طاقتور دکھائی دینے والے باڈی بلڈر کم عمری میں اچانک کیوں مر رہے ہیں؟

باڈی بلڈر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک مطالعے میں پایا گیا کہ پیشہ ور باڈی بلڈرز میں شوقیہ باڈی بلڈرز کے مقابلے میں اچانک دل بند ہونے سے ہونے والی موت کا خطرہ پانچ گنا سے بھی زیادہ تھا
    • مصنف, سٹیفنی روڈریگز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

اس ماہ کے آغاز میں برازیل کے معروف باڈی بلڈر اور فٹنس انفلوئنسر میلسن اراؤجو نے، حسبِ معمول، جم میں اپنی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ تصویر میں ان کی متاثر کن جسمانی ساخت نمایاں تھی، جس نے انھیں ناصرف ایک پیشہ ور باڈی بلڈر بلکہ ہزاروں مداحوں کا پسندیدہ فٹنس آئیکن بھی بنا دیا تھا۔

سرخ بنیان میں ملبوس اراؤجو اپنے غیر معمولی طور پر مضبوط بازوؤں کی نمائش کر رہے تھے، جو کسی سپر ہیرو کے جسم کا گمان دلاتے تھے۔

تاہم، چند ہی گھنٹوں بعد 35 سالہ اراؤجو اپنے گھر پر اچانک طبیعت بگڑنے کے بعد فوت ہو گئے۔

اگرچہ ان کی موت کی وجہ تاحال باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئی، لیکن وہ ان متعدد باڈی بلڈرز میں شامل ہیں جن کی کم عمری میں اچانک موت نے تشویش پیدا کر دی ہے۔

اسی سال مئی کے آخر میں برازیل کے ابھرتے ہوئے باڈی بلڈرز میں شمار ہونے والے 22 سالہ گیبریئل گینلی بھی اچانک دل بند ہو جانے کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے۔

اس سے قبل گذشتہ سال برازیل کے دو باڈی بلڈرز، جن کی عمریں 30 اور 40 برس کے درمیان تھیں، دل سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث فوت ہو گئے تھے۔ ان میں سے ایک کی موت تو باقاعدہ مقابلے کے دوران واقع ہوئی۔

ایسی اموات صرف برازیل تک محدود نہیں ہیں۔ دنیا بھر میں بھی متعدد باڈی بلڈرز کی اچانک موت کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان میں امریکی باڈی بلڈر ڈلاس میک کارور شامل ہیں، جو 2017 میں محض 26 برس کی عمر میں فوت ہو گئے تھے، جبکہ جرمن فٹنس انفلوئنسر اور باڈی بلڈر جو لنڈنر 2023 میں 30 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔

یہ واقعات ایک اہم سوال کو جنم دیتے ہیں: آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ بظاہر انتہائی مضبوط، صحت مند اور فٹ نظر آنے والے بعض باڈی بلڈرز نسبتاً کم عمر میں اچانک موت کا شکار ہو رہے ہیں؟

ڈلاس میک کارور

،تصویر کا ذریعہMaddie Meyer/Getty Images

،تصویر کا کیپشنتصویر میں ڈلاس میک کارور کو مارچ 2017 میں اوہائیو کے کولمبس میں منعقدہ آرنلڈ کلاسک مقابلے کے دوران دیکھا جا سکتا ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

باڈی بلڈنگ سے وابستہ خطرات پر 2025 کے ایک مطالعے میں روشنی ڈالی گئی، جس میں محققین نے 2005 سے 2020 کے درمیان اس کھیل کی گورننگ باڈی کے زیر انتظام مقابلوں میں حصہ لینے والے تقریباً 20,000 شوقیہ اور پیشہ ور باڈی بلڈرز کا جائزہ لیا۔

یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں معلوم ہوا کہ پیشہ ور باڈی بلڈرز میں اچانک دل بند ہونے سے موت کا امکان شوقیہ مقابلہ کرنے والوں کے مقابلے میں پانچ گنا سے بھی زیادہ تھا۔

