ٹرمپ کا جنگ بندی کے ’خاتمے‘ کا اعلان: امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر نئے حملوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ایمی والکر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے جبکہ ایران کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر ’مفاہمتی یادداشت اور آبنائے ہرمز میں ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکی صدر نے انقرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کار بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں تاہم محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’دھونس اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا۔ ہم گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔‘
واضح رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکہ نے ایران میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا جس کے جواب میں پاسداران انقلاب نے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں سمیت 85 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
ان حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور برینٹ کروڈ کے ایک بیرل کی قیمت تین فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 76 ڈالر تک پہنچ گئی۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق ’بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں معصوم افراد پر مشتمل تجارتی عملے کو نشانہ بنانے کی ایران کو بھاری قیمت چکانی ہوگی۔‘
کارروائی مکمل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے سینٹ کام نے کہا کہ امریکی فوج نے ’ایرانی فضائی دفاعی نظام سمیت کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ساحلی ریڈار تنصیبات اور پاسداران انقلاب کی 60 سے زیادہ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔‘
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے دوران قشم جزیرے سمیت بندر عباس اور سرک پر حملے ہوئے جن میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم ہلاکتوں کی اطلاع نہیں۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملے کو گذشتہ ماہ ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ تہران ’فیصلہ کن اقدامات اٹھائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ روز یعنی منگل کے دن، امریکہ کی جانب سے سینٹ کام نے ایک بیان میں آبنائے ہرمز میں تجارتی ٹینکرز کو ایران کی جانب سے مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے بعد جوابی کارروائی کا عندیہ دیا۔
منگل کی رات سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا کہ ’ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور خطرناک جارحانہ انداز اپنایا۔‘

،تصویر کا ذریعہX/CENTCOM
ایرانی جوابی کارروائی
ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے 85 اہداف کو نشانہ بنایا۔
بدھ کو جاری پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق امریکی فوجی تنصیبات پر کیے گئے حملے اس کا ’ابتدائی جواب‘ ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی تدفین میں عوام کی غیر معمولی شرکت کے بعد امریکہ نے ایک بار پھر جنگ بندی اور اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کی اور آج علی الصبح ہرمزگان اور ماہشہر کے ساحلی علاقوں میں بعض فوجی اڈوں اور غیر فوجی مراکز پر فضائی حملے کیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اس جارحیت کے ابتدائی جواب میں، پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی افواج نے مشترکہ میزائل اور ڈرون کارروائیوں کے ذریعے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے مرکز، پورٹ سلمان اور کویت میں علی السالم فضائی اڈے سمیت 85 اہم امریکی فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا۔‘
پاسداران انقلاب نے ایک امریکی ایم کیو نائن ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا۔
سعودی عرب کا بیان
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ایک سعودی اور قطری ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’ایران نے ان ٹینکروں کو نشانہ بنا کر عالمی توانائی رسد کی سکیورٹی اور بین الاقوامی راستے کی حفاظت پر حملہ کیا۔‘
دوسری جانب قطر کی وزارت خارجہ نے بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون اور دونوں ممالک کی خودمختاری کی ’سخت خلاف ورزی‘ ہے۔
بیان میں دوحہ نے ’مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے، کشیدگی کم کرنے اور مفاہمت کی یادداشت سے حاصل ہونے والی پیشرفت کو آگے بڑھانے‘ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
امریکہ نے ایران کی جانب سے تیل کی فروخت پر عارضی پابندیاں دوبارہ سے عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جو معاہدے کے بعد ہٹا دی گئی تھیں۔ ایران نے اس قدم کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ’امریکی حکومت پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘
ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’تہران وہ تمام اقدامات اٹھائے گا جو قومی مفادات اور سکیورٹی کی ضمانت کے لیے ضروری ہوں گے۔‘
لیکن کیا ایران اور امریکہ کے درمیان اب معاہدہ ختم ہو جائے گا؟

،تصویر کا ذریعہX/@KSAmofaEN
امریکی حملوں کے آغاز سے قبل نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے کہا تھا کہ ان حملوں کے باوجود مذاکراتی ٹیم حتمی معاہدے کے لیے ایران سے رابطے جاری رکھے گی۔
قطر کی جانب سے بھی ایران کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایران قطری ٹینکر پر حملے کا ذمہ دار ہے۔ قطر نے مطالبہ کیا کہ ’ایران ان تمام اقدامات کو روکے جو خطے میں امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور عالمی توانائی کی رسد میں رکاوٹ بننے سے گریز کرے۔‘
ایران کی وزرات خارجہ کے ترجمان نے قطر کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ اچھے ہمسائیوں کے اصولوں کے خلاف ہے۔‘
ٹیلی گرام پر جاری ہونے والے ایک بیان میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’تجارتی جہازوں نے ایران کے ساتھ اپنے راستوں کے حوالے سے رابطہ نہیں کیا تھا یا پھر ٹریکنگ سے چھیڑ چھاڑ کی تھی اور اسی وجہ سے یہ جہاز کسی سے ٹکرا سکتے تھے اور آبنائے ہرمز میں محفوظ سفر کی کوششوں کو متاثر کر سکتے تھے۔‘
یاد رہے کہ سوموار کو برطانوی ادارے یو کے ایم ٹی او نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ اس کے انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی ہے جبکہ منگل کے دن ایک ٹینکر نے اس وقت حملے کی اطلاع دی جب وہ آبنائے ہرمز سے نکلنے والا تھا۔

،تصویر کا ذریعہX/CENTCOM
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق تہران اور عمان کو مل کر مستقبل میں آبنائے ہرمز کی انتظامیہ اور تجارتی راستے کے حوالے سے بات چیت کرنا تھی۔
اس سے پہلے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کا سفر تقریبا بند کر دیا تھا جہاں سے دنیا بھر کو تیل اور گیس فراہم ہوتا ہے۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ سے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کے لیے ممکنہ طور پر ایک فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے جس کو ایران اور عمان مل کر چلائیں گے۔
























