آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اتحاد پر انڈیا میں تشویش کیوں ہے؟
’تین ممالک کے مابین ہونے والے معاہدے کی پیش رفت کو ہم قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ہم اس پر آپ کو آگاہ رکھیں گے۔‘
یہ انڈیا کی وزارتِ خارجہ کا وہ ردِعمل ہے جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین جمعے کو ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔
جمعے کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال جب اس سوال کا جواب دے رہے تھے تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے رہنما مکہ میں موجود تھے۔
اس معاہدے کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘
اس معاہدے کے جہاں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر پڑنے والے اثرات پر بات ہو رہی تو وہیں پاکستان کے ہمسایہ ملک انڈیا میں بھی یہ معاملہ زیرِ بحث ہے۔
تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی سینئر فیلو تنوی مدان کہتی ہیں کہ پاکستان سرد جنگ کے دوران بننے والے فوجی اتحادوں سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (سینٹو) اور ساؤتھ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن (سیٹو) میں شمولیت کی سات دہائیاں بعد ایک نئے فوجی اتحاد میں شامل ہو رہا ہے۔
تنوی مدان نے ایکس پر لکھا کہ ’سیٹو کے آرٹیکل چار میں باہمی دفاع کی شق موجود تھی۔ تاہم امریکہ نے اس میں کچھ شرائط شامل کر رکھی تھیں۔‘
تنوی کے بقول مثال کے طور پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع کی صورت میں امریکہ خود کو اس میں شامل ہونے سے بچا سکتا تھا۔ دوسری جانب پاکستان نے امریکہ کی ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا جن میں اسے ویتنام جنگ میں حصہ ڈالنے کو کہا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیٹو اور سینٹو سرد جنگ کے دوران امریکہ کی سرپرستی میں بننے والے دو اہم فوجی اور دفاعی اتحاد تھے جن کا مقصد سوویت یونین اور کمیونزم کا راستہ روکنا تھا۔ پاکستان نے 1954 میں اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔
ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا ترکی اور سعودی عرب، انڈیا سے تنازع کی صورت میں پاکستان کا ساتھ دیں گے؟
اسرائیلی پوڈ کاسٹر اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے اس معاہدے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’تو اگلی بار جب ایران، حوثی یا عراق میں موجود ملیشیا سعودی عرب پر حملہ کریں گی تو کیا ترکی اور پاکستان ایران، عراق اور یمن پر حملہ کریں گے؟ جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ ہو گی تو کیا ترکی اور سعودی عرب انڈیا پر حملہ کریں گے؟‘
’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کو چین اور ترکی سے مدد ملی تھی۔ پاکستان نے وہ جنگ اپنی فوج اور دیگر ممالک کے دفاعی سازوسامان کے بل بوتے پر لڑی۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی معاہدہ پاکستان کی صلاحیت میں کیا اضافہ کر سکتا ہے؟
انڈیا کے خلاف پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت موجود ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی جوہری پالیسی صرف انڈیا پر مرکوز ہے۔
مکہ میں ہونے والا کوئی بھی معاہدہ اس صورتحال کو تبدیل نہیں کرتا۔
یہ معاہدہ جس چیز کو مستقل شکل دیتا ہے وہ حمایت ہے جس نے ’آپریشن سندور‘ کے دوران یہ طے کرنے میں کردار ادا کیا کہ پاکستان کو فوجی مدد کس طرح ملی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے مؤقف کو کس انداز میں پیش کیا گیا۔
سعودی عرب سے تعلقات پر اثر
انڈیا اور پاکستان کے بحران میں سعودی عرب کی اہمیت دہلی کے ساتھ اس کے معاشی تعلقات سے جڑی ہوئی ہے۔
انڈیا اور سعودی عرب کے درمیان 43 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت ہے۔
سعودی عرب نے انڈیا میں توانائی، ریفائننگ، پیٹروکیمیکلز اور انفراسٹرکچر میں 100 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے۔
انڈیا کے مغربی ساحل پر بڑے ڈاؤن سٹریم منصوبوں میں سعودی آرامکو بھی شریک ہے۔
سعودی عرب میں 25 لاکھ سے زیادہ انڈین کام کرتے ہیں اور کروڑوں ڈالر کما کر وطن بھیجتے ہیں۔
سعودی خام تیل انڈیا کی توانائی درآمدات کا ایک اہم حصہ ہے۔
انڈیا میں کئی برسوں سے ان اعداد و شمار کو سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی گہرائی کے ثبوت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
انڈیا پر کیا اثر پڑے گا؟
جس سعودی عرب کے پاس ان تمام معاشی اور سفارتی وسائل کی طاقت ہے، اس نے اب معاہدے کے ذریعے 11 ماہ کے اندر دو مرتبہ اپنی سلامتی کو پاکستان کی سلامتی سے جوڑ دیا ہے۔
ترک صحافی اور بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی فیلو اصلی آیدین تاشباس کے مطابق، اسے ابھی مسلم نیٹو یا سنی نیٹو کہنا قبل از وقت ہو گا، لیکن یہ ضرور اشارہ دیتا ہے کہ خطے کے ممالک کی ملکیت پر مبنی ایک علاقائی سلامتی نظام تشکیل دینے کی خواہش موجود ہے۔