اچانک دل بند ہونا نوجوان اور صحت مند افراد میں نسبتاً نایاب ہوتا ہے اور عموماً پہلے سے موجود قلبی بیماریوں سے منسلک ہوتا ہے۔

مطالعے میں مجموعی طور پر 121 اموات کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 46 کو اچانک دل بند ہونے سے ہونے والی اموات قرار دیا گیا۔

موت کی اوسط عمر 45 سال تھی، لیکن فعال طور پر مقابلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں میں یہ صرف 34.7 سال تھی۔

اٹلی کی یونیورسٹی آف پادووا سے وابستہ اور مطالعے کے مرکزی مصنف ڈاکٹر مارکو ویکیاتو نے کہا کہ باڈی بلڈرز کی اموات کے پیچھے کئی عوامل ہو سکتے ہیں، جن میں کارکردگی بڑھانے والی ادویات کا ’وسیع استعمال‘، مقابلوں کے لیے تیزی سے وزن کم کرنا اور ’انتہائی سخت طاقت کی تربیت‘ شامل ہیں۔

ایم آر آئی اسکین

،تصویر کا ذریعہBispo & Zago, 2024, Arquivos Brasileiros de Cardiologia (CC BY)

،تصویر کا کیپشنایم آر آئی اسکین ایک صحت مند کھلاڑی کے دل (دائیں جانب) اور ہائپرٹرافک کارڈیو مایوپیتھی (بائیں جانب) سے متاثرہ دل کے درمیان فرق ظاہر کر سکتے ہیں۔ سرخ تیر بائیں وینٹریکل کی دیوار کے موٹے ہونے کو ظاہر کرتا ہے

سنہ 2025 میں جریدہ سرکولیشن میں شائع ہونے والے ڈنمارک کے محققین کے ایک اور مطالعے میں 1,189 ایسے مردوں کا جائزہ لیا گیا جو اینابولک سٹیرائڈ استعمال کرتے تھے، اور ان کا موازنہ تقریباً 60,000 عام مردوں سے 11 برس تک کیا گیا۔

اس مطالعے میں معلوم ہوا کہ سٹیرائڈ استعمال کرنے والوں میں کارڈیو مایوپیتھی، یعنی دل کے پٹھوں کو کمزور کرنے والی بیماری، کا خطرہ تقریباً نو گنا زیادہ تھا۔

دل کے دورے کا خطرہ تین گنا زیادہ تھا، جبکہ دل کی ناکامی کا خطرہ تین گنا سے بھی بڑھ کر تھا۔

مردوں میں دیگر صحت کے مسائل، جیسے سپرم کی تعداد میں کمی اور جنسی کارکردگی میں دشواری کے علاوہ، اینابولک سٹیرائڈ بلڈ پریشر بڑھا سکتے ہیں، شریانوں میں پلاک جمع ہونے کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں اور دل کی ساخت میں تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔

درحقیقت، یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والے مطالعے میں محققین نے فوت شدہ باڈی بلڈرز کی پوسٹ مارٹم رپورٹس کا جائزہ لیا۔

متعدد معاملات میں ان کے دل بڑے پائے گئے اور بائیں وینٹریکل کی موٹائی میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور دل کی ناکامی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

کئی کیسوں میں ٹاکسیولوجیکل معائنوں اور عوامی رپورٹس نے اینابولک ادویات کے غلط استعمال کی نشاندہی کی، جن کی عام طور پر پوسٹ مارٹم کے دوران جانچ نہیں کی جاتی۔

کم عمری میں وفات پانے والے باڈی بلڈرز کے پوسٹ مارٹم میں اکثر دل کا غیر معمولی طور پر بڑا ہونا سامنے آیا ہے۔

سب سے زیادہ معروف واقعات میں سے ایک میں، امریکی باڈی بلڈر ڈلاس میک کارور، جو اس کھیل کے بڑے ستاروں میں شمار ہوتے تھے، 2017 میں 26 برس کی عمر میں فوت ہو گئے۔

