گھی یا تیل، صحت کے لیے بہتر انتخاب کیا ہے؟ خالی پیٹ گھی کھانے سمیت آٹھ عام سوالوں کے جواب

    • مصنف, شاردا وی
    • عہدہ, بی بی سی تمل
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

’گھی کھانے سے وزن بڑھے گا۔‘

’خالی پیٹ گھی کھانے سے چربی کم ہوتی ہے۔‘

’گھی معدے کے السر کو ٹھیک کرتا ہے۔‘

’گھی سے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔‘

گھی کے بارے میں ہم اکثر ایسی کئی متضاد باتیں سنتے ہیں۔ ہم نہ صرف یہ باتیں سنتے ہیں بلکہ کچھ لوگ واقعی ان پر عمل بھی کرتے ہیں۔ گھی میں 60 سے 65 فیصد سیچوریٹڈ چکنائی، 20 سے 25 فیصد مونو اَن سیچوریٹڈ چکنائی، تین سے چار فیصد پولی اَن سیچوریٹڈ چکنائی اور کچھ وٹامنز ہوتے ہیں۔

اس میں جسم کے لیے ضروری اچھی چکنائی کے ساتھ ایسی سیچوریٹڈ چکنائی بھی ہوتی ہے جو جسم میں کولیسٹرول، خصوصاً نقصان دہ ایل ڈی ایل یا بیڈ کولیسٹرول کی سطح کو بڑھا سکتی ہے۔

گھی کھانے کے نقصانات پر تو کافی عرصے سے بات ہوتی رہی ہے، لیکن اب اس کے فوائد کے بارے میں بھی بہت سی باتیں ہو رہی ہیں۔ ان میں سے کون سی بات درست ہے اور کون سی غلط؟ گھی کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں اور درست معلومات جاننے کے لیے ہم نے ڈاکٹروں سے بات کی۔

کیا گھی کھانے سے وزن بڑھ سکتا ہے؟

کئی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صرف گھی کھانے سے وزن نہیں بڑھتا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امراضِ قلب کے ماہر ڈاکٹر رفائی شوکت علی نے کہا کہ ’کوئی بھی غذا امرت یا زہر نہیں ہوتی۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کتنی مقدار میں کھایا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر یہ پوچھا جائے کہ گھی کھانے سے وزن بڑھتا ہے یا نہیں، تو سیدھا جواب ہے ’نہیں‘۔ لیکن گھی زیادہ مقدار میں کھانے سے جسم میں کولیسٹرول بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔‘

کیا گھی کھانے سے خون کی نالیاں بند ہو جاتی ہیں؟

ڈاکٹر رفائی کا کہنا ہے کہ گھی کے استعمال سے بڑھنے والی جسمانی چربی دل کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گھی براہِ راست جا کر دل کی خون کی نالیوں میں جمع نہیں ہوتا۔ یہ براہِ راست دل کی بیماری بھی پیدا نہیں کرتا۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ ’ہم جو بھی غذا کھاتے ہیں وہ اس طرح سیدھی خون کی نالیوں تک نہیں پہنچتی۔ لیکن اگر گھی زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو جسم میں چربی بڑھ سکتی ہے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جسم میں چربی بڑھنے سے دل سے متعلق مسائل اور دل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘

ایک شخص ایک دن میں کتنا گھی کھا سکتا ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہرِ غذائیت میناکشی بجاج نے بتایا کہ ’آئی سی ایم آر 2024 کی گائیڈ لائنز کے مطابق ایک صحت مند بالغ فرد ایک دن میں مجموعی طور پر 27 سے 30 گرام تک چکنائی یا تیل استعمال کر سکتا ہے۔‘

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سفارش کے مطابق سیچوریٹڈ چکنائی سے حاصل ہونے والی کیلوریز، روزانہ کی مجموعی کیلوریز کا چھ فیصد سے کم ہونی چاہیں۔

گھی، مکھن، پنیر، سرخ گوشت اور دیگر حیوانی غذاؤں میں سیچوریٹڈ چکنائی زیادہ مقدار میں ہوتی ہے۔

گذشتہ کئی دہائیوں کے سائنسی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ سیچوریٹڈ چکنائی جسم میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح بڑھا سکتی ہے۔ ایل ڈی ایل کو عموماً بیڈ کولیسٹرول سمجھا جاتا ہے۔ اس کی سطح بڑھنے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

وہ مثال دیتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اگر کسی شخص کو روزانہ 2000 کیلوریز کی ضرورت ہو تو ان میں سے 120 کیلوریز سے زیادہ سیچوریٹڈ چکنائی سے نہیں آنی چاہییں۔

