سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ ایرانی فوجی اڈوں پر امریکی حملوں سے ہونے والے نقصان کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

- مصنف, پال براؤن
- مصنف, میرلن تھامس
- مصنف, میٹ مرفی
- عہدہ, بی بی سی ویریفائی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ 50 سے زائد ایرانی فوجی اڈے، جن میں پاسداران انقلاب (IRGC) کا ایک ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے، جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی-اسرائیلی حملوں میں نقصان اٹھا چکے ہیں۔
بی بی سی ویریفائی نے تصاویر کا جائزہ لیا ہے جن کے مطابق، ملک بھر کے اڈے امریکی حملوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ماہرین نے فضائیہ کے طیاروں، جنگی بحری جہازوں اور بیلسٹک میزائل تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی نشاندہی کی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والے تنازعے کے بعد سے انھوں نے ایران بھر میں 13,000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
منگل اور بدھ کی رات خلیج میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے بعد امریکی اور ایرانی افواج نے تازہ حملوں کا تبادلہ کیا۔
اس سے قبل ایران اور اسرائیل نے بھی ایک دوسرے پر حملے کیے، جن میں اسرائیل نے جنوبی بیروت کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ میں عسکری مقامات کو نشانہ بنایا۔
ایک ماہ سے زائد عرصے سے عارضی جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ کے آخر میں دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ’انھیں (ایران کو) عسکری شکست دے دی ہے۔‘
انھوں نے اپنی بہو اور فاکس نیوز کی میزبان لارا ٹرمپ کو بتایا، ’ان کی بحریہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔۔۔ 100 فیصد۔‘
’فضائیہ بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، 100 فیصد۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تاہم، ملک بھر میں ایران کے اڈوں پر ہونے والے حملوں کے باوجود، بی بی سی ویریفائی کی جانب سے جائزہ لی گئی کچھ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اس نازک جنگ بندی کو بعض اہم میزائل مقامات پر سرنگوں کے داخلی راستوں کی مرمت کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
پورے تنازع کے دوران ایرانی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کے حجم کا تعیّن کرنا مشکل رہا ہے کیونکہ امریکہ نے خطے کی سیٹلائٹ کوریج کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔
مارچ میں پینٹاگون نے پلانیٹ سے ایران اور مشرق وسطیٰ کے بیشتر حصوں کی نئی تصاویر کو محدود کرنے کا کہا۔
کمپنی نے اس اقدام کو یہ کہتے ہوئے درست قرار دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ اس کی تصاویر ’مخالف عناصر کی جانب سے اتحادی اور نیٹو شراکت دار اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہ ہوں۔‘
تاہم، بی بی سی ویریفائی نے پلانیٹ کی پرانی تصاویر اور دیگر بین الاقوامی فراہم کنندگان کا استعمال کرتے ہوئے ایران بھر میں 51 فوجی مقامات، جن میں فضائی اڈے، بحری سہولیات اور آئی آر جی سی کے کمپاؤنڈ شامل ہیں، کو ہونے والے نقصان کو ریکارڈ کیا۔
یہ تجزیہ غالباً صرف جزوی جائزہ ہے کیونکہ بہت سی ایرانی تنصیبات کی نوعیت خفیہ ہے۔ نجی انٹیلی جنس کمپنی جینس کے اندازے کے مطابق ایران میں مجموعی طور پر 197 فوجی اور آئی آر جی سی کے اڈے موجود ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ درجن سے زائد مقامات پر رن ویز اور طیاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے امریکہ کو ایرانی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔
7 مارچ کو مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں میں اس تنصیب کے فوجی حصے میں کم از کم 17 طیارے تباہ ہو گئے، جبکہ شیراز ایئربیس پر 2 سے 17 اپریل کے درمیان ہونے والے امریکی-اسرائیلی حملوں میں کم از کم 13 طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

حملوں میں ایران کے جنگی بحری جہازوں کے بیڑے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں بندر عباس نیول بیس جو بحریہ کا ہیڈکوارٹر ہے، اس پر ہونے والے حملوں کے دوران متعدد جہازوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
4 مارچ کی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا کہ ایک متاثرہ جہاز اور بندرگاہ کے انتظامی حصے سے دھواں اٹھ رہا تھا، جبکہ کنارک نیول بیس پر بھی متعدد جہازوں کو شدید نقصان پہنچا۔

