سوات میں کبل پولیس سٹیشن کے باہر خودکش دھماکہ، سات پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد ہلاک

کبل پولیس سٹیشن میں ہلاک ہونے والے اہلکار ہاشم خان، امین اللہ، وطن خان، اور خالد

،تصویر کا ذریعہSwat Police

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو
    • مقام, پشاور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں سات پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سوات پولیس کے ترجمان ناصر اقبال نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی ایف آئی آر تھانہ سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) میں درج کر دی گئی ہے۔

کبل پولیس سٹیشن کے باہر یہ دھماکہ اتوار کی شام اُس وقت ہوا جب سوات میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے خلاف مقامی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا تھا۔

کبل ریجن کی ڈپٹی کمشنر عائشہ ناصر کے مطابق دھماکہ شام تقریباً چھ بجے ہوا جب ایک خودکش بمبار نے مرکزی پولیس ہیڈ کوارٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

اُن کے بقول جب پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے اپنے جسم سے بندھے دھماکہ خیز مواد کو اُڑا دیا جس سے پولیس اہلکاروں سمیت متعدد شہری ہلاک ہو گئے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے خودکش دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بہادر پولیس جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا۔

پاکستان کے صدر آصف زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کبل خودکش دھماکے اور اس میں ہونے والی اموات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔‘

Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مالاکنڈ کے ریجنل پولیس آفیسر سید فدا حسن شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ اس پولیس سٹیشن میں دیگر سرکاری دفاتر بھی موجود ہیں۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک اے ایس آئی اور چار کانسٹیبل شامل ہیں۔

پولیس سٹیشن کے قریب اس احتجاجی مظاہرے کا اہتمام امن پاسون کی جانب سے کیا گیا تھا۔ سنیچر کو اس حوالے سے وضاحت بھی جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پاسون کو این او سی نہیں دیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب سوات میں دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہو، اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر مقامی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے جلسوں کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔

’احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی تھی‘

کبل میں ’امن مارچ‘ سے قبل ضلعی انتظامیہ اور سوات پولیس کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں کبل چوک میں معقد ہونے والے جلسے کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔

انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس جلسے کے لیے نہ تو کوئِی این او سی جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی فریق نے این او سی کے لیے درخواست جمع کروائی۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ جلسہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کیے جانے کا خدشہ موجود ہے۔ لہٰذا عوام الناس کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس غیر قانونی جلسے میں شرکت سے گریز کریں۔

Swat

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ

پاکستانی فوج کے ترجمان نے جمعے کو بتایا تھا کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک عسکریت پسندوں کے حملوں اور اس کے بعد کیے جانے والے فوجی آپریشنز میں 819 سکیورٹی اہلکار اور عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس واقعے سے قبل 30 جولائی کو عسکریت پسندوں نے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیس کی ایک چوکی پر حملہ کیا تھا جس کے بعد ہونے والے آپریشن میں ایک ڈی ایس پی سمیت کم از کم 10 پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

مقامی پولیس کے مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران سٹی پولیس آفیسر (ڈی ایس پی) دیار خان نو دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ ہلاک ہوئے۔

بعد ازاں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) طارق حبیب نے بتایا کہ حملے اور آپریشن کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت 10 پولیس اہلکار ہلاک اور ڈی ایس پی مجاہد حسین سمیت 18 دیگر افراد زخمی ہوئے۔