انھوں نے کہا کہ گھی میں تقریباً 60 سے 65 فیصد تک سیچوریٹڈ چکنائی ہوتی ہے، اس لیے گھی کا زیادہ استعمال جسم میں بیڈ کولیسٹرول کی سطح بڑھا سکتا ہے۔

کیا گھی معدے کے السر کو ٹھیک کرتا ہے؟

ایک سرکاری ہسپتال میں خدمات انجام دینے والے جنرل فزیشن اور پروفیسر چندر شیکھر کا کہنا ہے کہ گھی میں موجود مونو اَن سیچوریٹڈ اور پولی اَن سیچوریٹڈ چکنائیاں جسم کے لیے ضروری ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گھی میں لینولک ایسڈ، بیوٹیرک ایسڈ اور کچھ دوسرے مفید ایسڈ پائے جاتے ہیں۔ یہ ہاضمے میں مدد کر سکتے ہیں۔‘

تاہم، امراضِ قلب کے ماہر ڈاکٹر رفائی شوکت علی خبردار کرتے ہیں کہ گھی کو دوا کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ گھی میں سیچوریٹڈ چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے اگرچہ اس میں کچھ مفید ایسڈ موجود ہیں، پھر بھی گھی کا استعمال آدھے چمچ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

جہاں تک اس دعوے کا تعلق ہے کہ گھی معدے کے السر کو ٹھیک کر دیتا ہے، اس کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس یا سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔

کیا خالی پیٹ گھی کھانے سے جسم کی چربی کم ہوتی ہے؟

ڈاکٹر رفائی کا کہنا ہے کہ یہ تصور مکمل طور پر غلط ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گھی کھانے سے جسم کی چربی کم نہیں ہوتی۔ گھی میں 60 سے 65 فیصد تک سیچوریٹڈ چکنائی ہوتی ہے، جو جسم میں بیڈ کولیسٹرول بڑھا سکتی ہے۔‘

ڈاکٹر رفائی کہتے ہیں کہ اس بات کو ماننے کی کوئی بنیاد نہیں کہ گھی کھانے سے جسم کی چربی کم ہو جائے گی۔

کیا بچوں کو گھی دینا اچھا ہے؟

ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ بچوں کو گھی دینا ان کی نشوونما میں مدد کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر چندر شیکھر کہتے ہیں کہ ’گھی بچوں کے اعصابی نظام کی نشوونما، جلد کی صحت اور ہاضمے کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر رفائی کے مطابق کہ ’بچوں کا میٹابولزم بالغ افراد سے مختلف ہوتا ہے۔ گھی میں موجود بعض مفید ایسڈ بچوں کے معدے کی صحت کے لیے مددگار ہو سکتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’گھی میں چکنائی میں حل ہونے والے وٹامنز، مثلاً وٹامن ای اور وٹامن کے پائے جاتے ہیں۔ یہ بھی بچوں کی بڑھوتری اور نشوونما میں معاون ہوتے ہیں۔‘

کیا گھی تیل سے بہتر ہے؟

وہ کہتے ہیں کہ ’تیل کی جگہ گھی میں پکا ہوا کھانا باقاعدگی سے کھانا صحت کے لیے کافی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ گھی والا ڈوسا یا گھی کے ساتھ اِڈلی جیسی چیزیں کبھی کبھار ذائقے کے لیے کھائی جا سکتی ہیں۔ لیکن انھیں بار بار کھانا جسم کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘

ان کی رائے میں ’ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے جو یہ ثابت کرے کہ گھی تیل سے بہتر ہے۔ تاہم جس طرح گھی کا استعمال محدود رکھنا ضروری ہے، اسی طرح تیل کا استعمال بھی قابو میں ہونا چاہیے۔‘

کیا ذیابیطس کے مریض گھی کھا سکتے ہیں؟

ڈاکٹر رفائی کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں، زیادہ جسمانی چربی رکھنے والے افراد اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو گھی سے پرہیز کرنا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایسے لوگوں کے لیے گھی کو مکمل طور پر چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ گھی میں کچھ مفید تیزاب ضرور ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی غذا کا جائزہ اس کے فوائد اور خطرات دونوں کو مدنظر رکھ کر لینا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر اس بنیاد پر دیکھا جائے تو ذیابیطس کے مریضوں اور ہائی بلڈ پریشر والے لوگوں کو گھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔‘