آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’جب بھی پڑھنے بیٹھتا، میرا دل صرف فحش ویب سائٹس کھولنے کو کرتا‘: سابق اولمپیئن کی پورن کی عادت سے چھٹکارا پانے کی کہانی
- مصنف, مایا دیویس، سمیتا مونداساد، اینا کراسلی
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
سابق برطانوی غوطہ خور ٹیم کے رکن فریڈی ووڈورڈ اس وقت نوعمر تھے جب انھیں احساس ہوا کہ انھیں فحش مواد کے حوالے سے ایک مسئلہ ہے۔
انھوں نے بتایا: ’جب بھی میں پڑھائی کے لیے بیٹھتا تھا، میرا دل صرف انھی ویب سائٹس کھولنے کو چاہتا تھا۔‘
12 سال کی عمر تک، وہ باقاعدگی سے ان ویب سائٹس پر جاتے تھے جنھیں وہ ’ہارڈکور‘ قرار دیتے ہیں۔
جوں جوں ان کا کیریئر آگے بڑھا، جس میں اولمپکس میں اپنے ملک کی نمائندگی بھی شامل تھی، وہ روزانہ کئی بار بالغوں کے لیے تیار کردہ مواد دیکھتے تھے۔
اب 30 سال کی عمر میں، اس اولمپین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آخرکار انھوں نے اپنی سوچ میں تبدیلی لا کر اس عادت پر قابو پایا۔
انھوں نے کہا: ’آپ وہ شخص نہیں ہو سکتے جو فحش مواد دیکھنا چھوڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔ آپ کو وہ شخص بننا ہوتا ہے جو فحش مواد دیکھتا ہی نہیں، اور اس کے لیے بہت محنت درکار ہوتی ہے۔‘
تو آپ کیسے پہچان سکتے ہیں کہ فحش مواد دیکھنے کی عادت کب غیر صحت مند ہو جاتی ہے، اور آپ اس سے کیسے نمٹ سکتے ہیں؟
اگرچہ یہ ایک عام اصطلاح بن چکی ہے، لیکن ’فحش مواد کی لت` بذات خود کوئی باضابطہ طور پر تسلیم شدہ طبی کیفیت نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنسی اور تعلقات کے ماہرِ نفسیاتی معالج سلوا نیوس کہتے ہیں: ’ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو فحش مواد کے حوالے سے مسئلہ درپیش ہے۔‘ ان کے مطابق ان کی نجی پریکٹس میں آنے والے مریضوں کے درمیان یہ مسئلہ زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ آیا یہ واقعی ایک ’لت‘ ہے، جیسا کہ نشہ آور ادویات کے ساتھ ہو سکتی ہے، اور اس سے نمٹنے کا بہترین طریقہ کیا ہے۔
آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی سے وابستہ محقق کیمبل اِنس کہتے ہیں کہ اب زیادہ تر معالج اس بات پر متفق ہیں کہ لوگ ’فحش مواد کے مسئلہ بن جانے والے استعمال‘ کا شکار ہو سکتے ہیں، لیکن اس کی وجوہات اور علاج کے بارے میں ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان افراد کے لیے علامات یا علاج کی کوئی حتمی فہرست موجود نہیں جو یہ فکر رکھتے ہوں کہ شاید وہ اس کے عادی ہو چکے ہیں۔
کچھ معالج اسے جبری جنسی رویے کی خرابی کے طور پر دیکھتے ہیں، جو عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے تسلیم شدہ کیفیت ہے۔
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر پاؤلا ہال، جو لارل سینٹر میں نجی طور پر کام کرتی ہیں، جو جنسی اور فحش مواد کی لت کے لیے ایک مرکز ہے، اور ایک غیر منافع بخش سروس بھی چلاتی ہیں، وضاحت کرتی ہیں کہ یہ ایسا جنسی رویہ ہے جو ’قابو سے باہر محسوس ہوتا ہے، شدید ذہنی پریشانی پیدا کرتا ہے، اور بار بار قابو پانے کی کوششوں کے باوجود قابو میں نہیں آتا۔‘
این ایچ ایس یہ ضرور کہتا ہے کہ ’تقریباً کسی بھی چیز‘ بشمول جنسی عمل کی لت لگنا ممکن ہے۔
’مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس لت پر کیسے قابو پاؤں‘
تو غیر صحت مند فحش مواد دیکھنے کی عادت کی نشانیاں کیا ہیں؟
نیوس کہتے ہیں: ’یہ تعداد یا مدت کے بارے میں نہیں، بلکہ اس نقصان کے بارے میں ہے جو یہ آپ کی زندگی کو پہنچا رہا ہے۔‘