عالمی اُمور کے ماہر برہما چیلانی کہتے ہیں کہ اس معاہدے سے مستقبل میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کسی تنازع کے دوران کشیدگی بڑھنے سے روکنے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔
جیلانی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ اگرچہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کو چین سے ترکی کے مقابلے میں کہیں زیادہ فوجی مدد ملی تھی، لیکن ترکی کی براہ راست مدد نے واضح کر دیا تھا کہ انڈیا کے ساتھ تنازع کی صورت میں ترکی پاکستان کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
’اگر مستقبل میں انڈیا آپریشن سندور جیسی کوئی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کے ڈھانچے یا فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو نظریاتی طور پر اسلام آباد اسے جنگی کارروائی قرار دے سکتا ہے اور معاہدے کی اجتماعی دفاعی شقوں کو نافذ کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔‘
اقوامِ متحدہ میں انڈیا کے سابق سفیر ٹی ایس ترمورتی بھی سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ انڈیا کے حق میں نہیں ہے۔
ترمورتی نے لکھا کہ اُنھوں نے فروری کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد فوری بعد کہا تھا کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کو اس سے فائدہ ہو گا اور خطے میں اپنی خواہشات اور اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ان کے پاس زیادہ گنجائش پیدا ہو گی اور یہ انڈیا کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔
اُن کے بقول اب لگتا ہے کہ وہی بات درست ثابت ہو رہی ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین نئے دفاعی معاہدے میں نیٹو کے آرٹیکل فائیو جیسی زبان استعمال کی گئی ہے۔
’اگرچہ زیادہ تر لوگ اسے مشرق وسطیٰ کے نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں، لیکن اس کے اثرات دوسرے خطوں تک بھی جائیں گے۔ پاکستان اور انڈیا کے دیرینہ کشیدہ تعلقات کے تناظر میں بھی اسے دیکھنا ہو گا۔‘
واضح رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کا مقصد کسی ملک کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان پہلے سے دفاعی معاہدہ موجود ہے۔ اب اس معاہدے میں ترکی بھی شامل ہو گیا ہے۔
ترکی کے صدر نے معاہدے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ کسی ملک کے خلاف اتحاد نہیں ہے۔
اُنھوں نے لکھا کہ ’یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق ہے جس میں اپنا دفاع کرنے کا حق شامل ہے۔ اس معاہدے کا مقصد کسی ملک کو نشانہ بنانا نہیں۔ اس میں وہ تمام دوست ممالک شامل ہو سکتے ہیں جو ہمارے خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام چاہتے ہیں۔‘
سوشل میڈیا پر بھی انڈین تجزیہ کار اور صارفین اس معاہدے پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
مودی حکومت کے ناقد اور سویڈن کی اپسلا یونیورسٹی سے منسلک اشوک سوین نے ایکس پر لکھا کہ کیا مودی اگلے انتخابات سے قبل پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات کریں گے؟
انڈین فوج کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) ڈی پی پانڈے نے ایکس پر لکھا کہ مکہ دفاعی معاہدہ، انڈیا کے لیے کوئی ڈراؤنا خواب نہیں ہے۔ یہ خلیجی خطے میں موجود متعدد قوتوں کے خلاف ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس میں تین سنی ممالک متحد ہوئے ہیں۔ ہر ایک امت کی قیادت کرنے اور عالمِ اسلام کا رہنما بننے کا عزم رکھتا ہے۔
انڈیا کے سابق سیکریٹری خارجہ کنول سیبال نے ایکس پر لکھا کہ بظاہر یہ انڈیا کے لیے منفی پیش رفت ہے، کیونکہ اس معاہدے کے متن میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ انڈیا کو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات، اسرائیل، یونان اور قبرص کے ساتھ مزید امکانات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہو گی اور افغانستان کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ جبکہ ہمیں ایران سے مشاورت کرنی چاہیے۔
انڈین صحافی اور تجزیہ کار پروین ساہنی نے ایکس پر لکھا کہ یہ تینوں ممالک مغربی ایشیا سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد ایک سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دینے کی غیر رسمی کوششیں کر رہے تھے، لیکن اب اس معاہدے کو باضابطہ شکل دے دی گئی ہے۔ یہاں کلیدی اصطلاح ’اجتماعی تحفظ‘ استعمال کی گئی ہے۔
ایس شرما نامی صارف نے لکھا کہ اب مشرقِ وسطیٰ میں اصل کھیل شروع ہو گیا ہے۔ کیا ایران اس تین رکنی اتحاد کی مشترکہ طاقت کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ اور انڈیا اس خطرے سے کیسے نمٹے گا؟