’آم‘ اور ’پھول‘ جیسے کوڈ ورڈ استعمال کر کے سپیڈ پوسٹ سے 21 ریاستوں میں گانجا فروخت کرنے والا گروہ کیسے پکڑا گیا؟

حیدرآباد پولیس

،تصویر کا ذریعہHyderabad Police

،تصویر کا کیپشنحیدرآباد پولیس نے جھارکھنڈ کے ایک ایسے گینگ کا پردہ فاش کیا ہے جو ’سپیڈ پوسٹ‘ کے ذریعے گانجے کی سپلائی کر رہا تھا
    • مصنف, امرینڈر یارلاگڈا
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ہم نے سپیڈ پوسٹ کے ذریعے دستاویزات، سامان اور تحائف تو بھیجے جاتے دیکھے ہیں لیکن انڈیا کے شہر حیدرآباد پولیس نے جھارکھنڈ کے ایک ایسے گینگ کا سراغ لگایا ہے جو گانجے کی سپلائی کے لیے انڈین محکمۂ ڈاک کی سپیڈ پوسٹ‘ سروس استعمال کر رہا تھا۔

یہ بات حیدرآباد سٹی پولیس اور حیدرآباد نارکوٹکس انفورسمنٹ ونگ (ایچ-نیو) کے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران سامنے آئی۔

حیدرآباد پولیس کمشنر وی سی سجنار نے بتایا، ’ہماری تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ یہ سنڈیکیٹ 21 ریاستوں میں کام کر رہا ہے۔ ہم نے اس پانچ رکنی گینگ کے ایک اہم رکن، جھارکھنڈ کے رہائشی ستیَم مشرا کو گرفتار کیا ہے۔ باقی چار ارکان مفرور ہیں۔‘

وی سی سجنار نے بی بی سی کو بتایا کہ ستیَم مشرا سے پوچھ گچھ کے دوران اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔

ستیم مشرا جھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہ کے گاؤں تمباگڑیا کے رہنے والے ہیں۔ سپیڈ پوسٹ سروس انڈین محکمۂ ڈاک نے یکم اگست 1986 کو شروع کی تھی۔

انڈیا پوسٹ کے مطابق یہ سروس کم لاگت پر سامان گاہکوں تک پہنچانے میں مدد کرتی ہے۔ اس کے تحت 50 گرام سے 500 گرام تک وزن کی اشیا کو 2,000 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک بھیجا جا سکتا ہے۔

محکمۂ ڈاک کی مقررہ فیس ادا کر کے اس سروس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

سجنار نے کہا کہ ’ابتدا میں وہ پینٹر اور لاری ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا۔ مختلف ریاستوں میں سامان پہنچانے کے کام کے لیے وہ 2018 میں ممبئی چلا گیا اور اسے گانجے کی لت لگ گئی۔‘

سجنار نے بتایا کہ ستیَم مشرا نے اپنے بڑے بھائی شُبھم مشرا (عرف شُبھم دادا یا بھائی) کے ساتھ مل کر آسانی سے پیسہ کمانے کے لیے پورے ملک میں گانجے کی سپلائی کا منصوبہ بنایا۔

جھارکھنڈ سے 21 ریاستوں میں سپلائی

حیدرآباد پولیس

،تصویر کا ذریعہHyderabad Police

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق ملزمان گانجے کی کاشت کر رہے تھے اور پھر اس کی سپلائی کرتے تھے

پولیس کو معلوم ہوا کہ ستیَم اور شُبھم مل کر اپنے کھیتوں میں گانجے کی کاشت کر رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے گاؤں کے دیگر لوگوں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دی۔

سجنار نے کہا، ’جب ہماری ٹیم کے ارکان ستیَم مشرا کے گاؤں تمباگڑیا پہنچے تو انھیں وہاں بڑی مقدار میں گانجا ملا۔ وہ مختلف جگہوں پر اس کی کاشت کر رہے تھے۔‘

پولیس نے پتہ لگایا ہے کہ اس طرح اگائے گئے گانجے کی سپلائی حیدرآباد، ممبئی، چنئی اور بنگلورو جیسے شہروں کے علاوہ کیرالہ، راجستھان اور جھارکھنڈ سمیت تقریباً 21 ریاستوں میں کی جا رہی تھی۔

واٹس ایپ پر آرڈر۔۔۔ سپیڈ پوسٹ کے ذریعے ترسیل

حیدرآباد پولیس نے پایا ہے کہ گانجے کی ترسیل کے لیے سپیڈ پوسٹ سروس استعمال کی جا رہی تھی۔

سجنار نے بتایا کہ گانجے کو چھوٹے ڈبوں میں پیک کر کے سپیڈ پوسٹ کے ذریعے مختلف ریاستوں میں بھیجا جا رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’وہ جھارکھنڈ کے اسری بازار اور فُسرو بازار ڈاک گھروں سے گانجے کے پارسل بھیجتے تھے۔ وہ ڈاک خانے کے ملازمین سے جھوٹ بولتے تھے کہ ڈبوں میں دوا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ جب ستیَم اور شُبھم گانجے کے پارسل تیار کرتے تھے تو راہل جھا نامی شخص ڈاک خانے جا کر بکنگ کراتا تھا۔

سجنار نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ستیَم اور شُبھم خود بھی جا کر سپیڈ پوسٹ کرتے تھے۔

پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا کہ وہ واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے گاہکوں سے آرڈر لیتے تھے۔

پولیس کو معلوم ہوا کہ روزانہ سپیڈ پوسٹ کے ذریعے آٹھ سے 10 پارسل بھیجے جاتے تھے، جن میں 50 گرام سے 250 گرام وزن تک کے پیکٹ ہوتے تھے۔

حیدرآباد پولیس

،تصویر کا ذریعہHyderabad Police

،تصویر کا کیپشنحیدرآباد پولیس کمشنر سجنار نے کہا کہ یہ غیر قانونی کاروبار چار سے پانچ سال سے جاری تھا

سجنار نے کہا کہ یہ غیر قانونی کاروبار چار سے پانچ سال تک اس لیے جاری رہا کیونکہ یہ پارسل ڈاک خانے میں بغیر سکین کیے بھیجے جا رہے تھے۔

سجنار نے کہا کہ ’وہ صرف ایک ہی ڈاک خانے سے نہیں بلکہ دو مختلف ڈاک گھروں سے پارسل بھیجتے تھے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ڈاک خانے کے ملازمین بھی بغیر جانچ کے انھیں جانے دیتے تھے کیونکہ وہ کہتے تھے کہ ان میں دوا ہے۔‘

بی بی سی نے سپیڈ پوسٹ سروس کے ذریعے گانجے کے پارسل بھیجنے، سکیننگ نہ ہونے اور ملازمین کی غفلت کے بارے میں انڈیا پوسٹ کے ڈائریکٹر جنرل پوسٹل سروسز جتیندر گپتا سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا ہے۔

مگر انھوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

حیدرآباد پولیس کمشنر سجنار نے کہا کہ ہم سپیڈ پوسٹ کے ذریعے گانجے کی غیر قانونی سپلائی کے بارے میں محکمۂ ڈاک کے سینیئر افسران سے بات کر رہے ہیں۔ ہم نے سپیڈ پوسٹ پارسلوں کی سکیننگ کی تجویز دی ہے۔‘

معاملہ کیسے سامنے آیا؟

ممبئی لوکل ٹرین کی نمائندہ تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق ملزمان واٹس ایپ پر گانجے کے آرڈر لیتے تھے اور ممبئی میں لوکل ٹرینوں اور آٹو رکشوں کے ذریعے سپلائی کرتے تھے

حال ہی میں پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ حیدرآباد کے گڈیملکاپور پولیس سٹیشن کے علاقے میں کچھ لوگ گانجا پی رہے تھے۔

گڈیملکاپور کے انسپکٹر سی ایچ رمیا نے بی بی سی کو بتایا کہ جب گانجا استعمال کرنے والے ایک شخص کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے کہا کہ اسے یہ پارسل کے ذریعے ملا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس سے پارسل والا ڈبہ ضبط کر لیا۔ ہم نے معلوم کیا کہ یہ پارسل جھارکھنڈ کے اسرا بازار ڈاک خانے سے آیا تھا۔ ایس آر نگر پولیس سٹیشن کے علاقے میں بھی گانجے کے پارسل کا ایسا ہی معاملہ سامنے آیا۔ اس لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور پولیس کمشنر خود تفتیش کی نگرانی کر رہے ہیں۔‘

حیدرآباد نارکوٹکس انفورسمنٹ ونگ کی پولیس نے بتایا کہ حیدرآباد کے رہائشی سوشانت ویاس اور لڈو کو گرفتار کیا گیا ہے اور گڈیملکاپور اور ایس آر نگر پولیس سٹیشنوں میں درج مقدمات میں دو کلو گانجا ضبط کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انھیں موصول ہونے والے پارسل کے ڈاک خانے کے پتے کے ذریعے اس گروہ کی شناخت کی گئی۔

’ممبئی میں لوکل ٹرینوں اور آٹو رکشوں کے ذریعے سپلائی کی جاتی تھی‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پولیس نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ ستیَم مشرا نے انکشاف کیا کہ سچن مشرا اور سنتوش پنڈت ممبئی میں گانجا سمگلنگ کے نیٹ ورک کو چلا رہے تھے۔

پولیس کمشنر سجنار نے کہا، ’تفتیش کے دوران ستیَم مشرا نے کئی اہم معلومات فراہم کیں۔ وہ ممبئی میں ایک ہزار سے زائد گاہکوں کو براہِ راست پہنچ کے ذریعے گانجے کی سپلائی کرتا تھا۔ ملزم شُبھم مشرا خود جھارکھنڈ سے ٹرینوں کے ذریعے گانجا ممبئی لے کر جاتا تھا۔ وہاں وہ سچن مشرا اور سنتوش پنڈت کے گھروں میں خفیہ طور پر گانجا رکھتا، اس کے چھوٹے چھوٹے پیکٹ بناتا اور پھر گھر گھر جا کر سپلائی کرتا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ واٹس ایپ پر آرڈر لیتے وقت وہ ’ماریجوانا‘ (گانجا) کے بجائے ’آم‘، ’سٹک‘ اور ’پھول‘ جیسے کوڈ ورڈز استعمال کرتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے ایک کوڈ بنا رکھا تھا کہ ایک آم کا مطلب 50 گرام گانجا اور دو آموں کا مطلب 100 گرام گانجا ہوتا تھا۔ جیسے ہی یو پی آئی اکاؤنٹس کے ذریعے آن لائن ادائیگی ہو جاتی تھی، ستیَم اور شُبھم ممبئی میں اپنے ساتھیوں کو تفصیلات بھیج دیتے تھے۔ اس کے بعد وہ گانجے کے چھوٹے چھوٹے پیکٹ بنا کر لوکل ٹرینوں اور آٹو رکشوں کے ذریعے گاہکوں تک پہنچاتے تھے۔‘

حیدرآباد پولیس

،تصویر کا ذریعہHyderabad Police

،تصویر کا کیپشنحیدرآباد پولیس کمشنر سجنار نے تجویز دی ہے کہ ہر پارسل کی لازمی اسکیننگ کی جانی چاہیے۔

حیدرآباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس گروہ کے ارکان ملک بھر میں روزانہ اوسطاً 80 سے 100 آرڈر پہنچاتے تھے۔

پولیس نے تفتیش کے دوران بتایا کہ ’وہ آرڈر کی مقدار کے مطابق گاہکوں سے 1,500 روپے سے 8,000 روپے تک وصول کرتے تھے۔ اس طرح وہ ہر ماہ تقریباً 30 سے 35 لاکھ روپے اور ہر سال غیر قانونی طور پر تقریباً 4 سے 5 کروڑ روپے کماتے تھے۔‘

پولیس تفتیش میں سامنے آیا کہ ستیَم مشرا گانجے کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم وصول کرنے کے لیے مختلف بینک اکاؤنٹس اور فون پے ایپ سے منسلک متعدد یو پی آئی آئی ڈیز استعمال کرتا تھا۔

ایک پولیس افسر نے بتایا، ’ملزمان گانجے کی فروخت سے حاصل شدہ رقم آپس میں تقسیم کر لیتے تھے۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ اس پیسے سے سونے کے زیورات اور لگژری گاڑیاں خریدتے تھے۔‘

حیدرآباد پولیس کمشنر سجنار نے تجویز دی ہے کہ تمام کورئیر ایجنسیوں کی جانب سے بک اور ڈیلیور کیے جانے والے ہر پارسل کی لازمی سکیننگ ہونی چاہیے۔

انھوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کورئیر کے ذریعے گانجا بھیجے جانے کے معاملات سامنے آنے کے بعد لوگوں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