لامرد پر پھینکے گئے بموں میں فاسفورس استعمال کیا گیا تھا: ایرانی وزیرِ صحت کا دعویٰ
ایران کی وزارتِ صحت کے تحقیقاتی شعبے کے نائب سربراہ کا کہنا ہے کہ صوبہ فارس کے شہر لامرد پر بمباری کے حوالے سے ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پھینکے گئے بموں میں فاسفورس استعمال کیا گیا تھا۔
شاہین آخوندزادہ کا کہنا ہے کہ ایرانی وزارتِ صحت نے اس بمباری کے متعلق تحقیقات کی ہیں اور امید ہے کہ ان کے نتائج بین الاقوامی فورمز پر شائع کیے جائیں گے۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ لامرد پر حملے میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارتِ صحت کے عہدیدار کے مطابق بموں میں فاسفورس شامل ہونے کے باعث ’زخم دائمی نوعیت اختیار کر سکتے ہیں اور انھیں بھرنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔‘
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے پہلے روز، لامرد کے علاقے ایثار میں کئی رہائشی عمارتوں کے علاوہ شہر کے شہید نعیمی سپورٹس ہال کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ لامرد کے گورنر کے مطابق حملے کے وقت سپورٹس ہال میں طلبہ کا ایک گروپ مشق کر رہا تھا۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