پوسٹ مارٹم میں معلوم ہوا کہ ان کے دل کا وزن 833 گرام (1.8 پاؤنڈ) تھا، جو ایک بالغ مرد کے معمول کے دل کے وزن سے دو گنا سے بھی زیادہ تھا۔

سنہ 2022 کے ایک جائزے میں معلوم ہوا کہ امریکی باڈی بلڈرز کے دلوں کا اوسط وزن معمول سے تقریباً 74 فیصد زیادہ تھا اور بائیں وینٹریکل کی دیواریں توقع سے 125 فیصد تک زیادہ موٹی تھیں۔

ایک الگ مطالعے میں محققین نے اٹلی اور سپین کے ان باڈی بلڈرز کی فرانزک رپورٹس کا معائنہ کیا جن کا تعلق اینابولک سٹیرائڈ کے استعمال سے تھا۔

متعدد معاملات میں 20 سال کی عمر کے نوجوان کھلاڑیوں کے دل بڑے پائے گئے، دل کے پٹھے شدید طور پر موٹے تھے، اور کورونری شریانوں کی سنگین بیماریاں موجود تھیں۔

24 سالہ ایک باڈی بلڈر کی مرکزی کورونری شریانوں میں 75 فیصد سے زیادہ رکاوٹ پائی گئی، حالانکہ اس کے خاندان میں دل کی بیماری کی کوئی معلوم تاریخ نہیں تھی۔

اینڈوکرائنولوجسٹ اور سپورٹس فزیشن کلیٹن ماسیڈو کہتے ہیں: ’دل بھی دوسرے پٹھوں کی طرح ایک پٹھا ہی ہے۔‘

’میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ میں کسی مریض کے بائسپس دیکھ کر ہی اس کے دل کے سائز کا اندازہ لگا سکتا ہوں، کیونکہ یہ جسم کے دوسرے پٹھوں کے ساتھ ہی بڑھتا ہے۔‘

سٹیرائڈ کے بغیر کی جانے والی ویٹ ٹریننگ بھی دل کے بڑھنے کا باعث بن سکتی ہے، جو جسم کی ایک قدرتی اور معمول کی موافقت ہوتی ہے۔

لیکن برازیلین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے باہیا چیپٹر کے صدر لوئز ایڈوارڈو فونٹیلیس رِٹ کے مطابق جب سٹیرائڈ کا استعمال شدید ویٹ ٹریننگ کے ساتھ کیا جاتا ہے تو دل نہ صرف بڑا ہوتا ہے بلکہ صحیح طریقے سے سکڑنے کی اپنی صلاحیت بھی کھو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کیفیت دل کی ناکامی تک پہنچ سکتی ہے اور پھر ایسے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے جہاں واپسی ممکن نہیں رہتی۔‘

تاہم بعض معاملات میں دل کی یہ موٹائی موروثی وجوہات کی بنا پر بھی ہو سکتی ہے۔

لوئز ایڈوارڈو رِٹ کہتے ہیں کہ ’یہاں ایک مبہم سا علاقہ موجود ہے۔ یہ جینیاتی طور پر متعین دل کی بیماری ہو سکتی ہے۔ یہ اینابولک سٹیرائڈ سے متعلق ہو سکتی ہے۔ یہ ٹریننگ سے متعلق ہو سکتی ہے۔ یا پھر یہ تینوں عوامل کا مشترکہ نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔‘

اینابولک سٹیرائڈ استعمال کرنے کا کوئی محفوظ طریقہ نہیں

روڈریگو گوئیس

،تصویر کا ذریعہRodrigo Góes

،تصویر کا کیپشنروڈریگو گوئیس، جو ایک ماہر غذائیت بھی ہیں، نے 26 برس کی عمر میں فلوریڈا میں منعقدہ ایک قدرتی باڈی بلڈنگ مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی

سابق باڈی بلڈر روڈریگو گوئیس نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا کہ وہ 30 برس کی عمر تک قدرتی طریقے سے مقابلوں میں حصہ لیتے رہے، جس کے بعد انھوں نے طبی نگرانی میں سٹیرائڈ کے ’سائیکل‘ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

