خامنہ ای کے بعد ایران میں ٹرمپ کو قتل کرنے کے بیانیے کی گونج کیوں سنائی دے رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک ہفتے پر محیط تدفین کی تقریبات معمول کے سوگ سے کچھ زیادہ تھیں اور اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف انتقام کے لیے بڑھتے ہوئے اور منظم مطالبے دیکھنے میں آئے۔
سیاسی قیادت اور مذہبی حلقے خامنہ ای کی موت کے ذمہ دار سمجھے جانے والوں سے بدلہ لینے کو ایک قومی فریضہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ اس قسم کی گفتگو میڈیا کے منظرنامے پر غالب رہی ہے۔
مذہبی عقائد، ملکی سیاست اور سیاسی پیغام رسانی کے اس امتزاج نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ دھمکیاں خامنہ ای کے بعد ایران کی پالیسیوں، شیعہ نظریے کے اثر و رسوخ اور امریکہ کے ساتھ مستقبل میں بہتر تعلقات کے امکانات کے بارے میں کیا بتاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انتقام مرکزی موضوع کیوں بن گیا؟
جب ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کے جنازے کے بعد عوامی طور پر خاموشی توڑی، تو ان کا پیغام مفاہمت یا کئی ماہ کی جنگ کے بعد تعمیرِ نو پر نہیں، بلکہ انتقام پر مرکوز تھا۔
11 جولائی کو جاری کیے گئے ایک بیان میں، جو ایک ہفتے تک جاری رہنے والی تدفینی تقریبات کے اختتام کے ایک دن بعد سامنے آیا اور جن میں وہ خود شریک نہیں ہوئے تھے، مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کے راستے پر چلتے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’آپ کے پاک خون اور ان دونوں جنگوں کے تمام شہدا کے خون کا بدلہ ان مجرم اور رسوا قاتلوں سے لیں گے۔‘
انھوں نے اس انتقام کو ’ہماری قوم کی خواہش‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے ’یقینی طور پر پورا کیا جانا چاہیے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں، وہ ’کبھی پُرامن موت نہیں پائیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کے نئے سپریم لیڈر کی جانب سے آنے والا یہ بیان محض اپنے والد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس بیانیے کی عکاسی کرتا تھا جو تدفین کی تقریبات کے دوران مسلسل مضبوط ہو رہا تھا۔
یہ تقریبات، جو شمال مشرقی شہر مشہد میں خامنہ ای کی تدفین پر اختتام پذیر ہوئیں، بار بار غم و سوگ کے اظہار کو سیاسی متحرک سازی کے ساتھ جوڑتی رہیں۔
سرکاری ٹی وی نے انتقام کے مطالبات پر مبنی نعروں کو نمایاں طور پر نشر کیا، جبکہ ویڈیوز میں سوگواروں کو ایسے بینرز اٹھائے ہوئے دکھایا گیا جن میں خامنہ ای کی موت کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کو ٹھہرایا گیا تھا۔
دیگر پلے کارڈز میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا، جس سے یہ پیغام مزید مضبوط ہوا کہ اب تہران کے ردِعمل کی بنیاد سفارت کاری نہیں بلکہ انصاف ہونا چاہیے۔
تدفین سے پہلے اور بعد کے دنوں میں سینئر سیاست دانوں، ارکانِ پارلیمان، جمعہ کے خطبا اور بااثر قدامت پسند میڈیا اداروں نے بھی اسی قسم کے بیانات دیے۔
اس سے یہ تاثر ملا کہ خامنہ ای کے بعد انتقام کو اسلامی جمہوریہ ایران کے بیانیے کا مرکزی حصہ بنانے کے لیے ایک منظم کوشش کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرمپ ایک علامت کیوں بن گئے ہیں؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اگرچہ ایرانی حکام اب بھی امریکہ اور اسرائیل دونوں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن خامنہ ای کی موت کے حوالے سے ہونے والی زیادہ تر عوامی گفتگو اب خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ پر مرکوز ہو گئی ہے۔
ایران کے سرکاری بیانیے میں ٹرمپ کو صرف ایک امریکی صدر کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بلکہ ایسے شخص کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس نے حالیہ جنگ کے آغاز میں ہونے والے اس حملے کی منظوری دی جس میں خامنہ ای قتل ہوئے۔
ایرانی سخت گیر حلقوں کی نظر میں ٹرمپ کے بارے میں ایک اور اہم بات ان کا ماضی کا کردار بھی ہے۔
ان کے مطابق ٹرمپ کے خلاف انتقام پہلے ہی واجب تھا کیونکہ 2020 میں بغداد میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں ایران کے طاقتور فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ٹرمپ کے حکم پر قتل کیا گیا تھا۔
ذمہ داری کو ایک شخص سے جوڑنے سے ایران کے لیے ایک بین الاقوامی سیاسی تنازع کو اخلاقی جدوجہد کی شکل دینا آسان ہو جاتا ہے۔ اس طرح ریاست کو ایک واضح شخصیت مل جاتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی وسیع شکایات اور اعتراضات کا اظہار کر سکتی ہے۔
