ اب ملک کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔

لیکن امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ طاقت کا مقابلہ کرنے کے بعد کیا ایران کی نئی قیادت اس موقع سے فائدہ اٹھا کر حکومت کی کمزور پڑنے والی ساکھ کو دوبارہ بحال کر سکتی ہے؟

علی واعظ کہتے ہیں کہ ’یہ کسی حد تک ماؤ کے بعد کے چین جیسا لمحہ ہے یعنی جس میں پورا نظام سمجھتا ہے کہ اب کچھ نہ کچھ بدلنا ہوگا۔ نئی قیادت جانتی ہے کہ اسے عوام کے ساتھ ایک نیا سماجی معاہدہ کرنا ہوگا۔‘

کیا وہ ایسا کر پائے گی یا نہیں، یہ ابھی واضح نہیں۔ پہلے سے کہیں زیادہ، ایران اب پاسدارانِ انقلاب کی اعلیٰ قیادت کے زیرِ اثر ہے، جبکہ جنوری کے خونریز کریک ڈاؤن میں اپنے ہزاروں دوستوں کی ہلاکت کے غم میں مبتلا تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد اب بھی محسوس کرتی ہے کہ ملک کے مستقبل کے تعین میں ان کی کوئی حقیقی آواز نہیں۔

یہ ایک اہم موڑ ہے، جہاں ایران اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر ماضی کی یقینی صورتحال اور مستقبل کے امکانات کے درمیان ایک نازک مقام پر کھڑا ہے۔

خلیج میں حالیہ کشیدگی کے باوجود تہران نے امریکہ کے ساتھ ایک سفارتی عمل شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں وہ تعلقات قائم ہو سکتے ہیں جنھیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پہلے ہی بنیادی طور پر بدلے ہوئے تعلقات قرار دے چکے ہیں۔

A woman in an orange jacket and grey headscarf talks on the phone in front of a destroyed building

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفضائی حملوں میں ایران کی تباہی کے مناظر

پابندیوں میں نرمی کے بدلے ایران اگر اپنے جوہری پروگرام میں کچھ رعایت دیتا ہے تو حکومت کے لیے معیشت کو بہتر بنانا آسان ہو سکتا ہے اور اس سے عوام میں اس کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران کو پہلے ہی امریکی پابندیوں میں کچھ چھوٹ مل چکی ہے جس کے تحت اسے 60 دن تک خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران مزید رعایتیں بھی مل سکتی ہیں جن میں ایران کے منجمد اربوں ڈالر کے اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔ اور اگر حتمی معاہدہ ہو جاتا ہے تو سب سے بڑا فائدہ ایران پر عائد تمام بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

مفاہمتی یادداشت میں 300 ارب ڈالر (225 ارب پاؤنڈ) کے ایک تعمیرِ نو اور ترقیاتی منصوبے کا بھی ذکر ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس کے اخراجات کون ادا کرے گا۔

یہ تمام مالی مراعات ایران کی نئی قیادت کے لیے معاہدہ کرنے کی مضبوط وجہ بن سکتی ہیں۔ صنم وکیل بھی مانتی ہیں کہ خطے میں ’ایک اہم موقع‘ موجود ہے، لیکن وہ محتاط ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ایک امکان یہ بھی ہے کہ معاہدہ نہ ہو، بات چیت لمبی ہوتی جائے اور صدر ٹرمپ بے صبرے ہو جائیں اور پھر کہیں ٹھیک ہے، اب تیسرے مرحلے کا وقت آ گیا ہے۔‘

جن ماہرین سے میں نے بات کی، ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ مستقبل یقینی ہے۔

ایران اس کے مشرقِ وسطیٰ کے ہمسایہ ممالک اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں کے کشیدہ تعلقات نے گہرے شکوک و شبہات اور تقریباً مکمل عدم اعتماد کو جنم دیا ہے۔

ناکامی کے امکانات بھی بہت ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات، آبنائے ہرمز کا مستقبل، لبنان کی جنگ، اور مختلف فریقوں میں موجود سخت گیر سوچ شامل ہیں۔

چھ ہنگامہ خیز مہینوں کے بعد خطہ کسی حد تک بدلا ہوا نظر آتا ہے لیکن اس موقع کو بہتر صورتحال میں بدلنے کے لیے بہت سی چیزوں کا درست ہونا ضروری ہے۔