’سائیکلنگ‘ سے مراد وہ مدت ہے، جو عموماً کئی ہفتوں پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں استعمال کنندہ اینابولک سٹیرائڈ لیتے ہیں اور پھر جسم کو بحال ہونے کا موقع دینے کے لیے ان کا استعمال روک دیتے ہیں۔

گوئیس کہتے ہیں کہ ’جسم پر اس کے اثرات حیرت انگیز ہوتے ہیں۔ آپ قدرتی انداز کی نسبت بہت تیزی سے عضلات بناتے ہیں۔ آپ زیادہ دبلے دکھائی دیتے ہیں اور آپ کے عضلات زیادہ تیزی سے بحال ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہ اتنا پُرکشش محسوس ہوتا ہے۔‘

تاہم طبی نگرانی میں محتاط خوراکیں لینے کے باوجود گوئیس کو بال گرنے، بے چینی، بے خوابی اور رات کو زیادہ پسینہ آنے جیسے مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔

لیکن ان کے مطابق سب سے سنگین اثرات نفسیاتی تھے۔

’میں انجیکشنز کے اس پورے معمول کے ساتھ کبھی مطمئن محسوس نہیں کرتا تھا۔ ایک لحاظ سے مجھے لگتا تھا کہ میں کسی نشے کا عادی ہوں۔ یہ کہنا مشکل ہے، لیکن مجھے محسوس ہوتا تھا کہ میں کچھ غلط کر رہا ہوں۔‘

گوئیس اب سٹیرائڈ کے غلط استعمال کے خلاف مہم چلاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اینابولک سٹیرائڈ استعمال کرنے کا کوئی بھی محفوظ طریقہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر صرف نقصان کو محدود کر سکتے ہیں، لیکن نقصان تو ہوگا ہی۔‘

گوئیس

،تصویر کا ذریعہRodrigo Góes

،تصویر کا کیپشنگوئس اب سٹیرائڈز کے غلط استعمال کے خلاف مہم چلا رہے ہیں

’میں کسی کے پٹھے دیکھ کر ہی سمجھ سکتا ہوں‘

سٹیرائڈ کے باعث ہونے والے صحت کے نقصانات کی پیمائش میں ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ بہت سے ممالک سٹیرائڈ سے متعلق اموات کا باقاعدہ ریکارڈ نہیں رکھتے۔

برازیل میں اینابولک سٹیرائڈ سے وابستہ اموات کی شرح کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

بہت سے دوسرے ممالک بھی اموات کے معاملات میں سٹیرائڈ کے استعمال کو بطور مؤثر عامل باقاعدگی سے درج نہیں کرتے۔

عموماً اموات کو ان کے فوری سبب، جیسے دل کا دورہ، فالج یا کارڈیو مایوپیتھی، کی بنیاد پر ریکارڈ کیا جاتا ہے، نہ کہ کارکردگی بڑھانے والی ادویات کے ممکنہ کردار کی بنیاد پر۔

طبی معائنہ کاروں کے مطابق سٹیرائڈ کا استعمال اکثر معلوم نہیں ہو پاتا، کیونکہ اینابولک سٹیرائڈ ان ہارمونز سے بہت مشابہ ہوتے ہیں جو جسم قدرتی طور پر پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے موت کے بعد ان کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔

ان تمام عوامل کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ حقیقت میں کتنی اموات کارکردگی بڑھانے والی ادویات سے جڑی ہو سکتی ہیں۔

ماسیڈو کہتے ہیں کہ ’میں روزانہ اس سے نمٹتا ہوں۔ میں کسی کے بائسپس دیکھ کر ہی سمجھ سکتا ہوں۔‘

’بدقسمتی سے، جب میں ایسے بائسپس دیکھتا ہوں تو مجھے اکثر اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس شخص کا دل پہلے ہی متاثر ہو چکا ہے یا متاثر ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اکثر اس کی قیمت بعد میں چکانی پڑتی ہے۔‘

اضافی رپورٹنگ: لوئیس باروشو