ان کے مطابق، یہ اس صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے کہ آپ ساری رات فحش مواد دیکھنے کی وجہ سے کام پر دیر سے پہنچیں، اسے اپنے پیاروں کے ساتھ وعدوں پر ترجیح دیں، یا دفتر میں بیٹھ کر اسے دیکھیں۔
اِنس مزید کہتے ہیں کہ اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا بھی اہم ہے کہ کیا آپ کوشش کرنے کے باوجود اپنی عادت کم یا تبدیل کر سکتے ہیں، اور کیا آپ اسے کم پسند کرنے کے باوجود دیکھتے رہتے ہیں؟
کریگ، جو خود کو بحالی کے عمل سے گزرنے والا فرد قرار دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہی قابو کھو دینا کووڈ-19 وبا کے دوران، جب وہ تیس کی درمیانی عمر میں تھے، ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔
وہ کہتے ہیں: ’مجھے نہیں لگتا کہ لاک ڈاؤن سے پہلے یہ میرے لیے اتنا بڑا مسئلہ بنا تھا، لیکن اضافی دباؤ اور تنہائی نے اسے مزید بڑھا دیا۔‘
وہ یاد کرتے ہیں: ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس لت پر کیسے قابو پاؤں۔‘
اِنس خبردار کرتے ہیں کہ بہت سے لوگ سماجی، اخلاقی یا مذہبی وجوہات کی بنا پر اپنے فحش مواد کے استعمال پر پریشانی محسوس کر سکتے ہیں، لیکن اس کا لازماً مطلب یہ نہیں کہ ان کی عادت قابو سے باہر ہے۔
نیوس اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’کوئی شخص ہفتے میں تین بار صرف پانچ منٹ کے لیے فحش مواد دیکھ سکتا ہے، لیکن چونکہ اسے بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے، وہ سوچتا ہے: ’میں عادی ہوں‘۔‘
’جبکہ کوئی دوسرا شخص اسے روز دیکھتا ہو اور سمجھے کہ سب ٹھیک ہے۔‘
اسی طرح ہال اپنے مریضوں کو ترغیب دیتی ہیں کہ وہ ’یا تو میں عادی ہوں یا نہیں‘ والی سوچ سے باہر نکلیں اور اس بات پر توجہ دیں کہ یہ ان کی تعلیم، تعلقات اور زندگی کے دیگر معاملات کو کتنا متاثر کر رہا ہے۔
ٹی وی میزبان اوری اوڈوبا نے گزشتہ سال اپنی 30 سالہ فحش مواد کی لت کے بارے میں کھل کر بات کی، جو نو سال کی عمر میں شروع ہوئی تھی۔ ان کے مطابق یہ ’اندر ہی اندر میری زندگی تباہ کر رہی تھی۔‘
انھوں نے گزشتہ سال ’وی نیڈ ٹو ٹاک‘ پوڈکاسٹ میں عادت پر قابو پانے سے پہلے بتایا: ’بہت کم عمری سے یہ وہ چیز تھی جس کی طرف میں مختلف صدمات کے ردعمل کے طور پر رجوع کرتا تھا۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ تاحال یہ واضح نہیں کہ ایسے رویے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔
اِنس کہتے ہیں کہ ’سائنسی تحقیق یقیناً بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، لیکن ابھی بہت لمبا سفر طے کرنا باقی ہے۔‘
ہال کے مطابق یہ چیز آپ کو زندگی کے دیگر مسائل، مثلاً کام کاج کے دباؤ یا تعلقات کے خاتمے سے توجہ ہٹانے کے طور پر شروع ہو سکتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ صدمہ، بچپن میں پیش آنے والے مسائل، یا اپنے بارے میں منفی تصورات جیسے ’بنیادی عوامل‘ کی وجہ سے اس کا استعمال کم کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
کریگ اب 40 سال کے ہیں اور کہتے ہیں کہ فحش مواد زندگی کے ہر نشیب و فراز میں ایک ’سہارا‘ بن گیا تھا۔
وہ یاد کرتے ہیں کہ انھیں محسوس ہوتا تھا کہ وہ اندر سے ٹوٹ چکے تھے اور نکلنے کا کوئی راستہ نہیں دکھتا تھا۔ بالآخر اس عادت پر قابو پانے کے عمل نے انھیں مختلف انداز میں سوچنے میں مدد دی۔
ہال ڈیجیٹل ماحول کے اثرات اور الگورتھمز کے ذریعے لوگوں کو ایک ’منصوبہ بندی کے تحت عادی بنائے جانے‘ کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔
