آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کی ویڈیو میں نظر آنے والا مبینہ جیمر کیا ہے اور یہ کس طرح کام کرتا ہے؟
- مصنف, روحان احمد
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
کالعدم شدت پسند گروہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں انھیں ایک پہاڑی علاقے میں دیکھا جا سکتا ہے۔
عمر میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں نور ولی محسود کے ساتھ ایک اور شخص کو چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس نے کمر پر ایک بیگ پہنا ہوا ہے اور اس میں سے چار اینٹینے نکلے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
اس میڈیا ونگ کا نام افغان طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے نام پر رکھا گیا ہے اور یہ میڈیا گروپ ٹی ٹی پی کی نام نہاد ’وزارتِ اطلاعات و نشریات‘ کے ماتحت کام کرتا ہے۔
ایکس پر سٹریٹکام بیورو نامی اکاؤنٹ نے عمر میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نور ولی محسود کا ایک محافظ چین میں تیار شدہ فریکوئنسی جیمر پہنے ہوئے ہے۔
بی بی سی اردو اس جیمر کو شناخت نہیں کر سکا ہے۔ تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے جیمرز مارکیٹ سے باآسانی خریدے جا سکتے ہیں۔
ریسرچ فرم جیوپولیٹیکل انسائیٹس کے سی ای او فہد نبیل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’میں اس جیمر کے چینی ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق یا تردید تو نہیں کر سکتا، لیکن ایسے آلات کمرشلی آسانی سے مل جاتے ہیں۔‘
فہد نبیل کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں حالیہ مہینوں میں ڈرونز کا استعمال بھی دیکھنے میں آیا ہے اور یہ تمام چیزیں باآسانی خریدی جا سکتی ہیں۔
’اگر یہ چیزیں آپ کے ملک میں نہ ہوں تو یہ کسی اور ملک سے بھی منگوائی جا سکتی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوشل میڈیا پر جس چینی جیمر کی بات ہو رہی ہے اس کی آن لائن قیمت 1800 سے 2000 ڈالر ہے۔
ویڈیو میں نظر آنے والے آلے کے بارے میں ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ماضی میں کچھ شدت پسند گروہ یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ انھوں نے خیبر پختونخوا پولیس کے زیر استعمال ڈرون جیمرز حاصل کیے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں نظر آنے والا جیمر وہ نہیں جو پاکستانی فوج یا دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے استعمال کرتے ہیں۔
سٹریٹیجک ویژن انسٹٹیوٹ سے منسلک ہتھیاروں پر تحقیق کرنے والے محقق حماد ولید نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’پاکستانی فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے بنائے گئے جیمرز اور سفرہ اینٹی ڈرون جیمرز استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہ جیمرز نہیں ہیں جو ٹی ٹی پی کی ویڈیو میں نظر آئے ہیں۔‘
وہ یقین سے کہتے ہیں کہ ویڈیو میں نظر آنے والا جیمر انھوں نے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں سے تو نہیں چھینا ہوگا اور نہ ہی ’یہ مقامی طور پر بنایا جاتا ہے۔‘
ہتھیاروں پر تحقیق کرنے والے محقق نے مزید کہا کہ یہ یقین سے بتانا تو مشکل ہے کہ یہ کس کا تیار کردہ جیمر ہے لیکن ’دیکھنے میں یہ ڈی ایس جی (چینی کمپنی کا تیار کردہ) جیمر ہی لگ رہا ہے، جیسے کہ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ دعویٰ کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے وضاحت کی کہ اس کی شکل دیگر ریڈیو فریکوئنسی جیمرز سے بھی مماثلت رکھتی ہے۔
پاکستان میں سیاسی اور عسکری حکام متعدد بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد اسلحہ پیچھے رہ گیا تھا وہ کالعدم ٹی ٹی پی سمیت متعدد شدت پسند گروہوں کے ہاتھ لگ چکا ہے۔ خود امریکی صدر ٹرمپ بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں۔
تاہم حماد ولید کہتے ہیں کہ ’چینی ریڈیو فریکوئنسی جیمرز بلیک مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہوتے ہیں۔‘
ان جیمرز کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے؟
حماد ولید کہتے ہیں کہ ’اس بیگ پیک نما جیمرز کے استعمال کا مقصد چھوٹے ڈرونز یا خاص طور پر کواڈکاپٹرز سے تحفظ ہوتا ہے۔‘
’یہ جیمرز دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں: سیلولر ڈیوائسز کو جام کرنا، کسی آنے والے ڈرون کی حرکت پر نظر رکھنا یا آس پاس دیگر ڈیوائسز کی کمیونیکیشن کو جام کرنا۔‘
تاہم وہ کہتے ہیں کہ ویڈیو میں نظر آنے والی ڈیوائسز کی رینج اور بڑے ڈرونز کے خلاف تحفظ کی صلاحیت محدود ہوتی ہیں۔