اسی دوران، سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کے مشرقی مضافاتی علاقوں میں آئی آر جی سی کے بحری ہیڈکوارٹر اور اس کے جنرل ہیڈکوارٹر کو وسیع نقصان پہنچا ہے۔
بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری بھی مارچ کے آخر میں ایک اسرائیلی کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔
ماہرین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ ان بار بار حملوں میں ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود، تہران اب بھی امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سکیورٹی فرم گلوبل گارڈین کے زیو فینٹوچ نے کہا، ’ایران کی اپنی دفاعی صلاحیت اس کی روایتی افواج، جیسے اس کی فضائیہ، سے کم اور میزائل یا ڈرون کے ذریعے جوابی حملے کرنے کی صلاحیت سے زیادہ وابستہ ہے۔‘
تہران نے مشرق وسطیٰ میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے چھوٹے، سستے ڈرون استعمال کیے ہیں، جن میں متعدد امریکی فوجی مقامات بھی شامل ہیں، اور وہ طویل عرصے سے اپنے شاہد ماڈل کو روس جیسے اتحادی ممالک کو برآمد کرتا رہا ہے۔
رینڈ سکول آف پبلک پالیسی کے نیشنل سکیورٹی پروگرام کے ڈائریکٹر رافائیل کوہن نے کہا کہ ایران کے چھوٹے اور تیز رفتار جہازوں پر مشتمل ’مچھروں کا بیڑا‘ اسے آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بنے رہنے کے قابل بنائے گا۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اس نازک جنگ بندی کو اپنے کم از کم چار بیلسٹک میزائل اڈوں کی مرمت کے لیے بھی استعمال کر رہا ہے۔
تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبریز میزائل اڈے سے ملبہ ہٹا دیا گیا ہے۔ امریکی-اسرائیلی حملوں سے متاثر ہونے والی سرنگیں بظاہر دوبارہ کھودی گئی ہیں، اور تصاویر میں تعمیراتی گاڑیوں اور بھاری مشینری جیسی اشیاء بھی نظر آتی ہیں۔

کامران بخاری، جو مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے سینئر فیلو ہیں، نے کہا کہ ایران کی معاشی مشکلات، جو جنگ سے پہلے کی ہیں، اس کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر بحال کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
انھوں نے کہا، ’ایران کو تعمیرِ نو کے لیے مختص وسائل میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ اسے بنیادی معاشی حالات کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔‘
فوجی اڈوں کے علاوہ، ملک بھر میں متعدد شہری عمارتیں بھی نشانہ بنیں۔ امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق، تنازع کے آغاز سے اب تک 1,700 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم، جنگ کی نگرانی کرنے والے امریکی فوجی افسر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
امریکی حملوں میں حکومت کی وفادار اندرونی سکیورٹی فورسز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں آئی آر جی سی کے کمپاؤنڈز اور بسیج نیم فوجی دستوں کے اڈے شامل ہیں، یہ ایک رضاکار فورس ہے جسے آئی آر جی سی کنٹرول کرتی ہے اور جسے اکثر اختلاف رائے کو دبانے کے لیے سڑکوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران میں اس کا کمانڈ سینٹر 4 مارچ کو ایک حملے میں متاثر ہوا، جبکہ اس سے ملحقہ ایک عمارت حملے میں مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
جنگ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ ان کے مقاصد میں سے ایک حکومت مخالف مظاہرین کو نظام کے خلاف بغاوت کے قابل بنانا ہے تاہم بعد میں اس مؤقف کو کم اہمیت دی گئی۔
جینس کے ایک مرکزی تجزیہ کار لیوس سمارٹ نے کہا، ’اس لیے یہ حملے غالباً بنیادی طور پر اُن حالات کے امکانات کو بڑھانے کے لیے کیے گئے تھے جو حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں، جو کہ اسرائیل اور کسی حد تک امریکہ کا مقصد تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسا اقدام کسی بھی حکومت کے خاتمے میں نچلی سطح سے مدد فراہم کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے اور یہ دسمبر 2025 سے جنوری 2026 تک ہونے والے احتجاج اور فسادات کے پس منظر میں سامنے آتا ہے، جنہیں ایران کی اندرونی سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا تھا۔‘
جنگ بندی کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان خطے میں حملوں کا تبادلہ جاری رہا۔ گذشتہ ہفتے بی بی سی ویریفائی نے انکشاف کیا کہ تہران نے جنگ کے آغاز کے بعد سے کم از کم 20 امریکی فوجی مقامات کو نقصان پہنچایا ہے۔
یہ حملے آٹھ ممالک میں قائم امریکی اڈوں اور میزبان ممالک کے ساتھ مشترکہ سہولیات کو نشانہ بناتے رہے، جس سے جدید فضائی دفاعی نظام، ایندھن بھرنے والے طیاروں اور ریڈار سسٹمز کو لاکھوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ اسی ہفتے آبنائے ہرمز میں گشت کرنے والے ایک ہیلی کاپٹر کو بھی مار گرایا گیا۔
جواب میں امریکہ نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے جنوبی ایران میں فوجی، نگرانی اور ریڈار مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے ’دفاعی نوعیت کے حملوں‘ کی ایک لہر مکمل کی ہے۔
اس کے ردعمل میں تہران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے سلسلہ وار حملے کیے۔
اضافی رپورٹنگ: باربرا میٹزلر۔




