وہ اور نیوس دونوں کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ فحش مواد صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے نیوس کے مطابق اس سے لوگوں کو ’بالکل وہی چیز تخلیق کرنے‘ کی آزادی ملتی ہے جیسا وہ چاہتے ہیں۔
’ایک وقت میں ایک قدم اٹھانا پڑتا ہے‘
اگر آپ بھی اپنے فحش مواد کے استعمال کے بارے میں فکر مند ہیں تو اِنس کسی مستند اور تجربہ کار ماہر سے مدد لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ان کے مطابق، رجسٹرڈ ماہرِ نفسیات خاص طور پر مددگار ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ آپ کی ذہنی صحت کو وسیع تناظر میں سمجھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ایک ساتھ کئی ذہنی مسائل کا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
کریگ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ انھیں اس وقت تک اندازہ نہیں تھا کہ ان کا فحش مواد کا استعمال غیر صحت مند ہو سکتا ہے جب تک کہ انھوں نے اپنی ذہنی صحت کے لیے تھراپی شروع نہیں کی۔
وہ کہتے ہیں، ’مجھے معلوم ہوا کہ فحش مواد کی عادت ایک معاون عنصر تھی۔‘
ان کے معالج نے انھیں جنسی لت کے لیے 12 مراحل پر مشتمل پروگرام میں شامل ہونے کا مشورہ دیا۔ یہ الکوحولکس اینانیمس کی جانب سے تیار کردہ بحالی ماڈل ہے۔ کریگ اس پروگرام کو اپنی بحالی کا کریڈٹ دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اس عادت سے چھٹکارا پانا میرے لیے آسان اور سیدھا عمل نہیں تھا۔ کریگ کے مطابق انھیں لگتا ہے کہ وہ اب بہتر پوزیشن میں ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہوں کہ ایک وقت میں ایک قدم اٹھانا پڑتا ہے۔
اس وقت فحش مواد کے استعمال سے چھٹکارا پانے کے خواہشمند افراد کے لیے این ایچ ایس کی کوئی مرکزی اور مخصوص سروس موجود نہیں۔ کچھ مقامی سروسز اس سلسلے میں مدد فراہم کرتی ہیں اور آپ اپنے ڈاکٹر سے بھی اس بارے میں بات کر سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا علاج زیادہ تر نجی ماہرین، معاونتی گروہوں یا آن لائن اپنی مدد آپ کے ذرائع سے ہی ممکن ہے۔
اِنس مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے لیے مناسب مدد تلاش کرنے کے لیے اچھی طرح تحقیق کریں، اور ان آن لائن وسائل سے محتاط رہیں جو زیادہ تر عمومی نوعیت کا مشورہ فراہم کرتے ہیں۔
نیوس کے مطابق، بعض معالج اپنے مریضوں کو فحش مواد مکمل طور پر ترک کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ بعض انھیں اسے ’اپنی زندگی میں ایک عملی اور کارآمد انداز میں شامل کرنے‘ میں مدد دیتے ہیں۔
ہال کہتی ہیں کہ علاج کا ایک اہم حصہ اس رویے کے پیچھے کارفرما بنیادی عوامل کو سمجھنا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ آپ اپنے آلات پر بلاکنگ سافٹ ویئر انسٹال کرنے جیسے عملی اقدامات آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔
وہ مشورہ دیتی ہیں کہ ان حالات کو پہچانیں جب آپ فحش مواد دیکھنے کی طرف زیادہ مائل ہو سکتے ہیں، مثلاً جب آپ تناؤ میں ہوں یا اکیلے ہوں، اور پہلے سے منصوبہ بندی کریں کہ ایسے حالات میں پورن دیکھنے کے بجائے آپ کیا کر سکتے ہیں۔
تاہم ان کا ماننا ہے کہ این ایچ ایس کی جانب سے مزید مدد دستیاب ہونی چاہیے، خصوصاً ابتدائی مداخلت تاکہ اس سے قبل کہ فحش مواد کسی شخص کی زندگی پر حاوی ہو جائے اس لت پر قابو پایا جا سکے۔
محکمہ صحت و سماجی نگہداشت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ سن کر تشویش ہوتی ہے کہ بعض افراد بہت کم عمر میں فحش مواد کے عادی ہو جاتے ہیں۔
’یہ ان آن لائن حفاظتی قوانین کی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے جو ہم نے بچوں کو نقصان دہ مواد تک رسائی سے روکنے کے لیے نافذ کیے ہیں۔‘