اسی وجہ سے ٹرمپ اب ایک ایسے بڑے تنازعے کی علامت بن گئے ہیں جسے ایرانی حکام صرف ایک امریکی حکومت یا ایک ملک تک محدود نہیں سمجھتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا یہ دھمکیاں واقعی حکومتی پالیسی کی نشاندہی کرتی ہیں؟
تدفین کے جلسوں کے دوران سوگوار سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے جن پر ’یا لثارات الحسین‘ لکھا تھا۔
یہ شیعہ مسلمانوں کا ایک صدیوں پرانا نعرہ ہے، جس کا مطلب ہے ’اے حسین کے خون کا بدلہ لینے والو‘۔ یہ نعرہ کربلا کی جنگ میں امام حسین کی موت کے انتقام کی یاد سے جڑا ہوا ہے۔
اسی خیال کو آگے بڑھانے کے لیے ’یا لثارات الخامنہ ای‘ کے پلے کارڈز بھی اٹھائے گئے، جن کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ خامنہ ای کی موت کو بھی اسی مقدس جدوجہد کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے۔
1979 کے انقلاب کے بعد سے ایران مشکل حالات اور بحرانوں میں قربانی، مزاحمت اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کا پیغام دینے کے لیے بار بار ایسی مذہبی علامتوں اور نعروں کا استعمال کرتا رہا ہے۔
ایرانی رہنما ماضی میں بھی کشیدگی کے ادوار میں سخت اور دوٹوک بیانات دیتے رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی عملی پالیسی میں لچک بھی برقرار رکھتے تھے۔ تاہم موجودہ مہم اپنی شدت کی وجہ سے مختلف نظر آتی ہے۔
یہ صرف چند الگ الگ بیانات کا معاملہ نہیں لگتا، بلکہ ایک منظم بیانیہ دکھائی دیتا ہے۔ انتقام کے مطالبات نہ صرف جنازوں میں شریک لوگوں، ارکانِ پارلیمان اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے سامنے آئے ہیں بلکہ خود نئے سپریم لیڈر کی طرف سے بھی، جنھیں ملک کی اہم خارجہ پالیسیوں پر آخری فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔
اگرچہ حکام نے جان بوجھ کر یہ واضح نہیں کیا کہ کوئی کارروائی کب یا کیسے ہو سکتی ہے، لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کا مذہبی مقام اس بات کو زیادہ اہم بنا دیتا ہے۔
ان کی حیثیت ایسی ہے کہ وہ ٹرمپ کے خلاف موت کا فتویٰ جاری کر سکتے ہیں، اور یہی بات مستقبل میں کسی بھی انتقامی مہم کو زیادہ مذہبی جواز اور وزن دے سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کا سفارت کاری پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
ممکن ہے کہ یہ سخت بیانات ابھی باقاعدہ حکومتی پالیسی نہ ہوں، لیکن یہ پہلے ہی مستقبل میں ہونے والی سفارت کاری کے ماحول کو متاثر کر رہے ہیں۔
تدفینی تقریبات کے دوران انتقام کے مطالبات کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔
مثال کے طور پر قدامت پسند اخبار کیہان کے مدیر نے کہا کہ ایرانی حکام کو ٹرمپ کو ’قابلِ قتل‘ قرار دینا چاہیے اور امریکہ کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کی شرط یہ ہونی چاہیے کہ امریکی صدر کو مقدمے کے لیے ایران کے حوالے کیا جائے۔
اگرچہ یہ مطالبہ زیادہ تر ایک سیاسی بیان معلوم ہوتا ہے، لیکن پھر بھی یہ ایران کے بعض سیاسی حلقوں کے خیالات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس قسم کی باتیں امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی سیاسی قیمت بڑھا دیتی ہیں، جس سے مستقبل میں کسی بھی معاہدے کو قدامت پسند طبقوں کے سامنے قابلِ قبول بنانا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
سی این این نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے واشنگٹن کو آگاہ کیا تھا کہ ایران مبینہ طور پر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی ایک ممکنہ سازش تیار کر رہا ہے۔
اس معاملے پر امریکی صدر نے نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ پہلے ہی کسی بھی ایسے اقدام کے جواب میں امریکی ردعمل کی ہدایات دے چکے ہیں، جس میں بھرپور فوجی حملے شامل ہوں گے۔
11 جولائی کو انھوں نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر الگ سے یہ بھی کہا کہ اس مقصد کے لیے ’ایک ہزار میزائل تیار حالت میں موجود ہیں۔‘
یہ کہنا مشکل ہے کہ ایران کی موجودہ مہم زیادہ تر علامتی ہی رہے گی یا مستقبل میں پالیسی سازی پر بھی اثر ڈالے گی۔
تاہم نئے سپریم لیڈر کے واضح بیانات، مذہبی علامتوں کے استعمال اور اعلیٰ حکام و سرکاری میڈیا کی ہم آہنگ پیغام رسانی نے انتقام کو بعد از خامنہ ای ایران کے بیانیے کا ایک مرکزی حصہ بنا دیا ہے۔
اس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقبل میں تعلقات بہتر بنانے کے امکانات، جو پہلے ہی محدود ہیں، مزید کم ہو سکتے ہیں۔
























